"بنا ہے عیش تجمل حسین خاں کے لئے"
Feb 08, 2014

سلطانیٔ جمہور میں راندۂ درگاہ جمہور کو خوشی، خوشحالی کب نصب ہو گی، یہ ہمارے لئے تو ایک فکرمندی والا سوال ہے مگر کیڑے مکوڑے انسان کو سر اٹھا کر چلنے نہ دینے کا اہتمام کر کے ہی تو حکمران طبقات اپنی سیاست کو فروغ دیتے ہیں اس لئے کوئی حکمران، کوئی سیاست دان غریب، پسماندہ طبقات کی بہتری اور ان کا مقدر سنوارنے کی بات کرتا ہے تو اس بات میں دلپذیری ہونے کے باوجود اس پر یقین نہیں کیا جا سکتا کیونکہ عام آدمی کا مقدر سنور جائے اور مقدر سنورنے کے عمل میں سرخرو ہو کر وہ بھی عام آدمی کی کلاس سے اشرافیہ کلاس میں چلا جائے تو پھر عام آدمی کا مقدر سنوارنے کا سیاسی نعرہ ہی بیکار ہو جائے گا۔ پھر تو سیاست کا سارا رونق میلہ ہی ختم ہو جائے گا۔ پھر تو سیاسی دکانداری میں غالب اکثریت والے ووٹرز کو لبھانے اور اپنے حق میں اس کا ووٹ حاصل کرنے کے لئے کوئی نیا نعرہ ڈھونڈنا اور ایجاد کرنا پڑے گا جس میں یقین کے ساتھ  بھی نہیں کہا جا سکے گا کہ یہ نیا نعرہ عام آدمی کا مقدر سنوارنے کے دل لبھانے والے نعرے کا متبادل بن بھی پائے گا یا نہیں۔ تو جناب خاطر جمع رکھئے، اس دل لبھانے والے مروجہ نعرے کو زندہ رکھنے کی خاطر جمہور کی خوشی، خوشحالی کا کبھی اہتمام نہیں ہونے دیا جائے گا۔ وہ اسی طرح اپنی محرومیوں پر کڑھتا، روتا، ایڑیاں رگڑتا مرتا رہے گا کہ میرٹ کی حکومتی پالیسی کا اطلاق بھی تو اسی عام آدمی اور مجبور و مقہور انسان پر ہی ہونا ہے۔ اس کی بہتری کے نام پر بیرونی فنڈنگ کے راستے بھی تو نکالنے ہیں اور اسی نعرے کا سہارا لے کر این جی اوز نے بھی تو اپنا کاروبار چلانا ہے۔ جب عام آدمی کا وجود  تصویر سیاست میں رنگ بھرنے کا باعث بن رہا ہے تو اسے صابر شکر ہو کر اپنے اس کردار پر ہی نازاں رہنا چاہئے اور مطمئن ہونا چاہئے کہ حکمران طبقات کی جانب سے اس کے دن ’’پھیرنے‘‘ کے لئے کم از کم دردمندی کا اظہار تو ہو جاتا ہے۔ بھئی اگر عام آدمی کی کایا پلٹ جائے اور اس کا شمار بھی اشرافیاؤں میں ہونے لگے تو پھر سلطانیٔ جمہور  کا زمانہ لانے کے سنہرے، سہانے خواب کون دکھائے گا۔ جب جمہور (کیڑے، مکوڑے، راندۂ درگاہ انسان) کا وجود ہی نہیں رہے گا تو سلطانیٔ جمہور کا فلسفہ ہی بے معنی ہو جائے گا اس لئے جو قدریں اور جو مثالیں عام آدمی کے وجود کے ساتھ وابستہ ہیں انہیں قائم ہی رہنے دیا جائے ورنہ کل کو یہاں بھی کسی سر پھرے کے سر میں عام آدمی پارٹی کی عملی تشکیل کا سودا سما گیا تو سیاست کا رنگ اور چلن ہی بدل جائے گا۔ یہی پس منظر میرے اس یقین کو پختہ بنانے کے لئے کافی ہے کہ جمہور نے نسل ہا نسل پسماندہ اور مجبور و محروم ہی رہنا ہے اور اقتدار کے ایوانوں کی رونقیں اس عام آدمی کے ووٹ کے ذریعے منتخب ہو کر آنے والے اشرافیائوں سے ہی سجنی ہیں۔ لوٹ مار کا انہیں ہی لائسنس ملنا ہے، سارے قومی اور قدرتی وسائل پر انہی کی اجارہ داری ہونی ہے، ملازمتوں اور مراعات کے دروازے انہی کے لئے کھلے رہنے ہیں اور پدرم سلطان بود ہی نہیں، پسرم سلطان بھی انہی کا مقدر ہے کہ بنا ہے عیش تجمل حسین خاں کے لئے۔

