کھونٹے سے بندھی بے چارگی
Apr 08, 2014

ترقی پذیر ممالک میں شائد ہم وہ واحد ملک ہیں جہاں ہر برائی کی تقلید ہی نہیں، پذیرائی بھی کی جاتی ہے۔ پذیرائی بھی اوپر کی سطح سے شروع ہوتی ہے اور عوام الناس تک پہنچتے پہنچتے فیشن بن چکی ہوتی ہے۔ میں اس بحث میں ہرگز نہیں پڑنا چاہتا کہ پاکستان کا قیام جن حالات میں ہوا اور جس مقصد کے تحت عمل میں آیا تھا، وہ مقصد پورا ہوا یا غارت ہوا۔ وہ حالات بدلے یا مزید خراب ہوئے۔ یہ بحث ان دنوں پاکستان کی حقانیت کو جھٹلانے کے ایک مخصوص ایجنڈے کے تحت بانیان پاکستان قائداعظم اور علامہ اقبال کی ذات، کردار اور ان کے نظریات کو متنازعہ بنانے کے لئے بڑے شد و مد کے ساتھ جاری ہے مگر پاکستان کا وہ نقشہ نہیں بن سکا جو بانیان پاکستان کے ذہنوں میں موجود تھا تو اس میںبانیان پاکستان کا تو کوئی قصور نہیں۔ پھر کیا پاکستان میں موجود خرابیوں کی محض اس لئے نشاندہی نہ کی جائے کہ اس سے قیام پاکستان کے مقاصد پر زد پڑتی ہے۔ ان خرابیوں کی نشاندہی کا مقصد تعمیری اور اصلاحی بھی تو ہو سکتا ہے۔ جبکہ اس نشاندہی پر قیام پاکستان کے مقاصد پر حرف آنے کا پراپیگنڈہ کرنے والے درحقیقت وہی لوگ ہیں جو ان خرابیوں کا باعث بھی ہیں اور ان خرابیوں سے فائدہ بھی اٹھائے رکھنا چاہتے ہیں۔ شاعر مشرق علامہ اقبال نے اگر برصغیر کے مسلمانوں کو انگریز اور ہندو کے استحصال، غلامی، ان کے ساہوکارانہ نظام اور اقتصادی بدحالی سے نجات دلانے کے لئے ایک الگ خطہ ارضی کا تصور پیش کیا تھا جو انہوں نے اپنے خطبہ¿ الٰہ آباد میں اجاگر کیا اور آج اہل پاکستان (عوام الناس) اس سے بھی برے استحصال، اقتصادی بدحالی اور کسمپرسی میں مبتلا ہو کر ایڑیاں رگڑتے زندگی بسر کر رہے ہیں تو اس سے یہ نتیجہ کیسے اخذ کر لیا جائے کہ اقبال کا استحصال زدہ مسلمانوں کے لئے الگ خطہ ارضی کا تصور ہی غلط تھا۔ بانی¿ پاکستان قائداعظم نے بھی تو اقبال کے تصور کی روشنی میں ہی ہندوستان کے مسلمانوں کی محرومیوں، جکڑ بندیوں اور اقتصادی بدحالی کا ادراک کرکے اور پھر سب سے زیادہ یہ محسوس کرکے کہ ہندو غلبے والے معاشرے میں مسلمان آزادی کے ساتھ کبھی اپنا مذہبی فریضہ بھی ادا نہیں کر پائیں گے، تحریک پاکستان کا آغاز کیا اور سات سال کے قلیل عرصہ میں اسے کامیابی سے ہمکنار کیا۔ اگر آج پاکستان میں اہل وطن بانیان پاکستان کی خواہشات، تصورات اور فلسفہ کے مطابق خوشی، خوشحالی اور مذہبی آزادی کی منزل سے ہمکنار نہیں ہو سکے تو بانیان پاکستان کے فلسفہ اور تصور کو کیونکر باطل قرار دیا جائے۔ یہ سب ڈھکوسلے اور لچھن انہی خود ساختہ زورآور استحصالی طبقات کے ہیں جو قیام پاکستان کے بعد اس کے وسائل سے سب سے زیادہ مستفید ہوئے اور اب بھی اپنی پیدا کردہ خرابیوں کی نشاندہی پر قیام پاکستان کے مقاصد کو زد پڑنے کے ڈراوے دے کر اپنا لُچ تلے رکھنا چاہتے ہیں۔ ہاں بعض دل جلے ضرور اس الجھن میں پڑتے ہیں کہ اگر یہی درماندگی، یہی محرومی، یہی پژمردگی، یہی مایوسی، یہی غلامی اور اسی طرح کیڑے مکوڑوں کی طرح زندگی بسر کرنا ہی ہم عوام کا مقدر تھا تو پھر ہمیں اپنے لئے ایک الگ خطہ ارضی حاصل کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ ان کی اس الجھن کا باعث بھی وہی مفاد پرست استحصالی طبقات ہیں جو اس وطن عزیز سے دنیا جہان کے فائدے سمیٹنے کے باوجود اس کی حقانیت کو متنازعہ بنانے کے ایجنڈے پر کاربند ہیں اور یہ ایجنڈہ بھی انہوں نے اپنے مستقبل کے مفادات کو پیش نظر رکھ کر وضع کیا ہے۔ جبکہ ہماری الجھن یہ ہے کہ ہم اس ارض وطن کے محروم و مقہور طبقات کی محرومیوں کی نشاندہی کرنے سے محض اس دھڑکے پر رک جاتے ہیں کہ اس سے کہیں پاکستان کی حقانیت کو جھٹلانے کا ایجنڈہ رکھنے والوں کے مقاصد پورے نہ ہو جائیں۔

