جلدی کس کو ہے؟
Jun 19, 2014

یقیناً جلدی تو کسی نہ کسی کو ہے۔ میرے دوست چودھری محمد اکرم کا خیال ہے کہ حکمرانوں کو خود ہی گھر جانے کی جلدی لگی ہوئی ہے جس کا وہ شد و مد سے اہتمام کر رہے ہیں۔ اس خیال کا اظہار وہ اپنے یقین کی حد تک کرتے نظر آتے ہیں تاہم میری تھوڑی بہت فہم مجھے یہ دھڑکا لگائے ہوئے ہے کہ جمہوریت کی بساط الٹانا ماضی کے تجربات کی روشنی میں جنہوں نے اپنا کریڈٹ بنا لیا ہے، انہیں اب کی بار کچھ زیادہ ہی جلدی پڑ گئی ہے۔ اس کا باعث مختلف معاملات میں عساکر پاکستان کو زچ کرنے والے حکومتی اقدامات، رویے اور فیصلے بھی ہو سکتے ہیں، بھارت کی مودی سرکار کی جانب حکومتی شریف قیادت کا غیر معمولی جھکائو بھی ہو سکتا ہے، دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائی کے لئے حکومتی لیت و لعل بھی ہو سکتی ہے، مشرف کے خلاف غداری کیس کی کہیں سے کہیں جاتی صدائے بازگشت بھی ہو سکتی ہے، ایک میڈیا گروپ کے لئے غلیل کے مقابلہ میں دلیل والوں کا ساتھ دینے کی منطق بھی ہو سکتی ہے اور حکومتی اقدامات میں زچ ہونے کا کوئی اور پس منظر بھی ہو سکتا ہے۔ بات اسی دائرے میں گھومتی نظر آ رہی ہے۔ چوہدری محمد اکرم میرے بیان کردہ ممکنہ مبینہ محرکات کی بنیاد پر ہی یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ حکمرانوں کو خود ہی گھر جانے کی جلدی پڑی ہے جبکہ منگل کی علی الصبح ماڈل ٹائون لاہور میں ادارہ منہاج القرآن پر پولیس کے بولے گئے دھاوے اور اس دوران ڈاکٹر طاہر القادری کے سیاسی اور روحانی عقیدت مندوں کو بے رحمی سے لاٹھی، گولی، آنسو گیس، تھپڑوں، ٹھڈوں کی زد میں لاتے، ان پر سیدھی فائرنگ کرتے اور خواتین پر تشدد کرتے ہوئے شرفِ انسانیت کی تذلیل میں کوئی کسر نہ چھوڑنے کے اندوہناک واقعہ پر، جس میں تحریک منہاج القرآن کی دو خواتین سمیت 8 کارکن جاں بحق اور 90 کے قریب زخمی ہوئے، چودھری محمد اکرم کو اپنا یہ یقین مزید پختہ ہوتا نظر آیا کہ حکمرانوں کو خود ہی گھر جانے کی جلدی لگی ہوئی ہے مگر میرا تجسّس مجھے بعض اتفاقات میں نظر آنے والی منصوبہ بندی میں الجھائے بیٹھا ہے۔ نتیجہ ہر دو صورتوں میں جمہوریت کی قربانی والا ہی نکل رہا ہے جس کے لئے یہ مثال برمحل نظر آتی ہے کہ خربوزہ چُھری کے اوپر ہو یا نیچے، کٹنا اسی کے مقدر میں لکھا ہے۔
