آج کا دن اور ’’اس کے بعد آئے جو عذاب آئے‘‘
Mar 31, 2014

ہمارے سیاسی پنڈت شیخ رشید تو پیشین گوئی کر چکے ہیں کہ ان کے ممدوح مشرف غداری کیس میں فردِ جرم عائد کرانے کے لئے 31 مارچ کو خود ہی عدالت میں پیش ہو جائیں گے مگر صورتِ احوال واقعی کچھ اور ہی نظر آ رہی ہے۔ شیخ رشید احمد کو تو اپنے تازہ مؤقف کے ’’نزول‘‘ تک یہ خوش فہمی بھی لاحق رہی ہے کہ کسی میں مجال نہیں جو مشرف کا بال بھی بیکا کر سکے، اسی خوش فہمی کی بنیاد پر وہ بھی مخدوم جاوید ہاشمی کی طرح مشرف کے کسی اُڑن کھٹولے پر سوار ہو کر اُڑنچھو ہونے کے داعی رہے مگر ایسی خوش فہمیوں پر مبنی سارے قیافے اب تک اُڑنچھو ہوتے رہے ہیں، اب کسی نئی ’’کانسپیریسی تھیوری‘‘ کی بنیاد پر والیٔ لال حویلی کو مشرف کا خود ہی عدالت میں پیش ہونا نظر آ رہا ہے تو یہ ان کے کسی گمان کا معاملہ ہے جبکہ میرا گمان جہاں غداری کیس میں مشرف کے سزا پانے کے معاملہ میں آج بھی پختہ ہے وہیں میرا یہ گمان بھی خاصہ مضبوط ہے کہ اس سزا سے بچنے کے لئے مشرف، ان کے وکلا اور دوسرے ساتھیوں (مجھے ان کے مخلص حامیوں کے حوالے سے ہمیشہ شبہ رہا ہے) کی جانب سے عدالت کو رگیدنے اور خود کو ہوّا بنائے رکھنے کی آخری حد تک کوشش جاری رکھی جائے گی تاکہ غداری کیس کی سماعت کی نوبت ہی نہ آنے دی جائے۔

مشرف ٹیم کی یہ حکمتِ عملی اب جارحانہ طرزِ عمل اختیار کر چکی ہے جس سے زچ ہو کر گذشتہ تاریخ سماعت پر خصوصی عدالت کے سربراہ جسٹس فیصل عرب اور ان کے پیچھے پیچھے دوسرے فاضل ججوں کو کمرۂ عدالت چھوڑ کر جانا پڑا۔ مشرف ٹیم نے اس صورتحال کو عدالت (انصاف) کی پسپائی اور اپنی لٹھ مار پالیسی کی کامیابی سے تعبیر کرتے ہوئے ٹی وی چینلوں کے کیمروں کے سامنے اودھم مچانا شروع کر دیا، یقیناً اس پیدا کی گئی جذباتی صورتحال میں میڈیا کے متعلقہ لوگوں نے بھی اپنے فرائض کی ذمہ دارانہ ادائیگی کے تقاضوں کو تج کر محض مشرف ٹیم کے قیافوں پر صاد کیا اور مشرف کے خلاف غداری کیس کی سماعت کرنے والے بینچ کے نہ صرف ٹوٹنے کی خبریں چلا دیں بلکہ اس پر قانون دانوں کے ردعمل کو بھی اپنی بریکنگ نیوز کا حصہ بنا لیا جبکہ اصل حقیقت یہ کھلی کہ جسٹس فیصل عرب بینچ سے الگ نہیں ہوئے بلکہ انہوں نے مشرف کے وکلا کے جارحانہ رویے سے زچ ہو کر اس ایک دن کی کارروائی سے خود کو الگ کیا تھا۔ اتنے حساس معاملے پر میڈیا کی جانب سے یقیناً ایسی غیر ذمہ داری کی توقع نہیں کی جا سکتی، یہ ’’بلنڈر‘‘ ریٹنگ اور ایک دوسرے سے آگے نکلنے کے چکر میں ہُوا تو اب کم از کم اس کیس کے حوالے سے میڈیا کو ضرور اپنی بھیڑ چال کو احتیاط کے دائرے میں لانا ہو گا کیونکہ آنے والے دنوں میں مشرف ٹیم کی جانب سے ایسی گرد اُڑائی جانی ہے کہ اس میں سب کچھ گدلا نظر آئے گا۔

