مشکل وقت میں صحیح راستے کا انتخاب !
Jan 31, 2014

کس ایشو نے کیا رُخ اختیار کرنا ہے اس کا اندازہ میڈیا پر اس ایشو پر جاری بحث سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے چنانچہ میڈیا کو بیرو میٹر قرار دینے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ آج کے جدید ٹیکنالوجی کے دور میں تو میڈیا کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے کہ لوگ اپنے سیاسی اور دینی قائدین کی باتوں سے اتنا متاثر نہیں ہوتے جتنا ٹی وی ٹاک شوز اور اخباری کالموں کے ذریعے ان کی سوچ کے دھارے میں رد و بدل پیدا ہوتا ہے شاید اسی حوالے سے پاکستان فورم (سابقہ لاہور فورم) کی گذشتہ روز کی نشست میں بھی غیر رسمی طور پر یہ موضوع ¿ بحث چُنا گیا کہ میڈیا کے لوگوں کی اکثریت طالبان کے خلاف اپریشن کے حق میں ہے یا نہیں۔ میاں خورشید محمود قصوری، بیگم مہناز رفیع، سلیم بخاری، ڈاکٹر عسکری حسن، قیوم نظامی، بریگیڈئر (ر) فاروق حمید، میاں سیف الرحمان، سلمان عابد، فرخ سہیل گوئندی اور میرے سمیت نشست کے تمام شرکاءاس ایک نکتے پر متفق تھے کہ طالبان کے مذاکرات کی راہ پر نہ آنے والے سخت مو¿قف اور ان کی جانب سے بڑھتی ہوئی دہشت گردی کی وارداتوں، جن میں روزانہ سکیورٹی اہلکاروں اور معصوم شہریوں کا خون بہہ رہا ہے، کے پیش نظر اب میڈیا والوں کی بھی غالب اکثریت اپریشن کے حق میں ہو گئی ہے صرف حق میں نہیں بلکہ فوری اپریشن کا تقاضہ کیا جا رہا ہے۔ میاں سیف الرحمان نے اپنے بعض ذاتی تجربات کا حوالہ دے کر انتہا پسندانہ سوچ رکھنے والے شدت پسندوں کے مائینڈ سیٹ کا تذکرہ چھیڑ دیا تو اس بحث میں بھی کم و بیش سب کا اتفاقِ رائے سامنے آیا کہ اس مائینڈ سیٹ کو کسی فوجی اپریشن یا کسی بھی دوسرے طریقے سے بزورِ طاقت ختم نہیں کیا جا سکتا اور یہی مائینڈ سیٹ مذاکرات کے ذریعے دہشت گردی کے خاتمہ کی کوششوں کی راہ میں بھی حائل ہے۔ سلیم بخاری صاحب نے بہت فکر مندی کے ساتھ حالات کا تجزیہ کیا اور اپنی معلومات کی بنیاد پر نشست کے شرکاءکو آگاہ کیا کہ شدت پسندوں کے متعدد بڑے گروپ اپنے خلاف سکیورٹی فورسز کے اپریشن کو ناکام بنانے کیلئے مختلف شہروں میں خودکش حملے اور دہشت گردی کی دوسری وارداتیں کرنے کی تیاری مکمل کئے بیٹھے ہیں جن کے دینی مدارس میں لاکھوں کی تعداد میں موجود طلبہ تربیت یافتہ اور ہتھیار بند ہیں۔ ان گروپوں نے کن شہروں میں کس کو ٹارگٹ کرنا ہے اور کس مقام پر دہشت گردی کی واردات کرنی ہے اس کا بھی انہوں نے ہوم ورک مکمل کر رکھا ہے۔ ان کا تجزیہ تھا کہ جب تک شدت پسند گروپوں کی اس حکمتِ عملی کا مو¿ثر توڑ نہیں کیا جائے گا اس وقت تک نہ صرف اپریشن مو¿ثر نہیں ہو سکے گا بلکہ اُلٹا ملک خانہ جنگی کی لپیٹ میں آ جائے گا۔ اپریشن کی ضرورت سے نشست کے شرکاءمیں سے کسی کو بھی اختلاف نہیں تھا اور یہ اتفاق رائے بھی سامنے آیا کہ عسکری قیادتیں ہر صورت اپریشن کی ٹھان چکی ہیں جس کی نوبت طالبان اپنی وارداتوں میں اضافہ کر کے خود ہی لائے ہیں جبکہ حکومت کے پاس بھی اب اپریشن کے سوا کوئی دوسرا راستہ موجود نہیں رہا اس لئے اپریشن تو اب ہونا ہی ہونا ہے مگر اس اپریشن کی طے کی گئی حکمتِ عملی میں کئی خامیاں موجود ہیں کیونکہ یہ اپریشن شہروں کے اندر شدت پسندوں کی ممکنہ کارروائیوں کا توڑ کئے بغیر کامیاب نہیں بنایا جا سکتا جس کی حکومت اور سکیورٹی ایجنسیوں نے سرے سے اب تک کوئی تیاری ہی نہیں کی۔ چنانچہ اپریشن قبائلی علاقوں میں ہو گا اور اس کے ردعمل میں قیامت مختلف شہروں میں آباد بے گناہ لوگوں پر ٹوٹے گی۔

