"یہ گھڑی محشر کی ہے"
Feb 24, 2014

میرے لئے تو وہ خبر کسی بھونچال سے کم نہیں تھی، آخر ہم اپنی اخلاقی گراوٹوں میں کس انتہا تک جا پہنچے ہیں۔ گذشتہ روز ’’وقت نیوز‘‘ کے پروگرام نیوز لائونج میں کراچی سے ہمارے مستقل لائیو کالر خواجہ انجم نے مزار قائد پر بانیٔ پاکستان قائداعظم کی قبر والے اصل کمرے میں مزار کی انتظامیہ کی سرپرستی میں کھولے گئے قحبہ خانہ کی دلفگار خبر پر روشنی ڈالی تو مجھے اپنی آنکھوں کے سامنے دنیا اندھیر ہوتی نظر آئی۔ اس سے قبل میں اے آر وائی نیوز چینل  کے پروگرام میں اس مبینہ قحبہ خانہ کے بارے میں کئے گئے روح فرسا انکشافات ملاحظہ کر چکا تھا اس لئے جب خواجہ انجم نے روہانسے لہجے میں نیوز لائونج پروگرام میں مجھے اس گھنائونے کاروبار کی جانب متوجہ کیا تو میرے پاس سوائے شرمندگی کے اظہار کے اور کوئی الفاظ موجود نہیں تھے۔ پروگرام کے ہوسٹ عبداللہ سلطان بھی مزارِ قائد پر جاری اس گھنائونے کاروبار کی خبر سُن کر  دل گرفتہ نظر آئے جبکہ مجھے تو اس سانحہ پر آسمان بھی گریہ زاری کرتا نظر آیا۔ اگر ہمارے معاشرے کی گرواٹ اس انتہا تک جا پہنچی ہے کہ مزارِ قائد پر بھی اخلاق باختگی کا گھنائونا کاروبار کرنے والوں کو کھلی چھوٹ ملی نظر آتی ہے تو پھر یہ سب قیامت کی نشانیاں ہیں جو کتابِ ہدایت قرآن مجید میں خود ذاتِ باری تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کر دی ہیں ان میں قربِ قیامت کی ایک یہ بھی نشانی ہے کہ گلیوں، بازاروں میں سرعام جنسی بے حیائی اور بداخلاقی کے مناظر نظر آئیں گے اور ایسے بے شرموں کو روکنے کی بھی کوئی ضرورت محسوس نہیں کر ے گا، کیا مزارِ قائد میں سرعام قحبہ خانہ کھولنے اور پھر اس کی کوئی پکڑ نہ ہونے کا واقعہ قربِ قیامت کی اس نشانی کو کھول کھول کر بیان نہیں کر رہا۔

ہم دل کی تسلی کو یہ بودی دلیل دے لیتے ہیں کہ معاشرے میں بڑھتی غربت، بیروزگاری اور طبقاتی کشمکش نے معاشرے کو اخلاقی بے راہروی کی جانب دھکیلنے کا کام آسان بنایا ہے ہمیں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا اور انٹرنیٹ کے ذریعے گھر گھر میں پہنچائے جانے والے لُچر پن کو بھی معاشرتی گراوٹ کے پھیلائو کی دلیل بنانے میں آسانی ہو سکتی ہے اور پھر عیاش طبقہ اشرافیہ اپنی دھن دولت کے انبار سے ذہنی عیاشی اور آسودگی کے اہتمام کے کیا کیا ذرائع اختیار کرتا ہے ہم اسے بھی مزارِ قائد کے واقعے سے جوڑ کر لمحہ بھر کیلئے دل کو جھوٹی تسلی دے سکتے ہیں مگر یہ سارے حقائق اپنی جگہ پر موجود ہونے کے باوجود اخلاقی گراوٹوں کی انتہا کی جانب لپکے دوڑے چلے جانے والے ہمارے معاشرے کی اصلاح کی کوئی گنجائش بچی بھی ہے یا نہیں؟ یہ سوچیں اور مایوس ہوں تو پھر قیامت ہی قیامت ہے۔

