پارلیمنٹ لاجز کا گند، تاویلیں، دلیلیں
Mar 03, 2014

اُچھلتے گند پر پردہ ڈالنے کیلئے کیسی کیسی تاویلیں پیش کی جا رہی ہیں۔ جمشید دستی نے کسی سازشی ذہن کا آلہ¿ کار بن کر سسٹم کا مُردہ خراب کرنے کی کوشش کی ہے۔ فیصل آبادی گھن گرج کے ساتھ ایک آواز ابھرتی ہے ”جمشید دستی خود کونسی نیک پروین ہے میں نے ابھی مظفر گڑھ جا کر اس کی بجلی چوری پکڑی ہے“ اور ہاں دستی جعلی ڈگری کیس میں نااہل بھی تو قرار دے دئیے گئے تھے۔ ایک اور دلیل، دستی گذشتہ چھ سات برس سے اسی پارلیمنٹ میں موجود ہے کیا یہ سارا گند اتنے برس تک اس کی آنکھوں سے چھپا رہا، اب اچانک اسے اودھم مچانے کا کیوں خیال آیا، یقیناً اس کے معاملے میں کوئی گڑبڑ موجود ہے یقیناً اسی پس منظر میں سپیکر قومی اسمبلی نے بھی اپنے غیر جانبدارانہ کردار کو تج کر جمشید دستی کو پٹخنی دینے کیلئے للکارا مارا ہے ”جمشید دستی اپنے گریبان میں جھانکیں، ارکان پارلیمنٹ کا میڈیکل ٹیسٹ نہیں کراﺅں گا، کوئی رکن پارلیمنٹ کمرے میں کیا کرتا ہے ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں“ اور پھر طالبان والی شریعت کے نفاذ کے متمنی ہمارے صالح قائد مولانا فضل الرحمن کی اس منطق کی داد دینی ہے یا اس پر سر پیٹنا ہے، آپ خود ہی فیصلہ کر لیں۔ حضرت مولانا فرماتے ہیں کہ ”پارلیمنٹ سے باہر کیا کچھ نہیں ہو رہا کونسا ادارہ، کونسا طبقہ ایسی بُرائیوں سے مبرّا ہے پھر ساری خرابیاں، سارا گند پارلیمنٹ میں ہی کیوں نظر آتا ہے۔“

مجھے جمشید دستی کے معاملات میں کوئی دلچسپی نہیں ہے ممکن ہے یہ اس کا ذاتی کردار بھی دنیا داری کے ایسے ہی لچھنوں میں لتھڑا ہُوا ہو، جعلسازی کے کیس میں وہ سپریم کورٹ تک سے نااہلیت کی سزا بھی بھگت چکا ہے مگر اس سزا کے بعد بھی اس کی سابقہ پارٹی نے اسے سر پر بٹھایا اور نئے انتخابی قوانین کی بنیاد پر، جن میں گریجویشن کی شرط ختم کی جا چکی ہے، دستی کو پھر پارٹی ٹکٹ دے کر منتخب کرا لیا گیا اور پارلیمنٹ میں بھجوا دیا گیا اب وہ آزاد حیثیت میں اپنی سابقہ پیپلز پارٹی اور موجودہ حکمران مسلم لیگ (ن) ہی نہیں انقلاب لانے کی داعی تحریک انصاف کے امیدوار کو بھی بچھاڑ کر قومی اسمبلی میں آ براجمان ہوا ہے، آخر اس کے حلقے کے لوگوں کو اس کی کوئی ادا تو بھا گئی ہے ناں کہ وہ اس کے سوا کسی اور کو اپنی نمائندگی کا مستحق ہی نہیں سمجھتے اس لئے اس کے خلاف پارلیمنٹرینز کی جانب سے جاری حالیہ مہم میں مجھے اس پر یہ الزام تو بودا سا نظر آتا ہے کہ اس نے محض میڈیا کے ذریعے سستی شہرت حاصل کرنے کے لئے یہ سارا ڈرامہ رچایا ہے۔

مجھے پارلیمنٹ لاجز کے معاملات میں عائد کردہ الزامات کو دہرانے کی قطعاً ضرورت نہیں کہ اب تو انہی پارلیمنٹ لاجز کے مشرف دور والے معاملات بھی منظرعام پر آنے لگے ہیں اور اس دور کا دس لاکھ ڈالر کے عوض ایک چوٹی کی بھارتی فلمی اداکارہ کا مُجرہ بھی زبان زدعام ہو رہا ہے جبکہ دستی کے لگائے گئے الزامات کے بعد پارلیمنٹ لاجز کے لاج نمبر چار کے سامنے لگا ہوا شراب کی خالی بوتلوں کا ڈھیر سوشل میڈیا پر اس شعر کے ساتھ گردش کر رہا ہے کہ

