سازشی تھیوریوں کی بیکار ٹکریں
Jan 11, 2014

اب یقیناً کسی سازشی تھیوری کے مزید پروان چڑھنے کی تو قطعاً گنجائش نہیں ر سعودی وزیر خارجہ سعود الفیصل کا خصوصی طیارہ بھی مشرف کا بوجھ لادے بغیر ہی واپس چلا گیا اور سعودی شہزادے نے خود بھی یہ واضح کر کے سازشی تھیوری کے غبارے سے ہَوا نکال دی کہ سعودی عرب کسی کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کی پالیسی پر سختی سے کاربند ہے، پھر عدالت آتے ہوئے کسی ٹیلی فون کال پر مشرف کی گاڑی کا رُخ ملٹری ہسپتال کی جانب موڑنے کے معاملہ کو پُراسرار بنا کر اُچھل کود کی گئی اور زمین و آسمان کے قلابے ملائے گئے مگر آرمی چیف جنرل راحیل مشرف کے علاج معالجہ کے دوران ہی اس ہسپتال کے دورے پر گئے اور مشرف کی عیادت کی ضرورت بھی محسوس نہ کی۔ پھر بیگم صہبا مشرف کی جانب سے وفاقی وزراتِ داخلہ میں درخواست آ گئی کہ مشرف کے ڈاکٹروں نے ان کا بیرونِ ملک علاج معالجہ  تجویز کر دیا ہے اس لئے انہیں بیرونِ ملک لے جانے کی خاطر ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکال دیا جائے۔ اس درخواست کی بنیاد پر پھر سازشی تھیوری کی کڑیاں ملانے کے لئے رونق میلہ لگایا جاتا رہا مگر مشرف کا علاج معالجہ کرنے والے میڈیکل بورڈ کی رپورٹ خصوصی عدالت میں پیش ہوئی تو سازشی تھیوری میں رہی سہی جان بھی نکل گئی۔ عقدہ یہ کُھلا کہ جس عارضہ کا ڈھنڈورہ پیٹتے ہوئے مشرف ملٹری ہسپتال کو سدھارے تھے، انہیں سرے سے وہ عارضہ لاحق ہی نہیں ورنہ تو اب تک ان کی انجیو گرافی یا انجیو پلاسٹی بھی ہو چکی ہوتی۔ مشرف کی میڈیکل رپورٹ کی تشریح کرتے ہوئے غداری کیس کے پراسیکیوٹر محمد اکرم شیخ چاہے زیبِ داستان کو بڑھانے کے لئے زبان کے چٹخارے بھی لے رہے ہوں گے مگر اس رپورٹ میں پردہ داری والی کوئی بات موجود ہی نہیں اس لئے خصوصی عدالت نے بھی اپنی گزشتہ روز کی کارروائی میں میڈیکل رپورٹ پر تکیہ کرتے ہوئے رولنگ دے دی کہ مشرف عارضۂ قلب میں مبتلا نہیں ہیں جبکہ ان کے نشاندہی کردہ دوسرے امراض اس نوعیت کے قطعاً نہیں کہ انہیں علاج معالجہ کے لئے بیرونِ ملک بھجوایا جائے۔ چلیں سازشی تھیوری کی یہ کھڑکی بھی بند ہو گئی اب انہیں عدالتی حکم پر 16 جنوری کو عدالت کے روبرو پیش ہونا ہے بصورت دیگر عدالت نے دوسری مناسب کارروائی کا عندیہ بھی دے دیا ہے سو انہیں بہرصورت قانون اور انصاف کی عملداری میں آنا ہے۔

میں نے اپنے گذشتہ کالم میں بھی انہی حقائق و شواہد کی بنیاد پر نتیجہ اخذ کیا تھا کہ ’’پھس گئی جان شکنجے اندر، جیوں ویلن وِچ گنّا‘‘۔ بعض احباب کو یہ بات بارِ خاطر محسوس ہوئی کیونکہ سازشی تھیوری کے اثرات اس وقت گردشِ دوراں کو ٹالنے کی کوششوں میں ہی مصروف تھے جس کی بنیاد خود مشرف نے اپنے خلاف غداری کیس پر فوج کی ناراضگی کی بات کر کے اور پھر سابق فوجیوں کی تنظیم کے ایک ہنگامی اجلاس میں بذریعہ ویڈیو لنک خطاب کر کے رکھی تھی چنانچہ سازشی تھیوری کے غالب آنے کی خوش فہمی میں بھی مشرف کے سابقہ سارے فیض یافتگان ایک ایک کر کے اپنی اپنی بِلوں سے باہر آئے اور اُچھل کود کرنے لگے۔ اب ان کے چہروں کی مایوسی تو کوئی دیکھا کئے کہ اب مشرف کا بال بھی بیکا نہ ہونے اور انہیں بیرونِ ملک پرواز کیلئے محفوظ راستہ ملنے کی سازشی تھیوری ہی زمینی حقائق کے سامنے باطل ٹھہری ہے۔

