"حیراں ہوں دل کو روئوں یا پیٹوں جگر کو میں"
Feb 27, 2014

سسٹم کو رگیدنا اور مروجہ قوانین میں کیڑے نکالنا شاید ہماری عادتِ ثانیہ بن چکی ہے۔ خباثتیں ہماری اپنی ہوتی ہیں، دلوں میں فتور ہمارے اپنے مقاصد کا پیدا کردہ ہوتا ہے، کسی قانون کو خاطر میں نہ لانے کی عادت ہم نے خود اپنائی ہوتی ہے، لوٹ مار، چور بازاری اور کہنی مار فضیلتیں سمیٹنے کا کلچر ہمارا اپنا اختیار کردہ ہوتا ہے مگر ہم اپنی ہی پیدا کردہ معاشرتی خرابیوں کا سارا الزام بیچارے سسٹم پر دھر دیتے ہیں۔ کتنا آسان ہے یہ کہنا کہ بس جی زمانہ ہی خراب ہے 

اپنی خرابیوں کو پس پشت ڈال کر
ہر شخص کہہ رہا ہے زمانہ خراب ہے

میں تو اس بات کا قائل ہوں کہ کوئی سسٹم بذاتِ خود بُرا نہیں ہوتا۔ اسے چلانے والے اسے اچھا یا بُرا بناتے ہیں۔ اگر کوئی سسٹم شخصی آمریت پر مبنی ہو مگر اس میں عوام الناس کو اپنے لئے کوئی مسئلہ درپیش نہ ہو، ملک کے سارے انتظامی معاملات بھی خوش اسلوبی سے چل رہے ہوں، صنعتی اور زرعی ترقی کے تمام مراحل بغیر کسی رکاوٹ کے طے ہو رہے ہوں، لوگوں کو میرٹ پر ان کی تعلیم اور صلاحیتوں کی بنیاد پر ملازمتیں حاصل ہو رہی ہوں، کہیں کسی کو بجلی، پانی، گیس کی قلت کا سامنا نہ ہو، عوام مارکیٹوں میں ناجائز منافع خوروں کی کند چُھری سے ذبح نہ کئے جا رہے ہوں اور بلا امتیاز معاشرے کے ہر فرد کو روزگارِ حیات کے تمام لوازمات دستیاب ہورہے ہوں تو شخصی آمریت کی تمام لکھی پڑھی خرابیوں کے باوجود یہ نظام عوام کو قابلِ قبول بھی ہو گا اور مقبول بھی ہو جائے گا۔ اسی طرح اگر ہمیں اچھی سے اچھی آمریت سے بُری سے بُری جمہوریت کے بہتر ہونے کا فلسفہ بے شک رٹا بھی دیا جائے ،اگر اس سسٹم میں عوام الناس راندۂ درگاہ بن جائیں، منتخب جمہوری حکمرانوں کی بے تدبیریاں قومی معیشت کی ترقی، عوام کی خوشحالی کا خواب شرمندۂ تعبیر ہی نہ ہونے دیں،بجلی، پانی گیس کی قلت ہی نہیں ان کے بڑھتے ہوئے نرخ بھی عوام کے لئے جان لیوا ثابت ہو رہے ہوں، اقربا پروری کی انتہا میں عام آدمی، بے وسیلہ عوام کے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور صلاحیتوں سے مالا مال بچوں بچیوں کے لئے روزگار کے دروازے عملاً بند کئے جا چکے ہوں، منتخب فورموں پر عوام کی بہتری کے بجائے مراعات یافتہ اشرافیہ طبقات ہی کے حقوق و مفادات کے تحفظ کا سوچا اور قانون سازی کی جا رہی ہو اور امیر غریب میں فاصلہ بڑھا کر طبقاتی کشمکش انتہا کو پہنچائی جا رہی ہو تو سلطانیٔ جمہور کے اچھا ہونے کا سبق رٹنے کے باوجود اسے عوام میں مقبول نہیں بنایا جا سکتا ہے۔ یقیناً کسی سسٹم کی اچھائی یا بُرائی میں اپنے تئیں سسٹم کا کوئی قصور نہیں ہوتا، بات سسٹم کے تحت سسٹم کو چلانے کے لئے ملنے والے اختیارت کے طریقہ کار کی ہوتی ہے ۔ان اختیارات کو ملک اور عوام کی ترقی اور خوشحالی کا ذریعہ بھی بنایا جا سکتا ہے اور انہی اختیارات کا غلط اور ناجائز استعمال سسٹم سے عوام کو متنفر کرنے کا باعث بھی بن سکتا ہے اس لئے حکمران اچھا ہونا چاہئے، وہ جس سسٹم کے ماتحت حکمرانی کر رہا ہو گا اس کی اچھائی اس سسٹم کو بھی اچھا بنا دے گی اگر حکمرانوں کی اپنی نیت میں فتور ہو تو بدقسمتی سے وہ فتور سسٹم کا قصور بن جاتا ہے۔ یقینی بات ہے کہ حکمران خود اپنی ذات پر بھی آئین و قانون  اور میرٹ کی عملداری لاگو کر رہے ہوں گے تو امورِ حکومت و مملکت سے وابستہ دیگر طبقات بھی اور عوام الناس بھی خود کو قانون و آئین کاپابند بنائے رکھیں گے ۔اپنے لئے کسی قسم کی ناجائز مراعات طلب نہیں کریں گے اور کہنی مار کلچر میں جستیں بھر کر سب سے آگے نکلنے کی کوشش بھی نہیں کریں گے ۔اس طرح سسٹم قاعدے قانون کے مطابق خوش اسلوبی سے چلتا رہے گا۔ اگر زمانے کا چلن بگڑتا ہے ،لوگوں میں سماجی بُرائیاں گھر کرنے لگتی ہیں۔ دھن دھونس، لوٹ مار، اقربا پروری اور کرپشن کے کلچر میں بے وسیلہ عوام الناس کے لئے سانس لینا بھی دشوار ہو جاتا ہے اور جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا فلسفہ اُجاگر ہونے لگتا ہے تو یہ سسٹم کا نہیں، سسٹم کو چلانے والے ہاتھوں کا ہی قصور ہوتا ہے۔