جام مے توبہ شکن، توبہ میری جام شکن
سامنے ڈھیر ہے ٹوٹے ہوئے پیمانوں کا

یقیناً دستی پر کہیں سے یہ آوازہ بھی کسا جا سکتا ہے کہ

کمبخت نے شراب کا ذکر اس قدر کیا
واعظ کے منہ سے آنے لگی بُو شراب کی

اسی طرح اب کسی مرحلے پر، شاید سپیکر کی جانب سے انکوائری کے مراحل کی تکمیل کے بعد دستی کو یہ طعنہ بھی مل جائے کہ

رند بخشے گئے قیامت میں
شیخ کہتا رہا، حساب حساب

یہ سب تاویلیں، سب درفنطنیاں، سارے دلائل اور تمام کٹ حجتیاں اپنی جگہ۔ اور یہ بھی نہ دیکھیں کہ الزام لگانے والا کون ہے۔ اس کا اپنا کیا کردار ہے؟ وہ خود پارسا ہے؟ مگر یہ ضرور دیکھیں کہ اس نے کیا کہا ہے، اس کی کہی گئی بات میں صداقت موجود ہے تو پھر ایسے لچھنوں کے بعد نفاذِ شریعت کے تقاضے کیوں سامنے نہیں آئیں گے۔ اگر معاشرے میں موجود کسی خرابی یا خانہ خرابی کی نشاندہی کی جائے تو اس سے سسٹم کے خلاف کسی سازش کی بو کیسے آنے لگتی ہے، ان خرابیوں کے ذمہ داروں کو ہی کیوں نہ سسٹم کے خلاف سازشوں میں شریک ٹھہرایا جائے اور پارلیمنٹ لاجز میں ہونے والی خرمستیوں کے خلاف اُٹھنے والی کسی آواز کو کیا محض اس لئے دبا دیا جائے کہ یہاں اشرافیہ ”تجمل حسین خاں“ مقیم ہیں، وہ لوگ مقیم ہیں جنہیں ملک و قوم کا مقدر سنوارنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ اگر وہ یہ ذمہ داری ادا کرنے کے بجائے اپنا اور اپنی سات پشتوں کا مقدار سنوار رہے ہیں اور اپنی حرکات و سکنات سے سسٹم کا حلیہ بگاڑنے کی بنیاد رکھ رہے ہیں تو پارلیمنٹ کے تقدس کے چکمے میں پارلیمنٹ کی چھت کے نیچے ہونے والے ہر شرعی عیب کی جانب آنکھیں میچی رکھی جائیں؟ اور اس کی ایسے ہی پردہ پوشی کی جائے جیسے مولانا فضل الرحمن کر رہے ہیں؟

بھئی، پارلیمنٹ اور ارکان پارلیمنٹ کو تو اپنے قول، فعل اور کردار کو مثال بنانا چاہئے کہ قوم نے اپنے قائدین کی شکل میں موجود ایسے کرداروں کی ہی تقلید کرنا ہوتی ہے پھر اگر پارلیمنٹ کے اندر سے ہی کسی نے پارلیمنٹ کی چھت کے نیچے ہونے والی بدکرداری کی جھلک دکھائی ہے تو اس پر جزبز ہونے اور ناقد کو اپنی تنقید سے لتاڑنے پچھاڑنے کی بجائے جھاڑو پکڑ کر گند کو ہی کیوں نہ صاف کر دیا جائے۔ اور یہ جھاڑو پکڑنے کی ذمہ داری تو اس ہاﺅس کے کسٹوڈین پر عائد ہوتی ہے مگر وہ الزام لگانے والے کو اپنے گریبان میں جھانکنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ ہاتھ کنگن کو آرسی کیا، آپ سارا نتارا کر لیں، الزام محض الزام ہے۔ اس کے کوئی شواہد اور ثبوت موجود نہیں ہیں کہ آپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی آنکھیں بہت ”مشاق“ ہیں تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر لیں، قذف کا قانون بھی موجود ہے اور جعلسازی کے خلاف دوسرے متعلقہ قوانین کی بھی علمداری ہو سکتی ہے، آپ جھوٹے الزامات لگانے والے کی گردن پر قانون کا پھندا ڈال دیں مگر حضور الزامات درست ہیں تو پھر ایک بار آئین کی دفعات 62، 63 والا جھاڑو پکڑ کر صفائی کر لیجئے ورنہ تو ایسی بداعمالیوں میں سسٹم پر گند اچھالنے اور اسے راندہ¿ درگاہ بنانے کے مواقع نکلتے ہی رہیں گے

ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے دیتے ہیں
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com