اب پینترا بدلتے ہوئے غداری کیس کی قانونی اور آئینی حیثیت کے معاملہ میں گرد اُڑانے کی پالیسی اختیار کی گئی ہے جس کا آغاز بھی خود مشرف نے اپنے دفاع میں یہ بیان جاری کر کے کیا کہ انہوں نے 3 نومبر 2007ء کا اقدام آرمی چیف کی حیثیت سے اُٹھایا تھا اس لئے ان کے خلاف صرف آرمی ایکٹ کے تخت کارروائی ہو سکتی ہے۔ پہلے تو انہوں نے اس اقبالی بیان کی بنیاد پر اپنا کیس خود ہی خراب کیا اور غداری کے جرم میں اپنے تنہا ملوث ہونے پر مہر تصدیق ثبت کر دی کہ ’’اے بادِ صبا ایں ہمہ آوردۂ تست‘‘ ۔ اس کے بعد آرمی ایکٹ کی نکتہ آفرینی یا شگوفے کی اس لئے کوئی حیثیت نہیں رہتی کہ ان کے خلاف استغاثہ ہی آئین کی دفعہ 6 کے تحت دائر ہُوا ہے جس کے تقاضے کے تحت اس استغاثہ کی سماعت اعلیٰ عدلیہ کی تشکیل کردہ خصوصی عدالت میں ہی ہونی ہے۔ اس کیس میں مدعی بھی ہر صورت وفاقی حکومت نے ہی بننا ہے اس لئے صرف آرمی ایکٹ کے تحت کارروائی والی منطق بھی سازشی تھیوری کی طرح باطل ٹھہرے گی جبکہ آرمی ایکٹ کے تحت کسی سرونگ یا ریٹائرڈ فوجی کے خلاف کورٹ مارشل کی گنجائش اس آرمی ایکٹ کی خلاف ورزی پر ہی نکلتی ہے جو فوج کے ڈسپلن اور قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کے الزام پر مبنی ہوتا ہے۔ آئین کو توڑنے یا معطل و معلق کرنے کے جرم کی سزا چونکہ آئین کی دفعہ 6 میں ہی متعین ہے اس لئے اس الزام پر کارروائی آئین کی اس دفعہ کے تقاضوں کے مطابق ہی ہو گی جبکہ آرمی ایکٹ کی حیثیت آئین سے بالاتر قانون کی ہرگز نہیں مشرف کے خلاف ماورائے آئین اقدام پر آئین کی دفعہ 6 کی عملداری تو بہر صورت ہونی ہے جبکہ اس اقدام کے تحت افواجِ پاکستان کا ڈسپلن توڑنے پر ان کے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت بھی الگ سے کارروائی ہو سکتی ہے، سو انہوں نے اپنی گردن کو دوسرے پھندے کی زد میں لانے کی جانب بھی خود ہی پیشرفت کی ہے۔

پھرکسی دوسری سازشی تھیوری کے تحت مشرف کے خلاف دفعہ 6 کی کارروائی ان کے 12 اکتوبر والے ماورائے آئین اقدام سے شروع کرانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا جا رہا ہے صرف اس تصور کے تحت کہ اس اقدام کے حصہ دار سارے فوجی حکام اور اس اقدام کو آئینی تحفظ دینے والی پوری عدلیہ دفعہ 6 کی زد میں آئے گی تو پھر پنڈورہ بکس کھولنے سے گریز کی پالیسی اختیار کر لی جائے گی۔ چنانچہ مشرف صاحب کے لئے بھی ’’جان بچی سو لاکھوں پائے‘‘ والا معاملہ بن جائے گا۔ اول تو آئین و قانون کی عملداری کی خاطر سارے آئین و قانون شکنوں کے گلے میں پھندہ آتا ہے تو کیا اسے محض پنڈورہ بکس کھلنے کے دھڑکے سے روک لیا جائے۔ اگر انصاف کی عملداری اس کے ممکنہ خوفناک نتائج کو پیش نظر رکھ کر روکی جانے لگے تو پھر نہ انصاف بے لاگ رہے گا نہ قانون کے اندھا ہونے کا تصور پنپ پائے گا بلکہ قانون کے جذبات ہوں گے جو غالب آ کر انصاف کی عملداری کو ملیا میٹ کرتے رہیں گے اور پھر جناب 12 اکتوبر 1999ء والے اقدام سے کارروائی شروع کرنے میں بھی کیا مضائقہ ہے کہ اس کارروائی پر پارلیمنٹ کی جانب سے 17ویں آئینی ترمیم کے تحت ملنے والا تحفظ 18ویں آئینی ترمیم کے تحت اس کارروائی کے تمام براہِ شریک کاروں کی حد تک ختم کیا جا چکا ہے جبکہ اس ماورائے آئین اقدام کو جائز قرار دینے والے اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کا تحفظ 18ویں آئینی ترمیم میں بھی برقرار رکھا گیا ہے۔ سو جن کی باچھیں یہ سوچ کر کھلتی ہیں کہ اس کیس میں جج بھی گردن زدنی ہوں گے تو وہ خود کو بچانے کی خاطر مشرف کو بھی بچا لیں گے، انہیں اس خوش فہمی کو  خیال و خواب ہی بنا لینا چاہئے۔ ماضی میں اگر کسی آمر کو سزا ملنے کی کوئی مثال قائم نہیں ہو سکی تو اب اس کیس میں یہ مثال قائم کیوں نہ کر دی جائے۔ اس لئے حضور والا خاطر جمع رکھئے کہ اب  ؎

یہیں پر اُٹھے گا شورِ محشر
یہیں پہ روزِ حساب ہو گا

اب یہ دن آنے ہی دیجئے کہ یہ ہولناک اندھیروں میں سے تابناک اُجالے کی نوید لیکر آ رہا ہے
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com