’’تم نظر تک چاہتے تھے، ہم تو جاں تک آ گئے‘‘
Aug 21, 2014

جس وقت مولانا فضل الرحمان قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے گھن گرج کے ساتھ یہ اعلان کر رہے تھے کہ کوئی مائی کا لال پارلیمنٹ کو نقصان نہیں پہنچا سکتا اور جس وقت بلوچستان کے قوم پرست لیڈر محمود اچکزئی یہ چیلنج دے رہے تھے کہ پارلیمنٹ ہائوس پر قبضہ کا سوچنے والوں کو ہماری لاشوں سے گزر کے آنا پڑے گا، اس وقت پارلیمنٹ ہائوس اور وزیراعظم ہائوس کو آزادی مارچ اور انقلاب مارچ والوں نے عملاً گھیرے میں لے کر ارکان اسمبلی بشمول وزیراعظم کو محبوس کیا ہوا تھا اور وزیراعظم ہائوس کے اندر موجود لوگ بھی قیدی بنے ہوئے تھے۔ ڈاکٹر طاہر القادری جذباتی کیفیت میں بڑھکیں لگا رہے تھے کہ ہم نے ان سارے چوروں کو پارلیمنٹ ہائوس کے اندر اکٹھا ہونے کی اس لئے اجازت دی ہے کہ ان سب کے ساتھ ایک ہی ہلّے میں نمٹ لیا جائے۔ عمران خان کی بے صبری تو دیدنی تھی کہ وہ خود کو وزیراعظم سمجھتے ہوئے اپنی ڈانس پارٹی کو وزیراعظم ہائوس کے اندر گھس جانے کے احکام صادر کئے جا رہے تھے۔ بھئی پارلیمنٹ اور جمہوریت کو نقصان پہنچانے کی اور کونسی مثال سامنے آ سکتی ہے۔ پارلیمنٹ میں موجود تمام جماعتیں ماسوائے تحریک انصاف اس پر متفق ہیں کہ وزیراعظم کے مستعفی ہونے، اسمبلیوں کو تحلیل کرنے،  ٹیکنو کریٹس کی یا قومی حکومت قائم کرنے اور رائج جمہوری نظام کو جڑ سے اکھاڑنے کے تقاضے غیر آئینی، ناجائز اور ماورائے آئین اقدام والوں کو دعوت دینے کے مترادف ہیں، ملک میں آئین اور قانون کی عملداری ہے اور جمہوری نظام خوش اسلوبی سے چل رہا ہے اس لئے عمران اور قادری کو ان کا غیر قانونی اور غیر آئینی ایجنڈہ مسلط کرنے کی کسی صورت اجازت نہیں دی جا سکتی۔ پیپلز پارٹی، اے این پی، جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام اور ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈران یکجہت ہو کر جمہوریت کے دفاع کے عزم کا اظہار کرتے ہیں اور عمران و قادری سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ مارچ اور دھرنے ختم کر کے اپنے ناجائز مطالبات سے رجوع کر لیں اور مذاکرات کے ذریعے اصلاح احوال کا راستہ نکالیں مگر عمران اور قادری ’’مستند ہے میرا فرمایا ہوا‘‘ کا تصور باندھ کر وزیراعظم کے استعفے اور پارلیمنٹ کی تحلیل کی ضد پر ڈٹے رہے اور اپنے مارچ و دھرنا پروگراموں میں کسی ایک لفظ کا بھی رد و بدل کرنے پر آمادہ نہ ہوئے، چنانچہ پیپلز پارٹی نے عمران خان اور متحدہ نے طاہر القادری سے مکمل پُرامن رہنے اور اسلام آباد پہنچنے کے بعد ریڈ زون میں داخل نہ ہونے کی ضمانت لے کر انہیں حکومت سے آزادی مارچ اور انقلاب مارچ کی اجازت دلوا دی حالانکہ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلہ کی روشنی میں حکومت ریاستی اتھارٹی استعمال کر کے انہیں اسلام آباد آنے سے روک سکتی تھی، اس حکومتی ڈھیل سے ضدی بچوں کے حوصلے بڑھے تو وہ اپنی یقین دہانیوں سے منحرف ہو کر ریڈ زون کی جانب بڑھنے لگے، شنید یہی ہے کہ انہیں مقتدر حلقوں کی جانب سے اس یقین دہانی پر ریڈ زون میں داخل ہونے اور پارلیمنٹ ہائوس کے باہر دھرنا دینے کی اجازت دلوائی گئی تھی کہ وہ ہرگز قانون ہاتھ میں نہیں لیں گے اور پارلیمنٹ ہائوس یا وزیراعظم ہائوس کے اندر داخل بھی نہیں ہوں گے۔ عمران خان اور قادری نے اپنے اپنے مارچوں کو ریڈ زون کی جانب بڑھنے کی ہدایات دیتے ہوئے اوپر اوپر سے انہیں یہ ہدایت بھی کر دی کہ وہ کسی عمارت کو نقصان نہیں پہنچائیں گے اور کوئی گملا تک نہیں توڑیں گے مگر ان دونوں مارچوں کے یکجا ہو کر ریڈ زون میں پارلیمنٹ ہائوس کے سامنے پہنچنے کے دوران کے مراحل جس جارحانہ انداز میں طے کئے گئے وہ کسی اور ہی کہانی کی غمازی کر رہے تھے کہ احتجاجیوں کے ہاتھوں میں کٹر اور ہتھوڑے بھی تھے حتیٰ کہ کرین بھی اپنے ساتھ لانے کی انہیں کھلی چھوٹ ملی ہوئی تھی چنانچہ وہ اپنے راستے میں آنے والے ہر کنٹینر کو تہس نہس کرتے اور باربیڈ وائر  کی کھڑی کی گئی ہر رکاوٹ کو کاٹتے ہوئے جمہوریت اور پارلیمنٹ پر حملہ آور ہونے آن پہنچے۔ بے شک سانحہ ماڈل ٹائون کے ذریعے حکومت نے خود اپنی بربادی کی بنیاد رکھی اور انتخابی دھاندلیوں کے غیر منطقی الزمات کا بھی دفاع اور توڑ نہ کر کے اپنے لئے چور کی داڑھی میں تنکا کی کیفیت بنائی مگر یہ صورتحال بھی غیر آئینی طریقہ سے وزیراعظم کے مستعفی ہونے اور پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کا جواز فراہم نہیں کر سکتی۔ اگر عمران اور قادری کے یہ سارے دلائل بودے ثابت ہونے کے باوجود ان کے غیر منطقی تقاضے برقرار رہے اور انہیں پارلیمنٹ ہائوس اور وزیراعظم ہائوس کا گھیرائو تک کرنے کی کھلی چھوٹ مل گئی تو پھر ایسے کون سے اسباب ہو سکتے ہیں جن کی بنیاد پر کسی مائی کے لال کو پارلیمنٹ اور جمہوریت کو گزند تک نہ پہنچانے سے روکا جا سکتا ہو، انہی مراحل میں وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کی آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے یکے بعد دیگرے دو ملاقاتوں کے بھی چرچے ہوئے اور وزیر داخلہ نے اس خوش گمانی کا بھی اظہار کر دیا کہ آزادی اور انقلاب مارچ والوں کے ’’کھیل‘‘ میں فوج کا کوئی عمل دخل نہیں مگر پاک فوج کے ترجمان کی جانب سے یہ تلقین کی جائے کہ تمام سٹیک ہولڈرز قومی مفاد میں باہم مذاکرات کریں اور صبر و تحمل اور دانشمندی کو بروئے کار لائیں تو کیا اس سیاست کو آزادی اور انقلاب مارچ والوں کے لئے آشیرباد سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔ اگر بدّو کو اونٹ سمیت خیمے میں داخل ہونے کی اجازت دلوائی جا رہی ہے تو پھر بھائی صاحب کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔ اب پارلیمنٹ اور جمہوریت کا بال بھی بیکا نہ ہونے دینے کے تمام دعوے دار بدّو اور اس کے اونٹ کو باہر نکالنے کے جتن کرتے پھریں۔ اس اونٹ کو تو ’’ہریالی‘‘ نظر آ گئی ہے جس کا راستہ انہیں سابق فوجی حکام کی تنظیم ’’ایکس سروس مین سوسائٹی‘‘ کے حکومت اور پارلیمنٹ کا تیّا پانچہ کرنے کی ترغیب دینے والے بیانِ دلپذیر کے ذریعے نظر آیا ہو گا چنانچہ اب حالات بدلتے نظر آتے ہیں تو متحدہ کے وسیم اختر کی جانب سے بھی یہ مشورہ مل گیا ہے کہ وزیراعظم استعفیٰ دے کر اس بحران سے قوم کو نجات دلائیں۔ صورت حال اتنی غیر یقینی ہو گئی ہے کہ کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ سطور شائع ہونے کے وقت اسلام آباد کی فضا کیا ٹرن لے چکی ہو گئی۔ آپ پارلیمنٹ اور جمہوریت کی بس خیر مناتے رہیں مگر اس کے لئے زمینی حقائق تو اس کیفیت میں ڈھلے نظر آتے ہیں کہ

عشق کے یہ مرحلے سود و زیاں تک آ گئے
تم نظر تک چاہتے تھے، ہم تو جاں تک آ گئے
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com