سفر نصیب اور دو پیاروں کی جدائی
May 16, 2014

میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اس سال اپریل کے مہینے میں ازدواجی زندگی کے 33 سال پورے ہونے پر مجھے اہلیہ کے ساتھ عمرہ کی سعادت بھی حاصل ہو رہی ہے۔ بیٹے شاہد سعید نے ابوظہبی سے فون کر کے اصرار کیا کہ آپ عمرہ کی سعادت بھی حاصل کر لیں۔ بس جھٹ پٹ پروگرام بنا اور ہفتوں میں نہیں محض چند دنوں میں سارے معاملات طے ہو گئے۔ صرف ایک ہفتے کے اندر اندر میرا اور اہلیہ کا سعودی عرب کا ویزہ بھی لگ گیا اور اسی دن پی آئی اے کی پرواز پر ہماری روانگی اور واپسی کی سیٹیں بھی کنفرم ہو گئیں۔ ایمان اور بھی پختہ ہو گیا کہ ’’جاتے ہیں وہی جن کو سرکار بُلاتے ہیں‘‘ جی ہاں، یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے، یہ بڑے نصیب کی بات ہے۔ 27 اپریل سے 12 مئی تک حجازِ مقدس پر ربّ کائنات کی بارگاۂ ایزدی اور رحمت للعالمین حضرت محمدؐ  مصطفیٰ کے سبز گنبد کی رحمتوں کے سائے میں گزارے ہوئے لمحات بلاشبہ زندگی کے انمول لمحات میں شامل ہو گئے ہیں۔ اس مقدس سفر و قیام کی مفصل روداد لکھنے کا مصمم ارادہ ہے۔ خداوند کریم سے عاجزانہ دعا ہے کہ جہاں مقدس سفر میرے نصیب کا حصہ بنا وہیں اب اس سفر کے بیان کے لئے بھی میرے نصیب کھل جائیں

سفر نصیب ہوا ہے تو کیوں بیاں نہ کروں
میرا دھیان ہٹے اس سے، اب گماں نہ کروں

سو اس سفر نصیب کے یادگار لمحات آپ کے ساتھ ضرور شیئر کروں گا مگر سفر پر روانگی کے دن اور واپسی کے اگلے ہی روز دو جانکاہ خبریں، اپنے دو پیاروں کی جدائی کی خبریں میرے وجود کو نچوڑ گئی ہیں اس لئے پہلے ان کی یادوں کا تذکرہ کر کے اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرنا چاہتا ہوں۔ پنجاب کے سابق چیف سیکرٹری اور نوائے وقت کے کالم نگار جاوید قریشی کے سانحۂ انتقال کی خبر عین اس وقت مجھے عفت علوی کے ایک تعزیتی ایس ایم ایس کے ذریعے ملی جب میں حجازِ مقدس کے سفر پر روانگی کے لئے گھر سے نکل چکا تھا اور ائر پورٹ جا رہا تھا۔ دل کو جھٹکا سا لگا

