تسلسل کے ساتھ چلتی جمہوریت کے اڑتے پرزے
May 21, 2014

میری تو آج بھی یہی رائے ہے کہ کسی قاعدے، قانون اور کتابوں میں دیا گیا کوئی نظام بذات خود برا نہیں ہوتا بلکہ اسے چلانے والے اسے اچھا یا برا بناتے ہیں۔ اگر قاعدے قانون کے تحت ہے  تو کسی ملک اور معاشرے کے لئے صدارتی نظام بھی فلاحی ریاست کے تقاضے پورے کرتا عوام کی توقعات پر پورا اتر رہا ہے حتیٰ کہ قاعدے قانون والا بادشاہی نظام بھی عوام کو وارا کھاتا رہتا ہے تو ان کے لئے قابل قبول بن جاتا ہے۔ ایسا ہی پارلیمانی جمہوری نظام کا معاملہ ہے اگر یہ کسی ملک کے دستوری اور قانونی تقاضوں کے مطابق چلایا جا رہا ہے تو اس کے ثمرات ضرور عوام الناس (جمہور) تک پہنچتے رہتے ہیں۔ خرابی صرف اس نظام میں ہوتی ہے جسے آئین و قانون کو ملیا میٹ کرکے بندوق اور طاقت کے زور پر زبردستی مسلط کیا جاتا ہے۔ ایسا نظام زیادہ تر فوجی جرنیلوں کا مسلط کردہ ہوتا ہے جو جرنیلی آمریت کے نام سے یاد کیا جاتا ہے چاہے اسے جمہوریت کا تڑکا ہی کیوں نہ لگا دیا جائے۔ اس نظام میں بے شک عوام کو قاعدے قانون والے کسی نظام سے بڑھ کر سہولتیں ملتی رہیں مگر یہ صرف اس بنیاد پر عوامی قبولیت کی سند حاصل نہیں کر پاتا کہ اسے عوام کی منشا اور قاعدے قانون کے برعکس زبردستی مسلط کیا جاتا ہے۔ چونکہ ہمارے معاشرے کے عوام کو جرنیلی آمریتوں کا زیادہ سامنا کرنا پڑا ہے اس لئے اب اس زبردستی کے نظام کو برداشت کرنے کے عادی عوام میں اس کے حسن و قبح کا موازنہ کرنے کی سوچ بھی پیدا ہو گئی ہے۔ جب قاعدے قانون والی جمہوریتوں میں جمہور (عوام الناس) کا جینا دوبھر ہو رہا ہو، انہیں روٹی روزگار کے لالے پڑے ہوں، اپنا مستقبل بھی تاریک نظر آ رہا ہو اور سلطانی جمہور میں اپنے راندۂ درگاہ ہونے کا یقین پختہ ہو رہا ہو تو اس جمہوریت کا مینڈیٹ دینے والے عوام ہی اس کے حسن و قبح کا ماورائے آئین مسلط ہونے والی جرنیلی آمریتوں کے ساتھ موازنہ کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ شائد ہم آج کتھارسس کے اسی مرحلے سے گزر رہے ہیں۔  عوام کے بھرپور مینڈیٹ سے آنے والی سلطانی جمہور کا ایک سال گزرنے کے بعد بھی خلق خدا کے راج کی کوئی صورت نہیں نظر آ رہی بلکہ خلق خدا بہت شدت کے ساتھ خط غربت سے نیچے دھکیلی جا رہی ہے تو سلطانی جمہور میں ماورائے آئین جرنیلی نظام کے حسن و قبح کا موازنہ کرنے والے عوام کو جمہوریت کے خلاف بھٹکانا زیادہ آسان ہو گیا ہے۔ چنانچہ اس فضا سے عمران خاں، علامہ طاہرالقادری اور اس قبیل کے دوسرے سیاسی بزرجمہر جمہوریت کو گندہ کرنے کے لئے پھر سے میدان عمل میں کود پڑے ہیں۔ ان حضرات کے چاہے جو بھی مقاصد ہوں مگر جمہوریت کو چلانے والوں نے اپنی ’’گورننس‘‘ سے جمہوریت کا تشخص خراب کیا ہے تو اس سے متصادم سوچ کو راستہ ملا ہے۔

فاروق عالم انصاری ہمارے اچھے کالم نگار ہی نہیں بلکہ اچھے دوستوں میں بھی شمار ہوتے ہیں۔ ان کے والد علامہ عزیز انصاری کے ساتھ ہماری نیازمندی تھی تو اس ناطے فاروق عالم انصاری کے ساتھ بھی عزیزداری استوار ہوئی۔ گزشتہ روز انہوں نے میرے اہلیہ کے ساتھ عمرے کی سعادت حاصل ہونے کو زبردستی ’’سیلیبریٹ‘‘ کیا اور کچھ دوستوں کو ایک فائیو سٹار ہوٹل میں مدعو کر لیا۔ موجودہ حالات میں ایسی نشستوں کا انعقاد بھی کتھارسس کے عمل کو بڑھاوا دینے کا باعث بنتا ہے چنانچہ اس نشست میں تحریک انصاف پنجاب کے سابق صدر احسن رشید نے بھارتی انتخابات میں عوامی پذیرائی والی قابل قبول جمہوریت کے پرزے اڑنے کی مثالیں پیش کرکے بطور سسٹم جمہوریت کے قابل قبول بنے رہنے کے تصور کا سوال اٹھا دیا۔ ہم تو اب تک اسی چکمے میں ہیں کہ انتخابات کا عمل تسلسل کے ساتھ چلتا رہے گا تو سسٹم میں جرنیلی آمریتوں کا لایا گیا گند بھی آہستہ آہستہ صاف ہوتا رہے گا اور پھر خالص جمہوریت ’’عوام کے ذریعے، عوام کے لئے‘‘ کی روح کے عین مطابق ایک صدقہ جاریہ بن جائے گی، مگر ہمارے خطہ میں سب سے بڑے جمہوری معاشرے بھارت میں تسلسل کے ساتھ قاعدے قانون کے مطابق 16 انتخابات ہو چکے ہیں اور احسن رشید کی معلومات کے مطابق بھارت کے موجودہ انتخابات میں ’’انڈر ورلڈ‘‘ کے 186 سرغنے پیسے کے زور پر بی جے پی اور کانگرس آئی کے ٹکٹ حاصل کرکے لوک سبھا میں پہنچ چکے ہیں۔ پہلے یہ لوگ پس منظر میں رہ کر پیسے کے زور پر اپنی کٹھ پتلیوں کو منتخب ایوانوں میں بھجواتے تھے اور ان کے ذریعے قوانین کا رخ اپنے حق میں تبدیل کراتے تھے جبکہ اب تسلسل کے ساتھ چلنے والی جمہوریت ان کے لئے اتنی سودمند ثابت ہوئی ہے کہ انہیں اپنے مہروں کے بجائے خود کو ہی لوک سبھا میں قانون ساز کی حیثیت سے پہنچانے کی سہولت مل گئی ہے اگر پیسے کی ریل پیل کے ذریعے قائم اس جمہوریت کا ہم اپنی جمہوریت کے ساتھ موازنہ کریں تو اس نظام میں ہمیں بھی اپنے لئے یہی نتیجہ اخذ ہوتا نظر آ رہا ہے۔ ہمارے گزشتہ انتخابات میں شفافیت، میرٹ، امیدواروں کی 63,62 والی اہلیت اور انتخابی عمل کی غیر جانبداری کے دعوئوں پر مبنی سارے شور شرابے کے باوجود انتخابی عمل میں پیسے کی ریل پیل کے آگے بند نہیں باندھا جا سکا۔ جن جماعتوں نے (موجودہ حکمران جماعتوں سمیت) اپنے امیدواروں سے اعلانیہ لاکھوں روپے وصول کرکے ٹکٹ دئیے، ان سے منتخب ایوانوں میں جانے کے بعد ایمانداری اور دیانتداری کے تقاضے نبھانے کی کیسے توقع کی جا سکتی ہے جبکہ پارٹی قیادتوں کا یہ مطمع نظر بھی نہیں ہے۔ انتخابی عمل میں تو تحریک انصاف بھی اسی رنگ میں رنگی رہی اور چن چن کر ساہوکاروں، مافیائوں اور بلیک میلروں کو پارٹی ٹکٹ دئیے۔ اب اس پارٹی کے قائدین اسی گند کا حصہ بننے بلکہ اس میں اپنا حصہ ڈالنے کے بعد اس کی خرابیوں کی نشاندہی اور نکاتی کر رہے ہیں تو ان کی باتوں میں اخلاص ڈھونڈتے ڈھونڈتے تسلسل کے ساتھ چلائی جانے والی جمہوریت کا مردہ مزید خراب ہو جائے گا۔ احسن رشید کے بقول بھارت کے تھنک ٹینکس وہاں کی جمہوریت میں انڈر ورلڈ کے لوگوں کے غلبے سے مایوس ہو کر اب وہاں چین جیسے طرز حکومت کو آزمانے کا سوچ رہے ہیں۔ اگر یہ طرز حکومت قاعدے قانون میں ہے اور عوام کے لئے فلاحی ریاست کے تقاضے پورے کر رہا ہے تو پھر معاشرے کا ہر گند قبول کرنے والی سلطانی جمہور کے ’’رومانٹسسزم‘‘ میں خود کو جکڑے رکھنے کی کیا ضرورت ہے اس لئے کیوں نہ ہم بھی سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لے لیں کہ اگر انتخابات کے تسلسل کے ساتھ چلائی جانے والی جمہوریت کا نتیجہ ہمارے لئے بھی بھارت جیسا ہی برآمد ہونا ہے جس کے لئے ہمارے معاشرے کے حالات تو پہلے ہی سازگار ہیں تو پھر ہمیں اس کا طبلہ بجاتے رہنے کی کیا ضرورت ہے ہم پہلے قاعدے قانون کے برعکس صدارتی نظام اور جرنیلی آمریتوں کے تجربات سے گزر چکے ہیں تو اب پارلیمانی جمہوری نظام کے علاوہ قاعدے قانون والے کسی دوسرے نظام کو بھی کیوں نہ آزما کر دیکھ لیا جائے۔ آپ بے شک اس کو ایک علمی بحث سمجھ لیں مگر اس پر کتھارسس کا عمل شروع تو ہونا چاہئے ورنہ تو بھائی صاحب! جتنا حبس بڑھ رہا ہے وہ کسی بے رحم انقلاب پر ہی منتج ہو گا۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com