میرا تجسّس اور چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کا تفکّر
Apr 15, 2014

میرا آج بھی یہی تجسّس ہے کہ ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی اور انصاف کی عملداری کو یقینی بنانے کے لئے مشرف غداری کیس کو کیوں ٹیسٹ کیس نہیں بنایا جا سکتا، یہ مقصد حاصل کرنے کیلئے اس کیس کو بہر صورت منطقی انجام تک پہنچانا ہو گا۔ یہی وہ اعصابی جنگ ہے جس میں جو فریق جیت گیا وہ اپنے مقاصد پا لے گا۔ میں نے اسی تناظر میں اپنے ایک گذشتہ کالم میں تجویز پیش کی تھی کہ مشرف غداری کیس پر چائے کے کپ میں اُٹھائے جانے والے طوفان کو روکنے کے لئے اس کی میڈیا پر تشہیر کا سلسلہ روک دیا جائے۔ میں نے یہی تجویز دور روز قبل پنجاب جوڈیشل اکیڈمی میں پریس کونسل آف پاکستان کے زیر اہتمام ’’کورٹ رپورٹنگ اور انصاف کی عملداری کے تقاضے‘‘ کے موضوع پر منعقدہ سیمینار میں اپنی تقریر کے دوران پیش کی۔ بلاشبہ ہم عدلیہ کی آزادی کے بھی داعی ہیں اور آزادیٔ صحافت کا پرچم بلند رکھنا بھی ہماری ذمہ داری ہے میری پیش کردہ تجویز پر عملدرآمد کو ممکن ہے عدلیہ کی آزادی اور آزادیٔ صحافت پر قدغن لگانے کے مترادف سمجھا جائے مگر ہم نے فی الواقع اس معاشرے کو آئین و قانون کی حکمرانی اور انصاف کی عملداری کے تابع کرنا ہے تو پھر ہمیں مشرف غداری کیس کو فیصلے کی نوبت تک لانا ہو گا جس کے لئے ضروری ہے کہ اس کیس کی سماعت کے تمام مراحل طے ہونے کا ماحول بنایا جائے۔ مجھے خدشہ یہی لاحق ہے کہ اگر پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر اس کیس کے ہر دو فریقین کے وکلاء کو اپنی من مرضی کا مؤقف پیش کرنے، عدالت کے اندر اور باہر طوفانِ بدتمیزی کھڑا کرنے اور اس کیس کے فیصلے سے پہلے ہی اپنی مرضی کے فیصلے سُنانے کا شُتر بے مہار موقع ملتا رہا تو پھر اور تو سب کچھ ہو جائے گا اس کیس کے فیصلے کی شاید کبھی نوبت نہیں آ پائے گی، یہی مشرف کے وکلاء اور ان کے حامیوں کی حکمتِ عملی ہے اور میڈیا اپنی ریٹنگ کے چکر میں اپنی ساکھ کی بھی پرواہ نہ کرتے ہوئے یہ مخصوص مقاصد پورے کرنے میں مشرف ٹیم کا معاون بن رہا ہے۔ اس لئے کیوں نہ وقتی طور پر وسیع تر ملکی اور قومی مفاد کی خاطر پریس اور میڈیا کی آزادی کی قربانی دے کر اس کیس کے تمام فریقین کے وکلاء کی عدالت کے اندر اور باہر کی ہنگامہ آرائی کی کوریج بند کر دی جائے اور ٹی وی ٹاک شوز میں بھی اس کیس کی سماعت مکمل ہونے تک اس کیس کی پیروی کرنے والے وکلاء کو مدعو کرنے کا سلسلہ روک دیا جائے بلکہ زیادہ بہتر یہ ہو گا مشرف غداری کیس کا فیصلہ صادر ہونے تک اس موضوع پر کوئی ٹاک شو رکھا ہی نہ جائے۔ اسی طرح میں نے بھٹو قتل کیس کا حوالہ  دیتے ہوئے یہ تجویز بھی پیش کی کہ بہترین قومی مفاد میں اس کیس کی سماعت بند کمرے میں کر لی جائے اور فریقین کے وکلاء کو اس کیس کی سماعت کے حوالے سے میڈیا کو یا کسی دوسرے فورم پر آئوٹ آف کورٹ بریفنگ دینے سے عدالتی حکم کے تحت روک دیا جائے، یقیناً ان اقدامات سے عدلیہ کی آزادی اور آزادیٔ صحافت پر وقتی طور پر زد پڑے گی مگر اس سے متعلقہ خصوصی عدالت پورے اطمینان کے ساتھ اس کیس کی سماعت مکمل اور کیس کے میرٹ کے مطابق، آئین و قانون کے تقاضوں اور اپنے ضمیر کی روشنی میں فیصلہ صادر کر پائے گی ورنہ کل کو پھر یا بار بار مشرف ٹیم کی جانب سے عدالت کے اندر ایسا ماحول بنایا جا سکتا ہے کہ بنچ کے فاضل ارکان کیس کی سماعت چھوڑ کر اپنے چیمبر میں جانے پر مجبور ہوتے رہیں اور معاملہ طول اختیار کرتے کرتے اتنا اُلجھ جائے کہ اس سے ماورائے آئین اقدام کی نیت رکھنے والوں کے لئے اپنے مقاصد کی تکمیل کا موقع نکل آئے۔ میری ان تجاویز پر جہاں سی پی این ای کے صدر محترم مجیب الرحمان شامی نے آزادیٔ صحافت کے تقاضوں کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا وہیں چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ محترم جسٹس عمر عطاء بندیال نے میرے الفاظ کو پکڑ کر یہ باور کرا دیا کہ مشرف غداری کیس پر ہونے والی پیشرفت نے ملک میں قانون کی بالادستی کو ثابت کر دیا ہے۔ مجھے فاضل چیف چسٹس کی اس بات سے سو فیصد اتفاق ہے کہ اچھے عدالتی فیصلوں سے جہاں غلطی کرنے والوں کو سزا ملتی ہے وہیں معاشرے کے دوسرے افراد ایسی غلطی کرنے سے رُک جاتے ہیں۔

