کراچی کے لئے ’’مسیحا‘‘ کی تلاش
Jul 14, 2014

وزیراعظم میاں نواز شریف کے دورۂ کراچی اور کراچی کے تاجروں سے خطاب کے موقع پر جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے انہیں ’’کراچی عوامی چارٹر‘‘ پیش کر کے اپنی طرف سے تو کارروائی ڈال دی ہے مگر کیا اس چارٹر میں پیش کئے گئے بجلی، ٹرانسپورٹ، انفرا سٹرکچر، صحت، تعلیم اور امن و امان کے حوالے سے عمومی نوعیت کے مسائل حل ہونے سے کیا کراچی پھر سے روشنیوں کا شہر بن پائے گا، کیا اس منی پاکستان میں گذشتہ دہائی سے جاری ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ مافیا کی کارروائیاں مستقل طور پر رُک جائیں گی، کیا کراچی کے شہری پھر سے 60ء 70ء کی دہائی والے امن و آشتی اور خوشحالی والے مزے لوٹ سکیں گے اور سب سے بڑھ کر کیا جماعت اسلامی کو پھر کراچی کی نمبرداری مل پائے گی؟ حافظ نعیم الرحمان نے گذشتہ روز لاہور میں اپنی افطار پارٹی کے موقع پر چیدہ چیدہ کالم نگاروں، ایڈیٹروں اور اینکر حضرات کے ساتھ اپنے جذبات شیئر کئے تو اس وقت بھی میرے ذہن میں یہی سوالات کلبلاتے رہے۔ عطاء الرحمان صاحب نے حافظ نعیم الرحمان کو چٹکی کاٹی کہ بھتہ مافیا اور ٹارگٹ کلرز کے سرپرستوں کے خلاف اب جماعت اسلامی کی جانب سے بھی وہ مؤثر آواز نہیں اٹھائی جا رہی جو ماضی میں اس کا طرۂ امتیاز رہی ہے۔ حافظ صاحب نے اگرچہ یہ جواب دے کر عطاء الرحمان صاحب کو مطمئن کرنے کی کوشش کی کہ ہمارے سوا اور کون ہے جو کراچی اور پورے ملک کے کرب کا باعث بننے والے ان ایشوز پر آواز اٹھاتا ہے تاہم جب میں نے حافظ نعیم الرحمان کے پیش کردہ کراچی عوامی چارٹر کی ورق گردانی شروع کی تو اس میں کراچی کے دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنک و بھتہ مافیا کا بنیادی مسئلہ کے آخری صفحہ کے آخری پیرا میں روٹین کا تذکرہ دیکھ کر مجھے بھی عطاء الرحمان صاحب کی طرح جماعت اسلامی کے ’’طرۂ امتیاز‘‘ میں تبدیلی کو محسوس کر کے حیرت ہوئی۔
بے شک بجلی، پانی، ٹرانسپورٹ کی عدم یا کم دستیابی بھی کراچی کے عوام کے بنیادی مسائل ہیں، بے شک کراچی کو پانی کے K4 منصوبے اور سمندری پانی کے استعمال کیلئے پلانٹ کی تنصیب کی ضرورت ہے، بے شک سابق سٹی ناظم کراچی نعمت اللہ کے ماس ٹرانزٹ کوریڈور منصوبے کے پایہ تکمیل کو پہنچائے جانے سے ہیوی اور سویلین ٹریفک میں امتیاز قائم ہو جائے گا نتیجتاً بڑے حادثات کی شرح بھی کم ہو جائے گی، اسی طرح دیگر گوناں گوں شہری مسائل بھی کراچی کے عوام کے لئے اذیت کا باعث بنتے رہتے ہیں اور ان تمام مسائل کا ترجیحی بنیادوں پر حل ضروری ہے مگر معلوم اور نامعلوم دہشت گردوں اور ٹارگٹ کلرز کی جانب سے جہنم بنائے گئے کراچی کے سر پر طاری اس آسیب کو ہٹا کر اسے دوبارہ ہنستا بستا کراچی بنانا ہی حکمرانوں کی اولین ذمہ داری ہے اور تمام قومی سیاسی قائدین کو بھی روشنیوں کے شہر کراچی میں امن و خوشحالی کی بحالی ہی کو اپنا ایجنڈہ بنا کر پیش کرنا چاہئے۔ اگر کراچی کے پرانے تشخص کی بحالی کے لئے جماعت اسلامی پہلے پیش پیش رہی ہے تو کیا اب کسی مصلحت کے تحت اسے کراچی کے عوام سے بے نیازی کی چادر اوڑھ لینی چاہئے؟ حافظ نعیم الرحمان اور جماعت اسلامی کے دیگر قائدین دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ کیا کراچی عوامی چارٹر حکمران طبقات سے ٹارگٹ کلرز اور بھتہ مافیا کے خلاف اپنی اتھارٹی تسلیم کرا پائے گا۔

