تھپکی اور پچکار
Jun 25, 2014

قادری اتھل پتھل ڈرامے میں وزیر اعلیٰ شہباز شریف جلتی پر پانی ڈالنے کا کردار ”نیویں نیویں“ ہو کر نبھا رہے ہیں تو حکومتی صفوں میں کون ہے جو جلتی پر تیل ڈالنے کا کردار ادا کرکے جمہوریت بھسم ایجنڈے کی تکمیل چاہتا ہے۔ کل شہباز شریف نے گورنر پنجاب چودھری محمد سرور کی مشاورت سے انہی کے ذریعے لاہور ائرپورٹ پر قادری اتھل پتھل ڈرامے کو فلاپ کرانے کے مراحل بھی نیویں نیویں ہو کر طے کر لئے مگر اسلام آباد سے امارات ائرلائنز کی متعلقہ پرواز کا لاہور کی جانب رخ موڑنے کی حکمت عملی طے کرنے والے کون لوگ تھے۔ میاں شہباز شریف خود ہی اس کا کھوج لگا لیں ورنہ وہ اپنی پارٹی کی صفوں میں اوروں کی جانب سے جمہوریت کو کچلنے، مسلنے کی خاطر بے دردی کے ساتھ لگائی گئی گرہیں اپنے دانتوں سے کھولتے کھولتے تھک جائیں گے۔ ارے جناب! قادری کے جہاز کا رخ موڑنے کی حکمت عملی سے ہی تو قادری صاحب کو بھی مسلسل چھ سات گھنٹے تک میڈیا کے ذریعے پوری قوم کے حواس پر چھائے رہنے کا نادر موقع ملا جبکہ اسی حکمت عملی نے مہربانوں کے دلوں میں اکتوبر 1999ءکے جرنیلی جہاز کا رخ موڑنے کے واقعہ کی یاد تازہ کی اور اسی بنیاد پر خوش فہموں کی جانب سے 12 اکتوبر 99ءوالے نتائج کا باچھیں کھلاتے ہوئے کل والے قادری اتھل پتھل ڈرامے کے ساتھ ٹانکا لگایا جاتا رہا۔ پھر کیوں نہ ”جو ہو چکا سو ہو چکا“ کے بعد اب ٹھنڈے دل سے غور کر لیا جائے کہ اگر امارات ائر لائنز کا رخ لاہور کی جانب موڑنے کی بجائے جہاز کے اسلام آباد ائرپورٹ پر لینڈ ہونے کے بعد کی کوئی حکمت عملی طے کی جاتی تو حکومت پر کون سی افتاد ٹوٹنے کا خطرہ لاحق ہوتا۔ قادری اتھل پتھل ڈرامے کے سکرپٹ کے مطابق جو لوگ اپنے ”مرشد“ کی کال پر ان کی آمد سے آٹھ گھنٹے پہلے اسلام آباد انٹرنیشنل ائرپورٹ کے باہر جمع ہو گئے تھے، وہ قادری صاحب پر جہاز سے باہر نکلنے کے بعد کسی اپریشن کی اطلاع پر زیادہ سے زیادہ کس ردعمل کا اظہار کرتے؟ یقیناً ائرپورٹ کی بلڈنگ کے باہر ہنگامہ آرائی، توڑ پھوڑ کرتے۔ ائرپورٹ کے اندر گھسنے کی کوشش کرتے اور انتظامی مشینری کی کسی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر پولیس اہلکاروں کی دھنائی کرتے ہوئے 16 جون کے ماڈل ٹاﺅن سانحہ پر اپنے دل کا غبار نکالنے کی راہ اختیار کرتے۔ یہ سب کچھ تو انہوں نے قادری صاحب کے جہاز کا رخ موڑے جانے کی اطلاع پا کر بھی کیا بلکہ پولیس کی دھنائی میں ”مور اوور“ کچھ زیادہ ہی ہو گیا کیونکہ اس بار پولیس کو چوں چراں کئے بغیر قادری صاحب کے مریدوں سے مار کھاتے رہنے کی ہدایت ملی تھی۔ اگر یہی نقصان اٹھانا تھا تو قادری صاحب کا جہاز شیڈول کے مطابق اسلام آباد ائرپورٹ پر ہی لینڈ کرا کے اٹھا لیا جاتا۔ کم از کم اس کے بعد لاہور ائرپورٹ والے اضافی پارٹ کی تو قادری اتھل پتھل ڈرامے میں گرہ لگانے کی نوبت نہ آتی۔

بے شک امن و امان کی خرابی کے خدشے کے تحت علامہ قادری کے اسلام آباد میں احتجاج اور دھرنے کی نوبت نہ آنے دینا انتظامی نکتہ نگاہ سے بہتر حکمت عملی تھی مگر یہ جہاز کا رخ موڑے بغیر بھی طے کی جا سکتی تھی۔ جہاز کی لینڈنگ کے بعد جہاز سے باہر نکلتے ہی قادری صاحب کو دبوچ لیا جاتا اور انہیں پہلے سے تیار ایک ہیلی کاپٹر میں بٹھا کر لاہور پہنچا دیا جاتا اور پھر ان کے گھر یا جیل میں نظر بند کر دیا جاتا تو بھی اس کا وہی ردعمل ہوتا جس کا مظاہرہ تحریکی کارکنوں کی جانب سے جہاز کا رخ موڑے جانے کی اطلاع پانے کے بعد سامنے آیا۔ دوسری حکمت عملی سے کسی انٹرنیشنل ائر لائنز کا رخ موڑنے کے نتیجہ میں دنیا بھر میں ہونے والی ہماری جگ ہنسائی کی نوبت تو نہ آتی جبکہ اب متعلقہ ائر لائنز اس حکومتی اقدام پر کروڑوں روپے کے ہرجانے کا دعویٰ دائر کرنے کا اعلان کر چکی ہے اور دوسری ائر لائنز بھی پاکستان کے لئے اپنی پروازیں بھجوانے کے معاملہ پر محتاط ہو گئی ہیں۔ جبکہ علامہ قادری صاحب نے لاہور ائرپورٹ پر جہاز کو عملاً چھ سات گھنٹے تک یرغمال بنائے رکھا تو اس سے دہشت گردی کے الزامات کی زد میں آئے اور وطن عزیز کے دامن پر بھی مزید دھبہ لگا ہے۔ بے شک قادری صاحب کو بھی اپنے اس ”ایکشن“ پر متعلقہ ائر لائنز کی جانب سے اس کی کسی بھی پرواز پر سفر کرنے کے لئے تاحیات پابندی کا سزاوا ہونا پڑا مگر وہ تو گرنے کے بعد گرد جھاڑ کر اپنے کپڑوں کے اجلے کے اجلے ہونے کا تاثر دینے کے عادی ہیں اس لئے اس سزا سے ان کی صحت پر کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا مگر وطن عزیز کی دنیا بھر میں ضرور سبکی ہو گئی ہے۔ پھر جناب اب سوچ تو لیجئے کہ جلدی اور جلد بازی میں کئے گئے فیصلوں کا کیا بھگتان بھگتنا پڑتا ہے۔ اگر ماضی کے تجربات اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ قادری صاحب کی بڑھکیں، جلال، جوش، جنون ایک ہلکی سی تھپکی اور پچکار کے عمل سے ہی ٹھنڈا ہو جاتا ہے تو ان کے معاملے میں کوئی سخت گیر قدم اٹھانے کی کیا ضرورت ہے۔ ان کا ”شوق شہادت“ تو ٹی وی سکرینوں پر جلوہ گر رہنے سے ہی پورا ہو جاتا ہے اور پھر جن کارکنوں کو انہوں نے مشتعل کرکے اتھل پتھل منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے بلایا ہوتا ہے وہ کسی تھپکی اور کسی پچکار پر معصوم بچے کی طرح کلکاریاں مارتے ہوئے اور چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹیں بکھیرتے، مصافحے اور معانقے کے عمل سے گزرتے ہوئے اپنے ان بے لوث ورکروں کی جانی اور مالی قربانیوں کو بھی فراموش کر جاتے ہیں اور خود کو زمانے بھر میں سب سے اہم سمجھتے ہوئے اقتدار کے ایوانوں سے آئی کسی شخصیت یا شخصیات کے اپنے آگے دوزانو ہونے کے تاثر پر بھی جھاگ ہو جاتے ہیں۔ پھر اس ”جگلری“ کا ریاستی جبر والے کسی اقدام کے ذریعہ توڑ کرنا تو کھیلن کو مانگے چاند والے بچے کی ضد پوری کرنا ہے۔ فروری 2013ءکے اسلام آباد دھرنے سے کل کے لاہور ائرپورٹ ڈرامے تک قادری پوٹلی سے انہیں رام کرنے کا یہی نسخہ برآمد ہوا ہے۔ وہ سابق حکمرانوں کو ”یزیدیو“ کہتے کہتے انہی کے لشکر سے آئی مذاکراتی ٹیم کے ساتھ اپنے ائرکنڈیشنڈ کنٹینر میں خوش گپیاں کرتے اور جپھیاں ڈالتے نظر آئے اور کل بھی دہشت گردوں کے لقب سے نوازے جانے والے حکمرانوں کی صفوں میں سے گورنر پنجاب کے اپنے پاس جہاز کے اندر آنے پر وہ خوشی سے پھولے نہیں سمائے نظر آ رہے تھے۔ بھلا ایسے غیر سنجیدہ روئیے کے ساتھ ملک اور عوام کا مقدر بدلنے والے انقلاب کی سنجیدہ سوچ قادری اتھل پتھل ڈرامے کے ذریعے پروان چڑھ سکتی ہے؟ پھر حضور والا! بلاروک اس اتھل پتھل ڈرامے کو چلنے دیں۔ بس کبھی کبھی تھپکی دیتے اور پچکارتے جائیں۔ یہ اتھل پتھل ڈرامہ کسی نقصان کا باعث بنے بغیر ”پُوچھل“ ہلا کر اور پاﺅں چاٹ کر تھپکی اور پچکار والے کے ساتھ وفاداری کا اظہار کرنے کے ”سین“ کے ساتھ اختتام پذیر ہو جائے گا۔ آپ زیادہ تردد کریں گے اور ان کا معاملہ دل سے لگا بیٹھیں گے تو پھر وزیراعلیٰ شہباز شریف کا معذرت خواہانہ رویہ بھی کسی کام نہیں آئے گا کیونکہ قادری اتھل پتھل ڈرامے کا سکرپٹ تیار کرنے والوں کی اپنی منصوبہ بندی ہے جس پر عملدرآمد کا موقع حکومت کے ازخود وفادار قسم کے مشیر اتھل پتھل ایجنڈے کو تہس نہس کرنے کی پالیسی اختیار کرکے خود ہی نکلوا دیتے ہیں۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com