معاشرے کو لگا ’’بسمائی‘‘ روگ
Mar 07, 2014

ے شک بسمہ نے انتہائی سفاکانہ جرم کا ارتکاب کیا ہے، ایک ماں جس کے پائوں تلے اپنے بچوں کیلئے جنت ہوتی ہے وہ خود ہی اپنے ان معصوم بچوں کو پانی میں ڈبو رہی ہے اور ان کا گلہ گھونٹ رہی ہے جنہیں ابھی دنیاوی آلائشوں کی ہَوا بھی نہیں لگی ہوئی اس لئے اس سفاک جرم پر اس کیلئے ہمدردی کا اظہار تو ہرگز نہیں ہو سکتا مگر وہ یہ انتہائی قدم اٹھانے پر کیوں مجبور ہوئی، آخر کن حالات نے اس کے دل میں اپنے معصوم بچوں کی اپنے ہی ہاتھوں جان لینے کا سفاکانہ فیصلہ کرنے کا خلل پیدا کیا، بھئی اس کا جائزہ لینے میں بھی کیا قباحت ہے۔ ہم میڈیا کے آئینے کی طرح اصل چہرہ دکھانے والے کردار کے ضرور قائل ہیں مگر ایسے بھیانک چہرے سے کیمرے کی آنکھ ہٹائی بھی جا سکتی ہے جسے دیکھ کر لوگوں کے ذہنوں پر مثبت کے بجائے منفی اثرات زیادہ اُجاگر ہوتے ہیں اور پستیوں، گراوٹوں کا احساس کچوکے لگانے لگتا ہے۔ ٹی وی چینلز پر بسمہ کے فعل کے حوالے سے خبریں دیکھ کر اور اس کمبخت خاتون کا انٹرویو سُن کر میں خود سارا دن مضطرب اور پژمردہ رہا۔ یہ دل کو بیٹھے بٹھائے لگنے والے روگ کا ایسا اذیت ناک احساس ہے کہ کسی کے ساتھ بانٹا بھی نہیں جا سکتا۔ اسی کیفیت میں ایک ٹی وی ٹاک شو میں شریک ہُوا تو خاتون اینکر انیلہ نے عوام الناس کے حل طلب گوناں گوں مسائل کی موجودگی میں پنجاب، سندھ، فیسٹیول جیسے نمود و نمائش پر مبنی منصوبوں پر قومی خزانے سے اربوں روپے لُٹانے کا تذکرہ چھیڑ کر دل کے جلتے پھپھولوں کو مزید آگ لگا دی۔ میرے ساتھی مہمان پیپلز پارٹی کے عابد صدیقی کو سندھ فیسٹیول کے حوالے سے پیپلز پارٹی کا دفاع کرنے کی مجبوری لاحق تھی چنانچہ وہ بڑھتے گھمبیر ہوتے عوامی مسائل کا سارا ملبہ مسلم لیگ (ن) کی پنجاب حکومت پر ڈال کر گفتگو کا رُخ بدلنے کی کوشش کرتے رہے مگر بسمہ کے ہاتھوں اس کے معصوم بچوں کے سفاکانہ قتل کا تازہ تازہ واقعہ سارے حکمران طبقات کی منافقتوں، ریاکاریوں اور محض ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی سیاستوں کا بھانڈہ پھوڑنے پر مجبور کر رہا تھا۔

بے شک اس سفاک جرم کے سارے پس منظر کا جائزہ لے لیجئے ان خبروں میں بھی یقیناً صداقت ہو گی کہ بسمہ نے اپنے خاوند کے ساتھ آئے روز کے جھگڑوں سے عاجز آ کر یہ انتہائی قدم اُٹھانے سے بھی گریز نہیں اس کے شوہر کے کردار کے حوالے سے سامنے آنے والی کہانیوں میں بھی صداقت ہو گی اور یہ سوال بھی اپنی جگہ بجا ہے کہ لاہور کے متوسط طبقے کے پوش علاقے جوہر ٹائون میں ایک کنال کے ذاتی گھر اور دو دو گاڑیوں کے مالک اس گھرانے کے گھر میں بھوک کا راج کیسے ہو سکتا ہے اور تین دن سے بھوکے بچوں کو اپنے ہی ہاتھوں موت کی ابدی نیند سلانے کی ظالمانہ سوچ اس کے ذہن میں کیسے پیدا ہو سکتی ہے۔ تفتیشی مراحل میں نہ جانے اور کون کونسی داستانیں منظرعام پر آئیں گی اور نہ جانے اور کتنی داستانوں کے قلابے ایک دوسرے کے ساتھ ملیں گے مگر کیا ارسطو کے اس فلسفے سے صرفِ نظر کیا جا سکتا ہے کہ بھوک تمام بُرائیوں کی جڑ ہے، بقول ساحر لدھیانوی

