بات چل نکلی ہے، اب دیکھیں کہاں تک پہنچے
Jan 04, 2014

آج طویل وقفے کے بعد قارئین کی عدالت میں حاضری کا ارادہ باندھا تو کسی ایک موضوع کو فوکس کرنا انتہائی مشکل نظر آیا۔ سامنے عوامی مسائل کے ڈھیر کی طرح موضوعات کا بھی ڈھیر لگا پڑا تھا اور ہر موضوع کی اپنی جگہ پر ایسی اہمیت کہ ان میں سے کسی ایک کو بھی نظر انداز کرنا انتہائی مشکل نظر آیا۔ اقتدار میں آنے سے پہلے کئے گئے حکومتی قائدین کے دعوﺅں کے برعکس بڑھتی ہوئی عوامی بدحالی اور اس کے مقابلہ میں بھارت کی نوزائیدہ عام آدمی پارٹی کے دہلی کی حکمرانی سنبھالتے ہی عوام کے ساتھ کئے گئے ہر وعدے کی فوری تکمیل کی جانب پیشرفت۔ یہ موضوع ایسا نہیں کہ اسے دو سطری تبصرہ کر کے چھوڑ دیا جائے اور پھر محترم قارئین کی عدالت میں پیشی کے طویل وقفے کے دوران حکمران مسلم لیگ کے قائدین ”پھر اسی بے وفا پہ مرتے ہیں“ کے بے ساختہ جذبے کو غالب پا کر بغل میں چھری، منہ میں رام رام والے مکار دشمن کو ویزہ فری تجارت کی سہولت دینے کی وارفتگی تک جا پہنچے ہیں۔ لکھنے کا ارادہ باندھا تو اس موضوع نے کچوکے لگانے شروع کر دئیے۔ یہ تو سیدھا سیدھا ملک کی سالمیت کا سودا ہو رہا ہے چنانچہ نوائے وقت کے قارئین اس موضوع سے صرفِ نظر کرنے کی تو کسی صورت اجازت نہیں دے سکتے۔ دماغ گھومنے لگا، میاں محمد بھی اپنے اس شعر کے ذریعے میری بے بسی کا مذاق اُڑاتے نظر آئے کہ

پھس گئی جان شکنجے اندر جیوں ویلن وِچ گنّا
روہ نوں کہو ہُن رہو محمد، جے ہُن رہوے تے منّاں

بس پھر کیا تھا، سوچوں کا پانسہ ہی پلٹ گیا۔ سابق جرنیلی آمر مشرف غداری کیس میں سارے متعلقین کو آنکھیں دکھاتے ”میں ڈرتا ورتا کسی سے نہیں“ کا نعرہ لگاتے عدالت میں پیشی کے لئے گھر سے نکلے اور دل تھامتے تھامتے عدالت کے بجائے سیدھے ملٹری ہسپتال کے کارڈیالوجی انسٹی ٹیوٹ جا پہنچے۔ ٹی وی پر اس خبر کا ٹیلپ چلتا دیکھا تو دل نے گواہی دی کہ میاں محمد کی روح نے موضوع کے انتخاب میں میری اُلجھن کی عکاسی کے لئے نہیں، جرنیلی آمر کی آج کی کیفیت کو اُجاگر کرنے کے لئے اس شعر کے ذریعے مجھے آج کے موضوع کے انتخاب کی اشتہاءدی ہے، سو جناب دوسرے سارے موضوعات مجھ پر ادھار رہے باری باری کر کے یہ قرض اتارتا رہوں گا کہ اب قوم کا ہر فرد حکمرانوں کی جانب سے اپنے اوپر مسلط کیا گیا آئی ایم ایف کا قرض اتارنے کا ویسے ہی عادی ہو چکا ہے اس لئے قارئین محترم خاطر جمع رکھیں وہ مجھے بھی کسی ادھار پر زیر بار نہیں پائیں گے۔