اب تو کچھ بھی نہیں رہا باقی
آشیانے کی بات کرتے ہو

جاوید قریشی سے میری نیاز مندی کا سلسلہ 71ء کی دہائی کے آغاز میں ہوا جب میں نے گورنمنٹ کالج ساہیوال میں گریجویشن کے لئے داخلہ لیا۔ جاوید قریشی اس وقت ساہیوال کے ڈپٹی کمشنر تھے۔ وہ میری شاعری کی ابتدا کا زمانہ تھا۔ تمام مقبول، غیر مقبول شعراء کے کلام کا مطالعہ میری شاعرانہ خفتہ صلاحیتوں کو بھی پروان چڑھاتا رہا، انہی مراحل میں بیورو کریٹ جاوید قریشی کے ساتھ ساتھ شاعر جاوید قریشی سے بھی آشنائی ہوئی۔ اس وقت ڈاکٹر وزیر آغا کے بھائی امجد علی آغا گورنمنٹ کالج ساہیوال کے پرنسپل تھے، دلدار پرویز بھٹی نئے نئے لیکچرار تعینات ہو کر ہمارے انگریزی ادب کے استاد بن گئے تھے، مجید امجد کا طوطی بولتا تھا۔ اس ادب نواز فضا میں گورنمنٹ کالج ساہیوال ادبی سرگرمیوں کا مرکز بنا ہوا تھا۔ ایک محفل شیراز ہوٹل میں مجید امجد کے ساتھ سجا کرتی تھی اور اردو پنجابی مشاعروں کا اہتمام گورنمنٹ کالج ساہیوال میں ہوا کرتا تھا جن میں کبھی ظفر اقبال، کبھی مشتاق صوفی رونق افروز ہوتے اور کبھی لاہور سے احسان دانش، ڈاکٹر عبادت بریلوی اور دوسرے معروف و شائستہ دانشور اور شعراء کرام مدعو نظر آتے۔ جاوید قریشی ایسی کئی تقریبات کی میزبانی کرتے اور کئی تقریبات میں بطور مہمان خصوصی شریک ہوتے۔ اس فضا میں گورنمنٹ کالج کے طلبہ میں سے نوجوان شاعروں کا ایک مضبوط گروپ ابھر کر سامنے آیا اور میرا بھی اسی مناسبت سے پنجابی کے معروف شعراء میں شمار ہونے لگا۔ زاہد رانا نے افسانہ نگاری میں جستیں بھریں جبکہ ریاض نغمی، جوزف سی لال، رضا صدیقی، مظہر ترمذی سکہ بند شعراء کی صف میں شامل ہو گئے۔ پروفیسر سعادت سعید کے چھوٹے بھائی طاہر بھی اپنے ساتھ پہلے رومانی اور پھر روحانی کا لیبل لگا کر شاعروں کی صف میں شامل ہو گئے جو اب طاہر نسیم کے نام سے معروف ہیں۔ ہمارے شاعروں، ادیبوں کے اس گروپ کی جاوید قریشی صاحب نے خاصی یاد اللہ رہی، سو جب بذریعہ ایس ایم ایم مجھے ان کے انتقال کی اطلاع ملی تو 71ء کی دہائی کے ابتدائی سالوں کی یادوں نے بھی میرے ساتھ ہی رختِ سفر باندھ لیا۔ یہ یادیں ساہیوال سے چلتے چلتے لاہور کی یادوں میں آ شامل ہوئیں جن کا سلسلہ 1974ء سے شروع ہوتا ہے جب میں نے پنجاب یونیورسٹی لاء کالج میں لاء گریجویشن کیلئے داخلہ لیا۔ جاوید قریشی صاحب بھی اس وقت تک تبدیل ہو کر لاہور آ چکے تھے اور غالباً محکمہ سمال انڈسٹریز میں بطور ڈی جی تعینات ہوئے تھے پھر وہ کمشنر ہو کر فیصل آباد چلے گئے جہاں چند سال گزار کر وہ لاہور واپس آ گئے یہاں مختلف محکموں کے سیکرٹری کے منصب پر تعینات ہوتے رہے۔ جب وہ چودھری پرویز الٰہی کے وزارتِ بلدیات کے دور میں سیکرٹری بلدیات تعینات ہوئے تو ان سے خاصی ملاقاتیں اور رابطے رہے پھر میاں منظور وٹو کی وزارتِ اعلیٰ کے دور میں وہ چیف سیکرٹری پنجاب بنے تو برادرم منیر احمد خاں کے ہمراہ ان سے متعدد ملاقاتوں کا موقع ملتا رہا۔ ان کی مرنجاں شخصیت، رکھ رکھائو اور شرافت کا میں ہمیشہ قائل رہا ہوں، وہ بلاشبہ انتہائی نفیس انسان تھے معروف شاعر ہونے کے باوجود انہوں نے دورانِ سروس شاعر جاوید قریشی کو پنپنے کا موقع نہ دیا تاہم ریٹائرمنٹ کے بعد ان کے ادبی میلان نے انہیں جھنجوڑا اور انہوں نے نوائے وقت میں مضمون نگاری کا سلسلہ شروع کر دیا چنانچہ ہمارے باہمی رابطے کا تسلسل بھی بڑھ گیا۔ وہ اپنے کسی مضمون کی ایڈیٹنگ پر ناراضگی کا اظہار بھی انتہائی شستہ اور شائستہ لہجے میں کیا کرتے تھے، ان کی زبان سے سب سے زیادہ سخت یہی جملہ ادا ہوتا کہ میں آپ کے معیار پر پورا نہیں اتر رہا تو آپ بتا دیں، میں لکھنا چھوڑ دیتا ہوں۔ میں انہیں ایڈیٹنگ کا پس منظر بتاتا تو وہ فوراً قائل ہو جاتے اور لکھنا ترک کرنے کا ارادہ ترک کر دیتے۔ گذشتہ ایک ماہ سے علالت کے باعث ان کے مضامین میں تعطل پیدا ہو گیا تھا، ان کی سیکرٹری ہر ہفتے مجھے فون پر بتا دیتیں کہ جاوید قریشی صاحب اس ہفتے بھی علالت کے باعث اپنا مضمون نہیں بھجوا سکیں گے۔ کئی بار ارادہ کیا کہ فون پر ان کی خیر خیریت معلوم کروں مگر دفتری مصروفیات نے مجھے اس کی مہلت ہی نہ دی تاآنکہ ان کے سانحہ انتقال کی خبر موصول ہو گئی۔ حجازِ مقدس کے سفر کے دوران بھی ان کی یادیں ساتھ ہی محوِ سفر رہیں اور پھر ان کے درجات کی بلندی بھی میری دعائوں کا حصہ بن گئی۔ عمرہ سے واپسی تک طبیعت ملول تھی گزشتہ روز آفس آیا تو خواجہ فرخ سعید صاحب نے ہمارے دیرینہ صحافتی ساتھی ایس امجد کے سانحۂ انتقال کی خبر سُنا کر طبیعت کو مزید مضمحل کر دیا۔ ایس امجد کی خوبیاں بیان کرنے کے لئے مجھے فی الواقع الفاظ نہیں مل رہے۔ 80ء کی دہائی میں صحافت کے میدان میں اس کے ساتھ شناسائی کا جو سلسلہ شروع ہوا وہ دوستی، بھائی چارے اور رفاقت کے زینے چڑھتا اس کے انتقال تک برقرار رہا۔ وہ حقیقی معنوں میں جفاکش صحافی اور قلندر آدمی تھا، صحافتی سرگرمیوں اور ٹریڈ یونین میں ہمارا سرگرم شریکِ سفر اور رفیق کار رہا، چھوٹے اخباروں سے وابستہ ہونے کے باوجود اس کی صحافتی شخصیت قدآور رہی۔ پنجاب اسمبلی پریس گیلری کمیٹی کا مسلسل سات سال سیکرٹری منتخب ہوتا رہا اور پھر اس کی صحافتی خدمات کے پیش نظر اس وقت کے سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی نے اسے پنجاب اسمبلی پریس گیلری کمیٹی کے مستقل سیکرٹری کے لئے نوٹیفائی کر دیا۔ نادار اور بیمار صحافیوں کے لئے حکومتی سہولتیں دلوانا اس کا جنون تھا جس کے لئے اسے کئی بار مطعون بھی ہونا پڑا۔ میں پریس گیلری کمیٹی کا صدر منتخب ہوا تو اس وقت بھی ایس امجد ہی سیکرٹری منتخب ہوئے چونکہ صحافتی کمیونٹی کی گروپ بازی میں ہمارا گروپ بھی مشترکہ تھا اس لئے ہم اپنی ساری کامیابیوں ناکامیوں کو بھی مشترکہ طور پر ہی شیئر کیا کرتے تھے۔ ایس امجد کو اپنے بعض معاملات میں اپنے گروپ میں بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑتا مگر وہ کبھی طیش میں آتا نہ ہمت ہارتا مگر اب وہ موت کے آگے ہمت ہار چکا ہے۔ مسلسل چھ مہینے تک اس نے بستر پر لیٹے بیماری کا مقابلہ کیا اس عرصے میں یقیناً تنہائی بھی اس کے مقابل رہی ہو گی کیونکہ ایک مجلسی آدمی کو تو تنہائی چاٹ لیتی ہے۔ دنیا کے جھمیلوں میں پڑے ہم بے حس لوگ اپنی اپنی مصروفیات کے بہانے بنا کر اپنے کسی پیارے کی تنہائی کو شیئر کرنے کی بھی توفیق نہیں رکھتے۔ ایس امجد کی موت اس جیسے سارے مجلسی آدمیوں کے لئے ایک سبق ہے اور صحافتی برادری کے لئے لمحۂ فکریہ۔ کیا آج لاہور پریس کلب، پی یو جے، پی ایف یو جے اور پنجاب اسمبلی پریس گیلری کمیٹی کو ایس امجد کی موت نے کوئی کچوکا لگایا ہے؟ پھر ذرا سوچئے تو سہی کہ ہم سب اپنے اپنے کاموں میں مصروف کتنے خود غرض اور کتنے تنہا لوگ ہیں۔ آہ ایس امجد

حق مغفرت کرے، عجب آزاد مرد تھا
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com