نظامی صاحب سے منسوب درد اور دردمندی کے قصّے
Jul 28, 2014

آج میں اپنے مربی و مشفق جناب مجید نظامی کے ساتھ وابستہ اپنی یادوں کو آپ کے ساتھ شیئر کرنا چاہتا ہوں۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ محترم مجید نظامی کے انتقال سے چار روز قبل ہی میرے دل نے گواہی دے دی تھی کہ محترم مجید نظامی کا سفرِ آخرت 27 رمضان المبارک کی مقدس رات کو شروع ہو گا۔ اس روز مجید نظامی صاحب کی ہسپتال میں حالت تشویشناک ہونے کی اطلاعات موصول ہو رہی تھیں۔ میں سلیم بخاری صاحب ایڈیٹر دی نیشن کے پاس بیٹھا تھا، نظامی صاحب کی صحت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ہم ان کی جلد صحت یابی کی دعائیں بھی کر رہے تھے مگر ساتھ ہی ساتھ دھڑکا بھی لگا ہُوا تھا۔ اس دوران میں نے سلیم بخاری صاحب سے کہا کہ نہ جانے کیوں میرے دل میں یہ بات آ رہی ہے کہ جناب مجید نظامی کو رحمتیں سمیٹنے والی رات 27 رمضان کو لیلة القدر کے مراحل میں اس دنیائے فانی کو آبرو مندی کے ساتھ چھوڑ جانے کی سعادت حاصل ہو گی۔ میرے دل میں یہ سوچ اس لئے پیدا ہوئی کہ جس وطن عزیز پاکستان کی بقا و سلامتی، استحکام اور اس کے عوام کی خوشحال و مطمئن زندگی کے لئے جناب مجید نظامی عمر بھر فکر مندی کا اظہار کرتے، عملی اقدامات تجویز کرتے اور اٹھاتے رہے۔ اس وطن عزیز کے قیام کا اعلان بھی 27ویں رمضان المبارک کی مقدس رات ہی ہوا تھا۔ نظامی صاحب چونکہ اس وطن عزیز میں اسلام کی نشاة ثانیہ کا احیاءاور اسے اسلامی جمہوری فلاحی معاشرے کے طور پر پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتے تھے اس لئے وطن کے ساتھ ان کی محبت اور اس وطن میں اسلامی اصولوں کی تابناکی کے ساتھ جمہوری فلاحی معاشرے کی تشکیل کے لئے ان کی دردمندی کی لیلة القدر کی شب آسمانی گواہی دی جا سکتی ہے۔ سلیم بخاری صاحب نظامی صاحب کی صحت کے بارے میں ملنے والی اطلاعات کی بنیاد پر میری سوچ سے متفق نہیں ہو رہے تھے۔ اگلے روز حیران کن طریقے سے نظامی صاحب کی صحت کی بحالی کی اطلاعات موصول ہونے لگیں اور 26 رمضان المبارک کو ان کے سرعت کے ساتھ صحت یاب ہونے کی اطلاعات ملیں تو سلیم بخاری صاحب کے پاس بیٹھے دفتر کے کولیگز نے خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا۔ میں نے اپنے دل کی گواہی کی بنیاد پر اس رائے کا اظہار کیا کہ اگر آج 27ویں رمضان المبارک کی رات خیر و عافیت سے گزر گئی تو پھر نظامی صاحب وہ طویل عمر پائیں گے کیونکہ ممکن ہے ذاتِ باری تعالیٰ ملک کی بہتری کے لئے ان سے مزید کام لینا چاہتی ہو۔ 27ویں رمضان المبارک کی رات 12 بجے اس اطمینان کے ساتھ گھر واپس آیا کہ نظامی صاحب کو ذاتِ باری تعالیٰ نے نئی زندگی عطا کر دی ہے مگر ابھی سحری کے لئے اٹھے ہی تھے کہ علی الصبح اڑھائی بجے کے قریب آفس سے دلاور چودھری صاحب نے مجھے محترم مجید نظامی کی رحلت کی اطلاع دے دی۔ آپ ان کے سفرِ آخرت کے اس لمحے کا تصور کریں تو نظامی صاحب کی خوش نصبیی پر رشک آتا ہے۔ قدرت کے اس کارخانے میں ہر ذی شعور نے آخرت کا سفر طے کرنا ہے کیونکہ 

موت سے کس کو رستگاری ہے
آج وہ، کل ہماری باری ہے

