جمہوریت کے محافظ "بروٹس"
Jan 13, 2014

کوئی دو ہفتے قبل سراج الحق صاحب سے ایک مختصر سی عشائیہ تقریب میں ملاقات کا موقع ملا، ان کا نام ایک اخبار کی خصوصی سٹوری میں ٹیکس چور ارکانِ اسمبلی و پارلیمنٹ کی دی گئی فہرست میں موجود تھا جس کے بعد سوشل میڈیا پر ان کی صفائی میں ان کے طرزِ رہائش و زندگی کے چیدہ چیدہ پہلو اُجاگر کئے جانے لگے ہیں۔ سراج الحق کی سادگی و سچائی کا میں پہلے بھی قائل تھا، دوران گفتگو ان کی سیاست و زندگی کے کئی اور پہلوﺅں کی پرتیں کھلیں تو ان کے قلندر ہونے میں بھی کوئی شبہ نہ رہا۔ خیبر پی کے حکومت کے سینئر وزیر ہونے کے ناطے وہ نہ بھی چاہیں تو انہیں پروٹوکول دینا متعلقہ انتظامی مشینری کی مجبوری بن جاتا ہے مگر وہ تو پروٹوکول کی کوششوں کو ناکام بنانے پر تُلے نظر آئے۔ غالباً جماعت اسلامی کی ٹرانسپورٹ پر لفٹ لے کر وہ عشائیہ کی اس چند فردی نشست میں شرکت کے لئے آئے اور ان کی آمد کی کلب انتظامیہ کو بھی کانوں کان خبر نہ ہوئی۔ اس وقت خیبر پی کے کابینہ کے ارکان کے ہاﺅس رینٹ میں اضافے کے منظور کردہ بل کی خبر بھی چل رہی تھیں۔ میں نے بھی گفتگو کا آغاز اس خبر سے ہی کیا کہ خیبر پی کے میں تحریکِ انصاف اور جماعت اسلامی کی مشترکہ حکومت حکومتی کرپشن اور پروٹوکول کے خاتمہ کی داعی ہے مگر وزراءاپنے لئے مراعات کے حصول میں کسی سے پیچھے نظر نہیں آتے۔ سراج الحق صاحب نے اس کے جواب میں خیبر پی کے کابینہ کے ارکان کی تنخواہوں کی تفصیل بتانا شروع کی تو خود مجھے حیرت ہوئی کہ اتنی کم تنخواہ میں تو کسی غریب و سادہ عام آدمی کا بھی اپنے خاندان میں گزارا نہیں ہو سکتا۔ جناب 18 ہزار روپے ماہوار تنخواہ۔ سراج الحق بتا رہے تھے کہ خیبر پی کے کابینہ کے ایک رکن کی گھر میں باقاعدہ لڑائی ہو گئی، ان کی اہلیہ ان کے وزیر بننے پر اس لئے خفا تھیں کہ پہلے وہ بطور لیکچرار 35، 40 ہزار روپے تنخواہ لے رہے تھے جس میں گھر کے اخراجات پورے ہو جاتے تھے اب 18 ہزار روپے میں تو گھر کا کچن بھی نہیں چل سکتا۔ بات ہاﺅس رینٹ میں اضافے پر آئی تو سراج الحق کی بات سُن کر مزید جھٹکا لگا کہ خیبر پی کے کے کسی بھی وزیر کیلئے سرکاری رہائش گاہ موجود نہیں ہے چنانچہ وہ کسی بھی آبادی میں کرائے پر گھر لے کر رہائش اختیار کرتے ہیں۔ اب گھروں کے کرائے بڑھے ہیں تو ہاﺅس رینٹ میں اضافے کی مجبوری لاحق ہوئی ہے۔ بات چلتے چلتے توانائی کے بحران پر آئی تو سراج الحق صاحب نے یہ بتا کر مزید حیران کیا کہ انہوں نے خیبر پی کے حکومت کے تمام سابق وزراءخزانہ کی میٹنگ بُلائی ہے تاکہ اس میں توانائی کے بحران سے عہدہ برا ہونے کا کوئی متفقہ لائحہ عمل طے کیا جا سکے۔ ان سابق وزراءمیں پیپلز پارٹی، اے این پی اور آفتاب شیر پاﺅ گروپ سے تعلق رکھنے والے سابق وزراءبھی شامل ہیں اور ان سب نے اسی جذبے کے ساتھ ان کی دعوت قبول کی ہے کہ توانائی کا بحران حل کرنے میں صوبہ خیبر پی کے اپنے حصے کا کردار ادا کرے۔ سراج الحق کے بقول صوبہ خیبر پی کے میں دستیاب وسائل سے 22 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔ صرف لگن سے کام کرنے کی ضرورت ہے اس معاملہ میں وہ سیاسی پوائنٹ سکورنگ اور وفاقی حکومت کے ساتھ کسی قسم کی محاذ آرائی کے بجائے وفاقی حکومت کے ساتھ تعاون کر کے توانائی کا بحران ختم کرنے کے قائل نظر آئے جس سے مجھے امید بندھی کہ وفاقی حکومت بھی اسی جذبے کا مظاہرہ کرے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہمیں توانائی کے سنگین بحران سے خلاصی نہ مل سکے، مگر سراج الحق صاحب کے الفاظ کا سحر گزشتہ روز ان کے اپنے بیان نے ہی توڑ دیا۔