مجھے ذاتی طور پر ادارہ منہاج القرآن کے سانحہ پر بہت صدمہ ہوا ہے کہ اس میں مکارانہ سیاست بازی کو نہ سمجھنے والے درجن کے قریب بے لوث کارکنوں کی جانیں ضائع ہوئیں جبکہ اس پولیس ایکشن کا نہ کوئی موقع تھا نہ مخالفانہ یا پوائنٹ سکورنگ والی سیاست اس کی متقاضی تھی۔ مجھے زیادہ صدمہ اس لئے بھی ہوا کہ وزیر اعلیٰ شہباز شریف اس ’’واردات‘‘ میں حکومتی ہاتھ کے ملوث ہونے سے روہانسے انداز میں لاعلمی کا اظہار کر رہے تھے جنہوں نے لاہور ہائیکورٹ کے اسی دن تعینات ہونے والے چیف جسٹس خواجہ امتیاز کو اس واردات کی جوڈیشل انکوائری کے لئے کمشن قائم کرنے کی استدعا کر کے آزمائش میں ڈال دیا اور ساتھ ہی یہ اعلان بھی کر دیا کہ جوڈیشل کمشن نے منہاج القرآن والے واقعہ کا مجھے ذمے دار ٹھہرایا تو میں مستعفی ہونے میں ایک منٹ نہیں لگائوں گا۔ چیف جسٹس ہائیکورٹ نے تو جسٹس باقر علی کی سربراہی میں جوڈیشل کمشن تشکیل دینے میں ایک منٹ بھی نہیں لگایا اور وزیر اعلیٰ کی زبان سے ’’دائر‘‘ ہونے والی درخواست فوری طور پر منظور کر لی مگر یہ سوچ کر میرا صدمہ دوچند ہوتا جا رہا ہے ملک کے سب سے بڑے صوبے کے طاقتور اور بااختیار وزیر اعلیٰ کو منہاج القرآن واردات کے لئے تیار کی گئی سازش کی کانوں کان خبر نہیں ہو سکی۔ ٹی وی چینلوں نے ماڈل ٹائون میں رات دو بجے اس واردات کا آغاز ہوتے ہی اودھم مچانا شروع کر دیا تھا، سورج نکلنے تک حالات مزید خراب ہو چکے تھے مگر وزیر اعلیٰ کی سیاسی دور اندیشی نے ان کے ذہن میں یہ سوچ تک پیدا نہ ہونے دی کہ اب بھی پولیس کو واپس بلوا کر حالات سنبھال لئے جائیں، نتیجتاً ادارہ منہاج القرآن کے ارد گرد والا علاقہ کربلا کے میدان میں تبدیل ہو گیا۔ اگر ایک مضبوط اور بااختیار وزیر اعلیٰ اس سارے معاملہ، منصوبہ بندی اور سازش سے بے خبر اور لاعلم رہے ہیں جس کا اپنی پریس کانفرنس میں انہوں نے خود ’’انکشاف‘‘ کیا ہے تو ان کا یہی اعتراف ان کی گورننس کی ناکامی کی دلیل ہے، پھر کیا یہ اعتراف ان سے مستعفی ہونے کا متقاضی نہیں بنتا۔ بھئی! اس واردات کی کڑیاں ملائیں تو سارا سازشی پس منظر پیش منظر بنایا جا سکتا ہے۔ 

یہ بات تو اب زبانِ زدعام ہے کہ ڈاکٹر طاہر القادری کو سسٹم کے اتھّل پتھّل کا ایجنڈہ سونپا گیا ہے جس کا اعتراف میرے ایک دانشور سیاستدان دوست اپنے ان الفاظ کی صورت میں کر چکے ہیں کہ ہمیں ’’بڑے گھر‘‘ سے یہی حکم ملا ہے۔ اسی ایجنڈے کی بنیاد پر لندن پلان بنا جسے عملی جامہ پہنانے کے لئے لندن پلان کے قاف لیگی شرکاء لندن سے خوشی خوشی ملک واپس لوٹ آئے اور ڈاکٹر طاہر القادری نے 23 جون کو اسلام آباد آنے کا یہ کہہ کر اعلان کر دیا کہ میرے آنے سے پہلے پہلے فوج اسلام آباد کا کنٹرول سنبھال لے۔ چونکہ ڈاکٹر طاہر القادری کو سونپا گیا ایسا پلان سابقہ دور میں ان کی اپنی بے تدبیریوں سے ناکام ہو چکا تھا اس لئے اب انہیں ملک واپس آنے سے پہلے ہیرو بنایا جانا ضروری تھا جس کے لئے ایک گھسی پٹی تھیوری کی بنیاد پر چند لاشوں کا دستیاب ہونا ضروری ہوتا ہے۔ چنانچہ لندن پلان سے منہاج القرآن پلان تک ذہن رسا کو آگے بڑھاتے جائیے، آپ کے ہر استفسار اور تجسّس کا ٹھیک ٹھیک جواب ملنا شروع ہو جائے گا۔ عساکر پاکستان کے زچ ہونے کے حوالے سے اس کالم کی پہلی سطور میں مَیں نے جن ممکنہ مبینہ محرکات کا تذکرہ کیا ہے ان کے حوالے سے آپ اس ایک مہینے کے دوران بعض مخصوص دانشوروں اور کالم نگاروں کے تجزیوں اور کالموں کی زبان ملاحظہ کر لیں، یہ ایسا بالاہتمام ’’اتفاق‘‘ ہے کہ اس میں الفاظ کی ادائیگی کا لب و لہجہ اور ایک ہی مفہوم والے الفاظ کا چنائو یکساں نظر آتا ہے، اسی طرح آپ ادارہ منہاج القرآن پر پولیس گردی کے حوالے سے ڈاکٹر طاہر القادری، الطاف حسین بھائی اور چوہدری پرویز الٰہی کے فوری ردعمل میں استعمال ہونے والے الفاظ متعلقہ ویڈیوز ’’ری وائینڈ‘‘ کر کے دوبارہ سُن لیجئے، ان تینوں محترم قائدین نے ’’حُسنِ اتفاق‘‘ سے ایک ہی فقرہ ادا کیا کہ ’’لگتا ہے حکومت افواج پاکستان کے شمالی وزیرستان اپریشن سے خوش نہیں ہے اس لئے اسے ناکام بنانے کے لئے ماڈل ٹائون اپریشن کیا گیا ہے۔‘‘ پھر جناب! ان محترم قائدین کی سوچ کی یکسانیت کسی حسن اتفاق کی عکاسی کرتی ہے یا جمہوریت کو گھر بھجوانے کی کسی منصوبہ بندی کی؟ ڈاکٹر طاہر القادری نے تو ’’موو اوور‘‘ کے طور پر بے ساختہ ترغیب بھی دے ڈالی کہ فوج مزید لاشیں گرنے سے پہلے اقتدار سنبھال لے۔ میں وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے بے  بسی پر مبنی اس مؤقف کو درست سمجھتا ہوں کہ انہیں ماڈل ٹائون والی واردات کے بارے میں سرے سے کچھ علم ہی نہیں، اس حوالے سے حکومتی حلقوں کی نجی نشستوں میں ایس ایس پی رینک کے کسی ’’سپیشل ڈی آئی جی‘‘ کا تذکرہ بھی گردش کر رہا ہے مگر میرا دُکھ یہ ہے کہ جنہیں گھر بھجوانے کی بے رحمانہ منصوبہ بندی چل رہی ہے انہیں طاقت و اختیار ہونے کے باوجود اس منصوبہ بندی کی کانوں کان خبر نہیں۔ حضور اب ذرا اپنی اقتداری صفوں پر بھی اچٹتی نگاہ ڈال لیں کہ ان میں سے کون کون برادرِ یوسف بنا بیٹھا ہے۔ اس ’’بے موقع‘‘ ایکشن کے حوالے سے حکومتی صفوں میں سے جس نے ادارہ منہاج القرآن کے باہر لگے بیرئر کو ہٹانے کے لئے پولیس اپریشن کی تجویز دی۔ ذرا جائزہ لیجئے کہ کہیں وہی تو آپ کے خلاف وعدہ معاف گواہ نہیں بن رہا؟ مجھے مزید کچھ نہیں کہنا، کتاب کھلی ہوئی ہے، آپ ورق پڑھتے اور الٹاتے جائیے، نتیجہ خود بخود آپ کے سامنے آ جائے گا۔ بس سُنتے پڑھتے جائیے اور شرماتے جائیے۔


    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com