"پسینہ پونچھئے اپنی جبیں سے"
Feb 17, 2014

وش فہموں کو تو مشرف غداری کیس کے فیصلہ تک یہی خوش فہمی (جو درحقیقت غلط فہمی ہے) لاحق رہے گی کہ مشرف کو انصاف کے ترازو سے اُڑنچھو کرانے کے لئے بھی اب کوئی اُڑن کھٹولا آیا ہی چاہتا ہے۔ ہر آہٹ اور ہَوا کے ہر جھونکے پر ان کا دل بلیّوںاُچھلنے لگتا ہے کہ بس اب ان کے ”مربی و محسن“ مشرف کے قید و بند کی صعوبتوں سے باہر نکل جانے کا مرحلہ آن پہنچا ہے، ان میں سے کسی کو اب تک پاکستان کے فعال ہونے والے انصاف کی عملداری پر یقین نہیں آیا۔ بس ان کے ذہن میں ایک پیچ اُلجھا ہوا ہے، ایک گرہ بندھی ہوئی ہے کہ کسی میں مجال ہے جو مشرف کا بال بھی بیکا کر سکے‘ انہوں نے یہاں کے قانون‘ انصاف اور ریاستی اتھارٹی کو ریمنڈ ڈیوس ہی کی طرح غچہ دے کر محفوظ ٹھکانے پر جا پہنچنا ہے۔ میرے ایک دو کرمفرماﺅں نے تو میرے ساتھ یکطرفہ طور پر شرط بھی باندھ رکھی ہے کہ مشرف نے ملک ہے باہر جانا ہی جانا ہے اور میں نے یہ شرط ہار کر انہیں کھانا کھلانا ہی کھلانا ہے۔ میں انشاءاللہ یہ شرط جیت کر بھی انہیں کھانا کھلاﺅں گا کہ اس سے رزق میں اضافہ ہوتا ہے مگر میرا گمان ہی نہیں میرا یقین بھی اب مشرف غداری کیس کے معاملہ میں مزید راسخ ہو گیا ہے کہ جرنیلی آمریتوں اور ایسی ہی ممکنہ آمریتوں کے لئے اپنے دلوں میں کسی ماورائے آئین اقدام کا خنّاس دل میں پالنے والوں کے لئے اس کیس نے ہی اب عبرت کا نشان بننا ہے‘ مشرف کے ساتھ انصاف اور قانون کا تقاضہ پورا ہونا ہے اور اسی دھرتی پر انہوں نے اپنے خنّاسی اعمال کا خمیازہ بھگتنا ہے اور لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے۔ جنہیں یہ منظر اچھا نہ لگے وہ بے شک وقوعہ کے وقت اپنی آنکھیں بند کر لیں اور اس سے پہلے وہ اپنی خواہشوں کے جتنے گھوڑے دوڑا سکتے ہیں دوڑا لیں، شرطیں باندھنے والوں کو بھی کھلی چھوٹ ہے اور مشرف روانگی کے لئے کسی بدیسی اُڑن کھٹولے کی آمد کے منتظرین کو بھی انصاف کی موجودہ عملداری پر اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کی مکمل آزادی ہے۔