یہ عجیب مخمصہ ہے کہ اپریشن کے ذریعے شدت پسندوں کا مائینڈ سیٹ بھی تبدیل نہیں کیا جا سکتا، اس کے ردعمل میں شہریوں پر خودکش حملوں اور دہشت گردی کی دوسری وارداتوں کے ذریعے قیامت بھی ٹوٹ سکتی ہے مگر اپریشن کے بغیر کوئی چارہ¿ کار بھی نہیں ہے کہ شدت پسندوں کی بڑھتی ہوئی دہشت گردی سے سکیورٹی اداروں اور حکومت کی اپنی اتھارٹی کا بھرم ٹوٹ رہا ہے۔ پھر اس اُلجھن سے کیسے نکلا جائے؟ میں نے اس بارے میں اپنے ایک گذشتہ کالم میں بھی تجزیہ پیش کیا تھا کہ بلاشبہ انتہا پسندوں کا جو مائینڈ سیٹ آج موجود ہے وہ بعینہ آج سے دس پندرہ سال پہلے بھی موجود تھا مگر اس مائینڈ سیٹ کے باوجود وادی¿ سوات اور شمالی جنوبی وزیرستان سمیت پورے ملک میں امن و استحکام کی مثالی فضا استوار تھی میں نے اس سلسلہ میں صحافیوں کے ایک وفد کے ساتھ وادی¿ سوات کے 1999ءکے دورے میں اپنے مشاہدات کا حوالہ بھی دیا جس کا تذکرہ میں نے اپنے گذشتہ کالم میں بھی کیا تھا، چنانچہ میری اس رائے پر بھی پاکستان فورم کی نشست میں اتفاق رائے کی فضا نظر آئی کہ ہمارا ملک امریکی نائین الیون کے بعد ہی دہشت گردی کی لپیٹ میں آیا ہے جس کے محرکات ہمارے اس وقت کے حکمرانوں کی جانب سے امریکی جنگ میں فرنٹ لائن اتحادی کا کردار قبول کرنے سے پیدا ہوئے۔ ڈاکٹر عسکری حسن کو بھی اس تجزیے سے اتفاق تھا تاہم ان کے بقول نائین الیون سے پہلے تو ہم ویسے ہی طالبان کے حلیف تھے اس لئے وہ ہمارے خلاف کوئی کارروائیاں نہیں کرتے تھے۔

یقیناً اس بارے میں دو رائے ہو سکتی ہے کہ اس وقت امریکی جنگ سے باہر نکلنا ہمارے لئے ممکن اور مفید ہے یا نہیں تاہم میرا گمان ہے کہ ہم امریکی جنگ سے باہر نکل کر گذشتہ دہائی کی پوزیشن پر واپس آ جائیں تو انتہا پسندوں کے مائینڈ سیٹ کی موجودگی میں بھی ہم امن و استحکام کی طرف واپس لوٹ سکتے ہیں۔ اس کے بعد بھی اگر شدت پسندوں کی جانب سے دہشت گردی کی وارداتوں کا سلسلہ جاری رکھا جاتا ہے تو بے شک سکیورٹی فورسز کے ذریعے ریاستی اتھارٹی کو پوری شدت کے ساتھ بروئے کار لا کر ان سارے عناصر کے ہر ٹھکانے کا خاتمہ کر دیا جائے، اس کارروائی کا جواز بھی بن جائے گا اور عوامی صفوں میں سے اس کارروائی کے خلاف کسی قسم کا ردعمل بھی سامنے نہیں آئے گا۔ پھر کیوں نہ اس آپشن کو بھی ایک بار آزما کر دیکھ لیا جائے۔

میاں نواز شریف کی جانب سے اب طالبان گروپوں اور دوسرے انتہا پسندوں کیلئے کافی حد تک قابلِ قبول ایک چار رکنی مذاکراتی کمیٹی قائم کر کے امن کو ایک اور موقع دینے کا اعلان کیا گیا ہے تو ان کے اس فیصلے کا اپوزیشن سمیت تمام دینی اور سیاسی حلقوں کی جانب سے ہی نہیں طالبان کی جانب سے بھی خیرمقدم کیا گیا ہے اور اسے حکومت کی جانب سے پہلی بار مذاکرات کی سنجیدہ کوشش سے تعبیر کیا گیا ہے مگر ہمارے امریکی فرنٹ لائن اتحادی والے کردار کی بدولت جو صورتحال اس وقت بھی موجود ہے اس کے پیش نظر مذاکرات کی اس کوشش سے بھی کسی بڑی کامیابی کی توقع رکھنا مشکل ہو گا کیونکہ ہمارے پاس کوئی ضمانت موجود نہیں کہ مذاکرات کا عمل شروع ہونے پر امریکہ ہماری دھرتی پر کوئی ڈرون حملہ نہیں کرے گا جبکہ حکومت آج ملک کو امریکی جنگ سے باہر نکالنے کا اعلان کرتی ہے تو صورتحال یکسر تبدیل ہو جائے گی اور پھر مذاکرات کے دوران کوئی امریکی ڈرون حملہ ہو گا تو اسے مشترکہ دُکھ سمجھ کر اس کا توڑ کیا جائے گا چنانچہ اس سے مذاکرات کی کامیابی کی راہ مزید ہموار ہو جائے گی، سو جناب! حالات کی اس آزمائش سے سرخرو ہو کر نکلنا ہی اصل کامیابی ہے۔ آپ مذاکرات سے پہلے لگے ہاتھوں امریکہ سے تعلقات کی پالیسی پر بھی نظرثانی کر لیں پھر رزلٹ لے لیں، ہم نے خود کو اور اپنی دھرتی کو خود ہی بگاڑنا اور خود ہی سنوارنا ہے، قیادت وہی ہوتی ہے جو مشکل وقت میں صحیح راستے کا انتخاب کرتی ہے اور صحیح راستہ آج آپ کا منتظر ہے۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com