” اس پہ ٹوٹی ہوئی افتاد تو ٹالی جائے“
Apr 10, 2014

 پاﺅں جمتے ہیں نہ دستار سنبھالی جائے
 اب تو بس عزتِ سادات بچالی جائے
 حبس ایسا ہے کہ دم گھُٹتا نظر آتا ہے
 کرکے تدبیر کوئی، تازہ ہوَا لی جائے
 کچھ تو اسباب ہیں اس بے سروسامانی کے
 اپنے احباب کی تاریخ کھنگالی جائے
 اب دعاﺅں میں بھی تاثیر نہیں ہے شائد
 کیسے بگڑی ہوئی تقدیر بنالی جائے
 ویسے تو دُکھ ہیں کہ بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں
 پھر بھی یہ عدل کی زنجیر ہلالی جائے
 جس کے ثمرات تصّور میں بسے رہتے ہیں
 اُس پہ ٹوٹی ہُوئی افتاد تو ٹالی جائے
 بھوک بڑھنا ہی بغاوت کا سبب ہے آسی
 یہ روائت میری سرکار نہ ڈالی جائے
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com