میرے اور قوم کے امتحان کے مراحل
May 29, 2014

ہمارے پردھان منتری تو بھارت یاترا کے لئے اتاولے ہوئے جا رہے تھے ’’نچ کے یار منانے‘‘ کا شوق ایسا چڑھا کہ دِلّی میں قدم رکھ کر ہی دم لیا مگر میزبانوں نے تو ان کے پائوں ’’نِسلّ‘‘ نہ ہونے دینے کی ٹھانی ہوئی تھی سو دنیا نے چٹخارے لیکر ہمارے کشمیری وزیراعظم کی امن کی آشا کے دلی کی سرزمین پر ان کے میزبانوں کے ہاتھوں پرزے اڑتے دیکھے، وہاں ہمارے پردھان منتری کا طبلہ بجا اور یہاں ان کے ممدوح میڈیا گروپ کی امن کی آشا کا ڈھول اس کے ساتھ مشترکہ ٹاک شو کرنے والے ایک بھارتی ٹی وی چینل کے مہمان دانشوروں نے ہی نہیں، خود اینکر نے بھی بے سُرا کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ اتنی ’’عزت افزائی‘‘ کے بعد بھی ان کا امن کی آشا کا بخار اترا ہے یا نہیں؟ ابھی تو ایسے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے شاید انہوں نے عزت و غیرت پروف جیکٹس پہن رکھی ہیں کہ بے وقعتی اور بے قدری کا احساس دلائے جانے کے باوجود ان کی وارفتگی برقرار رہتی ہے ورنہ تو اب تک ان کی جانب سے ENOUGH IS ENOUGH کا نعرہ بلند ہو چکا ہوتا اور ان کے ہاتھ میں بھی امن کی آشا کا پھلکا اڑانے والوں کے عزائم کے پرزے نظر آ رہے ہوتے۔

بھئی انہوں نے تو پوری پلاننگ اور حکمت عملی کے تحت زہرخند انداز میں ہمارے وزیراعظم کو اپنی حلف برداری کی تقریب میں مدعو کیا، یہ سمجھے کہ وہ بھی ان کی طرح ریشہ خطمی ہو گئے ہیں سو انہوں نے یار کو لبھانے کا خوب اہتمام کیا۔ بٹ سویٹس کی خصوصی مٹھائی خطائیوں سمیت پیک کرائی، اپنی والدہ محترمہ کی موبائل فون پر خصوصی ویڈیو فلم بھی تیار کر لی جس میں انہیں نے مودی سرکار کی والدہ کی جانب سے اپنے لاڈلے کی کامیابی پر ان کے منہ میں لڈو ڈالنے کے مناظر دیکھ کر خوشی و سرشاری کا اظہار کرتے ہوئے دکھایا گیا۔ والدہ کے ساتھ محبت کے مودی سرکار کے روبرو اظہار کے لئے اس ویڈیو فلم کا سہارا لینا ضروری تھا ورنہ تو انہیں ہمارے پردھان منتری کی ورافتگی بناوٹی ہی نظر آتی۔ تیر نشانے پر بیٹھا اور مودی کو یہی نادر موقع لگا جب وہ امن کی آشا میں ڈوبے ہمارے قومی قائد کو آنکھیں ماتھے پر رکھ کر ’’مدھول‘‘ سکتے تھے، سو انہوں نے میزبانی کے تقاضے بھی تج دئیے، سفارتی ادب آداب کو بھی لات مار دی اور یہ بھی خیال نہ کیا کہ میاں نواز شریف تو ان کی اپنی دعوت پر خیر سگالی کے جذبے کے تحت محض انہیں مبارکباد دینے آئے ہیں۔ انہوں نے آئو دیکھا نہ تائو، الزمات کی بوچھاڑ کر دی۔ یہ الزمات کیا تھے وہی پرانا، گِھسا پٹا راگ تھا جو اپنے ہی سٹیج کردہ ممبئی حملوں کے وقت سے الاپا جا رہا ہے۔ مودی سرکار نے بس اتنا اہتمام ضرور کیا کہ ان الزامات کو تقویت پہنچانے کے لئے ہمارے ایک دوسرے ’’محسن‘‘ کرزئی کو شامل باجا بنا لیا جنہوں نے ممبئی حملوں کے پھٹے پرانے راگ میں ہرات والے بھارتی قونصل خانے پر حملے کی تازہ واردات کی پاکستان مخالف راگنی تیار کر کے مودی سرکار کے حوالے کر دی۔ کیا وہ پہلے پاکستان کے خلاف ایسی گواہیاں نہیں دے چکے؟ ہرات قونصل خانے پر حملہ بھی تو ایک سازش کے تحت یہ راگنی تیار کرانے کے لئے ہی کرایا گیا ہو گا۔ سو نواز شریف مودی ملاقات کے دوران مودی کی سوئی بھی ہرات حملے پر اٹکی ہوئی تھی جو اس کا حوالے دے کر ممبئی حملوں پر بھارتی پھٹے پرانے راگ کو تازہ کر کے پیش کر رہے تھے جبکہ اسی دوران بھارتی ٹی وی چینل کے ٹاک شو میں (جس کا اہتمام امن کی آشا والے ہمارے میڈیا گروپ کے تعاون سے کیا گیا) پروگرام کا اینکر بھی اُچھل کود کرتا نظر آیا۔ حافظ محمد سعید کا نام اس کے گلے میں کانٹے کی طرح پھنسا ہوا تھا جبکہ ٹاک شو کے مہمان بھارتی ’’دانشور‘‘ (غالباً یہ حضرت سابق بھارتی جرنیل تھے) بات بے بات ہرات حملے کا بتنگڑ بناتے نظر آئے اور پھر ان کی تان اس فقرے پر ٹوٹتی کہ ہرات حملے پر پاکستان کے ملوث ہونے کا الزام ہم نہیں، خود افغان صدر کرزئی لگا رہے ہیں۔ امن کی آشا والے ہمارے میڈیا گروپ پر اس ٹاک شو کے مہمان سہیل وڑائچ اور خاتون اینکر عائشہ بخش نے بھارتی چینل کے مہمانوں کا غصہ ٹھنڈا کرنے کی بہت کوشش کی مگر ادھر تو بھارتی اینکر ہی پکڑائی نہیں دے رہا تھا۔ سو سہیل وڑائچ کی یہ دلیل بھی اس کے دل میں کوئی نرم گوشہ پیدا نہ کر سکی کہ بات تُوتکار سے شروع ہوئی تو پھر دنگا فساد تک ہی پہنچے گی جبکہ ہم دنگا فساد کا نہیں، امن کی آشا کا پرچم تھامے بیٹھے ہیں ورنہ پھر ہم آپ کی باتوں کے جواب میں بلوچستان میں بھارتی مداخلت کے الزامات کو دُہرا سکتے ہیں۔ ارے یار سہیل صاحب، یہ لاتوں کے بھوت بھلا باتوں سے ماننے والے ہیں۔ بھارتی جاسوس کشمیر سنگھ کی ملتان، قصور اور لاہور میں دہشت گردی کی وارداتیں تو اس کی اعتراف شدہ ہیں، پاکستان کو دولخت کرنے والی مکتی باہنی کی دہشت گردی کو بھارتی سرپرستی حاصل ہونے کا اعتراف تو اب خود حسینہ واجد کر چکی ہیں، اس کے بعد بھارت نے ایٹم بم بنایا تو کیا اس کا مقصد پاکستان کو ختم کرنے والی دہشت گردی کے ارتکاب کا نہیں تھا۔ بھارتی جیل میں گلنے سڑنے والے ہمارے کراچی کے ایک پروفیسر کے ساتھ بھارتی دہشت گردی کے حوالے تو عالمی میڈیا پر بھی دئیے جا چکے ہیں، کراچی کی دہشت گردی کی وارداتوں میں استعمال ہونے والا اسلحہ بھارتی ساختہ نکلا ہے اور بلوچستان میں ’’را‘‘ کی دہشت گردانہ سرگرمیوں کے ثبوت جھٹلائے نہیں جا سکتے تو پھر اس ساری ننگی دہشت گردی سے بے نیاز ہو کر ممبئی حملوں کا ٹانکا پاکستان کے ساتھ جوڑنے اور اس کے خلاف دہشت گردی کا طبلہ بجائے چلے جانے کی نیت کیا آپ کی امن کی آشا کا احترام کرنے کی ہے؟ نئی دہلی میں تو مودی، سجاتا سنگھ اور بھارتی میڈیا والے ہمارے پردھان منتری کو تھاپیں لگانے کے لئے نچلّے ہوئے جا رہے تھے۔ اپنے گھر بُلائے گئے مہمان کی فراہم کردہ مٹھاس بھی ان کی زبان پر جمے زہر کی زہرناکی میں کمی نہ لا سکی اور سفارتی پروٹوکول کو رگیدتے ہوئے بیک نیت اور بیک زبان سبھی لٹھ لے کر ہمارے پردھان منتری پر چڑھ دوڑتے نظر آئے مگر آفرین ہے ہمارے اس قومی قائد کے صبر و ہمت پر کہ وہ کسی بھی مرحلے پر ’’گالیاں کھا کے بے مزہ نہ ہوئے‘‘ واجپائی کے ساتھ 99ء والی یادوں کو دہراتے رہے اور بھارتی میڈیا، حکام اور حکمرانوں کے جنگی جنون کا مشاہدہ کر کے بھی ان کے مکارانہ مصافحوں پر کِھلکھلاتے رہے اور بھارت کے ساتھ تجارتی بندھن باندھنے کی وارفتگی کا اظہار کرتے رہے۔ کسی منچلے نے اس واردات پر تبصرہ کیا کہ ’’لوٹ کے بدھو گھر کو آئے‘‘ تو ہمارے ایک مربیّ میجر (ر) نذر مخمصے میں پڑ گئے ہیں کہ اس کارستانی میں بدھو کی مثال دے کر اس کی بے قدری تو نہیں کی گئی کیونکہ بدھو بے چارہ تو بے ضرر جانور ہے جس کے ہاتھوں آج تک کسی کو نقصان نہیں پہنچا جبکہ ہمارے پردھان منتری تو سارا سودا ہی خسارے اور سراسر نقصان کا کر آئے ہیں، پھر اس سودا کاری پر کس کی مثال دی جائے۔ یہ میرا بھی امتحان ہے اور قوم کا بھی۔ آئیے مل کر سوچتے ہیں کہ اس نقصان کی تلافی کیسے ہو گی اور کون کرے گا۔ امن کی آشا والوں کی آنکھیں ابھی تک چندھیائی ہوئی نہ ہوں تو وہ بھی اس پر غور کر سکتے ہیں۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com