پاک سعودی دھرتی اور رحمتوں کے سائے
May 31, 2014

مدینہ منورہ کی مسحور اور پُرنور فضائوں میں ڈرائیونگ کرتے ہوئے ہمارے دوست جاوید اقبال بٹ مطمئن چہرے کے ساتھ اپنی گاڑی کے بیک وقت دو ٹائروں کے پنکچر ہونے کی داستان سُنانے لگے ’’یہ یہاں کے شرارتی بچوں کا کارنامہ ہے، ٹائر پنکچر نہیں ہوئے تھے کسی شرارتی بچے نے میرے گھر کے سامنے کھڑی گاڑی کے دو ٹائروں کی ہَوا نکال دی تھی‘‘ ایسی شرارتیں تو ہماری دھرتی کے بچوں کا خاصہ ہیں۔ میں نے بٹ صاحب سے استفسار کیا کہ مقامی (عربی) لوگوں کے بچے بھی ایسی شرارتیں کرتے ہیں؟ ’’اس سے بھی زیادہ، اگر کسی کھڑی گاڑی کے اندر موبائل فون یا لیڈی پرس موجود ہو گا تو وہ مقامی بچوں ’’منچلوں‘‘ کی مشاقی سے نہیں بچ پائے گا، بس یہاں جرائم محض شرارتوں کی بنیاد پر اس حد تک ہی ہوتے ہیں ورنہ کوئی مقامی یا غیر مقامی باشندہ یہاں کے قوانین کو توڑنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔‘‘ یہ احوال بیان کرتے ہوئے مجھے بٹ صاحب کے چہرے پر اضطراب کی کیفیت بھی نظر آئی اور پھر میرے استفسار کے بغیر ہی انہوں نے کسی قانون کی خلاف ورزی پر اپنے ساتھ بیتنے والی واردات کی پوری تفصیلات بیان کر دیں۔ اس واردات کا انجام ان کی ڈی پورٹ ہونے تک کی نوبت لے آیا تھا۔ وہ ڈی پورٹ ہونے سے کیسے بچے اور خوشحال زندگی کے بعد سعودی عرب ہی میں آزمائشوں والی زندگی گزارنے کی نوبت تک کیوں پہنچے ہیں، کبھی ان کے اور اپنے مشترکہ دوست حاجی عزیز الرحمان چن سے نشست ہوئی تو ان سے ضرور پوچھوں گا۔

