قیامت لانے کی جلدی
Mar 18, 2014

قیامت تو پوری کائنات کیلئے آنی ہے۔ نظامِ قدرت اور قانونِ قدرت اٹل ہے۔ نظامِ قدرت میں جس پُرزے کا جو کام اور جو وقت معین ہے اس کے عین مطابق اس کا کام اور اتمام ہونا ہے اور پھر خالقِ کائنات نے قیامت کی نشانیاں بھی کھول کھول کر بیان کر دی ہیں۔ یہ ساری نشانیاں آج ہمیں صرف اپنے ملک کی دھرتی پر نمودار ہوتی نظر آ رہی ہیں تو کیا یہ تصور کر لیا جائے کہ قیامت صرف ہمارے لئے ہی آنی ہے۔ جی! نظامِ قدرت تو اٹل ہے مگر ہمیں شاید خود پر قیامت توڑنے کی جلدی ہے اس لئے قربِ قیامت کے سارے آثار ہم اپنے ہاتھوں سے پیدا کر رہے  ہیں۔ کل ایک دینی سکالر ایک ٹی وی پروگرام میں ذاتِ باری تعالیٰ کی کتابِ ہدایت قرآن مجید میں موجود قربِ قیامت کی نشانیوں پر روشنی ڈال رہے تھے جن میں ایک نشانی یہ بھی ہے کہ اس کرۂ ارض پر انسانی کشت و خون کی فراوانی ہو گی، مارنے والے کو یہ پتہ نہیں ہو گا کہ وہ دوسرے انسان یا انسانوں کو کیوں مار رہا ہے اور مرنے والے کو یہ پتہ نہیں ہو گا کہ اسے کیوں قتل کیا جا رہا ہے؟ اس قربِ قیامت کی نشانی کی دہشت گردی اور خودکش حملوں میں انسانی کشت و خون کے جاری کھیل کی صورت میں ہماری دھرتی پر فراوانی ہے اور گذشتہ ایک دہائی سے نظر آ رہی ہے پھر قربِ قیامت کی اس نشانی کو کہاں لے جائیں، کیسے چھپا پائیں کہ گلیوں، بازاروں میں جنسی بے حیائی کے مناظر جا بجا نظر آئیں گے اور اس بے حیائی کے مرتکب لوگوں کو روکنے یا پردے میں چلے جانے کا مشورہ دینے کی بھی کسی میں توفیق نہیں ہو گی۔ بھئی یہ سارے مناظر تو ہماری اسی دھرتی پر، ہمارے اسی معاشرے میں جا بجا نظر آ رہے ہیں، اگر اس بے حیائی کو روکنے والا کوئی ہوتا تو ایک کے بعد ایک ایسے مناظر کی داستانیں کیوں پھیلتی نظر آتیں۔ کل ’’وقت ٹی وی‘‘ کے پروگرام نیوز لائونج میں پروگرام کے میزبان امیر عباس نے میرے ساتھ ایک عجیب دُکھی موضوع چھیڑ دیا۔ قنوطیت، یاسیت طاری کرنے والے اس موضوع میں ہمارے معاشرے کے چہرے پر بدنما داغوں کے سوا کچھ نظر نہیں آتا، سوسائٹی کی اس مکروہ شکل کو دیکھ کر اپنے آپ سے گِھن آنے لگتی ہے۔ ناصر کاظمی کا شعر میری زبان پر آیا کہ

ہمارے گھر کی دیواروں پہ ناصر
اُداسی بال کھولے سو رہی ہے

امیر عباس نے ناصر کاظمی کے دوسرے شعر کا حوالہ دے کر اور دُکھی کر دیا

دل تو میرا اُداس ہے ناصر
شہر کیوں سائیں سائیں کرتا ہے

بات مظفر گڑھ کی خود سوزی کرنے والی مظلوم آمنہ سے شروع ہوئی اور قیامت ڈھاتی کہیں سے کہیں جا پہنچی، فیض کا شعر بے ساختہ زبان پر آ گیا

کیا اسی زہر کو تریاق سمجھ کر پی لیں
ناصحوں کو تو سجھائی نہیں دیتا کچھ بھی

تو پھر قیامت کی ساری نشانیاں ہماری دھرتی پر ہی کیوں نمودار ہو رہی ہیں، کیا ہماری کوئی کل سیدھی رہ بھی گئی ہے؟ سوال کیا ہے جواب کیا ہو؟ بس مایوسی ہی مایوسی ہے

