طمانیت اور دھڑکا
Jun 27, 2014

میجر (ر) جمیل ڈار نے اپنے دل میں کوٹ کوٹ کر پاکستانیت کا جذبہ بھرا ہُوا ہے۔ ایک عرصہ تک ابوذر غفاری کے قلمی نام سے نوائے وقت کے لئے لکھتے رہے ہیں۔ ملک پر کوئی افتاد ٹوٹتی ہے تو تڑپ اُٹھتے ہیں۔ ممکن ہے ان کا یہ جذبہ افواج پاکستان کے ساتھ وابستگی کے ناطے ہو مگر وہ اپنی آنکھوں کے سامنے گھومنے والے حقائق کی بنیاد پر افواج پاکستان کو حقیقی معنوں میں وطن عزیز کی محافظ سمجھتے ہیں اور اس مؤقف کی وکالت کرتے ہوئے کبھی لگی لپٹی سے کام نہیں لیتے۔ میری ان کے ساتھ دیرینہ نیاز مندی ہے اسی لئے وہ ملکی حالات پر اپنے جذبات اکثر میرے ساتھ شیئر کرتے رہتے ہیں۔ دہشت گردی کی جنگ کے حوالے سے وہ سول حکمرانوں کی پالیسیوں کے ناقد رہے ہیں اور اپریشن شروع نہ کرنے پر تلملاتے بھی نظر آتے رہے ہیں۔ موجودہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے پروفیشنل ازم کے حوالے سے بھی ان کی بہت مثبت اپروچ ہے اور بعض حلقوں کی جانب سے ان کے بارے میں ماضی جیسے کسی ماورائے آئین اقدام کے حوالے سے پھیلائے جانے والے تاثر کے قطعی برعکس میجر (ر) جمیل ڈار کا خیال ہے کہ ان کی زیر کمان سپاہ پاکستان حقیقی معنوں میں ملک کی آزادی، خود مختاری، استحکام اور سلامتی کی ضامن بنے گی اور ملک کی سرحدوں کی حفاظت کا ہر تقاضہ نبھائے گی۔ اسی ناطے سے شمالی وزیرستان میں فوجی اپریشن کے آغاز سے وہ خوش اور مطمئن ہوئے اور اس یقین کا اظہار کیا کہ اب یہ اپریشن یہاں سے دہشت گردی کے ہر روٹ کو جڑ سے ختم کر کے ہی دم لے گا۔  چاہے اب کتنی ہی مصلحتیں سول حکمرانوں کے آڑے آتی رہیں، جنرل راحیل شریف کی زیرِ کمان فوجی اپریشن شروع ہُوا ہے تو یہ ہر صورت نتیجہ خیز ثابت ہو گا۔ آج تو وہ کچھ زیادہ ہی پُرجوش دکھائی دئیے۔ ‘‘نوائے وقت‘‘ کے قومی اُفق ایڈیشن میں شائع ہونے والی سہیل عبدالناصر کی ڈائری کا حوالہ دے کر وہ بے پایاں خوشی بھرے جذبات میں طمانیت کا اظہار کر رہے تھے۔ اس ڈائری میں دی گئی اطلاع کی بنیاد پر طمانیت ان کی یہ تھی کہ شمالی وزیرستان میں بھاری توپ خانہ  اور ٹینک پہنچا دئیے گئے ہیں۔ ان کی رائے اور تجربات کی روشنی میں یہ توپ خانہ دشمن پر نشانے باندھ کر وار کرنے کا اتنا مؤثر ہتھیار ہے کہ پوری دنیا میں اس کی کوئی مثال موجود نہیں۔ ’’65ء کی پاک بھارت جنگ میں مَیں نے اسی توپ خانے  کی زیر کمان دشمن کی فوجوں کے چھکے چھڑائے تھے، جب اس کا گولہ نشانے پر پہنچ کر پھٹتا تھا تو دشمن کی فوجوں کے دل پھٹ جاتے تھے، اس کی دھمک سے ہی ان کی پتلونیں گیلی ہو جاتی تھیں اور پھر وہ گاجر مولی کی طرح کٹتے زمین پر گرتے نظر آتے تھے۔ ہمارا دشمن آج بھی بھاری توپ خانے  پر مبنی اس جنگی ہتھیار سے محروم ہے اس لئے آج ہمیں دشمن پر اس توپ خانے  کی بدولت ہی نفسیاتی برتری حاصل ہے۔ پھر تصور کر لیجئے جب یہ توپ خانہ  شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر گولے برسانا شروع کرے گا تو ان کا کیا حشر ہو گا، اس لئے اب سمجھو کہ دہشت گردی کی جنگ میں ہماری کامیابی کی منزل قریب آ چکی ہے۔‘‘ میجر (ر) جمیل ڈار نے پوری طمانیت کے ساتھ اور بے تکان اپنے جذبات کا اظہار کیا اور ساتھ ہی یہ بے لاگ تبصرہ بھی کر دیا کہ یہ اپریشن اب سول حکومت کی کامیابی کی بھی ضمانت بنے گا اور اپنی اپنی مفاداتی سیاست کے تابع جو سیاستدان کسی حکومت مخالف تحریک کے لئے گرینڈ الائنس کی شکل میں اکٹھے ہو رہے ہیں، ان سب کی زبانیں گنگ ہو جائیں گی۔