وزیراعظم نواز شریف کو بھی دو روز قبل ان کے دورۂ کراچی کے موقع پر کراچی اپریشن کے حوالے سے سب اچھا کی رپورٹ فراہم کی گئی جبکہ جماعت اسلامی نے بھی کراچی کے سلگتے ایشوز دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ مافیا سے بے نیازی کی پالیسی اختیار کر کے کراچی کے عوام کو مایوس کرنا شروع کر دیا ہے۔ قوموں کی زندگی میں آنے والی یہی وہ صورتحال ہے جو قوموں کی بربادی کی بنیاد رکھتی ہے۔ اگر کراچی کے مختلف محکموں میں سیاسی بنیادوں پر کراچی کی ایک مؤثر حکمران جماعت کے کارکنوں کی بھرتی کا جماعت اسلامی کو علم ہے جس کا اظہار حافظ نعیم الرحمان بھی نیم دلی سے فرما رہے تھے تو ان سیاسی بھرتیوں کو قبول کرنے کی روش (یا نئی حکمتِ عملی) کیا کراچی کی بدامنی سے جماعت اسلامی کے بے نیاز ہونے کا ثبوت نہیں؟
ویسے تو مجموعی طور پر پورے ملک میں نشو و نما پاتے دہشت گردی کے ناسُور نے ہمیں نگلنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے مگر کراچی کی حالت تو ناصر کاظمی کے اس شعر والی بنتی نظر آتی ہے کہ

ہمارے گھر کی دیواروں پہ ناصر
اداسی بال کھولے سو رہی ہے

سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری اور عدالتِ عظمیٰ میں ان کی ٹیم نے تمام جتن کر لئے مگر کراچی میں انسانی خون کی ارزانی پر قابو نہ پایا جا سکا۔ انہوں نے بھی کراچی بدامنی کیس میں اپنے فیصلہ میں اپنی تجاویز پر مبنی کراچی کا امن و امان چارٹر ہی پیش کیا تھا مگر مجال ہے ٹارگٹ کلرز اور لینڈ و بھتہ مافیا نے عدالتِ عظمیٰ کی کوئی ایک بھی چلنے دی ہو۔ اسی طرح پچھلے ایک سال سے کراچی میں فوج، رینجرز اور پولیس کی زیر نگرانی ٹارگٹڈ اپریشن جاری ہے مگر نتیجہ ڈھاک کے وہی تین پات، اس اپریشن کے دوران بھی کراچی کے عوام اسی شکوے اور اس تجسّس کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں کہ 

