تجسّس، طوفان اور دھماکہ
Mar 28, 2014

آپ کہتے ہیں کہ برادر سعودی عرب کی جانب سے ملنے والے ڈیڑھ ارب ڈالر پر کوئی شک نہ کیا جائے مگر ڈالر کا بھائو دس بارہ روپے نیچے آنے کے باوجود بجلی، گیس، پٹرول کا بھائو بڑھتا ہی جا رہا ہے اور برادر سعودی عرب کے ڈیڑھ ارب ڈالر کے تحفے نے بھی اس مقروض بنائی گئی قوم کے سر سے آئی ایم ایف کا ناروا قرض نہیں اُتارا اور وہ اپنے قرض بمعہ سود کی وصولی کے لئے اب گیس کے نرخ مزید بڑھانے کی صورت میں ہڈیوں کا ڈھانچہ بنے عوام پر مزید تازیانے برسانے کے مشورے دے رہا ہے تو حضور اس دلِ نامُراد میں شک کے سوا اور کیا بَلا ڈیرے ڈالے گی۔ ابھی تو آپ تنخواہ دار طبقات کو اس وحشتناک اطلاع کا جھٹکا بھی لگا رہے ہیں کہ آنے والے بجٹ میں تنخواہ یا پنشن بڑھانے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں، پھر بے بسوں کے دل میں اس وہم کا غبار تو اُٹھے گا کہ ڈالر گرنے اور برادر سعودی عرب کے ڈیڑھ ارب ڈالر ملنے کے باوجود ان کے مقّدر کی تاریکیاں نہیں چَھٹ رہیں، ان کے راستے کی کٹھنائیاں جوں کی توں برقرار ہیں، ہر چیز کے نرخ اسی طرح تسلسل  کے ساتھ بڑھتے چلے جا رہے ہیں، ملکی معیشت اسی طرح انجر بنجر بنی ہچکولے کھاتے دھڑام سے گرنے کی منتظر ہے۔ توانائی کے بحران نے اندھیرے مزید بڑھا دئیے ہیں، خشک سالی اور قحط تھر اور چولستان سے اپنے پائوں پسارتا پنجاب اور سندھ کے شہری علاقوں میں بھی داخل ہُوا چاہتا ہے۔ بے روزگاری کی انتہا ہاتھوں میں اعلیٰ تعلیم کی ڈگریاں تھامے نوجوانوں کو خودکشی کے راستے دکھا رہی ہے یا جرائم کی مکروہ دنیا میں داخل ہونے کا حوصلہ دے رہی ہے تو پھر سعودی عرب کے ڈیڑھ ارب ڈالر کا مصرف کیا ہُوا ہے۔ کیا یہ ردی کاغذ کے ٹکڑے سمجھ کر ٹکے ٹوکری کے حساب سے بیچ دئیے گئے ہیں یا کسی کے آنے والے بُرے وقت میں زیر استعمال لانے کے لئے کسی مدفون خزانے میں محفوظ کر لئے گئے ہیں۔ دلِ ناہنجار وسوسوں سے بھرا پڑا ہے، اس کی تشفی نہیں ہو گی، کوئی تسلی بخش جواب نہیں ملے گا یا چلیں !ڈھٹائی کے ساتھ اسے ٹھینگا تک نہیں دکھایا جائے گا تو پھر جناب  ؎

غالب ہمیں نہ چھیڑ کہ پھر جوشِ اشک سے
بیٹھے ہیں ہم تہیۂ طوفاں کئے ہوئے

بھئی یہ کوئی مذاق تو نہیں ہے کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار صاحب بجٹ آنے سے اڑھائی تین ماہ پہلے ہی پسے پسماندہ تنخواہ دار طبقات اور پہلے ہی غربت کی اتھاہ گہرائیوں کی جانب دھکیلے جانے والے پنشنروں کو اس انتہا درجے کی مایوسی کا تازیانہ لگا رہے ہیں کہ ان کی تنخواہ اور پنشن میں اضافہ کی کوئی تجویز زیر غور نہیں اور پھر ان سے یہ توقع بھی رکھتے ہیں کہ برادر سعودی عرب سے ملنے والے ڈیڑھ ارب ڈالر کے بارے میں کوئی وہم اپنے دل میں نہ بسائیں، چلیں حضور