اگر شمالی وزیرستان اپریشن کے حوالے سے میجر جمیل ڈار کی طمانیت کو قومی طمانیت میں تبدیل کر لیا جائے تو پھر وطنِ عزیز کے لئے ’’سَتّے ای خیراں نیں۔‘‘ اگر وطن عزیز میں پھیلتے دہشت گردی کے ناسُور کی جڑیں کاٹ دی جاتی ہیں تو پھر شمالی وزیرستان اپریشن امن کی بحالی، قومی معیشت کی بحالی اور استحکام  کا کیوں ضامن نہیں بنے گا؟  دنیا میں ٹوٹا ہوا ہمارا بھرم کیوں دوبارہ قائم نہیں ہو گا، ہمارا روٹھا ہوا مقدر کیوں دوباہ نہیں سنورے گا۔  بے شک ہم دنیا کی بے مثال قوم ہیں، ہر گردشِ زمانہ کو ٹالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور یہ مملکتِ خداداد تاقیامت زندہ سلامت رہنے اور طاغوتی طاقتوں کے سینے پر مونگ دلتے رہنے کے لئے بنی ہے تو وطنِ عزیز کے ماتھے پر لگا دہشت گردی کا کلنک اُترنے سے ہمارا یہی تشخص، یہی وقار، یہی مقام، یہی مرتبہ پھر اقوامِ عالم میں ہماری سرخروئی کا باعث بن جائے گا۔ اس تناظر میں میجر (ر) جمیل ڈار کی طمانیت کا جائزہ لیتے ہوئے خود مجھے بھی یک گونہ طمانیت کا احساس ہونے لگا، بس کبھی کبھی تشویش کی لہر کوند جاتی ہے۔ کراچی ائرپورٹ کی دہشت گردی کے بعد بیرونِ ملک سے آنے والی پی آئی اے کی پرواز کے پشاور ائر پورٹ پر لینڈنگ کرتے وقت بھی تاک میں بیٹھا دشمن نہیں چُوکا اور اس نے اس مسافر پرواز پر گولیاں برسا دیں جس میں ایک خاتون مسافر کے جاں بحق اور جہاز کے عملہ کے زخمی ہونے کی اطلاع میڈیا کے ذریعے پوری دنیا تک پھیلی تو عجیب سی چہ مگیوئیوں کا نیا سلسلہ شروع ہو گیا۔ ملک کے دفاع اور سلامتی کی ذمہ داری مضبوط اور محفوظ ہاتھوں میں ہے تو یہ سب کیا ہے۔ ہم اتنے بے بس ہو گئے ہیں کہ کسی محفوظ سے محفوظ جگہ پر بھی خود کو محفوظ نہیں سمجھ سکتے۔ بیرونی دنیا میں ہمارا تشخص اتنا خراب ہو گیا ہے کہ کوئی سرمایہ کار یہاں اپنا پیسہ لگانے کو تیار نہیں، کوئی ملک اپنی کرکٹ، ہاکی یا کسی دوسرے کھیل کی ٹیم یہاں بھجوانے پر آمادہ نہیں۔ کہیں چنگاری سُلگتی ہے تو بیرونِ ممالک کے سفارتخانے  یہاں موجود اپنے شہریوں کو اپنی نقل و حرکت محدود کرنے کی ہدایات جاری کر دیتے ہیں اور اب تو پشاور ائر پورٹ کے واقعہ کے بعد یو اے ای کی امارات اور اتحاد ائر لائن نے پشاور کے لئے اپنی پروازیں ہی معطل کر دی ہیں۔ خدا خیر کرے۔  اور پھر اپنی کٹھ پتلیوں کو ڈگڈگی پر نچواتے ہوئے ملک میں سیاسی عدم استحکام کے راستے کھلوانے والوں کے مقاصد کیا ہیں۔ ایک طرف قومی یکسوئی کا متقاضی فوجی اپریشن جاری ہو اور دوسری جانب ملک میں سیاسی عدم استحکام کو راستے دے کر دہشت گردی کی جنگ میں مصروف سپاہ پاکستان کی اس محاذ پر مرکوز توجہ سے دشمن کو فائدہ اٹھا کر ملک کی سلامتی پر وار کرنے کا نادر موقع فراہم کیا جا رہا ہو تو اس ساری دھما چوکڑی میں ملک کی سلامتی محفوظ ہاتھوں میں ہونے کی طمانیت کہیں آنکھیں بند کر کے موت کو ٹالنے کے تصور والی کبوتر کی طمانیت ہی نہ بن جائے۔ ہزاروں  وسوسوں سے بھرے دل کا اطمینان کہیں تیز ہوتی دل کی دھڑکنوں میں ہی نہ گم ہو جائے۔ بہر صورت ہمیں عہد وفا نبھانا ہے چاہے ’’ناکردہ گناہی بھی گناہوں میں چلی آئے‘‘ اور پھر ہم نے تو

تیرے بخشے ہوئے ہر درد کو تعویز کیا
کون کہتا ہے کہ ہم رسمِ وفا بھول گئ
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com