آج کا دن اس حوالے سے اہم ترین ہے کہ خصوصی عدالت کی جانب سے فردِ جرم عائد کرنے کیلئے مشرف کی پیشی کو یقینی بنانے کی خاطر ان کے جاری کئے گئے وارنٹ گرفتاری کی بنیاد پر مقامی انتظامیہ نے ایک ایس پی کی سربراہی میں خصوصی ٹیم تشکیل دے دی ہے جو مشرف کو آج 31 مارچ کو جی ایچ کیو کے کارڈیالوجی یونٹ میں جا کر انہیں اپنے ہمراہ لائے گی، اگر وہ خود ہی عدالت میںآنے پر آمادہ ہو گئے جیسا کہ شیخ رشید کا گمان ہے تو پھر خصوصی پولیس ٹیم انہیں سلیوٹ مارتی ان کے ساتھ چلتی نظر آئے گی اور اگر انہوں نے رضا کارانہ طور پر آنے سے انکار کیا جس کا مجھے گمان ہے تو پھر خصوصی پولیس ٹیم کا امتحان ہو گا کہ وہ انہیں ہتھکڑی پہنا پاتی ہے اور زیر حراست لے کر زبردستی انہیں لا پاتی ہے یا نہیں، یہی آج کا بڑا تجسّس اور سوال ہے جو زبانِ زد عام ہے۔ مشرف صاحب کی ضعیف العمر والدہ جو پہلے ہی کافی عرصہ سے علیل ہیں اور دبئی کے ہسپتال میں زیر علاج ہیں کی حالت خراب ہونے کی خبر گزشتہ روز ’’ٹاک آف دی ٹائون‘‘ بنی رہی۔ قائد تحریک الطاف حسین نے عوام سے ان کی صحت یابی کے لئے خصوصی دعا کی اپیل کی ہے۔ قوم تو بلاشبہ ان کی صحت یابی کے لئے دعا گو ہے مگر جو لوگ اس ضعیف العمر خاتون کو مشرف کیس کے حوالے سے اپنی محاذ آرائی والی سیاست میں استعمال کرنا چاہتے ہیں، خدا ان کے حال پر بھی رحم کرے۔ بے شک مشرف کی والدہ کی علالت کی خبروں کا ناطہ مشرف کی آج بھی عدالت میں عدم پیشی کی حکمتِ عملی سے جوڑا جا رہا ہے کے بارے میں مگر اس وقت میری تشویش اس سوچ  کے بارے میں ہے جو خود کے قانون و آئین اور انصاف کی عملداری سے بالاتر ہونے کے حوالے سے پروان چڑھائی اور پھیلائی جا رہی ہے۔ یہ ہر اس دردمند پاکستانی کی تشویش ہے جسے سسٹم کے پٹڑی پر چڑھنے اور قانون و آئین کی حکمرانی قائم ہونے کی تمنا ہے۔ جب یہ محسوس کیا جاتا ہے کہ مشرف عارضۂ قلب میں صحت یاب ہو کر بھی مقتدر سکیورٹی فورسز کے ہیڈ کوارٹر میں موجود کارڈیالوجی یونٹ میں ’’بغرضِ علاج‘‘ گذشتہ دو ماہ سے موجود ہیں جنہیں وہاں سے نکالنے یا لانے کی کسی دوسرے حکومتی، ریاستی ادارے اور انتظامی مشینری کو جرأت نہیں ہو پا رہی تو کیا یہ تصور کسی دوسرے ریاستی ادارے کے خود کو ملکی آئین و قانون سے بالاتر تسلیم کرانے کے فعل کی عکاسی نہیں کر رہا؟ اس حوالے سے پھر قیاس آرائیاں تو ہوں گی کہ کیا یہ سب کچھ موجودہ سپہ سالار کی رضامندی سے ہو رہا ہے۔ اگر بادی النظر میں یہ تصور درست ہونے کا کوئی شائبہ بھی موجود ہے تو پھر سپہ سالار کے لئے وزیراعظم نواز شریف کے حُسنِ انتخاب کے سوال بھی ماضی کے تجربات کی بنیاد پر اُٹھنا فطری امر ہو گا۔ یہی تو وہ تصور ہے جس کی بنیاد پر مشرف کے کسی اُڑن کھٹولے کے ذریعے اُڑنچھو ہونے کے قیافے لگتے رہے ہیں، تو پھر کیا ماضی کے سارے بگاڑ کو درست کرنے اور ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی کو تسلیم کرانے کی خاطر ان سارے قیافوں کو باطل ثابت کرنا ضروری نہیں ہو گیا؟ اس کے لئے مشرف غداری کیس سے بڑا کوئی اور تو ٹیسٹ کیس نہیں ہو سکتا۔ اور میرا گمان اس حوالے سے ہی مشرف کو اس ٹیسٹ کیس میں منطقی انجام تک پہنچاتا نظر آ رہا ہے۔ اگر آج بھی یہی تصور راسخ ہونا ہے کہ حکمرانوں کی کیا مجال کہ مشرف کا بال بھی بیکا کریں اور ججوں کی کہاں اتنی ہمت کہ وہ انہیں ہتھکڑی ڈلوا کر انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرائیں اور غداری کے جرم کی متعینہ سزا سنائیں۔ اگر آج بھی اسی سوچ نے غلبہ پانا ہے کہ ’’بھینس‘‘ پر صرف ’’لاٹھی والے‘‘ کا حق ہے تو پھر اس تصور پر یقین کر کے اور آنکھیں بند کر کے سو جائیے کہ ’’راج کرے گا خالصہ تے آکی رہے نہ کو‘‘ پھر ہم قانون و آئین کی حکمرانی اور انصاف کی عملداری سے مزین کسی مہذب معاشرے کے فرد کیسے کہلا سکتے ہیں۔ مشرف کیس کے حوالے سے آج کا دن کیا گُل کھلاتا  ہے،  ہمیں کم از کم اس کا مشاہدہ تو کھلی آنکھوں کے ساتھ کرتے رہنا چاہئے بے شک

اس کے بعد آئے جو عذاب آئے
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com