خادم پنجاب میاں شہباز شریف تو اپنے سابقہ ادوار اقتدار سے ہی راندۂ درگاہ طبقات کی محرومیوں کا تذکرہ کر کے ان کے ہاتھوں کسی خونیں انقلاب کی منظر کشی کر رہے ہیں۔ گذشتہ دنوں بھی انہوں نے ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے اپنے جوش خطابت کے موتی عام آدمی کی محرومیاں دور کرنے کے نعرے کے ذریعے ہی بکھیرے جن کے بقول محروم طبقات کو کسمپرسی کی زندگی بسر کرتے دیکھتا ہوں تو میرا دل خون کے آنسو روتا ہے اور پھر یہ سوچ کر  میرے دل کا درد اور بڑھ جاتا ہے کہ ساری محرومیاں آخر عام آدمی کا مقدر ہی کیوں ہیں۔ ارے کیا خوب ہے

اقبال بڑا اپدیشک ہے، من باتوں میں موہ لیتا ہے
گفتار کا غازی تو یہ بنا، کردار کا غازی بن نہ سکا

اپنے تسلسل والے اقتدار کے پانچ چھ برس بعد تو انہیں عام آدمی کے خراب مقدر پر اپنے خون کے آنسو روتے ہوئے دکھانے کے بجائے عام آدمی کی محرومیاں دور کر کے اس کی آسودگی کی تصویر دکھانی چاہئے تھی۔ وہ بااختیار ہو کر بھی آعام آدمی کی حالتِ زار پر کڑھتے اور خون کے آنسو روتے ہی نظر آئے ہیں تو کیا پھر یہی سیاست نہیں ہے اور اس سیاست میں مرحوم حبیب جالب کے بقول

کہاں بدلے ہیں دن فقیروں کے
دن پھرے ہیں فقط وزیروں کے

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری وزیروں کی بجائے فقیروں کے دن ’’پھیرنے‘‘ کا غم لئے ہی اپنے منصب سے سبکدوش ہو گئے۔ اب چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی بھی اسی فکرمندی کے اسیر نظر آتے ہیں۔ گذشتہ روز اشرافیاؤں کے لاگو کردہ گیس چوری کے کلچر کے خلاف ایک کیس کی سماعت کے دوران فاضل چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ ملکی خزانہ خالی ہے، غریبوں کے چولہے بند پڑے ہیں مگر بڑے لوگ چوری کر کے عدالتوں سے تقاضہ کر رہے ہیں کہ ان کی ضمانتیں منظور کی جائیں۔ جی! یہ سارے تقاضے ان ’’بڑے‘‘ لوگوں کے لئے ہی تو مخصوص ہیں اور ان کی زبان سے یہ تقاضے ہر مجاز فورم سے پورے کرانے کے لئے ہی سامنے آتے ہیں۔ چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی بھی ان تقاضوں کا نوٹس لیتے لیتے اگلے چار ماہ میں اپنے منصب سے سبکدوش ہو جائیں گے مگر عام آدمی کا مقدر سنوارنے کے نام پر چمکائی جانے والی سیاست کبھی نہیں گہنائے گی کہ یہ ان کے مقدر کی روشنائی ہے

ہم بھی ہیں وہی، تم بھی ہو وہی، یہ اپنی اپنی قسمت ہے
تم کھیل رہے ہو خوشیوں سے، ہم ڈوب گئے ہیں آہوں میں

اشرافیاؤں کے اس درخشاں مقدر میں کسی راندۂ درگاہ متوسطیئے کو نقب لگانے کی بھلا جرأت ہو سکتی ہے؟ جب خونیں انقلاب کا نعرہ بھی اشرافیاؤں کی زبان پر سج چکا ہو تو اس انقلاب کے تصور کی ہی بساط لپٹی سمجھو۔ اس لئے جناب! سارے اشرافیاؤں کو مبارک ہو کہ ’’بنا ہے عیش تجمل حسین خاں کے لئے۔‘‘ غریب کا بچہ دہی کے ساتھ کلچہ کھاتا ہے، تیرے باپ کا کیا جاتا ہے۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com