میں بھی تو اسی تناظر میں مشرف غداری کیس کو ہر صورت فیصلے تک پہنچتا دیکھنا چاہتا ہوں مگر مشرف ٹیم کی کوشش ہے کہ چاہے جیسے بھی ہو اس کیس کے فیصلے کی نوبت نہ آنے دی جائے کیونکہ انہیں بھی پورا یقین ہے کہ میرٹ پر اس کیس کی سماعت ہوئی تو وہ اپنے مؤکل مشرف کو غداری کے جرم کی سزا سے کبھی نہیں بچا پائیں گے۔ پھر جناب! اس کیس کو ٹیسٹ کیس کیوں نہیں بننا چاہئے تاکہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سوچ کے عین مطابق اس کیس میں جہاں آئین سے غداری کے مرتکب یا مرتکبین کو قانون کے مطابق سزا ملے وہیں  آئندہ کے لئے ایسی سوچ کو اپنے ذہنوں میں پروان چڑھانے والوں کو بھی کان ہو جائیں کہ کل کو انہیں بھی اسی سزا کا سامنا کرنا ہو گا۔ ہم نے مہذب معاشرے والی اقدار بنانی ہیں اور ماضی کی جرنیلی آمریتوں کا پیدا کردہ بگاڑ درست کرنا ہے تو ہمیں آئین و قانون کی حکمرانی اور انصاف کی عملداری کو غالب کرنا ہو گا مگر جن طبقات کے مفادات ماورائے آئین اقدام والوں کے ساتھ وابستہ ہیں ان کی ہرممکن کوشش ہے کہ ’’سٹیٹس کو‘‘ ٹوٹنے نہ دیا جائے، انصاف کی عملداری والا انقلاب برپا نہ ہونے دیا جائے اور گرد اتنی اُڑائی جائے کہ کوئی دامن پاک اور کوئی چہرہ صاف نظر نہ آئے۔

پریس کونسل آف پاکستان کے چیئرمین راجہ شفقت عباسی نے اس ماحول میں ’’کورٹ رپورٹنگ اور انصاف کی عملداری کے تقاضے‘‘ کے موضوع پر سیمینار منعقد کر کے اس حوالے سے درست وقت کا انتخاب کیا کہ اگر اس سیمینار کے ذریعے انصاف کی عملداری کے لئے میڈیا کی ذمہ داری کا احساس کر لیا جائے اور کوئی کوڈ آ ف کنڈکٹ طے کر لیا جائے تو اس سے قومی مقاصد اور معاشرتی اقدار کو تہس نہس کرنے والی میڈیا کی شُتر بے مہار آزادی پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ اس سلسلہ میں راجہ شفقت عباسی نے پریس کونسل کی جانب سے جو 21 نکاتی چارٹر تیار کیا ہے وہ بلاتاخیر شعبۂ صحافت کے تمام متعلقہ فورموں کو بھجوا کر اس پر ان کی رائے لے لی جائے اور اس کے قابل عمل نکات کو فوری طور پر عملی جامہ پہنانا شروع کر دیا جائے۔ جناب مجیب الرحمن شامی کی اس تجویز کو میں خود بھی قابل عمل نہیں سمجھتا اور چیف جسٹس صاحب لاہور ہائیکورٹ نے بھی اس کی پذیرائی نہیں کی کہ اس بات کا عدالت ہی تعین کرے کہ میڈیا کے کس ادارے کا کون سا رکن عدالتی رپورٹنگ کا اہل ہے البتہ میری اپنی یہ رائے ہے کہ عدالتی کوریج کے لئے مامور کئے جانے والے میڈیا کے ارکان کو کم از کم لا گریجویٹ ضرور ہونا چاہئے۔ اس معاملہ کے تعین کے لئے چونکہ ہمارے اپنے فورم اے پی این ایس، سی پی این ای اور پی ایف یو جے کی شکل میں موجود ہیں اور اب پریس کونسل آف پاکستان کا فعال کردار بھی سامنے آ رہا ہے اس لئے ہم بجائے اس کے کہ میڈیا کے کسی رکن کی اہلیت کا معاملہ عدلیہ پر چھوڑیں ہمیں خود اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو ریگولیٹ کرنا چاہئے اور اپنی خود مختاری کو کسی کا دستِ نگر نہیں بنانا چاہئے۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com