’’کر کے تدبیر کوئی، تازہ ہَوا لی جائے‘‘
Apr 18, 2014

یہ تو وہ مرغی ثابت ہو رہی ہے جو خود آگ کی تپش سے بچنے کیلئے اپنے چوزوں کو پائوں تلے دبا کر انہیں جھلسا دیتی ہے۔ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ میرا سابقہ ادارہ میرے ساتھ کھڑا ہے مگر پھندہ اپنی گردن کی جانب بڑھتا محسوس ہوتا ہے تو اپنی گردن کو بچانے کی خاطر اسی ادارے کی دوسری شخصیات کو گھسیٹ کر خود غرض مرغی کی طرح اپنی افتاد ان پر توڑنے کی ٹھان لی جاتی ہے۔ پھر کیا ایسی ذہنیت اور ایسے کردار والی کسی شخصیت کی خاطر کسی ادارے کی انا کا مسئلہ بنایا جا سکتا ہے؟ یہ ان سارے کرمفرمائوں کے سوچنے کی بات ہے جو سابق جرنیلی آمر مشرف کے خلاف غداری کیس کی کارروائی کو بطور ادارہ افواج پاکستان کے خلاف کارروائی سے تعبیر کر کے آئین و انصاف کی عملداری کے خلاف گرد اُڑاتے نظر آتے ہیں۔ یہ سارے حضرات و خواتین اپنے ممدوح مشرف کا گذشتہ روز کا بیان ملاحظہ فرما لیں۔ کہتے ہیں ’’پی سی او اور ایمرجنسی کی ’’کھے‘‘ میں نے اکیلے تو نہیں کھائی وزیراعظم بھی میرے ساتھ تھے، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی، آرمی چیف، ائر چیف، نیول چیف، کور کمانڈرز، سارے گورنرز، سارے وزراء اعلیٰ، فلاں فلاں سیاستدان، وزیر، مشیر اور پھر پوری اسمبلی کھے کھانے کے اس عمل میں میری شریکِ جرم تھی۔ مجھے سزا دینی ہے تو ان سب کو بھی میرے والی سزا کے عمل سے گزارو۔‘‘ اور آپ کے سارے رطب اللسانوں کے بقول ادارہ آپ کے ساتھ کھڑا ہے، آپ کو کوئی گزند تک نہیں پہنچنے دے گا اور آپ اتنے خود غرض اور بے وفا ہیں کہ اسی ادارے کی ساری اہم شخصیات کو بھی وہی سزا دلوانا چاہتے ہیں جو آپ کو بہر صورت بھگتنا ہو گی، پھر کون آپ کے ساتھ کھڑا رہے گا جناب! آپ کے وزیراعظم شوکت عزیز آپ کی نافذ کردہ ایمرجنسی میں اپنے کسی کردار سے سرے سے انکاری ہو گئے ہیں۔ آپ کے اس وقت کے گورنر پنجاب خالد مقبول نے بھی آپ کو جھنڈی دکھا دی ہے۔ آپ کے اس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی کی زبان اب کبھی یہ غوطہ نہیں کھاتی کہ ہم اپنے ممدوح مشرف کو وردی سمیت مزید دس بار صدر منتخب کرانے کے اپنے عہد پر آج بھی کاربند ہیں۔ چودھری شجاعت حسین تو لال مسجد اپریشن کے معاملہ سے بھی اپنا دامن چھڑانے کی کوشش کر چکے ہیں اور پھر آپ نے اپنے سابقہ ادارے کی جن شخصیات کے نام لیکر اپنے جرم میں شریک ثابت کرنے کی کوشش کی، کیا وہ آپ کے اس بیان کی توثیق کرتے ہوئے اپنی گردنیں پھندے کی زد میں لانے کو بخوشی تیار ہو جائیں گے؟ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔

