خادمِ پنجاب کا پڑھا گیا نوشتۂ دیوار
Jun 09, 2014

قومی اسمبلی میں اپنی بجٹ تقریر کے دوران وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار جب خود یہ اعتراف کر رہے تھے کہ ملک کی مجموعی آبادی کا آدھے سے زیادہ حصہ اس وقت خطِ غربت سے نیچے کی زندگی بسر کر رہا ہے تو میرا خیال تھا کہ ہائوس میں بیٹھے اپوزیشن کے لوگ ان کے اس فقرے کو اچک لیں گے اور اسے ایشو بنا کر اپنی سیاست کا رنگ جمائیں گے مگر اس انکشاف پر ’’غالب‘‘ کے پُرزے اُڑنے کا منظر تو کیا بنتا، کسی کو اس صورت حال پر ہلکی سی تشویش کا اظہار کرنے کی ضرورت بھی محسوس نہ ہوئی، غالباً کسی کو صحیح علم اور آگاہی ہی نہیں ہو گی کہ خطِ غربت سے نیچے والی زندگی کیا ہوتی ہے اور جو لوگ ایسی زندگی بسر کرتے ہیں وہ انسانوں کے زمرے میں شمار ہوتے بھی ہیں یا نہیں۔ اگر منتخب ایوانوں میں حکومتی اور اپوزیشن بنچوں پر موجود عوام الناس کے ان خاص نمائندگان کو عوام کے مسائل سے حقیقی معنوں میں آگاہی ہو تو وہ ان کی آبرومندی کی زندگی کی خاطر منتخب فورموں پر آواز بھی اٹھائیں مگر سونے کے چمچے منہ میں لے کر پیدا ہونے والے ان اشرافیہ طبقات کو خطِ غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والے راندۂ درگاہ کیڑے مکوڑے عوام کے مسائل سے بھلا کیا لینا دینا ہے، انہیں خطِ غربت سے نیچے کی زندگی کی خبر ہو تو اس کا تصور کر کے شاید انہیں ابکائی آنے لگے اس لئے وہ اپنی اشرافیہ کلاس میں مگن رہتے ہیں اور آسودہ زندگی کے مزے لوٹتے ہیں تو کم از کم دل کے اس روگ سے تو بچ جاتے ہیں جو مقہور عوام الناس کو روٹی روزگار، اپنے بچوں بچیوں کی تعلیم، شادیوں کے اخراجات، گھروں کے کرائے اور یوٹیلٹی بلوں کی ادائیگی اور برداشت کی حد سے آگے نکلنے والی مہنگائی کے باعث گھر کا چولہا جلائے رکھنے کے تفکرات کے لامتناہی سلسلوں میں لگتے ہیں اور جان نکال کر ہی چھوڑتے ہیں۔
اقتصادی ماہرین کی جانب سے خطِ غربت سے نیچے کی زندگی کی جو تصویر کشی کی گئی ہے وہ شرفِ انسانیت کو جھنجوڑتی نظر آتی ہے۔ یہ زندگی گزارنے والے لوگ بجٹ میں ظاہر کی گئی فی کس سالانہ آمدنی کے حصول کا خواب میں بھی تصور نہیں کر سکتے، اپنے گھر اور چھوٹے موٹے روزگار والی آبرومندی ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتی۔ اپنے بچوں کو ’’پڑھا لکھا پاکستان‘‘ کی مہم کا حصہ بننے کے لئے وہ بھاری فیسوں والے نجی تعلیمی اداروں میں تو کجا ٹاپ کلچر والے سرکاری تعلیمی اداروں میں بھی بھجوانے کا نہیں سوچ سکتے، تین وقت کی روٹی ان کے تصور میں شامل ہی نہیں ہوتی، جانوروں کے ریوڑ جیسے ماحول میں ربِّ کائنات کی وسیع دھرتی کے کسی کونے کھدّرے میں بوسیدہ جھگیوں یا کھلے آسمان تلے فٹ پاتھوں، پارکوں، گندگی کے ڈھیروں، ریلوے ٹریک اور سڑکوں کے پُلوں کے نیچے زندگی کے دن پورے کرنے والے انسانوں کی زندگی کو خطِ غربت سے نیچے کی زندگی کہا جاتا ہے۔ اس زندگی کی تعریف درویش شاعر ساغر صدیقی نے اپنے ایک شعر کے اس مصرعے میں کیا خوب کی ہے کہ

