لمحوں کی خطاء میں صدیوں کی سزا
Jan 25, 2014

پنجاب اسمبلی پریس گیلری کمیٹی کے صدر کی حیثیت سے مجھے 1999ء میں لاہور کے صحافیوں کا ایک 25 رکنی وفد سوات لے جانے کا موقع ملا، ہم نے تقریباً ایک ہفتے تک وادیٔ سوات اور پشاور میں قیام کیا اور اس دوران ہمیں سوات کے شہروں مینگورہ، بحرین، کالام، اوشو میں وہاں کے مکینوں کے طرز رہائش و زندگی کا مشاہدہ کرنے اور پھر مختلف مکاتب زندگی کے لوگوں سے اپنائیت والی ملاقاتوں کے دوران ان کے عقائد و نظریات جاننے کا بھی موقع ملا۔ اس پورے علاقے کے لوگ روایتاً مہمان نواز، شفیق، ملنسار اور فراخ دل ہیں۔ اسلامی تہذیب، معاشرت بھی ان علاقوں کے لوگوں کا اوڑھنا بچھونا نظر آئی۔ اس وقت بھی ملک میں مسلم لیگ (ن) کی حکمرانی تھی اور صوبہ سرحد میں بھی اے این پی کے اشتراک کے ساتھ مسلم لیگ (ن) ہی اقتدار سنبھالے ہوئے تھی۔ ہمارے وفد کو چونکہ سرکاری مہمانوں کی حیثیت حاصل تھی اس لئے ہمیں جہاں صوبائی اقتدار کے ایوانوں اور سرحد اسمبلی میں حکومت اور اپوزیشن کے سیاسی قائدین اور دوسرے محکموں میں اعلیٰ سرکاری مناصب پر فائز مختلف شخصیات سے ملاقاتوں اور ڈائیلاگ کا موقع ملا وہیں وادیٔ سوات میں رائج جرگہ سسٹم کے مشاہدہ کا موقع بھی مل گیا۔ سیاسی حوالوں سے اختلاف رائے کا اظہار ضرور مختلف زبانوں پر ہوتا تھا مگر یہ اختلاف رائے کسی بھی سطح پر دشمنی میں تبدیل ہوتا نظر نہیں آتا تھا جبکہ شعائر اسلامی کے حوالے سے تو پوری سوات وادی کے لوگ ایک لڑی میں پروئے اور اخوت ، بھائی چارے اور رواداری کے بندھن میں بندھے نظر آتے تھے۔ کسی بھی زبان پر فرقہ واریت کے حوالے سے اختلاف رائے کا اظہار سننے کو نہ ملا۔ اسلامی تہذیب و معاشرت میں وہ اس حد تک ضرور راسخ العقیدہ نظر آئے تھے کہ خواتین کی بے پردگی کا کلچر پروان نہیں چڑھنے دیتے تھے مگر گرلز سکول اور کالج وہاں کی بچیوں کی آسان دسترس میں تھے اور اس وقت وہاں بچیوں کے تعلیمی اداروں کو بند کرانے یا بموں سے اڑانے کا تصور بھی موجود نہیں تھا۔ سوات کی پوری وادی امن و آشتی کا گہوارا نظر آئی جبکہ یہ ریاست سیاحت کے نکتہ نظر سے بھی غیر ملکی باشندوں اور ملک کے دوسرے علاقوں سے آئے لوگوں کی توجہ کا مرکز تھی۔ یقیناً اس وقت ایسا ہی مثالی ماحول اور معاشرہ اس وقت کے صوبہ سرحد کے دوسرے قبائلی علاقوں شمالی، جنوبی وزیرستان، گلگت، چترال میں بھی رائج ہو گا۔ مالاکنڈ تک کے ماحول کا تو ہم نے مشاہدہ کر بھی لیا تھا چنانچہ ہم یقین سے کہہ سکتے تھے کہ پورے صوبہ سرحد اور اس کے تمام قبائلی علاقے اسلامی تہذیب و معاشرت کا عملی نمونہ ہیں اور یہ معاشرہ فرقہ واریت سمیت ہر قسم کی کینہ پروری سے بھی پاک ہے۔ پھر ایسا کیا ہوا کہ اگلے چند سالوں کے اندر اندر اس مثالی معاشرے میں انسانی کشت و خون کا بازار گرم ہو گیا، دہشت گردوں کی نرسریاں پروان چڑھنے لگیں اور فرقہ واریت کی بنیاد پر بھی قتل و غارت کا کلچر راسخ ہو گیا۔ اگر آج اسی سارے پس منظر کا جائزہ لے کر کسی تدبیر اور تدبر کی راہ ہموار کر لی جائے تو ملک کو دہشت گردی کے ناسور سے عملی طور پر نجات دلائی جا سکتی ہے۔ اگر عقل و فہم کی بنیاد پر اس حقیقت کو تسلیم کر لیا جائے کہ قبائلی علاقوں کا آج کا ماحول امریکی نائن الیون ہی کا شاخسانہ ہے تو پھر ہمیں اس ماحول کو امن و آشتی پر مبنی اسلامی تہذیب و معاشرت والے ماحول کی جانب واپس لوٹانے میں آسانی ہو سکتی ہے مگر ہمارا یہی المیہ ہے کہ امریکی نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خاتمہ کی آڑ میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے ہی نہیں، ہمارے برادر اسلامی ممالک ایران اور سعودی عرب نے بھی ہماری سرزمین کو اپنے اپنے مفادات اور اپنے اپنے عقائد و نظریات کے حصول و فروغ کے لئے ایک تجربہ گاہ کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا چنانچہ بانیان پاکستان اقبالؒ اور قائداعظمؒ نے جس مملکت خداداد کا حصول اسلام کی تجربہ گاہ کے تصور کے تحت ممکن بنایا تھا وہ آج ہر نوعیت کے بیرونی عناصر کی تجربہ گاہ کے طور پر استعمال ہو رہی ہے۔ اس میں یقیناً ہمارے حکمرانوں اور حکمران طبقات کی کمزوریوں کا عمل دخل ہے، جنہوں نے ملک کی خودمختاری، آزادی اور سالمیت کے تقاضوں کو اپنے اپنے اقتدار کے طول و استحکام کے مجہول تصور اور کہیں ذاتی مفادات کے حصول کی خاطر اغیار کے پاس گروی رکھنے میں کبھی دقت محسوس نہیں کی، یہی وجہ ہے کہ آج ہماری دھرتی بالخصوص قبائلی علاقے ہر ایرے غیرے کی آماجگاہ بن چکے ہیں اور ہمارا معاشرہ اس شعر کی عملی تصویر نظر آ رہا ہے کہ…؎