میں حیران ہوں کہ باتیں کیا کی جاتی ہیں اور عملی مظاہرہ کس نوعیت کا ہوتا ہے۔ کیا اس میں کوئی شک و شبہ ہے کہ اقتدار کے ایوانوں میں، پارلیمنٹ اور اسمبلیوں کے فورموں پر اور سیاسی جماعتوں کی صفوں میں بیٹھے نامی گرامی ٹیکس و بجلی چور اور بل نادہندگان نے ہی توانائی کے بحران کو سنگین بنایا ہے۔ یہی مراعات یافتہ اشرافیہ طبقات اپنی ملوں، کارخانوں اور فیکٹریوں میں ہی نہیں اپنے گھروں کو بھی کُنڈے لگا کر مفت بجلی فراہم کرنا اپنا استحقاق بنائے بیٹھے ہیں۔ فاٹا اور خیبر پی کے کے بعض دوسرے علاقوں میں تو سینہ زوری کے ساتھ سرعام بجلی چوری کی جاتی ہے اور جو بجلی میٹر کے ذریعے لی جاتی ہے اس کے بل ادا نہ کرنے کا چلن بھی ان طبقات کی دیدہ¿ دلیری کی دھونس بٹھانے کے لئے اختیار کیا گیا ہے۔ اگر حکمرانوں کی بے تدبیریوں اور سیاسی مکر و فریب نے انہیں کسی نئے ڈیم کی تعمیر کی ضرورت کا احساس نہیں دلایا اور کمیشن، کک بیکس کی لت نے انہیں نجی تھرمل پاور پلانٹس کی راہ سجھائی ہے تو ان پاور پلانٹس کو ادائیگی کر کے ہی ان کی بجلی کی پیداوار روٹین میں لائی جا سکتی ہے۔ اس کے لئے انتہائی ضروری ہے کہ بجلی چوری کو ہر صورت روکا جائے اور لاکھوں، کروڑوں کے ڈیفالٹرز سے جیسے بھی ہو وصولیاں کی جائیں، وفاقی وزارتِ پانی و بجلی نے اس مقصد کے لئے بجلی چوروں اور ڈیفالٹرز کے خلاف پہلی بار اوپر کی سطح سے مہم چلانے کا فیصلہ کیا ورنہ تو ہمیشہ نزلہ بر عضوِ ضعیف کے مصداق بے چارے عام صارفین پر ہی گرتا رہا ہے۔ اب بھی اس مہم سے زیادہ تر غریب صارفین ہی زد میں آئے ہیں جنہیں پہلے لائین لاسز کی مد میں اضافی بل جبری طور پر ادا کرنا پڑتے تھے جبکہ اب میٹر ٹمپرنگ کی آڑ میں عام صارفین کے لتّے لئے گئے اور انہیں بجلی چور بنا کر ان سے ہزاروں روپے کی وصولیاں کی گئیں، مگر جب پارلیمنٹ‘ اسمبلیوں اور اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے اشرافیہ طبقات اس مہم کی زد میں آئے تو وفاقی حکومت کی اس وصولی مہم پر طوفانِ بدتمیزی کھڑا کر دیا گیا شاید عمران خاں کی قیادت میں تحریک انصاف کا یہی کلچر ہو گا مگر مجھے توقع تھی کہ سینئر وزیر خیبر پی کے سراج الحق صاحب ملک کو توانائی کے بحران سے نکالنے کے لئے نیک جذبہ کی بنیاد پر بجلی چوری کے تدارک کی مہم کا بھرپور ساتھ دیں گے اور وفاقی حکومت کے ساتھ افہام و تفہیم کے جذبے کے فروغ دیں گے مگر جب وزارتِ پانی و بجلی کے وزیر مملکت عابد شیر علی نے اپنے روایتی تلخ لہجے میں خیبر پی کے میں بجلی چوری کے تدارک کی مہم میں بنوں کی بجلی بند کرنے کی دھمکی دی تو خیبر پی کے حکومت کی وفاقی حکومت کے ساتھ روایتی مخالفانہ سیاست کی بنیاد پر وزیر اعلیٰ سمیت کابینہ کے تمام ارکان لٹھ لے کر وفاقی حکومت کے پیچھے پڑ گئے اور بجلی کی پیداوار پر اپنا حق جتاتے ہوئے ایک وزیر موصوف نے پنجاب کی بجلی بند کرنے کی دھمکی دے ڈالی۔ اور تو اور سراج الحق صاحب بھی گزشتہ روز اس ایشو پر مولا جٹ بنے نظر آئے اور اپنے بیان میں وزیر مملکت کو باور کرایا کہ میں کل آپ کے گھر فیصل آباد آ کر آپ کو جواب دوں گا۔ ابھی تو انہوں نے خیبر پی کے میں 22 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کے اپنے منصوبے کو عملی شکل بھی نہیں دی مگر بجلی کی پیداوار پر پہلے ہی سے اپنا حق جتایا جانے لگا ہے۔ عابد شیر علی کی شروع کردہ مہم کا مقصد تو یقیناً نیک ہے مگر ان کے لہجے نے قیامت ڈھائی ہوئی ہے اور اس شعر کے مصداق کہ

