معجزے اور عملیت پسند
Feb 03, 2014

مجھے تو یہ معجزہ ہی نظر آتا ہے۔ کہاں ریل کی پٹڑی پر آسیب کے سائے کا راج تھا۔ ایک ایک کرکے سب مسافر اور مال گاڑیاں بند ہو رہی تھیں۔ جو چل رہی تھیں وہ مسافروں کو 24,24 گھنٹے انتظار کی سولی پر چڑھائے رکھتی تھیں۔ کبھی ریلوے انجنوں کے لئے تیل کی فراہمی گھمبیر مسئلہ بنی نظر آتی۔ کبھی ضعیف العمر ریلوے پینشنرز سخت گرمی کے موسم میں گھنٹوں قطاروں میں لگے اپنے مقدر کو روتے بے ہوش ہوتے نظر آتے۔ کہیں پھاٹک کھلا ہونے پر ریلوے کے کسی جانکاہ حادثے کی خبر ملتی تو ریلوے کے وزیر اور دوسرے حکام اپنے اپنے دامن جھاڑ کر اس سے بری الذمہ ہونے کے فخریہ اعلان کرتے نظر آتے۔ کہیں ریلوے کی قیمتی اراضی کے مال مفت کی طرح کوڑیوں کے مول 50,50 سال کی لیز کے سودے ہمارے کرپشن کلچر کو چار چاند لگاتے نظر آتے اور کبھی زیب داستاں کے لئے ریلوے کی کوئی ایک آدھ اچھائی ڈھونڈنے کی کوشش کی جاتی تو سوائے خفت کے کچھ بھی ہاتھ نہ لگتا۔ سوا 29 ارب کے خسارے میں ڈوبا ریلوے کا قومی ادارہ قومی کھٹارا بن کر قومی ہزیمت کی عکاسی کرتا نظر آتا تھا اور صبح گیا کہ شام گیا والا منظر بن رہا تھا مگر آج اسی ریلوے کی پٹڑی آباد ہو کر نہ صرف ٹرینوں کے معمول پر آنے‘ تواتر سے چلتے رہنے اور لوئر مڈل کلاس کے لئے سفری سہولتوں میں آسانی پیدا کرنے کی جوت جگا چکی ہے بلکہ خسارے میں ڈوبا یہ ریلوے اب کما¶ پوت بھی بنتا نظر آرہا ہے۔ اس کایا پلٹ کو کسی معجزے سے ہی تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ مرحوم قابل اجمیری کی ایک مشہور غزل کا یہ شعر مجھے ریلوے کی موجودہ صورتحال کا ہی عکاس نظر آتا ہے کہ

وہی زباں‘ وہی باتیں مگر ہے کتنا فرق
تمہارے نام سے پہلے تمہارے نام کے بعد

خواجہ سعد رفیق نے ریلوے کے مردہ ڈھانچے میں نئی روح پھونک کر ٹرینوں کو سبک خرامی کے ساتھ پٹڑی پر دوڑانے کا کارنامہ کیسے سرانجام دے لیا۔ بادی النظر میں تو یہ سب مبالغہ ہی نظر آتا ہے مگر انہوں نے اپنی وزارت کے دوران ریلوے کی 200 دن کی کارکردگی کی پرتیں کھولنا شروع کیں تو یقین سا ہونے لگا کہ ریلوے میں اس مختصر عرصے کے دوران ہونے والی معجزہ نما تبدیلیاں کوئی خواب یا سراب نہیں‘ بلکہ حقیقت ہیں۔

