ظفر علی راجا کے تذکرے میں کرامت بخاری کے دُکھ
Jul 04, 2014

پچھلے ہفتے ہمارے قلمی ساتھی اور ہمہ جہت شخصیت کے مالک ڈاکٹر ظفر علی راجا کے ساتھ سٹیزن کونسل آف پاکستان نے ایک خصوصی نشست کا اہتمام کیا جس کے مہمان خصوصی سابق پولیس افسر الطاف قمر صاحب نے حاضرینِ محفل کو یہ کہہ کر چونکا دیا کہ انہوں نے پولیس تھانہ دھمیال راولپنڈی کے ایس ایچ او کو ظفر علی راجا صاحب کا ’’آگا پیچھا‘‘ معلوم کرنے کی ذمہ داری سونپی تھی جس نے راجا صاحب کے ’’پوتڑوں‘‘ تک کی خبر گیری کر لی۔ اس ’’خبر گیری‘‘ میں راجا صاحب کا حدود اربع ایک اکھڑ مزاج کے کرمنل جیسا نکلا جس کا ادب آداب سے کوئی دور کا تعلق واسطہ نہیں ہوتا، ادبِ لطیف سے ناطہ تو بہت دور کی بات ہے۔ الطاف قمر صاحب نے اگرچہ بہر ملاقات کا موضوع باندھنے کے لئے راجا صاحب کی ذات کے حوالے سے یہ شگوفہ چھوڑا تھا جس کا بعد ازاں انہوں نے تقریب کے سٹیج سیکرٹری اور دبنگ آرٹسٹ شجاعت ہاشمی کے نکتۂ اعتراض پر اعتراف بھی کر لیا کہ انہوں نے محض تقریب میں شگفتگی کا رنگ بھرنے کے لئے یہ بات بنائی ہے مگر شجاعت ہاشمی صاحب نے ان کی یہ بات بھی پکڑ لی اور پولیس کلچر کی چھاپ لگے تفتیش کے طریق کار کو کھنگالنا شروع کر دیا۔ پھر الطاف قمر صاحب سے بالاصرار یہ تقاضہ کیا کہ آپ کو ڈاکٹر ظفر علی راجا جیسے کسی شریف آدمی کے بارے میں کھوج لگانے کی ضرورت محسوس ہو تو کسی ایس ایچ او کو زحمت دینے کے بجائے ہم جیسے ان کے سخنور ساتھیوں کو یاد فرما لیا کریں ورنہ ایس ایچ او تو اپنی رپورٹ میں شرابی، کبابی اور اٹھائی گیر سمیت ان میں بستہ ب کے بدمعاشوں والی ہر خرابی بیان کر دے گا۔