گذشتہ روز ”وقت ٹی وی“ کے پروگرام نیوز لاﺅنج میں پروگرام کے ہوسٹ عمران ثنا¿اللہ نے یقیناً اسی پس منظر میں وزیراعظم میاں نواز شریف کے ایک بیان کی جانب مجھے متوجہ کیا جو سعودی ولی عہد، نائب وزیراعظم اور وزیر دفاع شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے ایک بھاری سعودی وفد کے ساتھ پاکستان کے دورے پر آنے کے حوالے سے تھا اور میاں نواز شریف کی بطور خاص اس وضاحت پر مبنی تھا کہ سعودی ولی عہد مشرف کو لے جانے یا ان کا کوئی معاملہ طے کرانے نہیں آئے۔ خوش فہمیوں کے پراپیگنڈے کا یقیناً اتنا اثر تو ضرور ہُوا ہے کہ مشرف کی مبینہ اُڑن کھٹولا سازشی تھیوری پر خود وزیراعظم کو وضاحت کرنا پڑی ہے جبکہ اس سے پہلے سعودی شہزادے اور وزیر خارجہ سعود الفیصل گذشتہ ماہ پاکستان آئے تو مشرف کے معاملہ پر ان کے دورہ¿ پاکستان کے ساتھ منسوب پراپیگنڈے کی انہیں بھی خود وضاحت کرنا پڑی تھی۔ تحریک انصاف کے صدر مخدوم جاوید ہاشمی بھی یقیناً اسی پراپیگنڈہ مشینری کے زیر اثر آ کر یہ یقین کئے بیٹھے ہیں کہ کوئی اُڑن کھٹولا آئے گا اور ہمارے بہادر کمانڈو جرنیل مشرف کو مکھن میں سے بال کی طرح نکال کر یہاں سے اُڑا لے جائے گا مگر مشرف کے معاملہ میں اب تک جتنی بھی سازشی تھیوریاں سامنے آئی ہیں وہ ساری کی ساری نقش بر آب ثابت ہوئی ہیں۔ سعودی شاہی خاندان کے ارکان اور حکام کی یکے بعد دیگرے پاکستان آمد پر تو خوش فہموں کا مشرف روانگی کا کاروبار خوب چمک رہا ہے چنانچہ وہ اہم سعودی حکام کے پاکستان کے دوروں کے اصل پس منظر اور ان کی پاکستان کے لئے افادیت سے قوم کو آگاہ کرنے میں بھی بُخل سے کام لے رہے ہیں۔

ابھی دیکھئے 15 فروری کی شام اسلام آباد پہنچنے والے سعودی وفد میں سعودی عرب کے چار اہم ترین وزراءشامل ہیں، اس وفد کی قیادت سعودی ولی عہد اور نائب وزیراعظم کر رہے ہیں جبکہ سعودی وزیر اطلاعات و ثقافت ڈاکٹر عبدالعزیز بن محی الدین کے علاوہ سعودی وزیر تجارت اور نائب وزیر خارجہ بھی اس وفد کا حصہ ہیں اور پاکستان کی سرزمین پر اس وفد کا استقبال خود وزیراعظم نواز شریف نے کیا ہے جو اسی وقت ترکی سے پاکستان واپس آئے تھے، اس سعودی وفد کی پہلی باضابطہ ملاقات صدر مملکت ممنون حسین سے ہوئی ہے اور پاکستان میں سعودی سفیر ڈاکٹر عبدالعزیز الغدیر نے سعودی وفد کے اعزاز میں عشائیہ دیا ہے تو کیا یہ سب کچھ مشرف کو پاکستانی قانون و انصاف سے چھڑا لے جانے کا تردد تھا؟ جی ایسا ہرگز نہیں ہے بلکہ آپ یہ دیکھئے کہ اس اعلیٰ سعودی وفد کا دورہ¿ پاکستان مکمل ہوتے ہی صدر ممنون حسین اور وزیراعظم نواز شریف ایک دوسرے کے آگے پیچھے چین کے دورے پر روانہ ہو رہے ہیں۔ یہ سرگرمیاں اور تحرک کیا مشرف کی ”اک جندڑی“ کو بچانے کا وسیلہ ہیں؟ ارے کچھ خدا کا خوف کریں اور ملکی مفادات کے تناظر میں بھی اس دورے کی افادیت کا جائزہ لے لیں۔ یہ سال تو اس خطہ میں بھی اور گلوبل ویلج میں بھی بین المملکتی باہمی تعاون کی پالیسیوں میں تبدیلی اور اپنی اپنی سمت درست کرنے کی بنیاد رکھ رہا ہے، اگر ایسی ہی کسی حکمتِ عملی کے تحت امریکہ اپنے سنپولئے اسرائیل کی سلامتی کے درپے اپنے دشمنِ اول ایران کے ساتھ دوستی کی گرہ باندھ رہا ہے‘ امریکی ٹکڑوں پر پلنے والا افغان کٹھ پتلی صدر کرزئی اپنے اس مربی و محسن امریکہ کو آنکھیں دکھا رہا ہے اور سوشلزم اور کمیونزم کی افادیت کی بحث میں باہم اُلجھے چین اور روس کے علاقائی سلامتی کے حوالے سے خیالات میں ہم آہنگی کی فضا پیدا ہو رہی ہے تو علاقائی اور عالمی تعاون کی حکمتِ عملی میں اس تغیّر و تبدل سے پاکستان کی اہمیت اور افادیت بھی تو اُجاگر ہو رہی ہے ناں حضور والا ، آپ مشرفی خوش فہمیوں سے باہر نکلیں اور سعودی ولی عہد کے دورے کا پاکستان کے مفادات کے حوالے سے جائزہ لے کر قوم کو اچھی اچھی خبریں سُنائیں کیونکہ اب