عمر بھر رینگتے رہنے کی سزا ہے جینا

اگر اب سرکاری اعداد و شمار کی بنیاد پر وزیر خزانہ اپنی بجٹ تقریر میں یہ انکشاف و اعتراف کر رہے ہیں کہ خطِ غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والوں کی تعداد ملک کی مجموعی آبادی کے نصف سے کراس کر چکی ہے تو جناب شرفِ انسانیت کی پاسداری کے متقاضی اس معاشرے میں انسانی اقدار کی ٹوٹ پھوٹ ہمارے دردمند وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کے تصور کردہ خونیں انقلاب کی نوبت لا کے ہی چھوڑے گی۔
مجھے یہ ساری تمہید بھی خادم پنجاب کی گذشتہ روز ایوان کارکنان تحریک پاکستان کی تقریب میں کی گئی تقریر کی جانب مراعات یافتہ اشرافیہ طبقات کی توجہ مبذول کرانے کے لئے باندھنا پڑی ہے۔ انہوں نے بجا طور پر نشاندہی کی کہ قیام پاکستان کا مقصد انگریز اور ہندو کی غلامی میں پسنے والے برصغیر کے درماندہ و پسماندہ مسلمانوں کو سماجی اور معاشی انصاف فراہم کرنا تھا، وہ قیام پاکستان کے 67 سال بعد بھی اس رائے کا اظہار کر رہے ہیں کہ امیر اور فقیر کے درمیان خلا دور نہ ہُوا تو ملک کے لئے انتہائی خطرناک ہو گا تو اس سے یہی نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ میاں شہباز شریف کے بیان کردہ قیام پاکستان کے مقاصد آج تک پورے نہیں ہو سکے۔ اگر آج عام آدمی کی زندگی اتنی اجیرن ہو چکی ہے کہ وہ خطِ غربت سے نیچے کی آبادی میں بہت تیزی کے ساتھ اضافہ کر رہی ہے تو پھر زندگی سے عاجز یہ لوگ تنگ آمد بجنگ آمد کی نوبت کیوں نہیں لائیں گے۔ جناب یہی وہ خونیں انقلاب ہے جس کے تصور سے میاں شہباز شریف حکمران شرافیہ طبقات کو تسلسل کے ساتھ ڈرا رہے ہیں مگر یہ طبقات خطِ غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والوں کی جانب متوجہ ہونے کے بجائے اپنی زندگیوں کو مزید پُرتعیش بنانے کے لئے صرف اپنے طبقے کی مراعات اور مزید سہولتوں کی خاطر ہی منتخب اور مقتدر ایوانوں میں ایکا کئے بیٹھے نظر آتے ہیں۔ تبدیلی کے نعرے لگانے والوں کے جلسوں میں ان دنوں بہت شد و مد کے ساتھ ظلم کے نظام کے خاتمے اور اشرافیہ کرپشن کلچر کو دبوچنے کی باتیں کی جا رہی ہیں مگر اس سیاسی نعرے کی حقیقت خبیر پی کے میں ان کی اپنی حکمرانی میں سارے وزیروں، سارے مشیروں اور سارے ارکانِ اسمبلی کی تنخواہوں اور مراعات میں ایک ہی لحظے میں لاکھوں روپے کے اضافہ کی صورت میں منظرعام پر آئی ہے، اس ساری مراعاتی ایکسر سائز میں راندۂ درگاہ عوام کہاں گئے   ع  پیتے ہیں لہو، دیتے ہیں تعلیمِ مساوات۔ جی! تو یہ چلن کیا اسی تبدیلی کا نہیں جو وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے بیان کردہ خونیں انقلاب کی صورت میں ممکنہ طور پر رونما ہو سکتی ہے۔ ذرا پنجاب پر ہی نظر ڈال لیجئے۔ آج ہی کی اعداد و شمار پر مبنی ایک خبر میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پنجاب کابینہ میں شامل تین وزراء نے سرے سے ٹیکس جمع ہی نہیں کرایا جبکہ سات وزراء نے دس ہزار روپے سے بھی کم کا ٹیکس ادا کیا ہے۔ ان اعداد و شمار کا مطالعہ کیجئے تو گذشتہ اسمبلی میں اس وقت کے وفاقی وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کی بجٹ تقریر کے وہ الفاظ آپ کو حرف بہ حرف درست نظر آئیں گے کہ سینٹ، قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ایوانوں میں بیٹھے 12 سو ارکان میں سے ساڑھے آٹھ سو ارکان ٹیکس کی مد میں قومی خزانے میں ایک دھیلا بھی جمع نہیں کراتے۔ اپنے اپنے ایوانوں میں یہ ارکان بے شک ہر سال قومی اور صوبائی میزانیوں کی منظوری میں بیک زبان ’’آئیز‘‘ کے بلند بانگ نعرے کی صورت میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں مگر مجال ہے انہیں اس کا ادراک بھی ہو کہ ان کے منظور کئے گئے میزانیے سے خطِ غربت سے نیچے کی آبادی کم ہو رہی ہے یا بڑھ رہی ہے؟ اپنی سہولتوں کے حصول اور کرپشن کی بنیاد پر اپنے آنگنوں میں کالے دھن کے لگائے گئے ڈھیروں کے تحفظ کے لئے تو آپ کسی قانون سازی سے نہیں چوکتے اور مزید کی بھی ساتھ ہی منصوبہ بندی کر لیتے ہیں مگر خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی حالتِ زار پر کسی رحم کا بھی آپ کو خیال تک نہیں آتا۔ پھر مخلوقِ خدا کی اس حالت پر ان کی یہ حالت بنانے والوں کے لئے قہرِ خداوندی کا پیغام کیوں نوشتۂ دیوار نہیں ہو گا۔ یہی وہ نوشتۂ دیوار ہے جو خادمِ پنجاب کی زبان سے ان الفاظ میں ادا ہو گیا ہے کہ امیر اور فقیر کے درمیان خلا دور نہ کیا گیا تو یہ ملک کے لئے انتہائی خطرناک ہو گا۔ مجھے اس دکھائی جانے والی کیفیت میں اور کچھ اضافہ نہیں کرنا، خادمِ پنجاب خود بہت زیرک اور سمجھدار ہیں، اپنی نظم کا صرف ایک بند ان کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔ امیر اور فقیر کے مابین تفاوت کے حوالے سے اپنے ادا کئے گئے الفاظ کا وہ اس سانچے میں جائزہ لے لیں

جب تک اپنی قوم کے انساں تن سے ننگے پھرتے ہیں
تب تک اپنی قوم کا ننگا پن بھی چھپ نہ پائے گا
تب تک اپنی قوم تمدن میں نہ آگے جائے گی
جب تک ایک اک فرد ہمارا پیٹ نہ بھر کے کھائے گا
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com