سسٹم کے فلسفہ کامجھے آج ایم کیو ایم متحدہ کے قائد الطاف حسین کی گھن گرج والی ٹیلی فونک تقریر سُن کر زیادہ شدت سے احساس ہوا ہے۔ موصوف کی پارٹی گذشتہ تقریباً 14 برس سے کسی نہ کسی حیثیت میں براہِ راست یا بالواسطہ ہر حکومت کا حصہ رہی ہے ،چاہے وہ حکومت جرنیلی آمریت کے تابع تھی یا سلطانیٔ جمہور کے۔ الطاف بھائی اور ان کے مریدین کو اقتدار کی ہر بندر بانٹ میں بقدرِ جثہ سے بھی زیادہ حصہ ملتا رہا ہے مگر جب یہ حصہ کم ہونے کا اندیشہ لاحق ہوتا ہے تو اقتدار میں اپنا حصہ رکھتے ہوئے بھی سسٹم کے خلاف طوفان اٹھا دیا جاتا ہے۔

بے شک متحدہ کے تنظیمی ڈسپلن میں بے وسیلہ عام آدمی کو زیادہ پذیرائی حاصل ہوئی ہے اور بلدیاتی سے قومی سطح تک ایم کیو ایم کے پارٹی ٹکٹ پر کئی نامعلوم اور عوام کی نچلی سطح کے افراد نے منتخب ہو کر رفعتیں پائی ہیں مگر عوام کی پذیرائی کا یہ کلچر صرف متحدہ کی تنظیم کے اندر تک ہی موجود ہے۔ اس تنظیم سے باہر اس پارٹی کے کسی فیصلے یا اقدام سے پسے پسماندہ عوام الناس کو کبھی ٹھنڈی ہَوا کا جھونکا نہیں آیا البتہ عوام پر خوف و ہراس، افراتفری، لاقانونیت اور دہشت و وحشت کے جو جو عفریت بھی حملہ آور ہوتے رہے ہیں ان میں الطاف بھائی کی ٹیلی فونک شیریں بیانی ضرور حصہ دار بنتی رہی ہے گزشتہ روز انہوں نے اپنی ٹیلی فونک شیریں بیان میں افواجِ پاکستان کو باضابطہ طور پر دعوت بھی دے ڈالی کہ طالبان کے خلاف اپریشن میں اگر حکومت ساتھ نہ دے تو وہ حکومت کو چلتا کریں اور خود ٹیک اوور کر لیں۔ یہ اس درخت کو تنے سے کاٹنے والی بات ہے جس پر سرکار نے اپنا گھونسلہ بنا رکھا ہے شاید انہوں نے اُڑان بھر کر دوسرے درخت پر بیٹھنے اور وہاں گھونسلہ بنانے کی کوئی منصوبہ بندی کر لی ہے مگر جس درخت کا آپ ایک دہائی سے بھی پھیلے ہوئے عرصے تک میٹھا پھل کھاتے رہے ہیں اسے اب عوام کے لئے کڑوا بنا کر تو پیش نہ کریں۔ الطاف بھائی کی اس سوچ اور فلسفے کا کیا پس منظر ہے سمجھنے والوں کو اس کی بخوبی سمجھ آ گئی ہے۔ مجھے اپنے بیان کردہ سسٹم کے فلسفے کے لئے الطاف بھائی کی ٹیلی فونک شیریں بیانی سے کوئی کمک حاصل نہیں ہونے والی۔وہ جس پس منظر میں سسٹم کی نکاتی کرتے ہوئے افواجِ پاکستان کو اس کی بساط لپیٹنے کی دعوت دے رہے ہیں وہ سسٹم کی اصلاح کے جذبے پر ہرگز مبنی نہیں اس لئے اس پر نیک و بد حضور کو سمجھانے کا بندوبست تو بہر صورت ہونا چاہئے۔

اب کچھ تذکرہ میں مزارِ قائد پر موجود قحبہ خانے کے حوالے سے اپنے گذشتہ کالم پر آنے والے فیڈ بیک کا کرنا چاہتا ہوں یہ المیہ یقیناً ملک کے ہر دردمند شہری کے لئے سوہانِ روح بنا ہے۔ بہاولپور سے میرے محترم حبیب اللہ بھٹہ نے اس حوالے سے اپنی فکرمندی کا اظہار کیا کہ مزارِ قائد پر روزانہ تینوں مسلح افواج میں سے ایک کی گارد کی تبدیلی ہوتی ہے جن کے چاک و چوبند دستے مزارِ قائد کی حفاظت و نگرانی پر مامور ہوتے ہیں ۔ان کے ہوتے ہوئے بھی قائداعظم کی قبر والے اصل کمرے میں آزادی کے ساتھ یہ قبیح کاروبار چل رہا ہے تو پھرناطقہ سر بگریباں ہے، اسے کیا کہئے۔ میرے عزیز دوست میجر ریٹائرڈ نذیر احمد اس سوہانِ روح واقعہ پر ایک اور پیرائے میں اپنی صدمے کی کیفیت کا اظہار کر رہے تھے۔ انہوں نے میری توجہ کالم میں لکھے میرے لفظ ’’سوؤموٹو‘‘ کی جانب مبذول کرائی اور استفسار کیا کہ ابھی چند روز قبل سپریم کورٹ کے چیف جسٹس مسٹر جسٹس تصدق حسین جیلانی کی قیادت میں پوری عدالتِ عظمیٰ نے مزارِ قائد پر حاضر دی ہے اس حاضری سے قبل منظرعام پر آنے والا یہ سوہانِ روح واقعہ کیا کسی سوئوموٹو کا متقاضی نہیں ہُوا۔   اور پھر بات بات پر حکومت کو بے نقط سنانے والی جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم کی قیادتوں کو مزار قائد کی اس بے حرمتی کا نوٹس لینے کی کیوں توفیق نہیں ہوئی۔تو جناب بے شمار سوالات ہیں، بے شمار استفسارات ہیں ۔بس ’’حیراں ہوں دل کو روئوں یا پیٹوں جگر کو میں‘‘
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com