اگر ایسی ہی فضا بنی رہی تو نام نہاد اشرافیہ زورآور طبقات کے ہاتھوں پسے، کچلے جانے والے انسانوں کے مقدرات میں زبردستی ڈالے گئے دکھوں کا مداوا کیسے ہو پائے گا؟ سو کتھارسس ہونا چاہئے۔ ڈائیلاگ کا راستہ بہرصورت نکلنا چاہئے۔ بات شروع کی اور آگے بڑھائی جانی چاہئے ورنہ تو دلوں کا حبس بڑھتے بڑھتے ہی جان لیوا ہو جائے گا۔ ہم پر قبرستان کی خاموشی طاری ہو گی تو ہمارے معاشرے کے زندہ ہونے کی دلیل کہاں سے آئے گی۔ پھر تو جن کا ایجنڈہ اس وطن عزیز کی حقانیت کو جھٹلا کر اس کی سالمیت کو تہ و بالا کرنے کا ہے، وہی کامیاب ٹھہریں گے۔ احسان دانش نے شائد اس کیفیت کی ہی یہ کہہ کر عکاسی کی تھی کہ

تکمیل ضروری ہے، اِدھر ہو کہ اُدھر ہو
ناکردہ گناہی بھی گناہوں میں چلی آئے

سو آج بے شک معتوب اور گنہگار ٹھہرئیے مگر اس دھرتی کو لگے روگ اور یہ روگ لگانے والوں کی ضرور نشاندہی کرتے رہئے۔ ابلاغ ہو گا تو اختلافی باتوں سے بھی اصلاح کا کوئی راستہ نکل آئے گا۔ ضیاءآمریت میں نجم حسین سید کی ایک دو حرفی پنجابی نظم بہت مقبول ہوئی تھی کہ ”لِکھ، کہ فیر ایہہ وی نہئیوں لِکھ ہونا“ ہمارے آج کے حالات بھی اس فلسفے کو آگے بڑھانے کے متقاضی ہیں بس اپنے حصے کی شمع جلاتے جائیے۔ منجمد اندھیروں میں سے کہیں نہ کہیں روشنی کی کرن ضرور پھوٹ پڑے گی۔

گزشتہ ہفتے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مسٹس جسٹس عمر عطا بندیال سے خیر سگالی کی ملاقات کے موقع پر حالات حاضرہ پر گفتگو کے دوران معاشرتی برائیوں کے پھیلاﺅ کے اسباب کا تذکرہ ہوا تو چیف جسٹس صاحب نے بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف اپنی ہی عدالت میں زیر سماعت ایک کیس کا حوالہ دیا جس سے عوامی مسائل حل کرنے کے معاملہ میں حکومتی اور ادارہ جاتی بے حسی اور بالخصوص عوامی مسائل کو حل نہ کرنے کے اسباب کا بھی بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ فاضل چیف جسٹس کا یہی تجسس تھا اس وقت عوام کو دن میں بارہ، چودہ گھنٹے بجلی کی لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے تو موسم گرما میں تو ائرکنڈیشنڈ چلنے سے بجلی کی کھپت مزید بڑھے گی جس سے جنریٹر اور یو پی ایس کی سہولت سے مستفید نہ ہونے والے عوام کو بجلی کی لوڈشیڈنگ کی مزید اذیت اٹھانا پڑے گی۔ پھر حکومت اور واپڈا حکام عوام کو اس اذیت سے بچانے کی کیا تدبیر کر رہے ہیں؟ عدالت کے روبرو حکومت اور واپڈا کی نمائندگی کرنے والوں میں سے کسی کے پاس اس کا جواب نہیں تھا جس پر فاضل چیف جسٹس نے خود تجویز پیش کی کہ آپ بجلی کے سارے تھری فیز میٹر بند کر دیں اور ان کی جگہ سنگل فیز میٹر لگا دئیے جائیں۔ اس طرح ائرکنڈیشنوں کا استعمال ہی بند ہو جائے گا جس سے عوام کو کم از کم اضافی لوڈشیڈنگ سے تو نجات مل جائے گی۔ مگر اس فارمولے پر عمل کس نے کرنا ہے؟ اقتدار کے ایوانوں کی راہداریوں تک میں براجمان جن خود ساختہ اشرافیہ طبقات کی جبین نیاز کا پسینہ صرف ائرکنڈیشنڈ کی ٹھنڈی ہوا کے جھونکے سے ہی خشک ہوتا ہے وہ ٹھنڈی ہوا کے اس جھونکے کا رخ اپنی جانب کئے رکھنے کے اختیار کے باوجود اس سے دستکش ہو جائیں؟ توبہ توبہ خدا خدا کیجئے۔ یہی تو وہ کلچر ہے جو اہل وطن (عوام الناس) کے مسائل کے حل کی راہ پر نہیں آنے دیتا اور پھر ان مسائل کے تذکرے کا ناطہ قیام پاکستان کے مقاصد کو زد پہنچانے کے اپنے ہی ساختہ ایجنڈے کے ساتھ جوڑ کر تنقیدی زبانیں بند کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ پھر کیا اسی زہر کو تریاق سمجھ کر پیتے جائیں اور بس خاموش رہیں؟ نہیں جناب! اپنی محرومیوں، ناکامیوں کا حساب کتاب کرنا ہے تو آپ کو بولنا ہو گا۔ بے شک آسمان سر پر نہ اٹھائیے مگر ابلاغ کا راستہ ضرور کھول دیجئے، ورنہ کھونٹے سے بندھا جانور طاقت رکھنے کے باوجود اپنے لئے چارے کے ازخود حصول کا چارہ نہیں کر پاتا، بے چارگی کو زبان دیں، چارہ جوئی کا راستہ بھی ضرور نکل آئے گا۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com