کیڈٹس کا حلف اور آئین کی عملداری
Apr 22, 2014

سسٹم کے خلاف سازشی تھیوریوں کا جو سلسلہ جنرل (ر) مشرف کے خلاف غداری کا کیس دائر ہونے سے شروع ہُوا تھا وہ ان کی کراچی منتقلی پر اب زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ فروغ پاتا نظر آ رہا ہے۔ زمین و آسمان کے قلابے ایک کر کے، قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد وفاقی وزراءخواجہ محمد آصف اور خواجہ سعد رفیق کے وضاحتی بیانات، اس کے بعد وزیراعظم نواز شریف کی کاکول میں کیڈٹس کی سالانہ پریڈ کی تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے لئے تحسینی کلمات کی ادائیگی اور اس سے اگلے ہی روز مشرف کی اسلام آباد سے کراچی روانگی کی کڑیاں ایک دوسرے کے ساتھ ملا کر مشرف کو بیرون ملک بھجوانے کے کسی مبینہ معاہدے پر حکومتی اتفاق کے ساتھ جوڑی جا رہی ہیں۔ اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ کو بھی ایسی ہی کسی سازشی تھیوری کی بھنک پڑی ہو گی جو انہوں نے جھٹ سے بیان داغ دیا کہ مشرف کی کراچی آمد ان کے فرار کی جانب پہلا قدم ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اس سازشی تھیوری کے دوسرے حصے کا از خود انکشاف کر دیا کہ کراچی سے مشرف کی بیرون ملک روانگی کی ذمہ داری سندھ حکومت پر ڈال دی جائے گی۔ اور تو اور، جماعت اسلامی خیبر پی کے کے امیر اور طالبان مذاکراتی کمیٹی کے رکن پروفیسر ابراہیم تک بھی اس سازشی تھیوری کی اطلاع پہنچ گئی جنہوں نے پوری سہولت کے ساتھ یہ انکشافِ دلپذیر فرما دیا کہ لگتا ہے مشرف کو محفوظ راستہ دینے کے لئے حکومت اور فوج میں مفاہمت ہو گئی ہے۔ اس نئی سازشی تھیوری سے کم از کم یہ فائدہ تو ہُوا ہے کہ مشرف غداری کیس کی بنیاد پر جو سازشی تھیوری آرمی چیف کے ہاتھوں جمہوری حکومت کی بساط لپٹوانے کے لئے پورے شد و مد کے ساتھ پروان چڑھائی جا رہی تھی، اس کی موت واقع ہو گئی ہے۔ مگر مجھے یقین ہے کہ چند روزہ اُچھل کود کے بعد مشرف کی بیرون ملک روانگی کے لئے حکومت سے محفوظ راستہ نکلوانے والی موجودہ سازشی تھیوری کی بھی موت واقع ہو جائے گی جس سے کوئی نئی سازشی تھیوری جنم لے گی اور پھر ”یارانِ تیزگام“ کی رونق لگائے رکھنے کے لئے ایک سازشی تھیوری مرتی اور دوسری جنم لیتی رہے گی۔

اگر اس وقت آئین کے تقاضوں کے مطابق مشرف کے خلاف قانون کی عدالت میں آئین سے غداری کا کیس چل رہا ہے جس میں مشرف پر فردِ جرم عائد ہو چکی ہے اور ان کا نام سابقہ دورِ حکومت سے ہی ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل ہے تو مبینہ سازشی تھیوری کے تحت مشرف چاہے کراچی سے ہی بیرون ملک روانہ ہوں، یہ ہزیمت تو وفاقی حکومت کے حصے میں ہی آئے گی۔ اگر اس نے تھوک کر چاٹنا ہوتا تو میرے خیال میں اسے ”کھے“ کھانے کے ضرورت ہی نہیں تھی جبکہ اب کسی معاہدے (تحریری یا زبانی) کے تحت مشرف کو ریمنڈ ڈیوس کے انداز میں بیرون ملک بھجوا دیا جاتا ہے تو حکومت کو جس سبکی کا سامنا کرنا پڑے گا اس کا تصور کر کے ہی میرا یقین پختہ ہو جاتا ہے کہ حکومت اپنے اقتدار کے خاتمہ کا نقصان تو برداشت کر سکتی ہے مگر ”کھے“ کھانے والا طعنہ برداشت کرنا شاید اس کے لئے ممکن نہیں ہو گا۔ تو جناب اس تھیوری کو سامنے رکھ کر میرا یقین کیوں پختہ نہیں ہو گا کہ مشرف کی کسی سہولت کے معاملہ پر کوئی بھی سازشی تھیوری کامیابی سے ہمکنار نہیں ہونے والی اور موجودہ حکومت قائم و سلامت ہے تو مشرف پر قانون و انصاف کی عملداری بھی نوشتہ¿ دیوار ہے۔ اور پھر یہ عملداری کیوں نہیں ہونی چاہئے؟ ملک میں آئین سلامت ہے، اس کے ماتحت عدالتیں قائم ہیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی موجود ہیں جبکہ اسی آئین کے ماتحت رائج پارلیمانی جمہوری نظام میں پارلیمنٹ بھی اپنا بھرپور وجود رکھتی ہے جس میں موجود عددی اکثریت نے موجودہ حکومت کی تشکیل کی ہوئی ہے۔ اگر کوئی معاملہ ہونا ہے تو آئین کے تحت رائج اس سارے سسٹم کے ماتحت ہی ہونا ہے اور اس سے بالا بالا اگر کسی معاملہ کی بعض خوش فہموں کی خواہش ہے تو پھر ان کی یہ خواہش بھی آئین کی عملداری کی زد میں آنی چاہئے۔ یا تو یہ خوش فہم پارلیمنٹ میں اتنے غالب ہو جائیں کہ پارلیمانی وفاقی آئین کو صدارتی یا فردِ واحد کی حکمرانی والے آئین میں تبدیل کرا لیں، یا آئین میں ترمیم کرا کے امورِ حکومت و مملکت میں افواجِ پاکستان کے بطور ادارہ کسی کردار کی گنجائش نکلوا لیں یا ”باادب باملاحظہ ہوشیار‘ شاہ معظم کی سواری آتی ہے“ کے جلالی نعرے کو آئین کے دیباچے کا حصہ بنوا لیں، پھر اس کے مطابق ساری من مانیاں کرتے پھریں جو ظاہر ہے آئین کے مطابق اور اس کے دائرے میں ہی ہوں گی۔ اگر ایسی من مانیوں کی موجودہ آئین میں کہیں کوئی گنجائش ہی نہیں ہے اور ایسا کرنے کا سوچا جا رہا ہے تو پھر جس کے دل میں بھی یہ خناس موجود ہے اسے آئین کی عملداری میں کیوں گردن زدنی نہیں ہونا چاہئے؟