مفلسی حسِ لطافت کو مٹا دیتی ہے
بھوک اطوار کے سانچے میں نہیں ڈھل سکتی

اگر ایک کنال والے گھر کے مکینوں میں بھی کسی نہ کسی پس منظر میں بھوک ڈیرے ڈال لے تو ان کے ذہنوں میں بھی ہر قسم کی منفی سوچ پیدا ہونا فطری امر ہو گا، یہی بھوک اس معاشرتی بُرائی کی جانب بھی لے جا سکتی ہے جو بسمہ کے آوارہ ناکارہ شوہر کے ساتھ منسوب کی جا رہی ہے اور یہی بھوک اپنے بچوں کو بھوک سے بلکتا دیکھ کر اپنے حواس پر قابو نہ پا سکنے والی بسمہ جیسی کسی بھی دوسری خاتون کو بسمہ جیسا انتہائی قدم اُٹھانے کا بلکہ کرنے پر مجبور کر سکتی ہے پھر جائزہ لیجئے کہ آج معاشرے کے متوسط گھرانوں اور عام طبقات میں بھوک نے کتنے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں اس بھوک کی بنیادی وجہ بیروزگاری ہے جو حکمران طبقات کی بے تدبیریوں، اقربا پروری اور کرپشن کلچر کی فراوانی میں اتنی تیز رفتاری سے متوسط، پسماندہ اور بے وسیلہ طبقات کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے کہ اس کا ردعمل بسمہ جیسے انتہائی اقدام کے علاوہ ہر قسم کی سماجی بُرائیوں کو غالب کر کے معاشرے کو ٹوٹ پھوٹ اور گراوٹوں کی انتہا تک لے جا سکتا ہے۔ کیا اقتدار کے ایوانوں کی بلند فصیلوں میں بدمستیاں، اٹکھیلیاں کرنے والے قوم کے نمائندہ اشرافیہ طبقات کو ان متوسط و بے وسیلہ گھرانوں کے دکھوں کا احساس ہو سکتا ہے جن کے سربراہ کسی نجی یا سرکاری ملازمت میں یا محنت مزدوری کر کے اپنی فطری خوشیاں تج کر اور پیٹ میں بھوک رکھ کر اپنے بچوں بچیوں کو مہنگے نجی تعلیمی اداروں میں جیسے تیسے اعلیٰ تعلیم دلواتے ہیں اور پھر ان کی کسی اچھی ملازمت کے خواب پالتے ہوئے ان کے ساتھ ساتھ اپنے سارے خاندان کے اچھے مستقبل کی بھی جوت جگا بیٹھتے ہیں مگر اعلیٰ تعلیم کی ڈگریاں ہاتھ میں لئے ان کے بچے کوئی سفارش اور رشوت کے لئے مطلوبہ رقم نہ ہونے کے باعث میرٹ کے ڈھکوسلے میں ایسے دھکے کھاتے ہیں کہ اچھی تو کجا، چھوٹی موٹی ملازمت کے حصول کو بھی اپنے لئے ناممکن بنا بیٹھتے ہیں۔ ان کی یہ کیفیت ان کے اپنے ذہنوں میں تو منفی سوچ پیدا کرتی ہی ہے مگر ان کے ساتھ پورے خاندان کے اچھے مستقبل کے سپنے دیکھنے والے ان کے والدین کی مایوسی تو اس خاندان کے در و دیوار میں منفی سوچ کی بنیادیں گہری اور مضبوط بنا جاتی ہے۔ اقتصادی ماہرین کے اعداد و شمار کے ڈھکوسلوں میں ان محرومیوں کا احاطہ نہیں ہو سکتا جو حکمران طبقات کے ہاتھوں معاشرے میں محروم و مجبور طبقات کو لاحق ہونے والے بے روزگاری کے جان لیوا مرض کے نتیجہ میں پھیل رہی ہیں، ایسی ہی محرومیوں کا اظہار کہیں بسمہ جیسے انتہائی اقدام اور کہیں شریف النفس گھرانوں کی بچیوں میں عصمت فروشی کے رجحان اور کہیں سفاکانہ قتل، ڈکیتی، لوٹ مار جیسے قبیح جرائم کے پھیلائو کی صورت میں نظر آئے گا۔ اگر مراعات یافتہ اشرافیہ طبقات کو چھوڑ کر دوسرے ہر گھر میں بیروزگاری خودرو پودے کی طرح پھیل رہی  ہو  تو اس کے نتیجے میں لاحق ہونے والے غربت اور بھوک کے مرض کے اس معاشرے پر کتنے خوفناک اثرات مرتب ہوں گے۔ بسمہ کو مطعون کرنے اور اسے گردن زدنی ٹھہرانے سے پہلے اس ساری صورتحال کا سنجیدگی کے ساتھ ضرور جائزہ لے لیجئے۔ وزیر اعلیٰ شہباز شریف تو شاید محض سیاست کے رنگ دکھانے کے لئے خونیں انقلاب کے ڈراوے دیتے ہیں جبکہ حکمرانوں کے اپنے معاملات فی الحقیقت ایسے ہی انقلاب کی عملی راہ دکھا رہے ہیں پھر کس کس عالیجاہ، کس کس حضور والا نے اس کی زد میں آنا ہے خود فیصلہ کر لیجئے ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہو گی۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com