"اگر مگر" میں دل کی بات
Jan 06, 2014

اس وقت صرف بلدیاتی انتخابات کا ایشو تھا اور اس پر بھی سندھ حکومت کی جانب سے کرائی گئی حلقہ بندیوں کے خلاف دائر رٹ درخواستوں میں سندھ ہائی کورٹ کے فیصلہ پر ایم کیو ایم متحدہ کی جانب سے داد و تحسین کے ڈونگرے برسائے جا رہے تھے، ایم کیو ایم کے قائدین یکے بعد دیگرے اپنی پریس کانفرنسوں اور بیانات کے ذریعے سندھ ہائیکورٹ کے فیصلہ کو حق کی فتح قرار دے رہے تھے۔ پھر ان حالات میں ایسا کیا ہوا کہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کو سندھ کے اردو سپیکنگ طبقات کی محرومیوں کا رونا روتے ہوئے الگ صوبے اور اس کی آڑ میں الگ ملک کا نعرہ لگانا پڑا۔ مشرف کے 9سالہ اقتدار سے پیپلز پارٹی کے پانچ سالہ اقتدار تک اور نگران دور سے مسلم لیگ (ن) کے اقتدار کے موجودہ سات ماہ تک کا جائزہ لیجئے۔ اس 15سالہ عرصہ اقتدار میں کیا ایم کیو ایم متحدہ کبھی اقتدار سے باہر رہی؟۔ اب نام کی اپوزیشن مگر سندھ کی گورنری کا تاج بدستور ایم کیو ایم کے سر پر۔ سندھ میں ہی نہیں، گذشتہ گیارہ سال (2002-2013ئ) تک ایم کیو ایم وفاقی حکومت میں بھی حصہ دار رہی۔ صرف حصہ دار نہیں ’’جوسی‘‘ وزارتیں لے کر اپنے ورکرز کے سارے مسائل حل کرنے اور اپنی مالی حالت مستحکم بنانے کی پوزیشن میں بھی رہی تو پھر اب سات ماہ کے دوران ایم کیو ایم کی صفوں میں ایسی کونسی محرومیاں در آئیں کہ اس کی قیادت کو ان محرومیوں کے ازالہ کے لئے الگ صوبے اور پھر اس سے بھی آگے بڑھ کر الگ ملک کی ضرورت محسوس ہونے لگی ہے۔

یقیناً یہ محرومیوں کے ازالہ کا نہیں، ایجنڈے کی تکمیل کا معاملہ ہے۔ ایم کیو ایم کے لیڈران اب وضاحتوں پر وضاحتیں کئے جا رہے ہیں کہ ’’قائد تحریک نے الگ صوبے کا قطعاً مطالبہ نہیں کیا۔ آپ ان کی تقریر میں موجود ’’If and buts‘‘ کو پیش نظر رکھیں تو ان کی تقریر میں آپ کو الگ صوبے کا مطالبہ ہر گز نظر نہیں آئے گا۔ انہوں نے ’’اگر‘‘ لگا کر معاملہ واضح کر دیا ہے کہ اگر سندھ کے اردو بولنے والوں کو ان کے حقوق سے محروم رکھا جاتا رہا تو پھر الگ صوبے کی نوبت بھی آ سکتی ہے۔‘‘

ڈاکٹر فاروق ستار گذشتہ روز پریس کانفرنس میں کوسنے دینے کے انداز میں جتا رہے تھے کہ ہمیں آخر اپنے سندھی ہونے کا بار بار احساس کیوں دلانا پڑتا ہے اور پھر ان کی یہ بات تو پارلیمانی جمہوریت کے فلسفۂ اکثریت کا مذاق اڑاتی ہوئی نظر آئی کہ اردو بولنے والے سندھیوں کا کوئی نمائندہ آج تک وزیراعلیٰ سندھ کیوں نہیں بن سکا۔ حضور آپ سندھ اسمبلی میں کبھی عددی اکثریت میں ہوتے تو بھلا کوئی آپ کو وزراء اعلیٰ کے حق سے محروم کر سکتا تھا جبکہ آپ گورنر کے علاوہ وزارتوں میں برابر کے حصہ دار رہے ہیں اور ایسے حصہ دار کہ مقامی حکومتوں پر یکا و تنہا حکمرانی رہی اور سندھ حکومت کو آپ اپنی مرضی اور منشاء کے مطابق چلاتے رہے۔ جہاں اپنے مفادات پر زد پڑتی محسوس کرتے جھٹ سے حکومت سے باہر آنے کا ڈراوا دیتے اور سارے تقاضے پورے کرا لیتے۔ اس کے برعکس سندھ قوم پرست تو آج تک سندھ کے اقتدار میں شریک  نہیں ہوئے۔ محرومیوں کا شکوہ تو انہیں کرنا چاہئے مگر اردو سپیکنگ سندھیوں کے نزدیک  سندھی قوم پرست اس لئے غاصب ٹھہرے کہ وہ سندھ کو تقسیم نہ ہونے دینے کی بات کرتے ہیں۔

