میڈیا اور عدلیہ کے لئے دو مفید مشورے
Jan 27, 2014

یہ بحث اپنی جگہ کہ مشرف کے مرض کے بارے میں طبی رپورٹ تیار کرنے والے ملٹری کارڈیالوجی یونٹ کے ڈاکٹروں پر مشتمل بورڈ نے اس رپورٹ کے ذریعے اپنے ہی نامور ہسپتال کی عالمی شہرت کو داغدار کیا اور عارضۂ قلب کے علاج کے بارے میں اپنے ہی ہسپتال پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ یہ بحث بھی اپنی جگہ کہ مشرف جال میں پھنسنے کے دھڑکے میں اپنی جان بچانے کی خاطر ملک سے فرار کے راستے ڈھونڈ رہے ہیں اور ان کا ’’سب سے پہلے پاکستان‘‘ کا نعرہ ’’سب سے پہلے اپنی ذات‘‘ میں تبدیل ہو گیا ہے۔ مجھے اس بحث سے بھی کوئی سروکار نہیں کہ مشرف کی جانب سے ’’نائین زیرو‘‘ کراچی میں ’’پیغام محبت‘‘ لے جانے والے ان کے وکیل احمد رضا قصوری پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کر کے ایم کیو ایم نے کیا جوابی پیغام دیا کہ اس کا سارا پس منظر کراچی کے 12 مئی 2007ء والے خونیں واقعات اور ان واقعات پر اسلام آباد کی مخمور فضائوں میں مُکہ لہراتے ہوئے مشرف کے اس اظہار تشکر کے ساتھ جُڑا ہوا ہے کہ ہماری اس طاقت کے سامنے جو آئے گا، کچلا جائے گا، مجھے آج مشرف غداری کیس کے حوالے سے صرف میڈیا کے کردار پر بات کرنی کیونکہ اس کردار کی وجہ سے ہی اس کیس میں مشرف کے وکلا اور حامیوں کو میڈیا سمیت ہر ادارے اور قانون و انصاف کی عملداری کی ہر سوچ کی بھد اُڑانے اور گند اُچھالنے کا موقع مل رہا ہے۔
میں اپنی صحافتی زندگی کا ایک طویل عرصہ اعلیٰ عدلیہ میں زیر سماعت مقدمات کی کوریج کرتے ہوئے گزارا ہے جن میں مرحوم ذوالفقار علی بھٹو کا مقدمۂ قتل، ہائی پروفائل گنگا ہائی جیکنگ کیس، جنرل ضیأالحق اور جنرل مشرف کے جمہوریتوں کو تاراج کرنے والے ماورائے آئینی اقدامات کے خلاف دائر مقدمات، بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف دائر صدارتی ریفرنسز اور میاں نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کے ادوار حکومت میں ارکان اسمبلی کی فلور کراسنگ کے خلاف دائر مقدمات سمیت بے شمار ایسے سیاسی اور فوجداری مقدمات پر شامل ہیں جن میں ایک دوسرے کو مات دینے کے لئے استغاثہ اور صفائی کے وکلا کی قانونی موشگافیوں اور بعض مقدمات کو سیاسی بنیاد پر لڑنے کے مناظر کے عدالتی کارروائی کے دوران مشاہدے کا موقع ملتا رہا۔ اظہار رائے کی آئینی آزادی اور عدالتی کارروائی سے متعلق حقائق عوام تک پہنچانے کے حق پر کسی قسم کی قدغن کو آزادیٔ صحافت پر قدغن سے تعبیر کرتے ہوئے احتجاج کرنا بھی ہم اپنا حق سمجھتے ہیں اور میں نے اس حق کی خاطر اعلیٰ عدلیہ میں توہینِ عدالت کے کئی کیس بھی بھگتے ہوئے ہیں مگر آج مشرف غداری کیس میں میڈیا کے آزادی کے حق کو جس شُتر بے مہار طریقے سے استعمال کیا جا رہا ہے اس سے مجھے ساری اقدار تباہ ہوتی نظر آ رہی ہیں بالخصوص مشرف کے وکیل احمد رضا قصوری کو ہر ٹی وی چینل کے ٹاک شوز میں بلوا کر اور انہیں ہر تاریخ پیشی پر آؤٹ آف کورٹ میڈیا بریفنگ کی سہولت فراہم کر کے جس طرح صحافت اور انصاف کے ایوانوں اور ان سے وابستہ افراد پر گند اُچھالنے اور مشرف کیس کے حوالے سے ہر بات کا ٹانکہ افواجِ پاکستان کے ساتھ جوڑنے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے، وہ بالخصوص میڈیا کی آزادی کے شرمناک مظاہرے کے کھاتے میں جاتا نظر آتا ہے۔