مجھے یقین ہُوا، مجھ کو اعتبار آیا

مگر یہ بتا کر ہماری خوشیوں کا اہتمام تو کر دیں کہ سعودی بھائیوں کے بے لوث تحفے کا کہیں غلط استعمال نہیں ہو رہا۔ یہ کسی کی ذاتی جیب، بنک اکائونٹ میں نہیں چلے گئے ہیں، یہ اشرافیائوں کو مزید نوازنے کے لئے مخصوص نہیں کر لئے گئے یا کسی قارون کے خزانے کی زینت نہیں بنا دئیے گئے بلکہ عوام کی فلاح اور قومی ترقی کے فلاں منصوبے کے لئے بروئے کار لائے جا رہے ہیں اور بس اب خوشحالی کی لہر بہر ہونے والی ہے۔ ارے بھئی کوئی آس تو دلا دیجئے، کوئی جوت تو جگا دیجئے۔ ہم بے بس و ناہنجار خوشی سے پھولے نہ سماتے مطمئن ہو کر بیٹھ جائیں گے۔ لیکن اگر یہ تصور پختہ ہو کر سامنے آ رہا ہو کہ

کہاں بدلے ہیں دن فقیروں کے
دن پھرے ہیں فقط وزیروں کے

تو بھائی صاحب باتیں بھی ہوں گی، باتوں کو پَر بھی لگیں گے اور یہ اُڑتے اڑتے بتنگڑ بھی بنیں گی۔

چلیں اس ڈیڑھ ارب ڈالر سے زرمبادلہ کے ذخائر میں ہی اضافہ کر لیا جائے تاکہ سرکاری ملازمین کو ’’قومی خزانے میں تنخواہوں کی ادائیگی کے لئے بھی پیسہ نہیں ہے‘‘ والی روح فرسا خبر آئے روز سُننے کو نہ ملے۔ میری تو یہ تمنا تھی کہ ڈالر کے بھائو گرنے سے آئی ایم ایف کے قرضے کے حجم میں جو نمایاں کمی ہوئی ہے اس سے فائدہ اُٹھا کر قوم کے سر سے اس قرضے کا بوجھ اتارنے کی کوشش کی جائے اور اس حوالے سے برادر سعودی عرب کا ڈیڑھ ارب ڈالر کا تحفہ نعمتِ غیر مترقبہ سمجھا جائے۔ آج قوم کا ہر بچہ لاکھ دو لاکھ روپے کے قرض کا لبادہ اوڑھے جنم لے رہا ہے جس کے باعث وہ زندگی بھر نہیں سنبھل پاتا اور ٹھوکریں، نامُرادیاں اس کا مقدر بن جاتی ہیں تو برادر سعودی عرب کے تحفے کو کیا اس مقہور قوم کے ڈگمگاتے قدموں کو سنبھالنے، سہارا دینے کے لئے استعمال نہیں کیا جا سکتا؟ مگر وسوسے ہیں کہ بڑھتے ہی جا رہے ہیں، تجسّس ہے کہ چین ہی نہیں لینے دے رہا، کرب ہے کہ کچوکے ہی لگائے چلا جا رہا ہے اور پچھتاوا ہے کہ دردِ لادوا کی خبر دے رہا ہے تو کہیں کوئی گڑبڑ تو ہوئی ہے ناں۔ پھر آپ کہتے ہیں کہ سوال بھی نہ اٹھائیے

بُھکھے کولوں بُرکی کھوہ کے کہندے او کہ بولے نہ
جس دا جُھگّا بَھجّے آخر اوہ تے رولا پا وے گا

حضور، سوال نہیں اُٹھیں گے تو طوفان اُٹھے گا اور یہ طوفان آپ سے سنبھالا نہیں جائے گا۔ امورِ سلطنت کے رموزِ خسروانہ ننگی بے ضابطگیوں کی خبر دے رہے ہیں اور بھوکوں ننگوں کا درد بڑھانے، انہیں قبروں کی جانب دھکیلنے کا اہتمام کر رہے ہیں تو پھر ان کے لئے تنگ آمد بجنگ آمد کے سوا کون سا راستہ بچے گا۔ آپ ان کا گلا دبائیں گے تو وہ آپ کو آنکھیں تو دکھائیں گے کہ آنکھیں گلا دبانے سے ہی باہر کو نکلتی ہیں۔ آج قوم کی بے بسی بے شک بے حسی کے قالب میں ڈھل چکی ہے جس سے آپ کو اقتداری تحفظ کی سہولت در سہولت مل رہی ہے مگر یہ دن پھرتے دیر نہیں لگے گی اس لئے آپ مقہور عوام کی زبانیں گنگ بنانے کے بجائے انہیں سوال اٹھانے کا موقع دیں اس سے دلوں کا غبار نکلتا رہے گا۔ ورنہ تو دھماکہ ہے ،دھماکہ۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com