عقدہ تو یہ کُھل رہا ہے کہ آپ نے اپنے 3 نومبر 2007ء کے  اقدام کے لئے مشاورت صرف اپنے دو معتمدین سیّد شریف الدین پیرزادہ اور احمد رضا قصوری سے کی تھی جبکہ اختراع ساری آپ کے اپنے ذہن رسا کی تھی۔ بھئی آپ تو اس وقت جنگل کے بادشاہ بنے بیٹھے تھے اور طرزِ عمل آپ کا جنگل کے بادشاہ اسی شیر والا تھا جس نے اپنی طاقت کے زور پر شکار کئے گئے جانور کے تین حصے کر کے جنگل کے سارے جانوروں کو بُلایا اور ان کے سامنے جلالی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک حصہ میرا اس لئے ہے کہ اس جانور کا میں نے خود شکار کیا ہے، پھر دوسرے حصے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ حصہ میرا اس لئے ہے کہ میں جنگل کا بادشاہ ہوں اور پھر شکار کے تیسرے حصے کی جانب اشارہ کر کے دھاڑ ماری یہ آپ سب کے سامنے پڑا ہے، کسی میں ہمت ہے تو اُٹھا کر لے جائے۔ بھئی جنگل کے معاشرے میں شیر کے سامنے کسی کی مجال ہو سکتی ہے کہ وہ اس کے شکار میں ہاتھ ڈالے یا اس کے کسی فعل سے اختلاف کا سوچنے کی بھی جرأت کرے، سو آپ نے اپنی جنگل کی حکمرانی میں جو ٹھانی، جو سوچا، جو کیا، آپ کے ادارے، آپ کی حکومت اور آپ کی لائی گئی پارلیمنٹ میں سے کسی کو جرأت ہو سکتی تھی بھلا کسی اختلافِ رائے کے اظہار کی؟ چنانچہ آپ نے اپنے ذہنِ رسا کی اختراع والے 3 نومبر کے اقدام کے بارے میں سارے مذکورین کو آگاہ کر دیا ہو گا کہ میں یہ کچھ کرنے جا رہا ہوں۔ اس وقت کسی میں کیا مجال ہو سکتی تھی آپ کا ہاتھ روکنے کی جبکہ اس سے پہلے آپ 12 مئی کو کراچی کی قتل و غارت گری پر اپنی سرخوشی کے اظہار کے لئے مُکہ دکھاتے ہوئے تمام متعلقین کو یہ باور بھی کرا چکے تھے کہ یہ میری طاقت ہے، جو اس کے آگے آنے کی کوشش کرے گا کچلا جائے گا۔ یہ سارا نشہ آپ کے اس یکا و تنہا اقتدار کا ہی تو تھا جو آپ نے بندوق کے زور پر ماورائے آئین اقدام کے تحت جمہوریت کی بساط لپیٹ کر حاصل کیا تھا۔ اب آپ کے پاس وہ طاقت نہیں ہے تو مزہ تو اب ہے کہ آپ لاقانونیت پر مبنی اپنے سارے اقدامات کا آج بھی خود کریڈٹ لیں، اپنی جان بچانے کی خاطر اپنے کسی اقدام سے راہِ فرار اختیار نہ کریں اور مزہ تو جب ہے کہ جن شخصیات کو آپ نے اپنے ماورائے آئین اقدام کے ساتھ ملوث کر کے شریکِ جرم ٹھہرانے کی کوشش کی ہے وہ بھی خلوصِ دل سے آپ کے ساتھ کھڑے نظر آئیں۔ میرا گمان ہے کہ آپ کی ممکنہ سزا خود بھگتنے کی پیشکش کرنے والے آپ کے متوالے رانا اعجاز احمد خاں کو بھی پھندہ اپنی گردن کی جانب آتا نظر آئے گا تو وہ بھی بدک کر آپ کے مخالفین کی صف میں کھڑے نظر آئیں گے۔ آپ کی طوطا چشمی تو سارے متعلقین کو یہی سبق دے رہی ہے کہ آپ کی ذات پر آئین، قانون اور انصاف کی عملداری کو کسی ادارے کی انا کے ساتھ منسوب نہ ہونے دیا جائے اور اب وقت آیا ہے تو آپ کی سوچ والے تمام افراد سے ملک و قوم کو مستقل طور پر نجات دلا دی جائے۔ اگر عدلیہ نے اپنی ماضی کی ساری ہزیمتوں پر سبق حاصل کر کے انگڑائی لی ہے تو دوسرے اداروں اور دوسری شخصیات کے حوالے سے بھی یہ تاثر اب باطل ثابت ہو جانا چاہئے کہ ماضی میں کسی جرنیلی آمر کی گردن ناپی گئی ہے جو اب ناپی جائے گی۔ آخر کہیں سے تو اصلاحِ احوال کا آغاز ہونا ہے۔ پھر وہ پیشرفت مشرف غداری کیس سے ہی کیوں نہ ہو؟ ورنہ تو جناب

حبس ایسا ہے کہ دم گُھٹتا نظر آتا ہے
کر کے تدبیر کوئی، تازہ ہَوا لی جائے
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com