دیوار کیا گری میرے کچے مکان کی
لوگوں نے گھر کے صحن کو رستہ بنا لیا

اس سے بڑا المیہ یہ ہے کہ دہشت گردی کے فروغ کے اس پس منظر کو آج کوئی تسلیم کرنے کو بھی تیار نہیں، بس ایک ہی بات ذہنوں میں بٹھا دی گئی ہے کہ ہماری اس خرابی اور خانہ خرابی میں کسی باہر والے کا کوئی قصور نہیں، یہ سب ہمارا اپنا کیا دھرا ہے، ہم خود ہی فرقہ واریت کی لعنت میں الجھے ایک دوسرے کے گلے کاٹ رہے ہیں، اس لئے ملک بچانا ہے تو پوری قوت کے ساتھ حکومتی، ریاستی اتھارٹی کو استعمال کر کے سب دہشت گردوں کا ناس مار دو، سارا زور اسی پر لگایا جا رہا ہے اور تیل ڈال کر ماچس کی جلتی تیلی پھینکنے والوں کے عزائم کی جانب کسی کی توجہ نہیں۔ جناب ذرا متعصب آنکھ کو بند کر کے تصور تو کیجئے کہ اگر امریکہ میں نائن الیون کا سانحہ نہ ہوا ہوتا تو کیا آج ہمارے ملک اور معاشرے کی یہ درگت بن رہی ہوتی۔ پھر سارا خانہ خراب تو انہوں نے ہی کیا ہے جنہوں نے اپنے اپنے مفادات کی خاطر اپنی پاک دھرتی پر امریکی فرنٹ لائن اتحادی کا کردار قبول کیا تھا اور باقاعدہ معاہدہ کر کے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو نہ صرف افغانستان کا تورا بورا بنانے کے لئے لاجسٹک سپورٹ فراہم کی بلکہ اپنی دھرتی پر ڈرون حملوں کی بھی اجازت دے دی۔پھر یہ تصور کرنے میں کیا حرج ہے کہ آج کی دہشت گردی امریکی نائن الیون کے بعد کے معاملات میں ہماری امریکہ نواز پالیسیوں کا شاخسانہ ہے تو ملک کو ان پالیسیوں نے باہر نکال کر امن و آشتی کی جانب واپس لوٹایا بھی جا سکتا ہے۔ پھر کیوں نہ  جناب!پہلے یہی تجربہ کر کے دیکھ لیا جائے۔ آپ آج اپنی پالیسی پر نظرثانی کر کے اپنا امریکی فرنٹ لائن اتحادی والا سٹیٹس ختم کر دیں۔ ملک کی آزادی، خودمختاری اور اس کے تشخص کی اسی طرح رکھوالی کریں جس طرح امریکہ، ایران اور دوسرے ممالک کرتے ہیں تو نہ کسی کو یہاں ڈرون حملے کی جرأت ہو گی اور نہ ہی نیٹو فورسز کی حربی رسد کی سپلائی کیلئے کسی کو ہماری دھرتی کو اپنی گذر گاہ بنانے کی سہولت مل پائے گی۔ آپ ایک بار یہ تجربہ کر لیں، اس کے بعد بھی اگر ملک کے اندر فرقہ واریت کی بنیاد اور دوسرے مقاصد کے تحت دہشت گردی کی کارروائیاں ہو رہی ہوں تو پھر بے شک پوری قوت کے ساتھ ریاستی اتھارٹی استعمال کر کے سارے دہشت گردوں کا ناس مار دیا جائے مگر بھائی صاحب آپ ایران کی طرح باغیرت قوم ہونے اور ملک کی خودمختاری کی ایک آزاد اور خودمختار مملکت کی حیثیت سے حفاظت کرنے کا عملی ثبوت تو دیں، آج امریکہ ایران کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے پر مجبور ہوا ہے تو ایسی ہی باغیرت پالیسیوں کو محسوس کر کے ہمارا بھی کوئی بال بیکا نہیں کر سکے گا، مار تبھی پڑتی ہے جب دوسروں کو اپنے کمزور ہونے کا احساس دلایا جائے، مجھے دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے پوری قوت کے ساتھ آپریشن کرنے پر کوئی اعتراض نہیں مگر پہلے اس کے محرکات کا تو تدارک کر لیں۔ خدارا اب صدیوں کی سزا پر منتج ہونے والی لمحوں کی خطا سے گریز کر یں، ہم اپنا ایک بازو پہلے ہی کھو چکے ہیں، اب صدیوں کی سزا میں کہیں ہمارا سارا وجود ہی غائب نہ ہو جائے ۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com