’’ای سی ایل‘‘
Jun 13, 2014

سندھ ہائی کورٹ کے فیصلہ کو میڈیا کے ساتھ شیئر  کرتے ہوئے بیرسٹر فروغ نسیم سے خوشی سنبھالی نہیں جا رہی تھی۔ ان کے بس میں ہوتا تو وہ کلکاریاں اورببلی مارتے ہوئے اپنے موکل جنرل (ر) مشرف کے نام کے ای سی ایل سے اخراج سے متعلق سندھ ہائیکورٹ کے فیصلہ کی اطلاع دیتے۔ میں نے محسوس کیا کہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا دل لڈیاں ڈالنے کو بھی کر رہا تھا۔ وہ بالعموم اپنے چہرے پر سنجیدگی طاری کئے رکھتے ہیں اور آئین و قانون شناسی کے معاملہ میں بھی اتھارٹی سمجھے جاتے ہیں۔ متحدہ سے تعلق رکھتے ہیں مگر ان کی سیاست میں بھی آئین و قانون شناسی کے حوالے سے ’’احتیاط‘‘ کی جھلک نظر آتی ہے۔ غداری کیس میں چائے کے کپ میں طوفان اٹھانے والے مشرف کے وکلاء نے ذاتیات میں الجھا کر اس کیس کا جو حلیہ بگاڑ دیا تھا، اگر یہ کیس انہی کے ہاتھوں میں رہتا تو وہ اپنے موکل کو مرحوم بھٹو والے انجام تک پہنچا کر چھوڑتے۔ شاید اس صورت حال کو بھانپ کر ہی مشرف نے غداری کیس میں اپنے دفاع کی باگ بیرسٹر فروغ نسیم کے ہاتھوں میں تھما دی جو اب پوری سنجیدگی، ذہانت اور متانت کے ساتھ اس کو قانون کا کیس سمجھ کر لڑ رہے ہیں۔ چنانچہ سندھ ہائیکورٹ سے انہیں اپنے موکل کے لئے غم غلط کرنے کا باعث بننے والا ریلیف بھی مل گیا ہے۔ شاید ان کی سنبھالی نہ جانے والی خوشی کا پس منظر بھی یہی ہو گا کہ دیکھا، ہمارا نسخہ کیسا تیر بہدف ثابت ہوا ہے۔‘‘