پولیس والے تو ادب آداب اور حفظِ مراتب کے معاملہ میں خیر سے ہوتے ہی پھسّڈی ہیں جو ہر شریف آدمی کے ساتھ کسی گھنائونے مجرم کی طرح ڈیل کرتے ہیں، سو ان کی تفتیش میں شرفاء کا شجرۂ نسب چھٹے بدمعاشوں کے ساتھ جا ملتا ہے۔ ان کا ادبی، شعری ذوق، اور لطیف جذبات سے کیا تعلق واسطہ؟ پولیس کلچر کے اس تصور کے غلبہ میں کسی ’’ویر سپاہی‘‘ کو سِکّہ بند شاعری کرتے دیکھتا ہوں تو مجھے خوشی سے زیادہ حیرت ہوتی ہے مگر اب اس ’’بے ادب‘‘ محکمہ میں در آئے ڈاکٹر احسن ندیم، ڈاکٹر ذوالفقار چیمہ اور الطاف قمر جیسے قلمکاروں نے اس محکمہ کے سر پر سجی ہوئی ’’بے ادبی‘‘ کی قلغی اتارنے کی ٹھانی ہوئی ہے۔ دیکھیں وہ اس سرکش محکمہ کو ادب آداب والے کلچر سے روشناس کرا پاتے ہیں یا نہیں مگر اس بے ادب محکمہ کے تذکرے نے بیورو کریسی کے تابع دوسرے محکموں کی بے ادبی کی زندہ مثالوں کو بھی کھنگال کے سامنے لانا شروع کر دیا ہے۔ سو محض پولیس کلچر ہی نہیں، بیورو کریسی کے تابع کم و بیش ہر سرکاری محکمے میں آپ کو ’’بے ادبوں‘‘ کے جمِ غفیر نظر‘‘ آئیں گے۔ ڈاکٹر اجمل نیازی اسی ناطے بیورو کریسی کو ’’بُرا کریسی‘‘ کے لقب سے یاد کرتے ہیں اور یہ لقب بیورو کریسی پر ایسا فِٹ بیٹھا ہے کہ اس کے انگ انگ میں ’’بُرا کریسی‘‘ کی جھلک چھلکتی نظر آتی ہے اور یہ آج کا قصہ نہیں، سعادت حسن منٹو اپنے افسانہ ’’کھول دو‘‘ جو قیام پاکستان کی تلخ یادوں کا استعارہ ہے، کی پاداش میں فحاشی پھیلانے کے الزام میں دھر لئے گئے تو پولیس تفتیش کے الطاف قمر صاحب والے بیان کردہ کلچر میں انہیں چھٹا ہوا بدمعاش ثابت کر دیا گیا۔ انہوں نے اس واقعہ کی روداد سُناتے ہوئے خود تحریر کیا ہے کہ دوران تفتیش پولیس والے مجھ سے پوچھتے رہے کہ ’’وہ بم کہاں چھپا کر رکھا ہوا ہے؟‘‘ میں نے استفسار کیا کہ کون سا بم تو ایک ’’باادب‘‘ پولیس والے نے میرا ایک افسانہ میرے سامنے رکھ دیا جس کا موضوع تھا ’’زیرو بم‘‘ ۔ ’’ہم اس بم کا ہی پوچھ رہے ہیں کہ یہ آپ نے کہاں چھپا کر رکھا ہوا ہے۔‘‘ شاید غالب نے بھی ایسی ہی کسی تفتیش کی کیفیت کی اپنے اس شعر میں ترجمانی کی تھی کہ

پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحق
آدمی کوئی ہمارا دمِ تحریر بھی تھا؟

یہ تو اگلے وقتوں کی بات ہے۔ چند سال قبل ہمارے ایک صحافی بھائی سعید بخاری (جو اب مرحوم ہو چکے ہیں) ایک انتہائی حساس اور سنگین مقدمے کی زد میں آ گئے تھے۔ انہوں نے دوران تفتیش متعلقہ پولیس افسر کو بتایا کہ انہوں نے تو فلاں معروف عالم دین کی سیرت النبیؐ کی کتاب میں سے متعلقہ پیرا نقل کیا تھا۔ پولیس افسر نے انہیں کہا کہ پھر آپ ہمیں ان مولانا کا ایڈریس بتا دیں ہم اس کیس میں انہیں بطور گواہ طلب کر لیتے ہیں۔ سعید بخاری کی بھی رگِ ظرافت پھڑکی اور پولیس افسر کو اس قبرستان کا ایڈریس بتا دیا جہاں وہ حضرت مدفون ہیں۔ آپ شاید اسے ظرافت کا شاہکار سمجھیں گے مگر یہ حقیقت ہے کہ متعلقہ پولیس اہلکار سعید بخاری کے دئیے گئے ایڈریس پر مرحوم مولانا سے تفتیش کے لئے قبرستان جا پہنچا تھا۔