آجکل سوشل میڈیا میں ایک اور مجہول فلسفے کو بھی سازشی تھیوریوں کی ہی طرح پھیلایا جا رہا ہے کہ ”آپ کو ریاست اور آئین میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑے تو آپ کس کے حق میں فیصلہ کریں گے۔“ حضور، آئین تو خود ریاست کا محافظ ہے اور ریاست کی حفاظت کے لئے تو بہر صورت قوم آئین کی عملداری کے ساتھ ہی کھڑی ہو گی، ریاست کو خطرہ ہی اس وقت لاحق ہوتا ہے جب اسے سرزمین بے آئین بنانے کی کوشش کی جاتی ہے، اگر کس کے ذہن میں یہ سوچ اٹکھیلیاں کر رہی ہے کہ ریاست کے نام پر قوم آئین کو تہہ و بالا کرنے کی کسی سازش کی تائید کرے گی تو انہیں یہ غلط فہمی دور کر لینی چاہئے کیونکہ ریاست کی محافظ افواجِ پاکستان کو بھی سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ داری آئین نے ہی تفویض کی ہوئی ہے جبکہ اس ذمہ داری کا یہ بنیادی تقاضہ ہے کہ اسے پوری دیانتداری کے ساتھ نبھایا جائے اور اس ذمہ داری کے دائرے سے باہر نکل کر اِدھر اُدھر جھانکنے کی کوشش نہ کی جائے، ورنہ اس ذمہ داری میں خلل پیدا ہو سکتا ہے۔ کیا اس ذمہ داری کو ہی دو روز قبل کاکول میں کیڈٹس کی پریڈ کی تقریب میں ان سے حلف لیتے وقت نہیں دُہرایا گیا؟ یہ حلف بھی تو خود آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے لیا ہے جس میں نوجوان کیڈٹس نے یہ عہد باندھا ہے کہ وہ اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی میں آئین کی حمایت کریں گے اور کسی قسم کی سیاسی سرگرمیوں میں شریک نہیں ہوں گے، یہی کیڈٹس اس عہد کو پلے باندھ کر آرمی چیف اور دوسرے اہم مناصب تک پہنچتے ہیں اور پھر اپنے اس منصب کا الگ سے بھی حلف اٹھاتے ہیں تو اس میں بھی بطور کیڈٹ پلے باندھے گئے اپنے عہد کو مزید پختہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی میں آئین کی حمایت کریں گے اور کسی قسم کی سیاسی سرگرمیوں میں شریک نہیں ہوں گے۔ تو جناب جب تک موجودہ آئین اور اس کے تحت حکومتی ریاستی اداروں کے سربراہان کا اٹھایا گیا حلف موجود ہے تب تک تو اس آئین اور اسی حلف کی عملداری ہونی ہے، پھر بھائی صاحب! کسی نے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی میں بدعہدی کی ہے تو آئین کی عملداری اسے بدعہدی کی سزا دے کر ہی قائم کی جا سکتی ہے۔ یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جو مشرف پر انصاف کی عملداری کے لئے میرے یقین کو پختہ سے پختہ کر رہا ہے اور سرزمینِ وطن پر یہ علمداری دیکھنے کا اب وقت آ گیا ہے۔ اگر مشرف اس عملداری کے پراسس میں کسی سازشی تھیوری کے نکالے گئے محفوظ راستے سے بیرون ملک روانہ ہو گئے تو ہم اس دن کو ملک کے مقدر کی سیاہی کے آغاز سے تعبیر کر کے اپنے اس نوحے پر یقین کر لیں گے کہ

سلسلے درد کے تھمتے ہی نہیں ہیں آسی
ہم تو اس حبس میں جینے کا مزہ بھول گئے
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com