مگر آخرت کا ایسا عظمتوں، فضیلتوں سے معمور سفیر نصیب والوں کو ہی حاصل ہوتا ہے۔ محترم مجید نظامی صاحب کے ساتھ 33 برس کی رفاقت کی اتنی یادیں وابستہ ہیں کہ لکھنے بیٹھوں تو کتابوں کے ڈھیر لگ جائیں، کچھ یادیں میں نے آج وقت ٹی وی کے پروگرام نیوز لاﺅنج میں بھی ناظرین کے ساتھ شیئر کی ہیں۔ میں ان کی بے باک اصولی صحافت کے صرف چند واقعات آپ کے ساتھ شیئر کرتا ہوں۔ نوائے وقت میں میری خدمات کا زیادہ عرصہ عدالتی اور سیاسی رپورٹنگ میں گزرا ہے اور اس کے ساتھ کالم نگاری کے سلسلہ بھی جاری رکھا ہے، مجھے ان فرائض کی ادائیگی میں ہمہ وقت محترم مجید نظامی کی سرپرستی حاصل رہی، جو یہ درس دیتے تھے کہ بات حقیقت پر مبنی ہے تو اسے بے خوف اور بے دھڑک ہو کر لکھ دو آپ کو پوری آزادی حاصل ہے۔ چنانچہ میں نے نظامی صاحب کے دئیے آزادی کے اس حق کو استعمال کرتے ہوئے کبھی جھجک محسوس نہیں کی۔ یہ 1987ءکی بات ہے مجھے اے این پی کے سربراہ ولی خان کے بھارت کے ساتھ رابطوں کی ٹھوس اطلاعات موصول ہوئیں جو ملک کی سالمیت اور قومی مفادات سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔ میں نے بے دھڑک ہو کر ان اطلاعات کی بنیاد پر کالم لکھ دیا جو مجید نظامی صاحب کی اجازت سے شائع ہو گیا۔ اس کالم کی اشاعت کے اگلے ہی روز نظامی صاحب کو خان عبدالولی خان کا دس کروڑ روپے ہرجانے کا نوٹس موصول ہو گیا۔ اس دور میں کسی اخبار کے خلاف اتنی بھاری رقم کا ہرجانے کا یہ پہلا دعویٰ تھا جو ایک بڑے سیاسی لیڈر نے جناب مجید نظامی اور میرے خلاف پشاور کی ایک سول عدالت میں دائر کیا۔ نظامی صاحب نے مجھے بُلا کر کالم کے مندرجات کی صداقت کا اطمینان حاصل کیا اور پھر اس کیس کے دفاع کا فیصلہ کیا۔ پشاور کی سول عدالت سے ولی خان کے اس دعوے کے برعکس کسی فیصلے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا چنانچہ سول کورٹ میں ہرجانے کا یہ کیس ہمارے خلاف ڈگری ہو گیا۔ پھر پشاور کی سیشن کورٹ نے بھی ہمارے خلاف اس ڈگری کی توثیق کر دی جس کے خلاف ادارہ نوائے وقت نے پشاور ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی، یہ اپیل زیر سماعت تھی کہ 1988ءکے انتخابات کے بعد میاں نواز شریف کی مسلم لیگ (ن) اور ولی خان کی اے این پی نے اپنے سیاسی اتحاد کے تحت پنجاب اور سرحد میں حکومت تشکیل دے دی، اس دوران میاں نواز شریف نے ولی خان کو نوائے وقت کے خلاف دائر اپنا کیس واپس لینے پر قائل کیا اور اس طرح پشاور ہائیکورٹ میں یہ کیس نمٹا دیا گیا مگر نظامی صاحب نے کیس ڈگری ہونے کے باوجود ولی خان سے مفاہمت کا کبھی نہ سوچا۔

ایسا ہی ایک دوسرا واقعہ 1990ءکا ہے جب غلام اسحاق خان نے بے نظیر بھٹو کی حکومت ختم کر کے غلام مصطفی جتوئی کی وزارت عظمیٰ میں عبوری نگران حکومت قائم کی۔ غلام اسحاق خان کے صوابدیدی آئینی اختیارات کے تحت اسمبلی توڑنے کے اس اقدام کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا جس کی سماعت چیف جسٹس ہائیکورٹ محمد رفیق تارڑ کی سربراہی میں قائم پانچ رکنی فل بنچ نے کی۔ دوران سماعت ایک روز بنچ کے ایک فاضل رکن نے ریمارکس دئیے کہ نگران وزیراعظم کو ملک کے پالیسی معاملات پر کوئی فیصلہ کرنے کا ہرگز اختیار نہیں اور وہ صرف روزمرہ کے امورِ حکومت ہی نمٹا سکتے ہیں۔ اگلے روز نوائے وقت سمیت تمام قومی اردو اور انگریزی اخبارات میں یہ خبر لیڈ سٹوری کی صورت میں شائع ہوئی جس پر ہائیکورٹ کے اس فل بنچ نے نوائے وقت اور دوسرے متعلقہ اخبارات کے ایڈیٹرز، پبلشرز اور متعلقہ رپورٹرز کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کر دئیے جن میں کہا گیا کہ عدالت نے یہ ریمارکس پاس نہیں کئے تھے۔ چونکہ یہ ریمارکس تحریری عدالتی احکام کا حصہ نہیں تھے اس لئے بادی النظر میں یہی نتیجہ اخذ ہوتا تھا کہ عدالت نے فی الواقع ایسے ریمارکس ادا نہیں کئے۔ اس بنیاد پر مدعا علیہ اخبارات کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی عمل میں آ سکتی تھی اور اسی بنیاد پر دوسرے اخبارات کے مدیران اور رپورٹرز خوفزدہ تھے کہ یہ کیس ہمارے گلے پڑ جائے گا۔ چنانچہ انہوں نے حکمت عملی کے تحت اگلی تاریخ سماعت پر عدالت میں غیر مشروط معافی نامے داخل کرانے کا فیصلہ کیا۔ میں ان اخباری مالکان کے نام یہاں لکھنا مناسب نہیں سمجھتا۔ مجید نظامی صاحب نے عدالتی نوٹس وصول کرنے کے بعد مجھے اپنے پاس بُلایا اور کہا کہ اگر آپ نے کارروائی کی غلط رپورٹنگ کی ہے تو ہم بھی غیر مشروط معافی مانگ لیتے ہیں تاہم میری جانب سے خبر کی صداقت کا مکمل یقین حاصل ہونے کے بعد انہوں نے فیصلہ کیا کہ ہم اس کیس کا دفاع کریں گے۔ میاں آفتاب فرخ صاحب کو کیس کے دفاع کی ذمہ داری سونپی گئی، اگلی تاریخ سماعت پر دیگر اخبارات کی جانب سے پہلے ہی معافی نامے داخل کرائے جا چکے تھے جبکہ فاضل بنچ بھی توہین عدالت کی کارروائی عمل میں لانے کے موڈ میں نظر آتا تھا۔ میاں آفتاب فرخ نے اپنے دلائل کا آغاز کیا اور عدالت کے تابڑ توڑ سوالات پر انہیں مطمئن کرنے کی کوشش کرتے۔ اسی دوران جناب مجید نظامی اپنی نشست سے کھڑے ہوئے اور بلند آواز میں فاضل بنچ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ کے کورٹ روم کا ساﺅنڈ سسٹم اتنا ناقص ہے کہ آپ کی کسی بات کی مجھے سمجھ نہیں آ رہی، اس لئے آپ ہمیں توہین عدالت کے نوٹس جاری کرنے سے پہلے کورٹ روم کا ساﺅنڈ سسٹم درست کرائیں۔ ان کی اس بات پر کمرہ¿ عدالت میں سناٹا طاری ہو گیا اور چیف جسٹس رفیق تارڑ نے عدالتی کارروائی ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا، اس کے ساتھ ہی تمام فاضل جج ریٹائرنگ روم میں چلے گئے۔ کمرہ¿ عدالت میں موجود وکلاءکی رائے تھی کہ جناب مجید نظامی کی اس ”بے وقت“ بے باکی کی سزا اب توہین عدالت کی سزا کی شکل میں مل کر رہے گی مگر حیران کن طریقے سے اس کیس کی اگلی سماعت کی نوبت ہی نہ آئی اور فاضل عدالت نے یہ کیس نمٹا کر داخل دفتر کر دیا۔ اس نوعیت کے اور بھی بے شمار واقعات ہیں جو وقتاً فوقتاً میں اپنے معزز قارئین کے ساتھ شیئر کرتا رہوں گا۔ نظامی صاحب کی ذات اتنی جامع صفات ہے کہ ان سے منسوب کسی ایک واقعہ سے ان کی خصوصیات کا مکمل احاطہ نہیں کیا جا سکتا۔ سو یار زندہ صحبت باقی۔ خدا ہمیں محترم مجید نظامی کے نقشِ قدم پر چلتے رہنے کی توفیق عطا فرماتا رہے۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com