بم کو لات مارنے والی سازشی تھیوری
Apr 04, 2014

کہتے ہیں خواجہ سعد رفیق نے بم کو لات مار دی ہے، شاید ان کی گذشتہ روز کی میڈیا بریفنگ بھی کسی سازشی تھیوری کا حصہ ہے۔ جتنے منہ اتنی باتیں اور باتوں کے بتنگڑ۔ بھئی یہ سازشی تھیوریاں کہاں سے آتی ہیں، کس کے ذہن رسا کی اختراع ہوتی ہیں اور کس کے مقصد کی تکمیل کیلئے گھڑی جاتی ہیں۔ یہ گتھی سلجھ جائے تو ہمارے سارے بگاڑ میں سلجھائو نہ آ جائے؟ مگر نہیں، اب ساری سازشی تھیوریوں کو موقع پر ہی مات ہو رہی ہے۔ چائے کے کپ پر اٹھایا جانے والا طوفان، موقع پر ہی جھاگ کی طرح بیٹھتا نظر آتا ہے اور جو بھی ہوّا کھڑا کیا جاتا ہے اس کے زمین پر پائوں ہی موجود نہیں ہوتے اس لئے اب سارا حساب کتاب ساتھ ساتھ ہی ہو رہا ہے تو جناب! خاطر جمع رکھئے۔ خواجہ سعد رفیق کی گذشتہ روز کی باتوں کا ناطہ کسی نئی سازشی تھیوری کے ساتھ جوڑ کر بھی آپ کو مایوسی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو گا اور انہوں نے جو کہا، کیا وہ نہیں ہُوا؟ حکمران مسلم لیگ (ن) کے مشاورتی اجلاس میں تو مشرف کو بیرون ملک جانے کی اجازت نہ دینے کے بارے میں سب یکسو تھے اگر کوئی دوسری رائے تھی تو صرف یہ کہ مشرف اپنے سارے کئے کرائے کی اسی طرح ٹی وی پر آ کر قوم سے معافی مانگ لیں جیسے انہوں نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے معافی منگوائی تھی تو پھر ان کے لئے گنجائش نکل سکتی ہے۔ خواجہ سعد رفیق نے ہمت کی اور ذرا تلخ لہجے میں مشرف کے حوالے سے سارے حقائق کھول دئیے۔ اس سے پہلے وزیر دفاع خواجہ آصف بھی نپے تُلے الفاظ میں یہی کچھ کہہ چکے تھے جس کی وفاقی وزارتِ داخلہ نے بیرون ملک جانے کی اجازت سے متعلق مشرف کی درخواست مسترد کر کے توثیق کی ہے، تو کیا سب کے سب بم کو لات مارنے پر تُلے بیٹھے ہیں؟ ارے بھئی، بات تو اس سے بھی آگے نکل رہی ہے۔ حکومتی پارٹی ہی کیا اب تو پیپلز پارٹی، تحریک انصاف، اے این پی، جماعت اسلامی سبھی کے سبھی ایک پلڑے میں آ گئے ہیں، سب مشرف کے خلاف غداری کیس کو منطقی انجام تک پہنچتا دیکھنا چاہتے ہیں اور اس مقصد کے لئے مشرف کو ملک سے باہر نہ جانے دینے کے حکومتی فیصلہ کے بھی ساتھ کھڑے ہو گئے ہیں۔ گویا

تمام شہر ہے، دو چار دس کی بات نہیں

بم کو لات مارنے والے اتنے ڈھیر سارے سامنے آ جائیں تو بم بے چارہ تو ناکارہ ہی ہو کر رہ جائے گا، اس لئے بھائی صاحب اب ساری سازشی تھیوریوں کو اپنی پوٹلی میں ہی دبائے رکھئے اب ان کے باہر سڑاند چھوڑنے کا دور شاید لد گیا ہے، سو اب کچھ نہیں ہونے والا۔ آپ بے شک سیاستدانوں اور عدلیہ کے ماضی کے کردار کے حوالے دیتے رہیں، بے شک ان حوالوں کی بنیاد پر موجودگان کے کمزور ہونے کے فتوے بھی ازخود جاری کرتے رہیں، بے شک کسی ’’ہوّا‘‘ کو بھڑکاتے، غصہ دلاتے رہیں،  ساری  سازشی تھیوریوں کا معاملہ اب  ایسا ہی  بنتا نظر آ رہا ہے کہ

اُلٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا
دیکھا اس بیماریٔ دل نے آخر کام تمام کیا

بھئی یہ معاملہ آج کا تو ہے نہیں۔ عدلیہ بحالی تحریک کی کامیابی کے بعد سپریم کورٹ کی فل کورٹ نے جہاں مشرف کے 3 نومبر 2007ء کے پی سی او اور ایمرجنسی کے ذریعے عدلیہ پر کئے گئے ’’ٹوکہ وار‘‘ کو اس کے نفاذ کے وقت سے ہی باطل قرار دیا تھا وہیں انہیں آئین کو سبوتاژ کرنے کا مرتکب ٹھہرا کر ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کی ہدایت بھی کر دی تھی، سو ان کا نام آج  کے دور سے  نہیں، سابقہ حکمرانوں کے عہد دلپذیر سے ہی ای سی ایل میں شامل ہے، بے شک انہوں نے ہی اس جرنیلی آمر کو پروٹوکول دے کر ملک سے باہر جانے کا موقع فراہم کیا تھا مگر اب تو وہ بھی اس معاملہ میں یکسو ہیں کہ’’بلاّ‘‘ قابو آ گیا ہے تو اب اسے باہر کیوں جانے دیا جائے۔ اسی طرح آپ عمران خان کو بھی بے شک مطعون کرتے رہیں کہ آپ نے تو مشرف کے ریفرنڈم کا ساتھ دیا تھا، وہ بھی اب قانون، آئین اور انصاف کی عملداری پرمبنی  سسٹم کے خلاف کسی سازشی تھیوری کا حصہ بننے کو تیار نہیں۔ جماعت اسلامی کی نئی قیادت بھی جماعت اسلامی کے ضیاء حمایت والے ماضی کے کسی کردار کے برعکس اب ’’ست سری اکال، جو بولے سو نہال‘‘ والے فلسفہ پر کاربند نہیں رہ سکتی کہ وہ عمرانی سیاست کے ہم قدم ہے، اسی لئے تو لیاقت بلوچ نے بھی لگے ہاتھوں مشرف کو یہ باور کرانا ضروری سمجھا ہے کہ اب ان کا اکڑ پن دور ہو گیا ہے۔ تو پھر آپ ہائیکورٹ جائیں، سپریم کورٹ جائیں یا بیرون ملک جانے والی دادرسی کے لئے حکومتی ایوانوں کی دیواروں کے ساتھ ٹکریں ماریں، آپ کو فٹ بال بنا کر ایک دوسرے کی جانب پھینکا جاتا رہے گا۔ اگر یہ عمل بم کو لات مارنے والا ہے تو اب اس میں بم کی ہی کمبختی آئے گی کیونکہ اب

حالات میکدے کے کروٹ بدل رہے ہیں
ساقی بہک رہا ہے، مے کش سنبھل رہے ہیں

اب خدارا سسٹم کو سنبھلنے دیجئے، آخر کہیں پر تو فُل سٹاپ لگنا ہے۔ کہیں پر تو بریک لگائی جانی ہے، شُتر بے مہار چلتے جائو گے تو صرف سسٹم ہی نہیں ،اس ارضِ وطن کا سب کچھ لے ڈوبو گے۔ اگر آپ کی یہی منشا ہے تو جناب اب یہ منشا پوری نہیں ہونے والی۔ آپ کو مشرف غداری کیس  میں ہونے والی پیش رفت سے اپنے سارے عزائم کا جواب مل جائے گا۔ اس کیس کی ابتدا کہاں سے ہونی چاہئے تھی ۔آپ لسّی میں پانی ڈالتے رہیں آپ کے ہاتھ اب کچھ نہیں آنے والا، بس شروعات ہونے کی ہی تو دیر تھی سو ہو گئی۔ بات چل نکلی ہے، اب دیکھیں کہاں تک پہنچے، مگر آپ خاطر جمع رکھے، اس کہاں تک پہنچنے والی کہانی میں اس بم کا کوئی کردار نہیں ہے جسے لات مارنے پر آپ اتھل پتھل کے ڈراوے دئیے چلے جا رہے ہیں۔ یہ ساری ’’قیامت‘‘ اب اُسی پر آئے گی جس کے لئے اس کا اہتمام ہُوا ہے۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com