اردو کو علاقائی زبان بنانے کی سازش
Jul 22, 2014

اگرچہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون، انصاف اور انسانی حقوق نے قومی زبان اردو کو علاقائی زبان کا درجہ دلانے اور انگریزی کو بطور قومی زبان تسلیم کرانے کی گھناﺅنی سازش پر مبنی قرارداد مسترد کر دی ہے مگر میں حیران ہوں کہ حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کی رکن قومی اسمبلی ماروی میمن کو کس کی شہہ پر ایسی شرانگیز قرارداد قومی اسمبلی میں لانے کی جرا¿ت ہوئی۔ مجھے ماروی میمن کی اس شرانگیزی کا علم پاکستان قومی زبان تحریک کی محترمہ فاطمہ قمر کے بھجوائے گئے ایک موبائل ایس ایم ایس کے ذریعے ہُوا۔ ذہن تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہو رہا تھا کہ حکمران جماعت، جس کی قیادت خود کو بانی¿ پاکستان قائداعظم کی جانشین سمجھتی ہے اور ان کے سابق دورِ حکومت میں ان کے لئے قائداعظم ثانی کے نعرے بھی لگوائے جاتے رہے ہیں، آج ملک کی اس زبان کو راندہ¿ درگاہ بنانے پر بھی تُلی نظر آ سکتی ہے جسے بانی¿ پاکستان نے خود قومی زبان کا درجہ دلایا تھا۔ میں نے اپنے ذہنی اطمینان کے لئے تحریک نفاذ اردو کے صدر ڈاکٹر شریف نظامی کو زحمت دی کہ وہ ماروی میمن کی جانب سے آئینی ترمیم سے متعلق قومی اسمبلی میں پیش کی گئی قرارداد کی کاپی مجھے بھجوا دیں۔ انہوں نے کمال مہربانی سے اسی وقت مجھے متعلقہ قرارداد کی کاپی بھجوا دی جسے دیکھ کر میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ ماروی میمن نے اس قرارداد پر وزیراعظم کے داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر اور حکمران مسلم لیگ کے دیگر ارکان قومی اسمبلی مخدوم خسرو بختیار، قیصر احمد شیخ، بیگم طاہرہ بخاری، شہاب الدین خاں، ڈاکٹر عباداللہ، مخدوم سید علی حسن گیلانی، مسز کرن حیدر اور خالد حسن مگسی کے دستخط کرا کے انہیں بھی شریکِ جرم بنایا ہوا ہے۔ اس قرارداد میں تقاضہ آئین کی دفعہ 251 کی ذیلی دفعات میں ترمیم کر کے پاکستان میں بولی جانے والی زبانوں بلوچی، بلتی، براہوی، پنجابی، پشتو، شینا، سندھی، سرائیکی، ہندکو اور اردو سمیت تمام مادری زبانوں کو قومی مادری زبانوں کا درجہ دینے اور انگریزی زبان کو اگلے پندرہ برس تک ملک کی سرکاری زبان قرار دینے کا کیا گیا۔ اس آئینی دفعہ کی ایک مجوزہ ترمیمی شق میں آئین کے تخت قومی زبانوں کے زمرے میں شامل کی گئی زبانوں کی پروموش کے لئے وفاقی حکومت کے ماتحت ایک فنڈ قائم کرنے اور عربی اور فارسی کو پرائمری سطح کے تدریسی نصاب میں بطور مضمون شامل کرنے اور دوسری ترمیمی شق میں قومی زبانوں کے پھیلاﺅ کے لئے صوبائی اسمبلیوں کو اقدامات اٹھانے کا پابند کرنے کا بھی تقاضہ کیا گیا تھا۔ اس چالبازی میں کمال ہوشیاری سے اردو زبان کو بھی علاقائی زبان کے کھاتے میں ڈالنے کی سازش کی گئی جس کے تحت یہ زبان سندھی، سرائیکی، پشتو، پنجابی، براہوی، ہندکو کی طرح ملک کے صرف مخصوص علاقے تک محدود ہو کر رہ جاتی اور پھر اس کی بنیاد پر اردو زبان بولنے والوں کے لئے نئے صوبے کی تشکیل کا تقاضہ کرنے کی راہ ہموار کر لی جاتی۔ اس قرارداد کے ذریعے ماروی میمن نے اس تسلیم شدہ حقیقت میں دراڑیں ڈالنے کی سازش کی تھی کہ اردو ہی درحقیقت رابطے کی وہ زبان ہے جو ملک کے ہر علاقے کی آبادی کو لسانی، نسلی اور گروہی امتیاز کے بغیر ایک دوسرے کے ساتھ مربوط رکھتی ہے جس سے پاکستانی قوم کا تشخص اُبھر کر مستحکم ہوتا ہے۔ پھر یہ سازش تو پاکستانی قوم کو لسانیات اور گروہ بندی میں تقسیم کر کے منتشر کرنے کی ہوئی ناں۔ ذرا تصور کیجئے کہ اس وطنِ عزیز کو منتشر کر کے توڑنے کی کیسی کیسی گھناﺅنی سازشیں تیار کی جا رہی ہیں اور ان سازشوں کی تکمیل کے لئے کس کس کو آلہ¿ کار بنایا جا رہا ہے۔

علاقائی زبانوں کو قومی زبان کا درجہ دلانے کی سازشی تحریک سب سے پہلے ورلڈ پنجابی کانگرس کے فخر زمان نے شروع کی تھی مگر وہ بھی اردو زبان کو رابطے کی زبان ضرور قرار دیتے ہیں اور یقیناً رابطے کی یہی زبان ملک کے تمام علاقوں کے لوگوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑے ہوئے ہے۔ اگر مختلف علاقوں کے لوگوں میں اپنی اپنی زبان کی بنیاد پر ابلاغ نہیں ہو پاتا تو وہاں اردو زبان کام آتی ہے جو ایک دوسرے کے جذبات و احساسات کو سمجھنے اور بروئے کار لانے میں معاون بنتی ہے۔ اس ناطے سے ہی اردو قومی زبان قرار پائی تھی جسے بانی ¿ پاکستان قائداعظم نے خود قومی زبان کے طور پر لاگو کیا اور پھر 1973ءکے آئین کی دفعہ 251 کے تحت باضابطہ طور پر اردو کو قومی زبان کا درجہ دے کر طے کر دیا گیا کہ اس آئینی دفعہ کے لاگو ہونے کے دس سال کے اندر اندر تمام دفاتر، سرکاری، تعلیمی اداروں اور عدالتوں میں اردو سرکاری زبان کے طور پر رائج کر دی جائے گی، اس بنیاد پر اردو زبان کو 1984ءتک سرکاری زبان کا درجہ مل جانا تھا مگر ضیاالحق کے مارشل لاءنے 73ءکے آئین کو معطل کر کے اردو زبان کے سرکاری زبان کے قالب میں ڈھلنے کی نوبت ہی نہ آنے دی جس کے خلاف سنیئر قانون دان اسماعیل قریشی نے اردو کی دادرسی کے لئے پہلے لاہور ہائیکورٹ اور پھر سپریم کورٹ میں آئینی درخواستیں دائر کیں جن کی عدلیہ میں پذیرائی ہوئی اور عدالتِ عظمیٰ نے آئین کی دفعہ 251 کے تقاضے اس کی روح کے مطابق نبھانے کے احکام صادر کر دئیے۔ پھر حکمران جماعت کی تو یہ ذمہ داری تھی کہ قائداعظم کی سوچ اور عدلیہ کے احکام کی روشنی میں وہ آئین کی دفعہ 251 کو اس کی روح کے مطابق لاگو کر کے اس کا سرکاری زبان کا درجہ تسلیم کراتی چہ جائیکہ کہ وہ خود کو اردو زبان کو کسی ایک علاقے تک محدود کرنے کی سازش کا حصہ بناتی۔ اگر اس سازشی قرارداد پر وزیراعظم نواز شریف کے داماد نے بھی دستخط کئے ہوئے ہیں تو وزیراعظم ان سے اس سازش کے پس پردہ مقاصد و محرکات ہی جان لیں، کہیں اس سازش کے تانے بانے کراچی کو جناح پور میں تبدیل کر کے اسے ملک سے کاٹنے کی سازش کے ساتھ تو نہیں ملتے؟ اگر فی الواقع ایسا ہے تو حکمران مسلم لیگ کے قائد کو سازشی عناصر کے مقاصد فوری طور پر بے نقاب کرنے چاہئیں ورنہ بادی النظر میں انہیں بھی اس سازش میں شریک سمجھا جائے گا۔ اگر آج قائداعظم کی اس نشانی کو مٹانے اور اس کی بنیاد پر ملک کو لسانی بنیادوں پر تقسیم کر کے منتشر کرنے کی سازش کی گئی ہے جو بے شک قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے ناکام بنا دی ہے تو کل کو حکمرانوں کی معصومانہ لاعلمی سے فائدہ اٹھا کر سازشی عناصر ملک کے کسی صوبے کا بھارت، کسی کا افغانستان اور کسی کا ایران کے ساتھ الحاق کرا کے اپنے ہاتھوں وطن عزیز کی بنائی گئی قبر پر فاتحہ پڑھنے کا ڈھونگ رچاتے نظر آئیں گے اور یہی اس وطنِ عزیز کے بدخواہوں کا ایجنڈہ ہے۔ کیا حکمران جماعت کی معصوم قیادتوں کو سرائیکی اور جنوبی پنجاب کے صوبوں کی تشکیل کے پس پردہ محرکات کا ادراک نہیں ہُوا تھا کہ اب اردو زبان کو علاقائی زبان کا درجہ دلانے کی سازش ان کی اپنی پارٹی کے ارکانِ قومی اسمبلی کے دستخطوں کے ساتھ کاغذ پر منتقل ہوئی ہے۔ نئے صوبوں کی تشکیل کی سازش کی کوکھ سے بھی تو اچانک جناح پور کا نقشہ منظر عام پر آ گیا تھا جسے اس وقت کی حکمران پیپلز پارٹی کے سندھی ارکانِ قومی اسمبلی نے ناکام بنایا جبکہ اب یہ سازش حکمران مسلم لیگ (ن) کی صفوں کے اندر سے تیار کرائی گئی ہے۔ پھر وزیراعظم نے پارٹی ہیڈ کی حیثیت سے اپنی پارٹی کے ان سازشی ارکان کے خلاف کیا ایکشن لیا ہے؟ اگر قائمہ کمیٹی یہ قرارداد مسترد نہ کرتی تو کوئی بعید نہیں تھا کہ پارٹی قیادت کے ہر فرمان پر آنکھیں بند کر کے ہاں کہنے کے عادی ارکانِ اسمبلی اس قرارداد پر کیپٹن (ر) صفدر کے دستخط دیکھ کر قومی اسمبلی کے فورم پر اس قرارداد کی منظوری کی بھی نوبت لے آتے۔ جناب یہ اردو کی ہی نہیں، ملک کی بھی بقاءکا سوال ہے، آپ ایسی سازشوں کو بھولپن میں اپنی پارٹی کی صفوں میں ہی پروان چڑھانے کا موقع فراہم کرتے رہیں گے تو ملک کی سلامتی کے درپے بیرونی سازشی عناصر کیوں اپنے مقاصد کی تکمیل نہیں کریں گے۔ سو یہ میرا ہی نہیں، مظلوم قومی زبان اردو اور اسے قومی زبان کا درجہ دینے والے بانی¿ پاکستان حضرت قائداعظم کی روح کا بھی آپ سے سوال ہے کہ آپ نے اس سازش کے محرک اپنی پارٹی کے ارکان کی ”عزت افزائی“ کے کیا اقدامات اٹھائے ہیں؟ کیا آپ کو علم بھی ہے کہ آپ کی چھتری کے نیچے کیسے کیسے موذی سانپ پرورش پا رہے ہیں۔ جناب! کچھ تو کہئے کہ لوگ کہتے ہیں۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com