وہ اپنے پیشرو غلام احمد بلور کے بارے میں بھی حسن ظن رکھتے ہیں کہ انہوں نے اپنے ٹرانسپورٹ کے کسی کاروبار کو فروغ دینے کی خاطر ریلوے کی تباہی کا اہتمام نہیں کیا ہو گا کہ ایسا کوئی کیس اور کوئی مثال ان کی ذات سے منسوب ریلوے کی کسی فائل میں موجود نہیں ہے۔ بس انہوں نے روایتی سیاستدان کی طرح اپنی وزارت کو اپنے پارٹی ورکروں اور دوست احباب کی خوشیوں اور راحتوں کے اہتمام کے لئے استعمال کیا۔ ملازمتیں بانٹیں اور ٹھیکے دینے میں کسی بخل سے کام نہ لیا جس سے ریلوے نے بالآخر ٹائی ٹینک کی شکل اختیار کر لی جس کے ڈوبنے سے بچ جانے کو آج کسی زمینی حقیقت کو تسلیم کرانے کے لئے بطور دلیل پیش کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں مگر یہ زمینی حقیقت تو اپنی جگہ موجود ہے کہ اقربا پروری اور لوٹ مار والی سیاست کا چلن آج بھی موجود ہے جس میں منفعت بخش قومی اداروں کو ٹائی ٹینک بنا کر ڈبونے کے مناظر شاید دانستہ طور پر بنائے جا رہے ہیں۔ تو پھر ڈوبتے کو خواجہ سعد رفیق جیسے تنکے کے سہارے کی وہاں بھی کیوں ضرورت محسوس نہیں کی جا رہی؟ آج ریلوے نے گذشتہ دور کی ششماہی کی نسبت تین ارب 43 کروڑ روپے زیادہ کمائے ہیں اور ایک سال کی آمدن کا تخمینہ 25.24 ارب روپے کا لگا کر اس متوقع آمدنی کا 21 ارب 60 کروڑ کا ہدف بھی متعین کر دیا گیا ہے۔ آج کسی ریلوے انجن کے پٹرول نہ ملنے کے باعث بند ہونے کا کوئی خدشہ لاحق نہیں رہا۔ آج ٹرینوں پر پابندی اوقات کی روایت پروان چڑھنے لگی ہے۔ سارے بیمار انجنوں کی درستی ممکن ہو گئی ہے۔ ریلوے کرایوں میں اضافہ کی بجائے ہر ماہ دو ماہ بعد کمی کی نوید بھی مل جاتی ہے۔ دہائی دیتے قطاروں میں لگے ریلوے پینشنرز کو بھی ان کے اپنے بنک سے ہی پینشن کی رقم آسانی کے ساتھ ملنے کے آثار پیدا ہو گئے ہیں اور ریلوے اراضی کی لیز پر جاری لوٹ مار کو بھی نکیل ڈال کر بند کرنے کی فضا پیدا کر دی گئی ہے۔ جبکہ ریلوے کو سیاسی بنیادوں پر نوکریاں دینے والی لوٹ مار سے بھی بچا لیا گیا ہے تو تباہی کی طرف دھکیل کر نجکاری کے لئے نرم چارہ بنائے جانے والے دیگر قومی اداروں کی اسی طرح کیوں کایا نہیں پلٹی جا سکتی؟ اور تو اور آج ٹریڈ یونین کی قائد ریلوے ورکرز یونین بھی ریلوے کی بہتری کے لئے وزیر موصوف کا دم بھرتی نظر آتی ہے اور پنجاب حکومت نے اپنے ذمہ واجب الادا ریلوے کے 88 کروڑ روپے کے بقایا جات بھی ادا کر دیئے ہیں۔ اگر ریلوے کی بہتری کے اقدامات میں وزیر موصوف کے بقول کہیں کوئی رکاوٹ نظر آتی ہے تو وہ عدالتوں کی طرف سے ریلوے کی اراضی کے واگزار کرانے کے عمل کے خلاف حکم امتناعی کا جاری ہونا ہے۔ پھر بھی وزیر موصوف پورے اعتماد کے ساتھ اعلان کر رہے تھے کہ ہم نے ناکامی کا لفظ ریلوے کی ڈکشنری سے ”ڈیلیٹ“ کر دیا ہے۔ وہ اس کارکردگی میں ریلوے کی قائم مقام خاتون چیئرپرسن‘ جی ایم آپریشن اور آئی جی ریلوے کو بھی اپنے جتنا ہی کریڈٹ دے رہے تھے‘ جنہیں ان کے بقول ریلوے کے کونوں کھدروں سے تلاش کرکے اوپر کی سطح پر لایا گیا ہے اور اب ایک پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ بنا کر ریلوے کی ساری اراضی کے باقاعدہ کمپیوٹرائزیشن کے ذریعے اس کے ملکیتی حقوق اجاگر کئے جا رہے ہیں جس کے بعد عدالتی حکم امتناعی کا سلسلہ بھی تھم جائے گا اور صوبوں کی جانب سے ریلوے کی آمدنی سے حصہ مانگنے کے کلچر کی بھی روک تھام ہو جائے گی۔ ابھی تو وزیر موصوف کو آئندہ تین سالوں میں ریلوے کے ذریعے کوئلے کی نقل و حمل سے بھی اس ٹائٹینک بنائے گئے ادارے کو مضبوط سہارا ملنے کی امید ہے اور ان کا خیال ہے کہ اس بزنس سے ریلوے کا سارا خسارہ ختم ہو جائے گا۔ یہ عملیت پسندی کا مظاہرہ ہے یا چھو منتر کا کوئی کمال۔ مگر خواجہ سعد رفیق نے وزیر ریلوے کی حیثیت سے ایک عملاً ڈوبتے ہوئے ادارے کو بچا کر اپنے پا¶ں پر کھڑا کرنے اور اسے منفعت بخش بنانے کی ایک نئی تاریخ ضرور رقم کر دی ہے۔ اگر خسارے میں ڈوبے پی آئی اے اور سٹیل مل جیسے دوسرے قومی اداروں میں بھی اسی جذبے کے تحت بحالی کا عمل شروع کیا جائے تو اگلے دو سو دن قومی ترقی اور عوامی خوشحالی کی نوید بنائے جا سکتے ہیں۔ بس ان اداروں کو خواجہ سعد رفیق جیسے تنکے کے سہارے کی ضرورت ہے۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com