خاندان ِ نوائے وقت کے سربراہ اور امام ِ صحافت مجید نظامی
Jul 27, 2014

مجھے یہ کہنے میں کوئی حجاب نہیں کہ نوائے وقت میرا شعور، میرا وجدان، میرا مان، میرا رومان اور میرا خاندان ہے۔ اپنے صحافتی سفر کے اب تک کے 40 برس میں سے 33برس نوائے وقت کے تناور درخت کے سائے میں گزر گئے، کتنی آندھیاں گزریں، کتنے تھپیڑے آئے، کتنے جھکڑ چلے، کتنی مارا ماری ہوئی، کتنی آہ وزاری ہوئی، عزم ٹوٹا نہیں، ساتھ چھوٹا نہیں، نظریے کو مارنے کی تمنا رکھنے والوں نے سو جتن کئے، اصول کو بے اصولی میں ڈھالنے والوں نے لاکھ ترغیبات دیں، نوائے وقت کے پائے استقلال میں کوئی لغزش پیدا نہ کر سکا۔ میرا یہ خاندان باوقار رہا۔ اس کا بھرم برقرار رہا۔ کیوں؟ اس لئے کہ خاندان کی سربراہی زمانے کی اونچ نیچ میں عزت و وقار کے ساتھ سر اٹھا کر چلنے اور اپنے خاندان کی آبرومندی قائم و برقرار رکھنے کی خداداد صلاحیتوں سے مالامال تھی۔ اس لئے کہ قائداعظمؒکے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے تحریک پاکستان کے نامور کارکن اور طالب علم رہنما حمید نظامی نے جس جذبے کے ساتھ پاکستان کا ترجمان اخبار نکالنے کا بیڑا اٹھایا تھا اور صحافتی اقدار اور اصولوں کی جو راہیں متعین کی تھیں، مرتے دم تک وہ خود بھی اس پر کاربند رہے اور پھر اس خاندان کی سربراہی کی ذمہ داری اپنے باوفا برادر خورد مجید نظامی کو سونپتے ہوئے اپنی متعین کردہ صحافتی اقدار اور اصولوں کو بھی بطور ورثہ انہیں منتقل کر دیا۔ 25 فروری 1962ء  سے مرض الموت میں مبتلا ہونے دن تک جناب مجید نظامی نے جس جذبے، جس لگن اور جس دیانت کے ساتھ اپنے برادر بزرگ کے ودیعت کردہ ورثے کی حفاظت کی ‘اسے پروان چڑھایا ، مستحکم بنایا اور پھر اس کے ساتھ وابستہ اپنے خاندان ہی نہیں، ملک و ملت کیلئے بھی اسے ایک تناور شجر سایہ دار بنایا ۔یہ انہی کا کارنامہ ہے۔ مسابقت کی دوڑ میں اصولوں پر کاربند رہتے ہوئے، جھکڑوں، طوفانوں کا سامنا اور مقابلہ کرتے ہوئے سرخروئی کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھنا کوئی معمول کی اور معمولی بات نہیں۔

نوائے وقت کے جہدِ مسلسل والے 74 سال کے سفر میں اپنی ہم سفری کے 33 سال کا جائزہ لیتے ہوئے آج میرا سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے کہ میں جو سوچ کر میدان صحافت میں آیا تھا، نوائے وقت کے شریکِ سفر نہ ہوتا تو اصولوں کی پاسداری کا شعور، شعار اور چلن کبھی نہ سیکھ پاتا اور اس خاندان نوائے وقت کی سربراہی مرحوم حمید نظامی کے بعد ان کے برادرِ پْرعزم مجید نظامی کے پاس نہ ہوتی تو اصولوں کی پاسداری کہیں ٹامک ٹوئیاں ہی مار رہی ہوتی۔

طالب علمی کے زمانے میں ہی ادب و صحافت کی خدمت کا کیڑا دماغ میں سما گیا تھا۔ گورنمنٹ کالج ساہیوال سے گریجویشن کے بعد 1974ء میں لاہور آیا اور والد مرحوم کی خواہش کے مطابق وکالت کیلئے پنجاب یونیورسٹی لاء کالج میں داخلہ لے لیا تو بھی ادب و صحافت کی خدمت کا جذبہ ماند نہ پڑا۔ 1975ء میں تعلیم کا سلسلہ جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ روزنامہ وفاق میں بطور سب ایڈیٹر کام کرنے کا موقع بھی مل گیا۔ وفاق کا دفتر مال روڈ کی شاہ دین بلڈنگ میں قائم تھا جہاں پہلے نوائے وقت کا دفتر ہوا کرتا تھا۔ اولین خواہش نوائے وقت کے پلیٹ فارم پر ہی ادب و صحافت کی خدمت کرنے کی تھی چنانچہ شاہ دین بلڈنگ میں روزنامہ وفاق میں کام کرنے کا موقع ملا تو یہ سوچ کر ہی دل کی تسکین کا اہتمام ہو گیا کہ اس بلڈنگ میں میرا صحافتی آئیڈیل نوائے وقت بھی آسمان صحافت پر جگمگاتا رہا ہے۔ اسی عرصے کے دوران ایک رات خواب ہی خواب میں خود کو نوائے وقت کا کالم نگار پایا۔ صبح اٹھا تو حوصلہ مندی اور عزم سے سرشار تھا۔ 1977ء میں نوائے وقت میں شمولیت کی اولین کوشش ناکام ہو گئی کہ بشیر احمد ارشد جو ہفت روزہ استقلال کی ایڈیٹری سے ہوتے ہوئے نوائے وقت کے ڈپٹی ایڈیٹر کے منصب پر فائز ہوئے تھے وفاق میں میرے ساتھ بزرگانہ شفقت کے باوجود نوائے وقت میں شمولیت کیلئے میرے کچھ کام نہ آ سکے اور پھر 1977ء ہی میں پی این اے کی تحریک کے دوران تحریک استقلال کے ترجمان کے طور پر دوبارہ جنم لینے والے روزنامہ آزاد نے مجھے ہائیکورٹ رپورٹر کے ساتھ ساتھ کالم نگار بھی بنا دیا چنانچہ میرا کالم نگار بننے کا خواب 1977ء میں ہی پورا ہو گیا اور وہ بھی ادارتی صفحے پر لیڈنگ کالم نگار کی حیثیت سے۔ ’’آزاد‘‘ سے ’’صداقت‘‘۔ پھر وفاق میں واپسی اور پھر 1981ء میں جنگ کے لاہور سے اجراء کے ساتھ ہی ایم ارشد کی قیادت میں وفاق نیوز ڈیسک کی پوری ٹیم کے ساتھ جنگ سے وابستگی تک صحافتی سفر کے چھ سال بیت گئے۔ نوائے وقت میں پہلے ہی درخواست گزاری ہوئی تھی۔ جنگ سے وابستگی کا ایک ہفتہ بھی نہیں گزرا تھا کہ نوائے وقت سے تحریری بلاوا آ گیا۔ یوں محسوس ہوا جیسے بھٹکتے راہی کو منزل مل گئی ہو۔ کنواں خود پیاسے کے پاس آ گیا ہو۔ فیصلہ کرنے میں ایک لمحہ بھی ضائع نہ کیا۔ اپنا استعفٰی نیوز ایڈیٹر ایم ارشد کے حوالے کیا اور علامہ اقبال روڈ پر عارضی طور پر قائم کئے گئے جنگ کے دفتر سے باہر نکل کر سیدھا نوائے وقت کے آفس آ کر دم لیا۔ 6 ستمبر 1981ء کا وہ دن اور آج جولائی 2014ء کا دن میرے اس عزم کی صداقت کی گواہی دے رہا ہے جو میں نے نوائے وقت کی ہمسفری میں ادب و صحافت کی خدمت کیلئے باندھا تھا۔ دِل میں یہی طے کیا تھا کہ صحافت کرنی ہے تو صرف نوائے وقت کے ساتھ۔ آج کے دن تک اس عہد پر کاربند ہوں۔ دل میں یہی ٹھان رکھی ہے کہ کبھی نوائے وقت کو خیرباد کہنے کی نوبت آئی تو وہ دن صرف نوائے وقت نہیں، صحافت میں میرا آخری دن ہو گا۔ صحافت کے اس خاندان کے ساتھ وابستہ رہ کر مجھے جو عزت ملی ہے۔ وہی میری زندگی کا اصل اثاثہ ہے اور آج خاندانِ نوائے وقت کے سربراہ محترم المقام مجید نظامی کے انتقال پر نوائے وقت سے وابستہ 33 برسوں پر محیط اتنی ڈھیر ساری یادیں ذہن کے پردے پر گردش کررہی ہیں کہ سمٹنے کیلئے چند صفحات کا نہیں، پوری ایک کتاب کا تقاضہ کر رہی ہیں۔ بشرط زندگی یہ تقاضہ بھی ضرور پورا کروں گا۔ فی الحال صرف یہ گواہی دے رہا ہوں کہ دنیائے صحافت میں جن درخشاں صحافتی اقدار کی بنیاد مرحوم حمید نظامی نے نوائے وقت کے اجراء کی صورت میں قیام پاکستان سے قبل رکھی تھی وہ جناب مجید نظامی کی ادارت میں اتنی مستحکم ہو چکی ہیں کہ کوئی ترغیب و تخویف ان میں ہلکی سی دراڑ بھی پیدا نہیں کر سکتی۔ وہ صحافتی امپائر کے مالک ہی نہیں، ایک مکمل اور بھرپور ایڈیٹر بھی تھے۔ اصولوں کی پاسداری ہی نہیں کرتے تھے، اپنے ساتھ وابستہ خاندان کی کفالت کیلئے کاروباری اسرار و رموز سے بھی مکمل آگاہ تھے۔ وہ فی الواقع امامِ صحافت تھے، قول کے پکے اور ملک و ملت کے ساتھ خالص اور سچے تھے۔ اپنے کام کے ساتھ ان کے اخلاص اور ذمہ دارانہ استواری کا اندازہ اس سے ہی لگایا جا سکتا ہے کہ اپنی عمر عزیز کی آٹھ دہائیاں گزار کر بھی، دل کے تین بائی پاس کرا کر بھی اور ملک و قوم کے استحکام و بقاء کیلئے مسلسل فکرمندی سے دوچار رہ کر بھی وہ باغ میں کھلے، خوشبو دیتے پھول کی طرح تر و تازہ رہے۔ کبھی تکان کا احساس نہیں ہونے دیتے تھے۔ نوائے وقت کے ساتھ ساتھ اپنے ہاتھوں سے لگائے پودوں نیشن، ندائے ملت، فیملی، پھول اور وقت نیوز کی بھی ہمہ وقت پرورش و نگرانی کرتے رہے اور انہیں تناور درخت بنایا۔ اپنی امپائر کے کسی ادارے کی کوئی خامی ان سے چھپی نہیں رہ سکتی تھی اس لئے ان کی نگرانی میں اصلاح کا عمل بھی ساتھ ساتھ چلتا رہتا تھا۔ نوائے وقت کے ادارتی اور نیوز کے صفحات پر شائع ہونے والے اکثر مضامین اور کالموں کی وہ ہسپتال میں صاحب فراش ہونے تک روزانہ خود ایڈیٹنگ کرتے رہے اور کم و بیش ہر کالم اور مضمون میں کوئی لفظ یا فقرہ ایسا ڈال دیتے کہ وہی ’’حاصلِ غزل‘‘ بن جاتا ۔ ان کی تحریر و تقریر میں بذلہ سنجی چھلکتی اور پھڑکتی نظر آتی تھی۔ اداریہ اور شذرات کیلئے روزانہ گائیڈ لائین دینا اور پھر پروف کی غلطیوں کی نشاندہی سمیت ان کی ایڈیٹنگ کرنا بھی انہوں نے اپنے روزانہ کے فرائض منصبی کا حصہ بنایا ہوا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ ایوان کارکنان تحریک پاکستان میں کم و بیش روزانہ منعقد ہونے والی تقریبات میں شمولیت اور اس ادارے کی سرپرستی بھی انہوں نے رضاکارانہ طور پر اپنے فرائض میں شامل کر رکھی تھی۔ حمید نظامی پریس انسٹی ٹیوٹ نہ صرف قائم کیا، اس کی سرپرستی بھی ان کے روزمرہ کے معمولات کا حصہ بنی رہی، پھر بھی شائد ہی کوئی دن ایسا ہو گا جب شعبہ ادارت کی روزانہ کی میٹنگ کی انہیں فرصت نہ ملی ہو۔ میٹنگ کے وقت کسی اور جگہ مصروف ہوتے تو دفتر سے گزرتے ہوئے بھی اداریہ اور شذرات کیلئے گائیڈ لائن دے جاتے یا کم از کم ٹیلی فون پر تو ضرور رابطہ رکھتے۔ لاہور سے باہر جاتے تو بھی ہیڈ آفس میں ان کی موجودگی کا احساس برقرار رہتا ۔ شعبۂ ادارت ہی نہیں، نیوز ڈیسک، رپورٹنگ اور میگزین سے لے کر شعبۂ اکائونٹس، سرکولیشن، اشتہارات اور پریس کی بھی خود نگرانی کرتے جو شعبۂ صحافت کے ہر فیلڈ میں ان کی مشاقی و مہارت کا بین ثبوت ہے۔ ایسی نابغۂ روزگار ہستیاں کسی معاشرے کی آبرومندی کی ضمانت اور علامت ہوا کرتی ہیں ۔ محترم مجید نظامی اس جہانِ فانی میں نہیں رہے تو انکی ذات سے وابستہ صحافتی قدروں‘ اصولوں اور آبرومندی کا زیادہ شدت کے ساتھ احساس ہو رہا ہے۔ میرا یقین ہے کہ اگر نوائے وقت گروپ کی سرپرستی محترم مجید نظامی کے ہاتھ میں نہ ہوتی تو انکے برادر بزرگ حمید نظامی کی متعین کی گئی بااصول و باوقار صحافت کی منزل کبھی حاصل نہ ہو پاتی۔ …ع … حق مغفرت کرے‘ عجب آزاد مرد تھا۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com