تلخی سہی کلام میں لیکن نہ اس قدر
کی جس سے بات اس نے شکایت ضرور کی

حکومتی مخالفین ہی نہیں، حلیفوں کو بھی گرہ لگانے کا موقع مل جاتا ہے مگر خیبر پی کے کابینہ نے تو لٹھ بازی میں ماحول ایسا گرمایا ہے کہ

رنج کی جب گفتگو ہونے لگی
آپ سے تم‘ تم سے تُو ہونے لگی

والی کیفیت آن پہنچی ہے۔ اگر سراج الحق صاحب بھی اسی ماحول کے اسیر نکلے ہیں تو پھر ملک کو مسائل کے دلدل سے نکالنے والے جذبوں اور جذبات کی گنجائش کہاں نکل پائے گی۔ ہم اپنے تئیں جمہوریت کے خیر خواہ ہیں اور اس میں موجود شر سے دانستاً صرفِ نظر کر لیتے ہیں مگر اس نظام کے محافظوں نے ہی اس کا مُردہ خراب کرنے کا بیڑہ اُٹھا رکھا ہو تو میرے جیسے جمہوریت کے خیر خواہوں کی دال کہاں گل سکتی ہے۔ اس ریاکارانہ سیاست میں سراج الحق صاحب کے لئے میں صرف اس تاسف کا اظہار ہی کر سکتا کہ وہ ”یُو ٹُو بروٹس“!
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com