ارے، ایسے کلچر میں آپ توقع رکھیں کہ سرکاری محکموں میں گھس بیٹھئے کم از کم بانیانِ پاکستان اور مشاہیر اسلام کو تو عزت و توقیر کے ساتھ یاد کریں گے۔ ابھی کل کا واقعہ دیکھئے، کراچی کے واٹر اینڈ سیوریج بورڈ نے مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کے انتقال کے 47 سال بعد ان کے نام پر اڑھائی لاکھ روپے سے زیادہ کی نادہندگی کا نوٹس جاری کر دیا جس میں محترمہ فاطمہ جناح کو ہدایت کی گئی کہ وہ اس نوٹس کے وصول ہونے کے دس روز کے اندر اندر اپنے واجبات ادا کر دیں بصورت دیگر ان کے پانی اور سیوریج کے کنکشن منقطع کر کے انہیں گرفتار کر لیا جائے گا۔ عقل کے اندھے بے ادبوں کی اس حرکت کی جب میڈیا نے خبر لی تو اگلے روز ایم ڈی واٹر بورڈ کی جانب سے وضاحتی بیان جاری کیا گیا کہ محترمہ فاطمہ جناح کے نام پر بھیجے گئے پانی کے بل کو معاف کر دیا گیا ہے، اب آئندہ ان کے نام پر کوئی بل نہیں بھیجا جائے گا۔ کیا اس وضاحت پر آپ کا دل بھی ایسے بے ادب پھسّڈی افسران کی عقل پر ماتم کرنے کو نہیں کر رہا؟ ایم ڈی واٹر بورڈ نے اپنے وضاحتی بیان میں محترمہ فاطمہ جناح کا ’’جرم‘‘ تو ثابت کر دیا ناں۔ اگر انہوں نے ’’جرم‘‘ نہ کیا ہوتا تو ایم ڈی کے حضور انہیں معافی کیوں ملتی۔

ان دنوں ہمارے ایک محترم دوست کرامت بخاری بھی اپنے محکمہ کے ایسے ہی پھسّڈی کرتا دھرتائوں کے چُنگل میں پھنسے رُل رہے ہیں۔ اگر وہ معروف شاعر ادیب نہ ہوتے اور اس ناطے سے حِس لطیف سے مالا مال ہونے کے بجائے بے ادب کلچر کے رنگ میں رنگے ہوتے تو گریڈ 20 تک پہنچنے کے باوجود اپنے 19 ماتحتوں کی گریڈ 21 میں ترقی کا رونا رونے کے بجائے کہنی مار کلچر کو اپنی ذات پر لاگو کر کے گریڈ 22 کے ساتھ اپنی ریٹائرمنٹ کی منزل سے ہمکنار ہو رہے ہوتے۔ محکمہ آڈٹ اینڈ اکائونٹس کے عقل کے اندھوں کو میانوالی کے پسماندہ گائوں سے دیّے کی روشنی میں نصابی اور غیر نصابی علمی، ادبی کتب کو کھنگالتے، اعلیٰ تعلیم کے زینے چڑھتے اور اپنی لطیف ادبی حِس کو اپنی 13 کتب کے اوراق میں منتقل کرتے گریڈ 20 تک پہنچنے والے اس درویش صفت افسر کے اوصافِ حمیدہ کا کیا ادراک ہو سکتا ہے۔ ہمارا ادب آداب سے مزّین مہذب معاشرہ ہوتا تو کرامت بخاری جیسے درویشوں کو سر پر اٹھائے رکھتا مگر وہ اپنی ملازمت کے آخری مراحل میں ڈی جی آڈٹ اینڈ اکائونٹس کے اعلیٰ منصب تک پہنچنے کے باوجود آج او ایس ڈی بنے اپنی شرافت کی سزا بھگت رہے ہیں۔ سو کرامت بخاری صاحب کو طمانیت قلب کے لئے ’’گھُس بیٹھئے‘‘ کلچر کے بیان کردہ شاہکار نمونوں کو پیش نظر رکھنا چاہئے۔ جس کلچر میں مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کا ’’جرم‘‘ ثابت کر کے ان کے لئے معافی کا پروانہ جاری کیا جا رہا ہے ایسے کلچر میں کرامت بخاری صاحب کا شرافت و لطافت بانٹنے والا جرم تو تختہ دار والی سزا کا مستوجب ہونا چاہئے۔ آپ اپنی اس ناکردہ گناہی پر ’’مجاز اتھارٹی‘‘ سے رحم کی اپیل کریں گے تو جناب آپ کے محکمے میں بھی تو ایم ڈی واٹر بورڈ کراچی جیسے شاہکار بیٹھے ہیں، سو اپنی شرافت کو اوڑھے خاموشی کے ساتھ اپنی ریٹائرمنٹ تک کے دن پورے کر لیجئے۔ اسی میں آپ کی عافیت ہے۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com