’’تیری بُکّل دے وِچہ چور‘‘
May 23, 2014

یہ بغل میں چُھری، منہ میں رام رام والی پالیسی آخر کب تک چلائی جا سکے گی۔ آپ جس قومی ادارے کیلئے ستائشی قراردادیں منتخب فورموں پر لا کر منظور کراتے ہیں اس کے بارے میں آپ کے دل میں کیا ہے، اس کا اظہار بھی آپ کے کسی نہ کسی فعل اور عمل سے ہو جاتا ہے۔ آخر کیوں آپ صاف چُھپتے بھی نہیں، سامنے آتے بھی نہیں، حالانکہ آپ کے اُچھلتے، اُبلتے ہوئے ارادے آپ کے چُھپنے کی کوئی سبیل ہی پیدا نہیں کر پا رہے۔ بھئی سامنے آ کر جواں مردی سے مقابلہ کرو، کسی کو مُہرہ بنا کر اسے قربان گاہ کی جانب نہ دھکیلو، آپ اپنے مشن میں سچے ہوں گے تو آپ کے حق میں بھی عوامی جلوسوں کا اہتمام ہو جائے گا مگر اب ایسا نہیں ہو سکتا کہ آپ کسی کی ستائش کر کے اس کے لئے دل میں موجود بُغض کو چھپا لیں گے بقول غالب

کھلتا کسی پہ کیوں میرے دل کا معاملہ
شعروں کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے

آپ کی ’’ایکٹنگ‘‘ بھی آپ کے دل کے معاملات کو باہر اُچھال دیتی ہے  اور پھر معاملہ ’’تیری بُکّل دے وِچہ چور‘‘ والا بن جاتا ہے۔

پچھلے سارے معاملات چھوڑئیے، پیمرا کے حالیہ قصّے ہی کو لیجئے، یہ باڈی ایک قانون کے ضابطے کے تحت قائم ہے جس کا اجلاس کیسے منعقد ہو سکتا ہے، کون طلب کر سکتا ہے اور اس کے ارکان (پرائیویٹ یا سرکاری) کی کیا حیثیت ہے یہ سب متعلقہ قانون میں موجود ہے جس میں کوئی ابہام نہیں۔ آپ نے قومی سلامتی کے ایک ادارے کے سربراہ کے خلاف ایک میڈیا گروپ کی دیدے پھاڑ مہم یا مہم جوئی پر اس کے خلاف وزارتِ دفاع کی باضابطہ منظوری سے پیمرا سے رجوع کیا کہ کسی میڈیا گروپ کے معاملہ کی چھان بین کرنے والا یہی مجاز ادارہ ہے۔ اگر آپ نے فی الواقع یہ محسوس کیا تھا کہ متعلقہ میڈیا گروپ نے قومی سلامتی کے ادارے پر بہتان تراشی کی ہے تو وزارتِ دفاع کی منظوری سے اس ادارے کی دادرسی کے لئے بھجوائی گئی درخواست کی اس مجاز اتھارٹی میں سماعت اور بروقت فیصلے کی نوبت آنے دی جاتی مگر آپ کی جانب سے ایک طرف تو قومی سلامتی کے ادارے کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جاتا رہا اور دوسری جانب دودھ میں مینگنیں ڈالتے ہوئے پیمرا میں تاخیری حربوں کی پٹاری کھلوا دی گئی۔ اگر آپ کی دانست میں پیمرا کے چیئرمین کے سوا اس اتھارٹی کا اجلاس طلب کرنے کی کوئی دوسری مجاز اتھارٹی موجود نہیں تو پھر چیئرمین کی عدم موجودگی میں آپ نے قومی سلامتی کے ادارے کی دادرسی کے لئے پیمرا کو درخواست بھجوانے کے لئے چابکدستی کا مظاہرہ کیوں کیا اور اگر پیمرا رولز پیمرا کے ارکان کی ایک تہائی اکثریت کو اجلاس بُلا کر کوئی فیصلہ کرنے کا اختیار دیتے ہیں تو ایک تہائی ارکان کے بُلائے گئے اجلاس میں متذکرہ میڈیا گروپ کے بارے میں کئے گئے فیصلے پر ناک بھوں چڑھانے، ان ارکان کو غیر مجاز اتھارٹی قرار دینے، ان کے طلب کردہ اجلاس میں کئے گئے فیصلے کو سندِ قبولیت دینے سے گریز کرنے اور پیمرا رولز کی تشریح کا ڈھکوسلا کھڑا کر کے کمشن تشکیل دینے کا اعلان کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ ظاہر ہے ’’تیری بُکّل دے وِچہ چور!‘‘