کس کے گھر جائے گا سیلاب بلا میرے بعد

پولیس کی چیرہ دستیوں کا ذکر چھڑا تو ماضی، حال کے کئی ہولناک مناظر آنکھوں کے سامنے آ کر ذہن کو مزید بوجھل کر گئے، آخر پولیس کے ساتھ چیرہ دستی کا لفظ کیوں مخصوص ہو کر رہ گیا ہے، پولیس تھانوں سے وحشت کیوں ٹپکتی نظر آتی ہے، ریاست کی جانب سے جس کی ذمہ داری شہریوں کی جان و مال اور عزت کے تحفظ اور جرائم کی بیخ کنی کی بنائی گئی ہے وہ شہریوں کی جان و مال اور عزت کے ہی کیوں درپے ہیں، ان کی سرپرستی میں ہی جرائم پیشہ عناصر کیوں پروان چڑھتے اور معاشرے کو اتھل پتھل کرتے نظر آتے ہیں؟ تشویش تو واقعی بہت گہری ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف مظفر گڑھ پولیس تھانے کے سامنے خود سوزی کرنے والی مظلوم آمنہ کی موت کے بعد اس مظلوم خاندان کے گھر گئے، آمنہ کی دُکھی والدہ کے سامنے چٹائی پر بیٹھے، ڈھارس بندھائی، پولیس افسران کو جھاڑ پلائی، ان کے خلاف کاغذی کارروائی کی، کچھ مالی امداد دی اور واپس آ گئے مگر کیا ان کے اس عمل سے چیرہ دستیوں کے لیبل والی پولیس کی کوئی اصلاح ممکن ہو گئی ہے؟ یہ پولیس تو وزیر اعلیٰ کے واپس آتے ہی اس مظلوم خاندان پر پھر ٹوٹ پڑی تھی کہ خبردار جو ملزم پارٹی میں سے کسی کا نام لیا۔ آمنہ کے ساتھ بداخلاقی کا واقعہ دو ماہ قبل غالباً 5 جنوری کو ہُوا اگر پولیس کی جانب سے اس کی دادرسی ہو جاتی، اس کے نامزد کردہ ملزمان قانون کے شکنجے میں لا کر انصاف کے کٹہرے میں کھڑے کر دئیے جاتے تو وقوعہ کے دو ماہ بعد اس مظلوم کو دادرسی سے مایوس ہو کر خود سوزی کیوں کرنا پڑتی جبکہ اس کا خود سوزی کرنا ہی اس کے ساتھ کی گئی زیادتی کا بین ثبوت ہے۔

مجھے آج بھی حیرت ہو رہی ہے کہ آمنہ کے نامزد ملزمان آج بھی ہیولا بنے ہوئے ہیں اور مستعد میڈیا کی چیخ و پکار میں بھی ان ملزمان کے چہروں سے نقاب نہیں اُلٹ سکا۔ وہ یقنیاً اس روئے زمین پر پہلے ہی کی طرح دندناتے آزادانہ گھوم پھر رہے ہوں گے کہ انہیں پکڑنے کی ذمہ دار پولیس کی توندوں میں جانے والی رشوت کی چکا چوند رقم نے قانون کے ان ’’رکھوالوں‘‘ کی آنکھیں ہی چندھیا دی ہوئی ہیں اس لئے انہیں خادمِ پنجاب کی آنیاں جانیاں بھی نظر نہیں آتیں۔ ایک اجتماعی گراوٹ کا ماحول طاری ہے، کوئی کسی کو خاطر میں نہیں لاتا، اپنی من مانیاں کئے جاتا ہے اور جو کل ٹیڑھی ہو چکی ہے وہ سیدھی ہونے کے بجائے اذیت کا باعث بنتی نظر آ رہی ہے۔ مظلوم آمنہ کے ساتھ زیادتی کے کیس میں ازخود کارروائی کے دوران گزشتہ روز چیف جسٹس سپریم کورٹ بھی ڈی آئی جی کی سرزنش کرتے ہوئے یہی رونا رو رہے تھے۔ یہ احساس تو آمنہ کی خودسوزی کے بعد ہی اُجاگر ہُوا ہے۔ اگر انصاف کی عملداری ہوتی تو خود سوزی کی نوبت ہی کیوں آتی۔ پھر ذرا عدلِ گستری کے ان مفصل کُل پرزوں کے معاملات کا بھی تو جائزہ لے لیجئے کہ کرپٹ پولیس کی ہر جھوٹی رپورٹ پر صاد کرتے ہوئے بااثر ملزمان کو ہی کیوں فائدہ پہنچایا جاتا ہے۔ اگر ایک مظلوم خاتون چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ اس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے مگر پولیس ملزمان کی بے گناہی کی جھوٹی رپورٹ عدالت میں پیش کر رہی ہے تو کیا عدالت کو بس اس رپورٹ کی بنیاد پر ہی فیصلہ صادر کر دینا چاہئے یا انصاف کے کچھ اور بھی تقاضے ہیں۔ تو جناب یہ سب مل ملا کر ہی معاشرے کے چہرے کو گھنائونا بنا رہا ہے اور قربِ قیامت کی ساری نشانیاں ہماری اس دھرتی پر ہی نمودار ہونے کے اسباب بنا رہا ہے۔ پنجابی کے معروف شاعر عبیر ابوذری نے پولیس کی چیرہ دستیوں کی یوں عکاسی کی تھی کہ

پُلس نوں آکھاں رشوت خور تے فَیدہ کی
پِچھّوں کردا پھراں ٹکور تے فَیدہ کی

یہاں تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ بے حیائی، بداخلاقی کے مناظر قربِ قیامت کی نشانیوں کی طرح ہر کوچۂ و بازار میں پورے دھڑلے کے ساتھ بنائے اور دکھائے جا رہے ہیں اور کسی کو روکنا تو کجا، ایسی بُرائی کی دل میں مذمت کرنے کی بھی توفیق نہیں ہو رہی۔ قیامت کا وقت معین ہے مگر کیا ہمیں قیامت لانے کی جلدی نظر نہیں آ رہی؟
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com