ماں بولی اور دھرتی ماں کو لگے روگ
Feb 21, 2014

میرے ’’گرائیں‘‘ راجا نیّر ہمہ جہت شخصیت کے مالک ہیں پنجابی اردو میں بے تکان لکھتے ہیں، غضب کی شاعری کرتے ہیں، فوٹو گرافی کے فن میں اتنے یکتا ہیں کہ قدرت کا شاہکار نظر آتے ہیں۔ فنِِ مصوری بھی ان سے کہیں بچ کر نہیں جا سکا۔ کسی کتاب کا ٹائٹل بناتے ہیں تو اس میں خیالات کی رعنائیاں جھلکتی نظر آتی ہیں۔ بیک وقت صحافی بھی ہیں، کالم نگار بھی ہیں، شاعر، مصور اور عکاس بھی ہیں اور سچ پوچھئے تو زمانے کے رمز شناس بھی ہیں۔ بس اکثر مجھ سے نظر انداز ہو جاتے ہیں مگر میرا یہ گمان وہ ہمیشہ سچ ثابت کر دکھاتے ہیں کہ اپنے لئے میری بے نیازی کے باوجود وہ مجھ سے کبھی ناراض نہیں ہو سکتے، کیوں؟ اس لئے کہ ہمارے درد، ہماری مجبوریاں، ہمارے احساسات حتیٰ کہ زندگی گزارنے کا چلن بھی سانجھا ہے۔

آج آفس آ کر اپنے موبائل فون کی کالز لسٹ چیک کی تو مِسڈ کالز میں راجا نیّر کا نام بھی موجود تھا۔ میں نے فوراً انہیں کال ملائی وہ حسبِ معمول اضطرابی کیفیت میں بولے ’’بھائی جان کل ماں بولی دیہاڑ اے، تُسیں اوہدے چہ کیہ حصہ پا رہے او؟‘‘ ارے ہم نے ماں بولی کو اس قابل چھوڑا ہے کہ اس کا دن منانے کا کریڈٹ لیں، بے شک فیشنی کلچر میں رنگی بعض این جی اوز کی جانب سے آج 21 فروری کو مدر لینگوئج ڈے‘‘ کی مناسبت سے ایک ’’واک‘‘ کے ذریعے ماں بولی کے ساتھ اپنی ’’محبت‘‘ کا اظہار کیا جا رہا ہے اور ماں بولی دیہاڑ میں حصہ ڈالا جا رہا ہے مگر مادری زبان کے ساتھ ساتھ ان مغرب زدہ طبقات نے مادرِ وطن کا بھی جو حشر کر رکھا ہے ان سے بھلا توقع رکھی جا سکتی ہے کہ وہ ’’مدر لینگوئج ڈے‘‘ کی مناسبت سے اپنی دھرتی ماں کے ساتھ وابستگی اور اس کی مناسبت سے دھرتی ماں کے ’’دسنیکوں‘‘ کے ساتھ اپنائیت اور اخوت و رواداری کے جذبوں کو فروغ دینے کی کسی دردمندی کا اظہار بھی کر پائیں گے۔ میں خود بھی راجا نیّر کے اصرار پر اس کالم کے ذریعے ہی ’’ماں بولی دیہاڑ‘‘ میں بادل نخواستہ حصہ ڈال رہا ہوں ورنہ اغیار کے ہاتھوں مادرِ وطن (دھرتی ماں) کی درگت بنتی دیکھ کر ہم خاموش ہیں تو اپنی ماں بولی کے ساتھ وابستگی جتانے کا بھی ہمیں کیا حق پہنچتا ہے۔ بے شک ماں سے بڑھ کر اپنائیت کا جذبہ اور کسی دل میں پیدا نہیں ہو سکتا اور جذبے کی اس صداقت کے ناتے ہی اپنی دھرتی، اپنی زبان کے ساتھ اپنائیت اور جڑت کے اظہار کے لئے ماں بولی اور دھرتی ماں کے الفاظ ہی ابلاغ کا بہترین ذریعہ نظر آتے ہیں۔ اگر کسی سچے، کھرے جذبے کا حوالہ دینا ہو تو اسے لفظ ماں کے ساتھ منسوب کر دیا جائے، سارا مفہوم واضح ہو جائے گا اور پھر اپنے دکھوں کا اظہار بھی تو ماں کے سامنے ہی آسودگی کے ساتھ کیا جا سکتا ہے کہ اس اظہار میں ماں کی اپنی تڑپ بھی شامل ہوتی ہے

مائے نی میں کِنّوں آکھاں
درد وچھوڑے دا حال نی

یہ ماں کی اپنائیت ہی ہے جو درد کے اظہار میں درماں بھی بن جاتی ہے اپنے کسی درد کا اظہار مامتا کو سامنے رکھ کر کیا جائے تو وہ درد بھی لذت بن جاتا ہے

