رمضان کریم اور ہماری اخلاقیات
Jun 30, 2014

ہماری اخلاقیات کا کیا معیار ہے اور شرفِ انسانیت کے تقاضے نبھانے کا ہم کتنا ظرف رکھتے ہیں، اسے جانچنے کا ماہ مقدس رمضان المبارک بہترین پیمانہ ہے۔ یہ برکتیں سمیٹنے اور اپنی مغفرت کی سبیل کرنے کا مہینہ ہے مگر اسی ایک ماہ کے دوران ہماری ہوس پرستیوں کے نظارے دیدنی ہوتے ہیں۔ اگر مقابلہ بازی ہوتی ہے تو وہ عبادت گزاری میں نہیں، ناجائز منافع کمانے میں، اپنا گھٹیا سے گھٹیا مال مہنگے داموں فروخت کرنے میں، جھوٹ اور ریاکاری میں، منافقت میں، لوٹ مار میں اور اپنے کلمہ گو بھائیوں کے گلے کاٹنے میں۔ کیا یہ ریاکاری نہیں کہ حکمران رمضان کریم میں مہنگائی کم کرنے، لوڈشیڈنگ ختم کرنے، سستے رمضان بازار لگانے اور محمدی دستر خوانوں کا اہتمام کرنے کے اعلانات کرتے ہیں مگر مہنگائی کا عفریت اس مقدس مہینے کے دوران عوام کا خون نچوڑنے کے لئے پہلے سے بھی زیادہ کیل کانٹوں سے لیس نظر آتا ہے۔ سستے رمضان بازاروں میں غیر معیاری باسی اشیاء ضرور وافر مقدار میں پائی جائیں گی، جا بجا گندگی کے ڈھیر ضرور لگے نظر آئیں گے، کمپیوٹر کے پیمانے بھی ناپ تول میں ضرور ہیر پھیر کرتے نظر آئیں گے مگر حکومت کی اعلان کردہ نرخوں میں کمی آپ کو کہیں نظر نہیں آئے گی۔ اور تو اور خوانچہ فروش تک اس مہینے کھلم کھلا لوٹ مار میں ببرّ شیر نظر آتے ہیں۔ پرائس کنٹرول کمیٹیاں کس بلا کا اور کس مرض کی کس دوا کا نام ہیں، ان کے ارکان کے گھروں کے کچن، مفت کے تازہ پھلوں، گھی، دودھ، مٹن، چکن اور انواع و اقسام کی مفت ہاتھ آئی اجناس سے بھر جاتے ہیں، انہیں منافع خوروں کی کند چُھری سے ذبح ہونے والے غریب عوام الناس سے کیا ہمدردی اور سروکار ہو سکتا ہے۔ رمضان بازار کے دکانداروں کو کیا گیا ایک بار کا جرمانہ ان کے لئے مہینہ بھر کی مفت خوری کا اہتمام کر جاتا ہے اور اس کے بدلے ناجائز منافع خوروں کی چاندی ہو جاتی ہے۔ ویسے تو عام دنوں میں بھی مہنگائی، بے روزگاری کا عذاب جھیلنے والے مزدور اور کم تنخواہوں والے غریب طبقات کا مسئلہ بنی رہتی ہے مگر رمضان کریم اور مہنگائی کو تو ہمارے معاشرے میں لازم و ملزوم بنا دیا گیا ہے۔ سو عام دنوں میں پچاس پچپن روپے کلو والی کھجور جستیں بھرتے ہوئے دو سو روپے کلو کی حد بھی کراس کرتی نظر آئے  گی اور گلے سڑے پھل بھی اس مقدس مہینے کے دوران عام آدمی کو اپنے قریب نہیں پھٹکنے دیتے۔ مجال ہے اس مہینے کے دوران بے وسیلہ لوگوں کو افطاری کے لئے چاٹ تیار کرنے کی حسرت بھی پوری کرنے دی جائے۔ اور تو اور، بیسن اور دالیں بھی حقیقی روزہ دار عام آدمی کی پہنچ سے کہیں دور جا نکلتی ہیں اور مشروبات کے نرخ، توبہ توبہ، خدا خدا کیجئے۔ ارے واہ، ہم روزہ داروں کو عذاب دے کر ثواب کما رہے ہیں۔ پھر اس مقدس مہینے کے دوران سرکاری، نیم سرکاری اور نجی اداروں کے ملازمین کی کارکردگی اور ذہنیت ملاحظہ فرما لیں، روزے کے بہانے کام چوری سب سے زیادہ اس مہینے میں نظر آئے گی اور پھر سائلان سے جبری عیدی وصول کرنے کا سلسلہ ماہ رمضان کے پہلے روزے سے ہی شروع ہو جاتا ہے۔ خلقِ خدا جائے تو جائے کہاں، مہنگائی نے اس کی مت مار رکھی ہے۔ کرپشن، اقربا پروری کی لت نے اسے نڈھال کیا ہوا ہے اور پولیس گردی کی مار بھی اس مہینے کے دوران بے وسیلہ مقہور طبقات کو ہی پڑتی ہے۔ انصاف کے کاغذوں کے نیچے پہیے لگے ہوئے ہوں گے تو وہ خرگوش کی چال بنے گا ورنہ سادہ و معصوم انسان اس کے پیچھے دوڑتا دوڑتا ’’ہف‘‘ جائے گا مگر انصاف اس کے ہاتھ آنے کا نہیں اور ہمارا کلچر ملاحظہ فرمائیں۔ ہر مسلمان کی خواہش ہوتی ہے کہ اسے رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں عمرہ کرنے کی سعادت حاصل ہو جائے، آپ کو کسی دوسرے معاشرے میں ایسا کلچر نظر نہیں آئے گا مگر یہ ذہناً کوتاہ قامت لوگ مسلمانوں کی خواہش کو بھی اپنی ناجائز منافع خوری کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔ آپ نجی ٹور آپریٹرز کے رمضان پیکج کا جائزہ لے کر دیکھئے، عام دنوں میں ان کا عمرہ پیکج انتہائی منافع کے ساتھ (جس کا مجھے خود بھی مشاہدہ کرنے کا موقع مل چکا ہے) ایک لاکھ اور پانچ سے دس ہزار روپے کا ہے تو ماہ رمضان المبارک کے لئے ان کا عمرہ پیکج دو لاکھ روپے تک جا پہنچتا ہے۔ اس میں یقیناً فضائی ٹکٹ کی اضافی رقم بھی شامل ہوتی ہے مگر جو لوٹ مار نجی ٹور آپریٹرز کے ہاتھوں اور ان کی معاونت سے مقدس ارضِ وطن سعودی عرب میں کی جاتی ہے اس کی مثال شاید پورے کرۂ ارض میں نہیں مل سکے گی۔ تھرڈ کلاس ہوٹلوں کے ڈربہ نما کمروں میں چار سے پانچ لوگوں کو ٹھونس کر ان کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے، پیسے ان سے پورے کمرے کے دھر لئے جاتے ہیں اور دونوں مقدس شہروں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں انہیں روم شیئرنگ کی اذیت اٹھانا پڑتی ہے پھر ان کے ہوٹل میں قیام کا ان کی سڑکوں پر خواری کی صورت میں ایک دن معلق کرکے اس دن کا کرایہ بھی ٹور آپریٹرز کے منافع کا حصہ بنا دیا جاتا ہے۔ پیکج میں شامل ٹرانسپورٹ کے کرائے میں بچوں تک کا پوری سیٹ کا کرایہ وصول کر کے ان کی ایک دو سیٹیں گھٹا دی جاتی ہیں اور بچوں کو گود میں بٹھانے پر مجبور کیا جاتا ہے، اسی طرح پیکچ میں دونوں مقدس شہروں میں نزدیک کی رہائش کا چکمہ دے کر دور دراز کے مقامات پر پھینک دیا جاتا ہے اور طعام کے اخراجات تو عمرہ یا حج کی سعادت حاصل کرنے کے لئے سعودی عرب جانے والے بے وسیلہ عوام الناس سے کسی صورت برداشت ہی نہیں ہو پاتے۔ ٹور آپریٹرز پاکستان کے زائرین کے قیام کا بندوبست زیادہ تر انہی علاقوں میں کرتے ہیں جہاں پاکستانی تاجروں کا خوراک کا کاروبار ہو گا جو من مانے نرخ مقرر کر کے زائرین کی مجبوریوں سے خوب فائدہ اٹھاتے ہیں۔ عبادت کے اس فریضہ کو آسانیاں پیدا کر کے سکون و راحت کا وسیلہ بھی بنایا جا سکتا ہے مگر ہم تو عبادت کے ایسے مراحل میں بھی ناجائز منافع خوری سے نہیں چوکتے اور یقیناً یہ سب کچھ متعلقہ حکومتی مشینری کی ملی بھگت سے ہوتا ہے۔ دو ماہ قبل مجھے اپنی اہلیہ کے ہمراہ عمرہ کی سعادت حاصل ہوئی تو وہاں بالخصوص پاکستان سے آنے والے زائرین کی درگت بنتے دیکھ کر دل رنج سے بھر گیا کہ ہم اپنی اخلاقیات کے کس معیار تک آ گئے ہیں کہ عبادت گزاری کے مراحل میں بھی لوٹ مار سے ہاتھ نہیں کھینچتے، پھر ہماری عبادت گزاریاں ہماری بخشش کا اہتمام کر رہی ہیں یا روزِ قیامت ہمارے عذاب میں اضافہ کی صورت بنا رہی ہیں؟ اگر غیر مسلم معاشروں میں مسلمانوں کو ماہ رمضان اور عیدین کے موقع پر فضائی کرایوں اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کے نرخوں میں کمی کی صورت میں عبادت کی سہولت فراہم کی جاتی ہے تو ہماری شرفِ انسانیت ایسے مواقع پر کیوں کونوں کھدروں میں جا چھپتی ہے۔ عرب ریاستوں میں تو گذشتہ روز سے ہی ماہ مقدس کا آغاز ہو چکا ہے، میں نے ابوظہبی اور دوبئی میں اس مقدس مہینے کا اہتمام ہوتے دیکھا ہے جہاں، ہر شاپنگ مال میں رمضان کریم کی خصوصی پیکج اور پھر ہر مسجد، ہر شاہراہ، ہر چوک اور تمام دوسرے اہم مقامات بشمول پارکوں میں سحری اور افطاری کے فی سبیل اللہ وسیع انتظامات کئے جاتے ہیں اور ، پورا مہینہ یہ سلسلہ جاری و ساری رہتا ہے جہاں لوگ یہ سمجھ کر افطاری اور سحری کرنے نہیں جاتے کہ مفت کھانا اور مشروبات ملتے ہیں بلکہ اسے عبادت کا حصہ سمجھ کر افطاری اور سحری دستر خوانوں پر بیٹھتے ہیں مگر ہمارے معاشرے میں ناجائز منافع خوری، لوٹ مار اور منافقت و ریاکاری کو عبادت کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔ سرکاری سطح پر دستر خوان لگانے کے یوں اعلان کئے گئے جیسے یہ بھوکوں ننگوں پر کوئی احسانِ عظیم کیا جا رہا ہے۔ آخر ہم نے اپنی اخلاقیات کی کیا حدیں مقرر کی ہوئی ہیں۔ آج ماہ مقدس رمضان کریم کے پہلے روز سحری کھاتے اور افطاری کرتے وقت سوچئے اور جائزہ لیجئے کہ ہمارے معاشرے کے کتنے بے بس و مجبور لوگوں نے آج پانی کے گھونٹ کے ساتھ سحری کی ہے اور افطاری کے لئے انہیں نانِ جویں کا کوئی ایک ٹکڑا دستیاب بھی ہوا ہے یا نہیں۔ ہم مہینہ بھر یہ جائزہ لیتے رہیں تو شاید بھوکوں مرتے انسانوں کے دکھ کچھ کم کرنے کی سبیل نکل آئے۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com