اجے اگلے اتھرو سُکے نیں
لو ہور جنازے آ گئے نیں

 اقتدار سنبھالنے کے بعد وزیراعظم نواز شریف بھی چار بار کراچی کا دورہ کر کے اور وہاں تمام سٹیک ہولڈرز، تاجروں، بیورو کریٹس اور دوسرے شعبہ ہائے زندگی کے نمائندہ لوگوں سے مشاورت کرتے ہوئے کراچی کو بلاامتیاز ٹارگٹ کلرز اور بھتہ مافیا سے پاک کرنے کے اعلانات کر چکے ہیں مگر وزیراعظم کی کراچی میں موجودگی کے دوران بھی وہاں انسانی خون کے بہائو میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی تو پھر جلائے گئے روشنیوں کے اس شہر کو دوبارہ امن و امان کا گہوارہ کیسے بنایا جا سکتا ہے؟ اگر آج جماعت اسلامی بھی مفاہمانہ سیاست کی رنگ بازیوں میں پھنس کر کراچی کے حوالے سے اپنا طرۂ امتیاز تھامے رکھنے کی کوشش نہیں کر رہی اور سیاسی قیادتوں سے لے کر اقتدار کے ایوانوں تک سب ایک دوسرے پر الزام دھرنے اور ملبہ ڈالنے کی روش پر ہی کاربند ہیں تو پھر مسیحا کا کردار کون ادا کرے گا۔ آخر وہ کیا پس منظر ہے کہ انتخابی دھاندلیوں بالخصوص پنجاب کے چار حلقوں میں دھاندلیوں کا سیاپا کرنے والے سونامی خان کو بھی انتخابات کے نام پر کراچی میں عوامی مینڈیٹ پر ڈالے گئے ڈاکے کے خلاف آواز اٹھانے کی جرأت نہیں ہو پا رہی اور یہ کیا معاملہ ہے کہ کراچی کے مختلف محکموں میں کراچی کی سالہا سال کی حکمران جماعت کے مسلمہ اور تربیت یافتہ کارکنوں کی بھرتی کا علم ہونے کے باوجود جماعت اسلامی کے قائدین بھی اس سنگین بے ضابطگی کو اجاگر کرنے سے گریز کرتے نظر آتے ہیں۔ ٹارگٹ کلرز اور بھتہ مافیا کے سرپرستوں کا علم ہونے کے باوجود کیوں کسی میں ان کا دوٹوک الفاظ میں نام لینے کی جرأت نظر نہیں آتی ہے۔ اگر یہ دوعملی اور منافقت جاری رہے گی تو پھر وہ مسیحا کون ہو گا اور کہاں سے آئے گا جو کراچی کو فی الواقعی پھر سے روشنیوں کا شہر بنا دے گا۔ کیا وزیراعظم نواز شریف کی موجودگی میں کراچی کے تاجروں کی اس پکار پر صاد کر لیا جائے کہ کراچی کو کچھ عرصے کے لئے فوج کے حوالے کر دیا جائے، حکومت افواجِ پاکستان کو دہشت گردی کے خاتمہ کے نام پر آئین کی دفعہ 245 کے اختیارات ملک کے کسی بھی حصے میں استعمال کرنے کی اجازت دے رہی ہے تو پھر کراچی میں باضابطہ طور پر فوج کے آنے سے کون اپنے لئے کیا خطرہ محسوس کر رہا ہے۔ افواجِ پاکستان کے 1992ء والے کراچی اپریشن سے یقیناً ٹارگٹ کلرز اور بھتہ مافیا پر قابو پانے میں مدد ملی تھی تو پھر اب کیا مصلحت ہے کہ کراچی کے دردمند حلقوں کے تقاضوں کے باوجود کراچی کے لئے افواجِ پاکستان کے 245 والے اختیارات کو بروئے کار لانے کی حکمرانوں کو نہیں سوجھ رہی۔ بھئی! اب تو پانی سر سے گزرنے لگا ہے۔ سجاد میر صاحب کا یہ قیاس اگر درست ہے کہ کراچی کا کوئی ایک بھی شخص ایسا نہیں ہو گا جو کم از کم تین بار بھتہ مافیا کے ہتھے نہ چڑھا ہو، تو پھر جناب

کیا اسی زہر کو تریاق  سمجھ کر پی لیں
ناصحوں کو تو سجھائی نہیں دیتا کچھ بھی

میرا تجسّس یقیناً اس مسیحا کا متلاشی ہے جو بغیر کسی مصلحت کا شکار ہوئے کرچی کرچی کو اکٹھا کر کے اسے پھر روشنیوں کا شہر بنا دے گا۔ حافظ نعیم الرحمان صاحب کا وجدان کیا کہتا ہے، یہ مسیحا کون ہو سکتا ہے؟
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com