حالات میکدے کے کروٹ بدل رہے ہیں
ساقی بہک رہا ہے مے کش سنبھل رہے ہیں

”ساقی“ کو امریکی لبادہ پہنا کر دیکھیں کہ وہ کتنا بہک رہا ہے اور سعود و پاک کتنے سنبھل رہے ہیں۔ سعودی نظام کی سلامتی کے خلاف امریکی سازشوں کا توڑ یقیناً پاکستان کی امداد و تعاون سے ہی کیا جا سکتا ہے، یقیناً سعودی شاہی خاندان کو یہ احساس ہے کہ سعودی عرب کے تیل کے ذخائر اور دوسری اہم تنصیبات کی حفاظت کے نام پر امریکہ کے ایک لاکھ فوجی وہاں خود کو پال رہے ہیں اور اپنے غیر شرعی کرتوتوں سے پاک سعودی دھرتی کو بھی ناپاک کر رہے ہیں اور جس کا کھا رہے ہیں اس کو گھور بھی رہے ہیں تو ان سے خلاصی پا کر ان سعودی تنصیبات کی حفاظت کے لئے پاکستان کی افواج سے بہتر کام لیا جا سکتا ہے۔ اس سے دوطرفہ اعتماد کی فضا مزید مستحکم ہو گی تو دوطرفہ تعاون کے لئے نئے مزید راستے بھی کھلتے جائیں گے پھر کیا مثالی فضا استوار ہو گی جب پاک سعودی تعاون سے خطے میں طاقت کے ایک نئے بلاک کی تشکیل بھی ممکن ہو جائے گی جس میں چین اور روس کی آشیرباد بھی شامل ہو گی چنانچہ کسی کے واحد سپر پاور ہونے کا زعم بھی ٹوٹ جائے گا اور اس کی سلامتی کے نام پر دنیا میں کی جانے والی توڑ پھوڑ کو روکنا بھی ممکن ہو جائے گا۔ تو حضور آپ ملک کے فائدے کا سوچیں‘ آپ چاہیں تو آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے گذشتہ ماہ کے دورہ¿ سعودی عرب کو بھی اپنے مربی مشرف کے لئے جان کی امان سے منسوب کر سکتے ہیں مگر اب یہ سارے خواب ٹوٹ کر تلخ حقیقتوں میں تبدیل ہونے والے ہیں۔ بس خاطر جمع رکھئے حضور والا! لومڑی کے شکار سے آسمان ٹوٹے گا اور قیامت آئے گی تو صرف اس لومڑی کے لئے ہی آئے گی جبکہ وطن عزیز کو اب اچھی اچھی خبریں ملنے والی ہیں۔

نہ تم سمجھے نہ ہم آئے کہیں سے
پسینہ پونچھئے اپنی جبیں سے
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com