اگر ہم نے مشرف غداری کیس کو میرٹ اور انصاف  کے قانونی تقاضوں کی روشنی میں پرکھنا ہے تو مجھے آج بھی اپنا یہ موقف درست نظر آتا ہے کہ اس کیس میں مشرف کی بچت ہر گز نہیں ہے اور اگر اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچانا ہے توپھر اس کیس کی باقاعدہ سماعت برقرار رکھنے کی خاطر کیس کی سماعت مکمل ہونے تک مشرف کی عدالتی دائرہ کار والی حدود کے اندر موجودگی کو یقینی بنانا ہو گا تاکہ کسی بھی مرحلہ پر ان کی عدم موجودگی کیس کے التواء کا باعث نہ بن سکے۔ اس نوعیت کے حساس مقدمات کے حوالے سے ماضی کے تجربات کیس کے ملزمان کی عدالت میں پیشی سے گریز کی بنیاد پر کیس کے کمزور ہونے کی مثالیں پیش کر چکے ہیں۔ اس لئے میرا گمان ہے کہ حکومت مشرف کیس کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے فی الواقع سنجیدہ ہے تو پھر وہ مشرف کی بیرون ملک روانگی کی گنجائش کبھی نہیں نکلنے دے گی۔ اور اگر نیت اس کیس سے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی ہے تو بھی یہ فائدہ مشرف کوغداری کے جرم کی آئین میںمتعینہ سزا کا مسلسل ڈراوا دیئے رکھنے ہی سے حاصل ہو سکتا ہے۔ مشرف ایک بار ملک سے باہر چلے گئے تو سمجھو ان کے لئے سارے ڈراوے ختم ہو گئے۔ شاید مشرف کو سزا کے ڈراوے کا احساس بھی پہلی بار ہوا ہے ورنہ تو وہ اپنی خود ساختہ اکڑفوں کے حصار سے باہر نکل ہی نہیں پا رہے تھے اور یہ کریڈٹ لیتے نہیں تھکتے تھے کہ میں کسی سے ڈرتا ورتا نہیں ہوں۔ میں ملک اور عوام کی حالت سنوارنے کے لئے رضاکارانہ طور پر خود ہی ملک واپس آیا ہوں۔ اس لئے اب یہاں رہ کر حکومت کے تیار کرائے گئے سارے مقدمات بھگتوں گا اور ان مقدمات میں سرخرو ہو کر عوام کی خدمت کے لئے دوبارہ اقتدار حاصل کروں گا۔ مشرف کی یہ اکڑفوں غداری کیس میں حکومتی سنجیدگی کو بھانپ کر ہی نکلی تھی چنانچہ انہوں نے اپنی گردن کی جانب لپکنے والے پھندے سے خود کو بچانے کے لئے بیرون ملک پرواز کرنے کی تدبیریں ڈھونڈنا اور سکیمیں لڑانا شروع کر دیں جس کے لئے انہوں نے اپنی علالت کی بھی کئی خانہ ساز کہانیاں تیار کیں جنہیں کیس کی سماعت کے ہر اہم مرحلہ پر اپنی صحت سے متعلق اپنی مرضی کی میڈیکل رپورٹیں تیار کرا کے تقویت پہنچانے کی کوشش کی جاتی رہی اور پھر انہوں نے ضعیف العمر والدہ کی علالت کو بھی اپنے لئے ڈھال بنایا چنانچہ ای سی ایل سے نام نکالنے کے عدالتی حکم پر مشرف کے سنجیدہ وکیل کا بھی خوشی کے مارے لڈیاں ڈالنے کو دل کر رہا تھا تو خوشی سے مشرف خود کس کیفیت میں ہوں گے؟۔

مگر بھائی صاحب! خاطر جمع رکھئے، سندھ ہائیکورٹ نے آپ کو فوراً اڑنچھو ہونے کا پروانہ تو نہیں تھما دیا۔ اپنے فیصلہ کے خلاف اپیل دائر کرنے کے لئے وفاقی حکومت کو 15دن کی مہلت دی ہے اور آپ کو بھی پابند کر دیا ہے کہ ان پندرہ دنوں کے اندر آپ بھی ملک سے باہر نہیں جا سکتے۔ بیرسٹر فروغ نسیم کی یہ تاویل بھی ان کی یکطرفہ خوشی کے پس منظر میں ہی سامنے آئی کہ حکومت چاہے تو ان پندرہ دنوں کے اندر مشرف کا نام خود ہی ای سی ایل سے نکال کر انہیں بیرون ملک جانے کی اجازت دے سکتی ہے۔ اگر حکومتی متعلقہ ٹیم کی مت ماری گئی ہو تو وہ آنکھوں پر پٹی باندھ کر یقیناً ایسا کر گزرے گی مگر حکومت (ن لیگ کی قیادت) کو تو اپنے چھوٹے بھائی زرداری صاحب کے اس مشورے کی  تقویت بھی حاصل ہو چکی ہے کہ ’’بلا‘‘ قابو آ گیا ہے تو اسے اب رفوچکر نہ ہونے دیا جائے، اگر قابو میں آئے اس بلے کو آئین اور قانون کے  تقاضوں  کے مطابق  ملنے والی سزا سے آئین پاکستان کے ساتھ روا رکھی گئی زیادتیوں  اور ناانصافیوں پر اس کی  دادرسی ہوتی ہے اور کتابوں  کے اوراق  میں  محفوظ اس آئین پاکستان کی سرخروئی  کا موقع  بنتا ہے تو حکومت (ن لیگ کی قیادت) اس موقع کو کیوں غنیمت نہیں سمجھے گی اس لئے  میرا گمان تو  مجھے یہی خوشحبری سنا رہا ہے کہ حکومت بیرسٹر فروغ نسیم کے ’’نیک مشورے‘‘  سے کبھی مرعوب نہیں ہو گی اور سندھ ہائیکورٹ  کے فیصلہ کے خلاف 15 دن کے اندر اندر سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرکے مشرف کی بیرون ملک  پروازکے لئے کھولا گیا  دروازہ  پھر  بند کرا دے گی۔