بھئی سیدھی بات ہے اب ایسے معاملات نہیں چل سکتے۔ اگر آپ اس میڈیا گروپ کے آگے ڈھال بن کر کھڑے ہوئے ہیں جس نے قومی سلامتی کے ادارے کی دنیا میں بھد اُڑانے میں کوئی کسر چھوڑی ہے نہ شعائر اسلام اور قومی مفادات کی پاسداری کی ہے تو پھر قومی سلامتی کے ادارے کے لئے آپ کے دل میں کتنی قدر ہے اسے جانچنے کا پیمانہ آپ کی جانب سے اس کے لئے لائی گئی ستائشی قراردادیں نہیں، آپ کا وہ عمل ہو گا جو اس ادارے کی دادرسی کی راہ میں آپ کی جانب سے رکاوٹیں پیدا کرنے کی صورت میں قوم کے سامنے آ رہا ہے ’’سجی وکھا کر کھبّی مارنے‘‘ والے دائو پیچ سیاست میں تو چل سکتے ہیں مگر قومی سلامتی کے معاملات پر کارگر نہیں ہو سکتے۔ اس لئے یہ دائو پیچ ہی آپ کے دل کی کہانی بیان کر رہے ہیں جو قومی سلامتی کے اداروں کے ساتھ مہم جوئی والی پالیسیوں ہی کا تسلسل نظر آتی ہے۔ اگر اس مہم جوئی کا نتیجہ پہلے دھڑن تختے والا نکلا ہے تو اب اس سے مختلف نتیجہ کیسے نکل سکتا ہے۔
چاہئے تو یہی تھا کہ متعلقہ میڈیا گروپ کی سرکشی کا متعلقہ قواعد و ضوابط کے مطابق توڑ کر کے آئندہ کے لئے ایسی کسی بھی سرکشی کا راستہ روکا جاتا جس کے لئے پیمرا کی خود مختاری پر کوئی حرف نہ آنے دیا جاتا مگر آپ نے تو اپنے دل میں بسائے فتور کے باعث پیمرا کو رگیدنے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی، اس لئے اب لوگوں کے ذہنوں میں یہ تجسّس پیدا ہونا فطری امر ہے کہ ہمارے ساتھ دشمنی کی انتہا کو پہنچے بھارت کے ساتھ آپ کے اور متعلقہ میڈیا گروپ کے امن کی آشا کے مشترکہ ایجنڈے نے ہی تو آپ کو اس میڈیا گروپ کے لئے ڈھال نہیں بنایا؟ اس ایجنڈے کا مقصد براہِ راست ملک کی سلامتی کو دشمن ملک کے پاس گروی رکھوانا ہے تو پھر قومی سلامتی کے ادارے کے خلاف متعلقہ میڈیا گروپ کی مہم جوئی پر آپ کا اس میڈیا گروپ کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہونا قومی سلامتی کے اداروں کے لئے آپ کی ستائشی قراردادوں کی خود ہی نفی کر رہا ہے۔ یہ تو آپ کے اور متعلقہ میڈیا گروپ کے حوالے سے ’’اصل میں دونوں ایک ہیں‘‘ والا معاملہ نظر آتا ہے۔ اگر آپ متعلقہ میڈیا گروپ کی مہم جوئی پر قومی سلامتی کے ادارے کے ساتھ کھڑے ہوتے تو اس کے خلاف پیمرا کے ایک تہائی ارکان کے فیصلہ کو اتھارٹی کا فیصلہ مان کر اسے انتظامی مشینری کے ذریعے لاگو کر چکے ہوتے مگر اس فیصلے کے خلاف تو آپ کی صفوں میں سے گز بھر لمبی زبانیں ترکی بہ ترکی جواب دیتی اور کج بحثی میں اُلجھتی نظر آ رہی ہیں۔ اس لئے ساری دھما چوکڑی یہ حقیقت کھول کر بیان کر رہی ہے کہ ’’تیری بُکّل دے وِچہ چور!‘‘ اب یا تو اس چور کا سدباب کرو یا بُکّل اتار کر اپنے اصل کے ساتھ قوم کے سامنے آ جائو، ہاتھ کنگن کو آرسی کیا۔ آپ کی سوچ درست ہو گی تو قوم آپ کے ساتھ آن کھڑی ہو گی مگر اس وقت قوم متعلقہ میڈیا گروپ کی مہم جوئی کے خلاف قومی سلامتی کے ادارے کے ساتھ کھڑی ہے اور آپ اس میڈیا گروپ کے لئے ڈھال بنے ہوئے ہیں تو قوم کے جذبات آپ کے لئے بھی وہی ہوں گے جو متعلقہ میڈیا گروپ کے لئے ہیں۔ اگر قوم کے جذبات اپنے روٹی روزگار کے گھمبیر ہوتے مسائل کی بنیاد پر بھی برانگیخت ہیں اور قومی سلامتی و مفادات کے معاملہ میں بھی آپ اپنے مخالف قومی جذبات کو راستہ دے رہے ہیں تو پھر آپ کے لئے تو نوشتۂ دیوار موجود ہی ہے، اس میڈیا گروپ کو بھی اپنے لئے یہی نوشتۂ دیوار سمجھنا چاہئے جو آپ کی چھتری کے نیچے خود کو محفوظ تصور کر رہا ہے اور اسی میں راحت محسوس کر رہا ہے۔ بھئی جب چھتری ہی نہیں ہو گی تو کیا چلچلاتی دھوپ آپ کی راحت کا سامان پیدا کرے گی۔ ذرا سوچئے جناب! ذرا سوچئے۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com