یہ تمہید باندھنے کا میرا مقصد سعودی عرب کے پُرامن، پُرسکون اور عظمتوں والے خوشحال معاشرے کی آپ کو جھلک دکھانے کا تھا۔ بیت اللہ شریف میں عمرہ کی ادائیگی کے بعد مجھے اور اہلیہ ثمینہ سعید کو محسنِ انسانیت، سرکارِ دوعالم، رحمت للعالمین حضرت محمد مصطفیٰ ؐ کے آستانے پر حاضری کے لئے مدینہ منورہ کی اس پاک دھرتی پر ایک ہفتے تک قیام کی سعادت حاصل ہوئی جس کے ذرے ذرے میں خالقِ کائنات نے شفا رکھ دی ہے۔ مکہ مکرمہ کی جلالی، اضطراری اور اضطرابی فضا (جس کی اپنی حکمت ہے) سے نکل کر سبز گنبد کے مکین سرکارِ دوعالمؐ کی رحمتوں کے سائے میں مدینہ منورہ پہنچے تو یک گونہ ٹھنڈک و راحت کا پُرکیف احساس ہوا۔ فی الواقع اس سر زمین پر رحمتوں کے بادل ہمہ وقت منڈلاتے رہتے ہیں، بے فکری پر مبنی خوشحالی اس سرزمین کے ہر مکین کے چہرے پر اُمڈی پڑی نظر آتی ہے۔ ہمارے ٹریول ایجنٹ متین آسی پہلے ہی مدینہ منورہ میں مقیم تھے جنہوں نے ہوٹل کے انتظام سے مقامات مقدسہ کی زیارتوں تک کسی قسم کی دقت محسوس نہ ہونے دی اور پھر جاوید اقبال بٹ صاحب نے ایک روز نمازِ ظہر کے بعد ہمیں مسجد نبوی سے اچک لیا۔ وہ مدینہ منورہ میں نوائے وقت کی نمائندگی کے علاوہ اپنا بزنس بھی کرتے ہیں جو ان کے مقامی کفیل کی ’’مہربانی‘‘ سے ان دنوں مندے کا شکار ہے۔ اس ایک ہفتے کے دوران ہمارے دن اور رات کے زیادہ تر اوقات پُرنور سبز گنبد کے سائے میں مسجد نبوی میں گزرے۔ یہاں دل کی کیا کیفیت ہوتی ہے، بندے کا اپنے ربّ کے ساتھ کتنا گہرا رشتہ استوار ہوتا ہے اور سرور کائنات حضرت نبیٔ آخرالزمان کی رفعتوں، عظمتوں کے سائے میں دنیاوی جھنجھٹوں سے بے نیاز ہو کر روح کی بالیدگی اور دل کے سکون کا کتنا موقع ملتا ہے، اس کی تفصیل پھر کسی وقت بیان کروں گا، ابھی مجھے اس مقدس سرزمین کے پُرسکون و خوشحال معاشرے کا تذکرہ کرنا ہے جس میں عملاً جنت کی جھلک نظر آتی ہے۔ ہمیں تو اپنی دھرتی پر اپنے بچوں کے مستقبل، دہشت گردی کے ہاتھوں غارت ہوتے امن و سکون اور روٹی روزگار کے تفکرات سے ہی خلاصی نہیں مل پاتی، سو شرفِ انسانیت جو امن و عافیت اور رحمتوں کے ضامن ہمارے دین اسلام کا خاصہ ہے، ہماری دھرتی پر مفقود ہو کر رہ گئی ہے۔ ہمہ وقت افراتفری، اضطراب، مایوسی، و نامُرادی اور پھر رعایا کے لئے پیدا ہونے والے کٹھنائیوں سے معمور اس ماحول سے حکمرانوں کی بے نیازی، گویا کرب ہی کرب ہے جس کے بہائو میں ہماری دھرتی کے بے بس مکین تنکوں کی طرح بہتے چلے جا رہے ہیں جبکہ پاک سعودی دھرتی پر تو ہمارے معاشرے کی کثافتوں، پراگندگیوں، کٹھنائیوں کے کسی عشرِ عشیر کی جھلک بھی آپ کو دیکھنے کو نہیں ملے گی۔ لاکھوں کا اجتماع بیت اللہ شریف، حرم شریف اور مسجد نبوی کے اندر اور گردا گرد ہمہ وقت نظر آتا ہے، ان مقدس مقامات پر نماز پنجگانہ کی باجماعت ادائیگی عبادتاً بھی اور طبعاً بھی کی جاتی ہے بالعموم نماز مغرب سے نماز عشاء تک نمازیوں کی اکثریت بیت اللہ شریف، حرم شریف اور مسجد نبوی میں موجود رہتی ہے۔ پورے ذہنی سکون اور اطمینان کے ساتھ ربّ کائنات وحدہُ لاشریک کی عبادت کی جاتی ہے، کسی کو اپنے روزمرہ کے کاموں سے متعلق مسائل کے بکھیڑوں کی فکر لاحق نظر نہیں آتی جبکہ نماز فجر کی باجماعت ادائیگی سے دن کا آغاز بھی طمانیت قلب کے ساتھ ہوتا ہے اور پھر دن بھر کی مصروفیات میں بھی نماز ظہر اور عصر کی باجماعت ادائیگی کی خاطر کسی کاروبار یا روزگار میں ہونے والی تاخیر پر کسی نقصان، پنلٹی، معطلی، برطرفی کا کوئی دھڑکا لاحق نہیں ہوتا۔ ایک ڈسپلن ہے، سلیقہ ہے، شائستگی ہے جو مقدس سعودی دھرتی کا خاصہ بن چکا ہے، وہاں یہ تصور پختہ ہو چکا ہے کہ سخت قوانین اور ان کے فوری اور مؤثر اطلاق کے باعث ہی سعودی معاشرہ ڈسپلن کی مثال بن کر امن و راحت کا گہوارہ بنا ہے مگر میرا مشاہدہ یہ ہے کہ سعودی عوام کی خوشحالی اور فکرِ معاش سے آزادی نے انہیں سعودی فرمانروائوں کی اطاعت اور ان کی حکمرانی کے لاگو کردہ قواعد و ضوابط پر عمل پیرا رہنے کی جانب زیادہ مائل کیا ہے۔ جس معاشرے میں قانون و انصاف کی عملداری کے ساتھ ساتھ خوشحالی بھی ہو گی اس معاشرے میں کسی کو قانون توڑنے یا اپنے کسی اضطراب کے اظہار کے لئے احتجاج کی صورت میں سڑکوں پر آنے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہو گی مگر جس معاشرے میں سارے وسائل اشرافیہ حکمران طبقات کی دسترس میں رکھ کر عام انسانوں سے سکون کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق بھی چھین لیا جائے، ان کے لئے روزگار کے دروازے سربمہر کر دئیے جائیں، میرٹ ان کے لئے خواب بنا دیا جائے، روزمرہ استعمال کی اشیاء مہنگائی کے پہاڑوں تلے دبا کر ان کی پہنچ سے دور کر دی جائیں، وہاں بے شک جتنے سخت قوانین بنا دئیے جائیں اور ان کی خلاف ورزی کرنے والوں پر سزائوں کا فوری اطلاق بھی کر دیا جائے، اس معاشرے کے روٹی روزگار اور روزمرہ کے مسائل کے ستائے ہوئے عوام مضطرب ہو کر کسی بھی سخت قانون یا پابندی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے احتجاج کے لئے سڑکوں پر ضرور آئیں گے۔ بھئی ہمارا دکھی معاشرہ تو اس کی بدترین مثال بن چکا ہے جہاں بجلی پانی گیس نہ ہونے کے باوجود ہزاروں کے بل جبری طور پر ان سے وصول کر لئے جاتے ہیں۔ اور تو اور بجلی کی کمپنیوں کے حاصل کئے گئے قرضوں کا سود بھی بجلی کے کمزور، بے بس صارفین ہی سے وصول کیا جاتا ہے۔ آپ لوگوں کو کھانے کو بھی کچھ نہ دیں، گرمی کی حدت سے بچائو کا بھی ان کے لئے کوئی راستہ نہ نکالیں، ان کے لئے روزگار اور کاروبار کے دروازے بھی بند کر دیں، ان پر آئے روز ہونے والی دہشت گردی کے سدباب کے لئے بھی بے بس نظر آئیں اور پھر توقع کریں کہ آپ کی رعایا آپ کے جبری سخت قوانین کے نفاذ سے آپ کے ڈسپلن میں رہے گی، ارے یہ کیسے ممکن ہے

مفلسی حسِ لطافت کو مٹا دیتی ہے
بھوک اطوار کے سانچے میں نہیں ڈھل سکتی

ہم عذاب دے کر ثواب کمانے کے چکروں میں رہتے ہیں۔ خدا ہم پر رحم کرے۔ بے شک ہم خدا کی رحمتوں سے ہرگز مایوس نہیں ہیں مگر خدا کو چکمہ دے کر نہیں، اس کے حضور عاجزی سے، گڑگڑا کر رحم اور رحمتوں کی بھیک مانگو گے تو ایک وہی در ہے جہاں سے کوئی جھولی خالی لے کر واپس نہیں آتا۔ خدا کی رحمتیں سمیٹنی ہیں تو خدا کے بندوں کے لئے اس معاشرے کو شرفِ انسانیت کا گہوارا بنا دیں۔ اس کی رحمتوں کے خزانوں میں کوئی کمی نہیں۔ بس اپنے اعمال ٹھیک کر لیں

جے ویکھاں میں عملاں وَلّے، کُجھ نہیں میرے پلّے
جے ویکھاں تیری رحمت وَلّے، بلّے بلّے بلّے
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com