اینے پھٹ نیں میرے دل تے
جِنے سِر دے وال نی مائے

اور آج ماں دھرتی کی کوکھ اُجاڑی جا رہی ہے مگر ہمارے دل ہیں کہ بے حس ہوئے پڑے ہیں، ماں بولی تو ہم نے پہلے ہی خود کو مغربی کلچر کا اسیر بنا کر تج دی ہے۔ اب دھرتی ماں کی سلامتی کے خلاف جاری دیسی بدیسی سازشوں کے ادراک سے بھی ہم محروم ہونے لگے ہیں۔ بھئی پہلے دھرتی ماں کو تو امن و آشتی کا گہوارہ بنا لو، اسے تو اغیار کی سازشوں سے بچا لو کہ اب تو اس کو خاکستر کرنے والی آگ دامن تک آ پہنچی ہے۔ اگر خدانخواستہ ہم مادرِ وطن سے بھی محروم کر دئیے جائیں گے تو ماں بولی بھی بس دلوں میں ہی بستی رہ جائے گی۔ وزارتِ داخلہ کی جانب سے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں گذشتہ روز جو رپورٹ پیش کی گئی ہے اس میں مادرِ وطن کتنی گھنائونی سازشوں میں گھری دکھائی گئی ہے اگر آج ہم  ان سازشوں کو بھانپ کر بھی مادرِ وطن کے تحفظ کیلئے کچھ نہیں کر رہے تو ماں بولی کیلئے دلوں میں سرد ہونے والے جذبات کو بھی ہم کہاں سے گرمائش فراہم کر پائیں گے۔ وزارتِ داخلہ نے مرض کی نشاندہی کر دی ہے مگر اس کے علاج کیلئے کون سا نسخہ کارگر اور مجرب ہو سکتا ہے اور علاج کیسے اور کس نے کرنا ہے، کیا اس کا تعین کرنا وزارتِ داخلہ کی ذمہ داری نہیں؟ اگر اندر اور باہر سے ہماری مادرِ وطن کو چچوڑنے کے لئے جونکیں تیار بیٹھی ہیں اور اغیار نے دھرتی ماں کا سینہ پہلے ہی چھلنی کیا ہُوا ہے تو دھرتی کے ہر بیٹے پر دھرتی ماں کو بچانے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے سو آج ماں بولی بھی ہم سے یہی تقاضہ کر رہی ہے۔ آپ ’’واک‘‘ کا اہتمام کر کے ماں بولی کے ساتھ اپنی وابستگی جتانا چاہتے ہیں جبکہ آج آپ کو دھرتی ماں کے سینے پر کھیلے جانے والے آگ اور خون کے کھیل کا ’’اپائے‘‘ کرنا ہے ورنہ ماں بولی کی چنگاری بھی دھرتی ماں کے خاکستر کا حصہ بن جائے گی، آپ دھرتی ماں کو بچانے کا جتن کریں، ماں بولی کی بقاء کا بھی یہی تقاضہ ہے اور ذرا سوچ لیجئے۔ دھرتی ماں کو فرقہ واریت کے علاوہ علاقائیت اور لسانیت کی جونکیں بھی تو نہیں چاٹ رہیں؟ پھر کیا ہمیں قومیت اور قومی زبان کو فروغ دینے کی زیادہ ضرورت نہیں، ہم دھرتی ماں کو چمٹی جونکوں کے لگائے زخم کہاں کہاں سے صاف کریں گے۔ خدارا اس درد کو لادوا نہ بننے دیں، ہم دھرتی ماں کو فرقوں، علاقوں، زبانوں میں تقسیم کریں گے تو اس کے ناتواں بنائے گئے وجود کو خود ہی دھرتی ماں کے درپے دشمنوں کے حوالے کر دیں گے۔ سو آج پہلے دھرتی ماں کو بچائو، قومی زبان کو پھیلائو کہ اس سے ہی ہم یکجہت ہو کر اپنی ساری اقدار و روایات کی بقا کا کوئی اہتمام کر سکتے ہیں۔ ہماری قومی زبان اردو کن سازشوں میں گھری ہے ’’ماں بولی دیہاڑ‘‘ منانے والو! اس کی جھلک سوشل میڈیا کے ذریعے زبانِ زدعام ہونے والی ایک نظم کے ذریعے بخوبی دیکھی جا سکتی ہے۔ ماں بولی کو اُجاگر کرنے کے لئے آج اپنی ’’واک‘‘ میں اس نظم کی ’’شیرینی‘‘ بھی شامل کر لیں شاید اس سے آپ کے فروغِ ماں بولی کے جذبات اور بھی پختہ ہو جائیں۔

الوداع اردو
سنو! یہ فخر سے اِک راز ہم بھی فاش کرتے ہیں
کبھی ہم منہ بھی دھوتے تھے مگر اب ’’واش‘‘ کرتے ہیں
تھا بچوں کے لئے بوسہ مگر اب ’’کِس‘‘ ہی کرتے ہیں
ستاتی تھیں کبھی یادیں مگر اب ’’مِس‘‘ ہی کرتے ہیں
چہل قدمی کبھی کرتے تھے اور اب ’’واک‘‘ کرتے ہیں
کبھی کرتے تھے ہم باتیں مگر اب ’’ٹاک‘‘ کرتے ہیں
کبھی تھے امی ابّو جو وہی اب ممی پاپا ہیں
کبھی تھا جو غسل خانہ، بنا وہ ’’باتھ روم‘‘ آخر
بڑھا جو اور اِک درجہ بنا وہ ’’واش روم‘‘ آخر
کبھی تو درد ہوتا تھا مگر اب ’’پین‘‘ ہوتا ہے
پڑھائی کی جگہ پر اب تو ’’نالج گین‘‘ ہوتا ہے
(اِنا للہِ و انا اِلیہ راجعون)
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com