اخلاقی گراوٹوں کا شاہکار بنے اس معاشرے میں اگر سات ماہ کی بچی کے ساتھ جنسی بداخلاقی ہو جاتی ہے اور کسی کے کانوں پر کوئی جوں رینگتی ہے نہ کسی آنکھ سے آنسو کا کوئی ایک قطرہ ٹپکتا ہے تو جناب قربِ قیامت کی اس سے بڑی نشانی اور کیا ہو سکتی ہے۔ ہم آزادیٔ اظہار اور شخصی آزادیوں کے نام پر ایسے ایسے کرتوت اور لچھن دیکھ رہے ہیں کہ آنکھوں کی حیا بھی معدوم ہونے لگی ہے۔ ہماری فلم انڈسٹری تو اپنا بوجھ نہ سہارتے ہوئے تباہ ہو چکی ورنہ بے راہروی کا سارا ملبہ ہم اس فلم انڈسٹری پر ڈال کر اپنے تئیں مطمئن ہو کر بیٹھ جاتے مگر آج کی بے راہروی پر تو فلم انڈسٹری سے منسوب بے راہروی کے قصے بے رنگ، پھیکے اور بودے نظر آتے ہیں، آج گھر گھر اور ہر گھر کے تقریباً ہر کمرے میں موجود ٹیلی ویژن، کمپیوٹر، لیپ ٹاپ حتیٰ کہ کمسن بچوں بچیوں کے ہاتھوں میں موجود موبائل فون سیٹ بھی فحاشی کے اڈوں کی منظرکشی کر رہے ہیں۔ پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر چلنے والے کمرشلز بے راہروی کا چلن اختیار کرنے کا سرعام درس دیتے نظر آتے ہیں اور اختلاطِ مرد و زن کی حوصلہ افزائی ہی نہیں کرتے، اس کی راہ بھی سجھاتے ہیں، کیا اس ساری بے حیائی کو جدید ٹیکنالوجی کی ضرورت کے کھاتے میں ڈال کر اطمینانِ قلب حاصل کر لیا جائے۔ اگر ہمارے معاشرے میں بے حیائی کے فروغ کا ایسا کھلم کھلا ماحول پیدا کیا جاتا رہے گا اور بداخلاقی کے کسی جرم میں پکڑ کا تصور ہی غائب ہو جائے گا تو پھر ہمیں مزارِ قائد پر سرعام قحبہ خانہ چلانے والے مناظر پر بھی احتجاج کا کیا حق پہنچتا ہے۔ اگر پیمرا کو محض نمائشی کاغذی ادارہ بنا کر کسی شیلف میں چھپا رکھنا ہے۔ بداخلاقی کی سرکوبی کے تعزیری قوانین کی عملداری میں قائم نہیں ہونے دینی اور اس مجہول تصور پر ہی بے حیائی کے پھیلائو کا جواز قبول کر لینا ہے کہ ہم جدید ٹیکنالوجی سے ہونے والی دنیا کی ترقی سے خود کو الگ تھلگ نہیں رکھ سکتے تو ہم پھر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر کے قیامت کی نشانیوں کو بھی اپنی نظروں سے اوجھل نہیں کر سکتے۔ تو پھر جب قانون موجود ہے، قانون نافد کرنے ادارے موجود ہیں اور قانون کی عملداری کا تقاضہ بھی کیا جاتا ہے تو حضور یہ تقاضہ نبھانے کے لئے پھر نفاذِ شریعت کے تقاضوں کا کیوں جواز نہیں نکلے گا۔ ہم بانیٔ پاکستان کے مزار کا تقدس بھی محفوظ نہیں کر پائے تو گھر گھر پھیلائی جانے والی بے حیائی کے سدباب کے لئے بھی کہاں سنجیدہ ہو پائیں گے۔ اگر بانیٔ پاکستان کے مزار کے اندر قحبہ خانہ کی اجازت سندھ فیسٹیول کے باعث سندھ کی ثقافت کے فروغ کے کسی پراجیکٹ کا حصہ ہے تو پھر ہمیں معاشرتی اقدار و اخلاقیات کا جنازہ اُٹھا کر اس کی فاتحہ بھی پڑھ لینی چاہئے۔ بھئی کون ہے جو اس ساری پھیلتی بے راہروی کا نوٹس لے گا، اب تو ’’سووموٹو‘‘ بھی کہیں گرجتا نظر نہیں آتا۔ پھر کیا سارے سرکشوں کو نوید دے دی جائے کہ ان کے کسی بھی معاملے کی پکڑ کا زمانہ اب لد چکا ہے  ؎  جو چاہے آپ کا حُسن کرشمہ ساز کرے۔ غضب خدا کا، ہم اپنے ہاتھوں سے ہی اپنے لئے قیامت توڑنے کا اہتمام کر رہے ہیں خود ہی اپنے اپنے وجود کو مُردہ بنا کر معاشرے کو اس کے تعفن سے آلودہ کئے جا رہے ہیں اور پھر توقع رکھتے ہیں کہ کوئی جھاڑو پکڑ کر صفائی کرنے والا بھی نہیں آئے گا۔ نہیں جناب! ایسا تعفن تادیر برداشت نہیں ہو پائے گا، اس لئے ڈرو اس وقت سے جب عیش کوشی، موج مستی کے سب اسباب دھرے رہ جائیں گے اور وہ ہو گا قدرت کا انصاف جس سے بچائو کا کسی میں یارا ہے نہ چارہ

یہ گھڑی محشر کی ہے تُو عرصۂ محشر میں ہے
پیش کر غافل اگر کوئی عمل دفتر میں ہے
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com