اور جناب مشرف  بھی تو اب شیر بنیں۔ وہ ملک اور عوام کی خدمت کا جذبہ  لے کر رضاکارانہ طور  پر واپس آئے ہیں   اور اپنے  اس پختہ  عزم پر قائم ہیں کہ انہوں نے ملک میں رہ کر ہی حکومت کے بنائے گئے مقدمات کا سامنا کرنا اور ان میں سرخرو  ہونا ہے  تو ہاتھ  کنگن  کو  آرسی کیا۔  آپ کی سرخروئی کے  لئے ہی تو سارے مواقع نکل رہے ہیں۔   اپنے خلاف  سارے مقدمات  کو اپنی  موجودگی میں چلنے دیں اور سرخرو  ہو کر اقتداری  سیاست  کے زینے چڑھنے شروع کر دیں۔ عوام  کو لبھانے  والی سیاست کا اس سے بڑا موقع آپ  کو اور کوئی نہیں ملے گا۔ مگر بھائی کیا خوب ہے  ہمارے  عہد کی سیاست کاری۔ اقتدار کے سارے مزے عوام  کی گردن  پر  کاٹھی ڈال کر اور سارے  ملکی وسائل اپنی دسترس  میں رکھ کر ملک کے اندر  لوٹے جائیں  اور  جب ایسی ’’کردنیوں‘‘ پر قانون و انصاف  کی عملداری  کا دھڑکا لگنے لگے تو  ٹکٹ کٹائو، ویزہ لگوائو اور  ملک سے باہر جائو! ایسے مراحل   میں کسی کا ای سی ایل  میں نام آنا  درحقیقت اس کی عیاشی پر کٹ لگانا ہے اور یہ ملک کے عوام کی راندۂ  درگاہ  اکثریت جو اپنی نامرادیوں اور کسمپرسیوں سے ازخود ’’ای سی ایل‘‘  میں پڑی ہے۔ انہیں آزاد کرنے اور شرف انسانیت  کے دائرے میں لانے کی راہ  کیا کسی عدالتی  عملداری کے ذریعے ہموار  ہو سکتی ہے۔  بھئی ایسا ہو جائے  جمہوریت کے تصور کے عین مطابق سلطانی جمہور میں جمہور  مجبور نظر نہ آئے اور اپنی سلطانی  میں سرخرو ہو جائے تو ’’کردنیوں‘‘  والوں کے نام  ای سی ایل  میں ڈالنے کی نوبت ہی نہ آئے۔  یہیں  پہ شور محشر اٹھے اور یہیں  پر حساب کتاب ہو جائے۔ مگر  ہم  بھی کیا اپدیشک ہیں کہ  ایسے حساب کتاب کی توقع ان سے باندھ  بیٹھتے ہیں جو اپنی آزمائش  کا کوئی مرحلہ اپنے ملک کے اندر اپنے عوام کے ساتھ شیئر کرکے بسر کرنے کا تصور ہی نہیں رکھتے۔  سو اپنے مقدرات  کی ’’ای سی ایل‘‘ میں  پڑے  ہم عوام کومشرف  کے ای سی ایل  میں پڑے رہنے یا اس سے نکلنے سے کیا سروکار ہو سکتا ہے۔  آزمائش تو اس حکومت کی ہے جس نے اسے  اپنی انا کا مسئلہ بنایا ہوا ہے۔  

جو بھی کرو سو آپ کرو ہو
ہم کو عبث  بدنام کیا
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com