پھر اس صورتحال سے کیا یہی نتیجہ اخذ نہیں ہوتا کہ حقوق و وسائل سے محرومی کے  ڈھنڈورے کی آڑ میں اصل ایجنڈے کی تکمیل کی راہ نکالنے کا موقع بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بے شک آپ ’’اگر مگر‘‘ لگا کر بات کریں مگر بات کیا کر رہے ہیں۔ اگر اقتدار کے پندرہ سالہ تسلسل کے بعد بھی آپ کی ’’محرومیاں‘‘ آپ کو الگ صوبے اور اس سے بھی آگے الگ ملک کی راہ سجھا رہی ہیں تو صاف ظاہر ہے یہی وہ ایجنڈہ ہے جس کی تکمیل کے لئے کوئی نہ کوئی موقع پا کر شگوفہ چھوڑ دیا جاتا ہے۔  1992ء کے فوجی اپریشن کے دوران جناح پورے کے نقشے برآمد ہوئے تو بھائی لوگ شدومد کے ساتھ جناح پور کے کسی منصوبے سے اپنی لاتعلقی کے اعلان کرتے رہے مگر جب پیپلز پارٹی کے سابقہ دور حکومت میں اس وقت کے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے صوبہ جنوبی پنجاب کا شوشہ چھوڑ کر اس پر سیاسی شعبدہ بازی کا آغاز کیا تو اس کے حق میں سب سے زیادہ زور آور آواز متحدہ کی جانب سے ہی اٹھائی گئی۔ پھر صوبہ ہزارہ کو بھی انگیخت دی گئی اور پھر نئے صوبوں کی تشکیل کے طریقہ کار سے متعلق آئین کی دفعہ 239میں ترمیم کی قرارداد بھی یکایک قومی اسمبلی میں پیش کر دی گئی جس کے ذریعے نئے صوبے کی تشکیل کے لئے متعلقہ صوبے کی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت سے قرارداد کی منظوری کی لازمی شرط ختم کرانے کی کوشش کی گئی تاکہ نہ ہینگ لگے نہ پھٹکڑی، اپنی من مرضی کے تحت کسی بھی صوبے کے کسی بھی علاقے کو نئے صوبے کا درجہ دلایا جا سکے۔ اس وقت  بھی سندھی قوم پرستوں کو اس سازش کی بھنک پڑی، چنانچہ ان کی قومی اسمبلی میں سخت مزاحمت کے باعث آئین کی دفعہ 239میں ترمیم کی نوبت نہ آ سکی۔

اب چونکہ صوبہ جنوبی پنجاب کی سیاست پیپلز پارٹی کی دفن ہونے والی سیاست کے ساتھ ہی دفن ہو گئی ہے جس کے باعث موجودہ اقتدار کے دوران نئے صوبے کی سیاست کے زندہ ہونے کا کوئی امکان نہیں رہا تو بھائی لوگ اپنے ایجنڈے کو زندہ رکھنے کے لئے اپنی محرومیوں کا پراپیگنڈہ کر کے ’’اگر‘‘ کے لاحقے کے ساتھ نئے صوبے ہی نہیں نئے ملک کی خواہش تک بھی  آ پہنچے ہیں۔ بات الفاظ کے چنائو کی نہیں اس نیت کی ہوتی ہے جس کے اظہار کے لئے الفاظ کا چنائو کیا جاتا ہے۔ اس لئے اب رعایت لفظی کا سہارا لے کر نئے صوبے اور نئے ملک کی اجاگر کی گئی خواہش پر پردہ نہیں ڈالا جا سکتا۔ اس لئے سابقہ دور اقتدار میں اپنے مقاصد کے تحت پنجاب کی تقسیم کی خواہش رکھنے والے سیاستدانوں کو اب ضرور سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے کہ اس سیاست کے ذریعے کیا ملک کی تقسیم کا ایجنڈہ رکھنے والوں کے مقاصد کو تقویت نہیں پہنچائی گئی؟ شاید اس ملک کی سلامتی کے ساتھ کھیلنے کا شغل اتنا عام فہم ہو گیا ہے کہ ہر ایک کی تان ملک کی سلامتی اور اس کی وجود کی بھد اڑانے پر ہی ٹوٹتی ہے۔ مگر کیا اس شغل کو اس طرح پروان چڑھانے دیا جائے۔ ذرا سوچئے جناب ہماری لمحوں کی خطا کہیں ہماری صدیوں پر محیط سزا کے قالب میں نہ ڈھل جائے۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com