آئی ڈی پیز کے لئے ایک نشست
Jul 18, 2014

اپنے ہی وطن میں، اپنی ہی سرزمین اور اپنے ہی گھر میں بے گھر اور دربدر ہونے کا تصور ہی اذیت ناک ہے چہ جائیکہ اذیت کے اس عمل سے گزرنا بھی پڑے، یقیناً اس سے بڑا کوئی روگ نہیں ہو سکتا اور اس روگ کا اندازہ بھی ہم فائیو سٹار ہوٹلوں کے یخ بستہ ہالوں میں بیٹھ کر آئی ڈی پیز کے ساتھ ہمدردی کے نام پر اپنی اپنی رونمائی کر کے نہیں لگا سکتے۔ جس کے جسم کو زخم لگتا ہے درد اسی کو ہوتا ہے۔ یہ زخم کتنا گہرا ہے اور اس زخم سے ریلیف کے لئے کس پھاہے، کسی تریاق، کس مجرب نسخے اور کس علاج کی ضرورت ہے، کیا محض زبانی جمع خرچ سے اس کا کھوج لگایا جا سکتا ہے؟ ہم رنج بھرے دل کے ساتھ آئی ڈی پیز کے معاملات کا تذکرہ کرتے ہیں مگر اس تذکرے سے سوائے اپنے دل کی تشفی کے، ہم کسمپرسی کی جانب دھکیلے گئے اپنے بھائی بہنوں کے دکھوں کا حقیقی مداوا نہیں کر سکتے جب تک فی الواقع ان کی ضروریات پوری کر کے ان کی مشکلات کا خاتمہ نہ کر دیا جائے۔ یہی تدبیر سوچنے اور عملی اقدام کی راہ دکھانے کے لئے الطاف حسن قریشی صاحب نے اپنے اردو ڈائجسٹ کے پلیٹ فارم پر ایک فائیو سٹار ہوٹل میں خصوصی نشست کا اہتمام کیا جس کے مہمان خصوصی وفاقی وزیر برائے ریاستی و سرحدی امور لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ نے خود ہی بنّوں کے آئی ڈی پیز کی کسمپرسی کا وہ نقشہ کھینچا کہ ایک لمحے کو دم گھٹتا ہوا محسوس ہوا، پھر الخدمت فائونڈیشن کے ڈاکٹر حفیظ الرحمان اور ہیلتھ کیئر سوسائٹی چیریٹی ہسپتال لاہور کے ڈاکٹر آصف محمود جاہ نے آئی ڈی پی کیمپوں کے ذاتی مشاہدے کو نشست کے شرکاء کے ساتھ شیئر کر کے ماحول کو مزید غمناک کر دیا۔ پھر بزرگ سیاستدان ایس ایم ظفر، ’’اخوت‘‘ والے ڈاکٹر امجد ثاقب، لاہور چیمبرز آف کامرس کے صدر سہیل لاشاری اور دانشوران کرام بیگم بشریٰ رحمان، اوریا مقبول جان، ارشاد عارف اور طیب اعجاز قریشی نے بھی آئی ڈی پیز کے معاملہ میں اپنے اپنے جذبات کا اظہار کر کے اپنے اپنے حصے کا قرض اتارا۔ جذبہ اجاگر ہوا تو نشست میں شامل مخیر حضرات نے بھی لبیک کہا اور وزیراعظم کے ریلیف فنڈ کے ساتھ ساتھ الخدمت فائونڈیشن اور ہیلتھ کیئر سوسائٹی کے قائم کردہ ریلیف فنڈ میں بھی اپنا حصہ ڈال دیا۔

اگر عبدالقادر بلوچ شمالی وزیرستان میں جاری دہشت گردی کے خاتمہ کی جنگ کو 65ء اور 71ء کی پاک بھارت جنگ سے بھی بڑی قرار دے رہے ہیں تو اس جنگ سے متاثر ہو کر بے گھر ہونے والے شمالی وزیرستان کے مکینوں کے دکھ اور مسائل بھی بڑے ہوں گے مگر ان کی کفالت اور معاونت کے لئے حکومتی سطح تو کجا، عوامی سطح پر بھی وہ جوش و جذبہ عنقاء ہے جو 2005ء کے زلزلے اور اس کے بعد مسلسل دو سال تک آنے والے سیلاب کی تباہ کاریوں کے موقع پر متاثرین کی بحالی کے لئے قوم کے بچے بچے کے دل میں اجاگر ہوتا اور عملی امدادی کاموں کے قالب میں ڈھلتا نظر آتا تھا۔ اس بار جماعت الدعوۃ بھی امدادی کاموں میں ڈھیلی ڈھالی رہی جس کا پس منظر الطاف حسن قریشی صاحب کے بقول اس تنظیم کی دہشت گردوں کے خلاف فوجی اپریشن کی حمایت والی پالیسی ہو سکتی ہے کہ اس پالیسی کے باعث انہیں انتہا پسندوں کی جانب سے کسی سخت ردعمل کا خدشہ لاحق ہو چکا ہے مگر دوسری فلاحی تنظیمیں بھی تو فوجی اپریشن کی حمایت کرتے ہوئے ہی اپنی امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جن میں الخدمت فائونڈیشن کی خدمات کا تذکرہ عالمی میڈیا پر بھی سنائی دے رہا ہے جبکہ فری لانس خاتون صحافی اور ہماری کالم نگار عالیہ شبیر بھی بنوں میں آئی ڈی پیز کے لئے اس تنظیم کی امدادی کارروائیوں کا خود مشاہدہ کر آئی ہیں جن کے بقول بنوں میں آئی ڈی پیز کے کیمپوں میں کوئی فلاحی تنظیم سب سے پہلے پہنچی تو وہ الخدمت فائونڈیشن ہی ہے۔ گذشتہ روز کی نشست میں بھی وفاقی وزیر عبدالقادر بلوچ سب سے زیادہ اسی تنظیم کی ستائش کرتے نظر آئے جس کے 25 ہزار رضاکار بنوں، کوہاٹ، کرک اور لکی مروت کے اضلاع میں آئی ڈی پیز کے لئے امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں اور ٹرانسپورٹ کی مفت سہولت، راشن، ادویات، پانی اور عارضی کیمپوں کی تنصیب سمیت جو بھی ممکن ہے یہ تنظیم متاثرہ بھائیوں کی بحالی کے جتن کر رہی ہے۔ جو مخیر حضرات اس تنظیم کی وساطت سے آئی ڈی پیز  کی بحالی کے کام میں اپنا حصہ ڈالنا چاہتے ہوں وہ میزان بنک میں قائم اس کے بنک اکائونٹ 010109512 میں برانچ کوڈ 0214 کے تحت اپنے عطیات جمع کرا سکتے ہیں۔ ڈاکٹر آصف محمود جاہ تو دُکھی انسانیت کی خدمت میں ہمہ وقت مصروف نظر آتے ہیں چنانچہ وہ اسی جذبے کے تحت بنوں میں آئی ڈی پی کے پاس بھی جا پہنچے اور وہاں فری میڈیکل کیمپ تشکیل دینے کے ساتھ ساتھ امدادی کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ان کی خدمات کا تذکرہ بھی وفاقی وزیر کی زبان سے سُننے کو ملا تو دل کو راحت ہوئی کہ دلوں کا درد لگانے والوں کے مقابلے میں دردِ دل رکھنے والوں کی بھی کوئی کمی نہیں۔ آپ ڈاکٹر آصف محمود جاہ سے موبائل فون 03009417290 پر رابطہ کر کے آئی ڈی پیز کی بحالی کے لئے اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔ ’’اخوت‘‘ کے ڈاکٹر محمد امجد ثاقب نے اس نشست میں بنوں سے اپنے ایک دوست کا ادا ہونے والا یہ فقرہ دہرا کر پورے ماحول کو غمناک اور نمناک کر دیا کہ ہماری جن مائوں، بہنوں، بیٹیوں کو کبھی سورج کی کرنوں اور چاند کی روشنی نے بھی نہیں دیکھا تھا وہ آج بنوں کی سڑکوں اور گلیوں میں ننگے سر، ننگے پائوں رسوا ہوتی نظر آتی ہیں۔ وفاقی وزیر عبدالقادر بلوچ نے خود یہ اعتراف کیا کہ اس وقت 9 لاکھ دس ہزار آئی ڈی پیز شمالی وزیرستان سے اپنے گھر بار چھوڑ کر بنوں کے کیمپوں میں منتقل ہو چکے ہیں جن سب کی ضروریات پورا کرنا تنہا حکومت کے بس میں نہیں، ان میں شامل ایک لاکھ خاندانوں میں سے حکومت صرف 20 ہزار خاندانوں کو خیموں کی شکل میں سر چھپانے کا ٹھکانہ فراہم کر پائی ہے، باقی یا کھلے آسمان تلے پڑے سخت گرمی کی تلخیاں اور امتداد زمانہ کی سختیاںبرداشت کر رہے ہیں یا وہ اپنے عزیز و اقارب کے گھروں میں منتقل ہو گئے ہیں۔ ان بے یارو مددگار دُکھی انسانوں کو فوری طور پر پنکھوں، واٹر کولرز، ٹینٹوں اور سِلے ہوئے کپڑوں کی ضرورت ہے جس کے لئے پوری قوم کو آگے بڑھ کر ان کی کفالت کی ذمہ داری سنبھالنا ہو گی۔ سہیل لاشاری نے اس نشست میں ہی ایوان صنعت و تجارت کی جانب سے پہلی قسط کے طور پر ایک کروڑ روپے وزیراعظم کے ریلیف فنڈ میں جمع کرانے کا اعلان کیا تو نشست میںموجود دوسرے مخیر حضرات کا جذبہ بھی دیدنی تھا بالخصوص خواتین خدمت کے اس جذبے میں پیش پیش نظر آئیں۔ ایس ایم ظفر صاحب نے وفاقی وزیر کے اس فقرے کو پکڑ لیا کہ حکومت نے اپنی پالیسی کے تحت آئی ڈی پیز کی بحالی کے لئے بیرون ملک سے امداد طلب نہیں کی۔ انہوں نے متعدد عالمی کنونشنز کا حوالہ دے کر باور کرایا کہ آئی ڈی پیز کی بحالی میں معاونت کی بیرون ممالک پر اسی طرح ذمہ داری عائد ہوتی ہے جس طرح قدرتی آفات کے موقع پر متاثرین کی مدد کی جاتی ہے۔ اس لئے حکومت کو آئی ڈی پیز کی بحالی کے لئے بیرونی امداد طلب کرنے میں ہرگز شرم محسوس نہیں کرنی چاہئے۔

وفاقی وزیر کے اس اعتراف کے بعد کہ جنگ کی حکمت عملی کے تحت متعلقہ علاقوں کے لوگوں کو پیشگی اطلاع دے کر انہیں گھر چھوڑنے کے لئے نہیں کہا گیا تھا، شمالی وزیرستان کے لوگوں پر اچانک ٹوٹنے والی افتاد کے نتیجہ میں ان کے بے گھر اور پھر دربدر ہونے کے کرب کا کیا ہم اپنے گھروں میں محفوظ بیٹھے لوگ اندازہ لگا سکتے ہیں۔ اگر ان کے لئے بنوں کے لوگوں نے انصارِ مدینہ والی مثال قائم کی ہے اور ان کے لئے اپنے گھر اور سینے کشادہ کئے ہیں تو یہ جذبہ قومی سطح پر اجاگر کر کے ان محروموں، مجبوروں کے دُکھوں کا کچھ نہ کچھ تو ازلہ کیا جا سکتا ہے۔ آئیے ہم سب مل کر مشکل کی اس گھڑی اور آزمائش کے اس مرحلے کو آئی ڈی پیز کے جلو میں رہتے ہوئے گزار لیں اور ایس ایم ظفر کی اس بات کو پلے باندھ لیں کہ بے گھر ہونے والے ہمارے یہ بھائی امدادی کاموں کے معاملہ میں حکومت سے مایوس ہوئے تو ان کا ردعمل بہت خوفناک ہو گا۔ کیونکہ یہ ردعمل انہیں دہشت گردوں کا ساتھی بنا کر اس ارض وطن پر دہشت گردی کی نئی قیامت لا سکتا ہے۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com