احمد رضا قصوری نے مشرف غداری کیس کی ایک سابقہ تاریخ سماعت پر عدالتی کارروائی کے بعد آئوٹ آف کورٹ میڈیا بریفنگ کے دوران محض اس سوال پر کہ کمانڈو جرنیل کب عدالت میں پیش ہو رہے ہیں، سوال کرنے والے صحافی کے ساتھ جس غیظ و غضب کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں بھارتی ایجنٹ اور لفافہ جرنلزم کا پروردہ قرار دے کر پورے شعبۂ صحافت کو رگیدا اور ’’اب آپ کو بھی ٹھیک کرنا پڑے گا‘‘ کی دھمکی دی، میرا گمان تھا کہ صحافتی تنظیمیں اس کا سخت نوٹس لے کر احمد رضا قصوری کا بائیکاٹ کریں گی مگر نہ صرف کسی صحافتی تنظیم نے کوئی احتجاجی قرارداد تک منظور کرنے کی زحمت گوارا نہ کی بلکہ احمد رضا قصوری کو ’’ریٹنگ‘‘ کے چکر میں ہر میڈیا چینل کے ہر ٹاک شو میں مدعو کرنا اور انہیں پہلے سے بھی زیادہ گند اُچھالنے کا موقع فراہم کرنا اپنی مجبوری بنا لیا گیا، چنانچہ مشرف کے دوسرے وکلا اور حاسدین نے بھی میڈیا کی آزادی والی اس مجبوری سے خوب فائدہ اٹھایا اور ایک باقاعدہ مشن کی صورت میں مشرف کیس کے حوالے سے سامنے آنے والے کردار کو افواج پر تنقید کے کھاتے میں ڈالنے کا راستہ اختیار کیا جس پر چلتے ہوئے اختلافی کردار کا اظہار کرنے والوں کی ٹانگیں چیرنے کی دھمکیاں دینے تک کی نوبت لائی گئی ہے، مقصد صرف اس جعلی تاثر کو حقیقی بنا کر پیش کرنے کا ہے کہ افواجِ پاکستان بطور ادارہ اپنی رسوائیوں کا اہتمام کرنے والے اپنے سابقہ کمانڈو آرمی چیف کی آج بھی پشت پر کھڑی ہے مشرف اور ان کے وکلا کو بخوبی علم ہے کہ غداری کیس میں انصاف کی عملداری ان کی سزا پر ہی منتج ہونی ہے اور قانونی طور پر وہ یہ کیس جیتنے کی ہرگز پوزیشن میں نہیں ہیں اس لئے انہوں نے افواجِ پاکستان کی مشرف کے ساتھ وابستگی کے پراپیگنڈہ کو مشرف کے بچائو کی ڈھال بنایا ہوا ہے جبکہ میڈیا کی آزادی انہیں اس پراپیگنڈے کا زیادہ موقع فراہم کر رہی ہے چنانچہ گند اُچھالنے کے اس عمل کو جب تک میڈیا پر اُچھالا جاتا رہے گا، اس وقت تک میرٹ پر مشرف غداری کیس کی کارروائی آگے بڑھنے کی ہرگز توقع نہیں کی جا سکتی۔

اگر فی الواقع اس کیس کا میرٹ پر فیصلہ مقصود ہے تو پھر عدلیہ اور میڈیا دونوں کو ایک ایک اقدام اُٹھانا ہو گا۔ متعلقہ ٹرائل کورٹ فوری اقدام اٹھاتے ہوئے اس کیس کی ’’اِن کیمرہ پروسیڈنگ‘‘ (بند کمرے میں سماعت) اور ہر دو فریقین پر آئوٹ آف کورٹ اس کیس سے متعلق کسی قسم کی پریس بریفنگ پر پابندی عائد کر دے۔ بھٹو قتل کیس سماعت کے دوران بھی ایک مرحلے پر لاہور ہائیکورٹ کے متعلقہ فل بنچ نے ’’اِن کیمرہ پروسیڈنگ‘‘ کے احکام جاری کر کے میڈیا کو ایک پریس نوٹس کے ذریعے کیس کی کارروائی بہم پہنچانے کا اہتمام کیا تھا۔ متعدد دیگر مقدمات میں بھی ’’اِن کیمرہ پروسیڈنگ‘‘ کے احکام جاری ہوتے رہے ہیں، اسی طرح اب پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے اداروں کو مشرف غداری کیس کی سماعت مکمل ہونے تک مشرف اور استغاثہ کے وکلا میں سے کسی ایک کو بھی اپنے کسی ٹاک شو میں مدعو نہیں کرنا چاہئے اور نہ ہی آؤٹ آف کورٹ میڈیا بریفنگ کی کوریج کرنی چاہئے۔ اس کیس کے حوالے سے یہ دونوں عدالتی اور صحافتی راستے اختیار کر لئے جائیں اور نتیجہ دیکھ لیا جائے، کسی کو چائے کے کپ پر طوفان اُٹھانے کا موقع نہیں ملے گا تو قانون کے تقاضوں کے مطابق میرٹ پر اس کیس کی سماعت بھی مکمل ہو جائے گی اور پھر کیس کے فیصلہ پر عملدرآمد بھی ہو جائے گا، اگر اس کیس کی تشہیر کی موجودہ فضا برقرار رکھی گئی تو معاف کیجے ہم قانون و انصاف کی عملداری کو تو کھو ہی بیٹھیں گے ننگی جرنیلی آمریتوں کو بھی پھر سے اپنا مقدر بنا لیں گے اور پھر ہمیں جمہوریت کی بحالی ہی نہیں، شاید صحافت کی آزادی کیلئے کبھی طویل جدوجہد کرنا اور اس کے قیدوبند والے کٹھن مراحل سے گزرنا پڑے گا۔  باقی رہی ملزم کمانڈو کی انجیو گرافی جس کے لئے اڑ کر امریکہ جانا چاہتے ہیں۔ ان کے امریکہ میں مقیم دوست ڈاکٹر ارجمند ہاشمی کو راولپنڈی بلا کر کمانڈو ملزم کی انجیو گرافی کروا دیں۔ کمانڈو انکار نہیں کر سکیں گے!
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com