مشرف غداری کیس میں بھی زبانِ زد عام اور مخفی داستانیں اتنی سنگین اور اتنی دلفریب ہیں کہ کسی ایک کالم کے حدود اربع میں نہیں آ سکتیں چنانچہ ان داستانوں میں سے آج مَیں صرف مشرف غداری کیس کی قانونی حیثیت اور مشرف کے اس کیس میں سے صاف بچ نکلنے اور کسی بیرونی سہولت کے تحت اُڑنچھو ہو جانے کی خوش فہمیوں پر مبنی ساختہ داستانوں کو سنجیدہ موضوع کی حیثیت سے قارئین کی عدالت میں لانے کی کوشش کروں گا۔ مشرف صاحب کا عدالت جاتے جاتے ہسپتال جا پہنچنے کا احوال ایسا ہے کہ انسانی ہمدردی کے ناطے موضوع بحث نہ بنانے کا متقاضی ہے، کہیں پر پاسنگ ریمارکس ادا ہو جائیں تو وہ محض گرہ باندھنے کے مقصد کے تحت ہوں گے اس سے موضوع سخن کی دل آزاری قطعاً مقصود نہیں ہو گی۔

اس وقت غداری کیس میں مشرف صاحب کے صاف بچ نکلنے کی جہاں قانونی دلیلیں ان کے عہد میں من و سلویٰ سمیٹنے والوں کی جانب سے کٹ حجتی کے انداز میں خود کو بچانے کی نیت سے پیش کی جا رہی ہیں تو بعض ”ستارہ شناس“ خواتین و حضرات نہ جانے غیب کے کس علم کی بنیاد پر پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر مشرف کا ستارہ اوجِ ثریا پر چمکتا ہُوا دکھانے کی بیکار مشق میں مصروف نظر آتے ہیں۔ ایک ”باخبر“ حضرت نے تو اپنے ٹی وی چینل کے سالِ نو کے پروگرام میں دبئی سے کندھے اُچکاتے، بھویں نچاتے، فیشنی داڑھی پر ہاتھ پھیرتے اور چہرے پر پُراسرار مسکراہٹ بکھیرتے اپنی جانب سے غیب کے علم کا یہ تیر مارا کہ میں یہاں دبئی میں مشرف کی خوشبو محسوس کر رہا ہوں، اس جواب پر ان سے سوال کرنے والی اینکر بھی اتنی ہی پُراسراریت کے ساتھ مطمئن دکھائی دی جیسے ان سب کو غیب کا علم ہے جس کا وہ اپنے ناظرین پر رُعب جھاڑ رہے ہیں۔ ان سارے خواتین و حضرات کا غیب کا علم ایسا ہی ہوتا ہے جیسے ایک خاتون ایک پیر صاحب کے پاس گئی اور ان سے عاجزانہ انداز میں درخواست کی کہ پیر صاحب مجھے بھی غیب کا علم سکھا دو، پیر صاحب نے آنکھیں بند کر کے خاتون سے کہا ”ذرا میرے قریب آ جاو¿“ خاتون نے استفسار کیا ”پیر صاحب کوئی غلط کام تو نہیں کرو گے“ پیر صاحب نے آنکھیں کھولیں اور خاتون کے چہرے پر پھونک مارتے ہوئے کہا ”دیکھا تُجھے غیب کا علم ہونے لگا ہے ناں!“ مشرف صاحب کے غداری کیس میں صاف بچ نکلنے اور اُڑنچھو ہو جانے کا اظہار کردہ غیب کا علم بھی کچھ اسی نوعیت کا نظر آتا ہے جس کا عتیقہ اوڈھو کی زبانی اظہار ہوتا تو زیادہ اثر پذیر ہوتا مگر قانونی، عدالتی اور زمینی حقائق یہی ہیں کہ

پھس گئی جان شکنجے اندر جیوں ویلن وج گنّا
روہ نوں کہو ہُن رہو محمد، جے ہُن رہوے تے منّاں

بہت زوردار پراپیگنڈہ چل رہا ہے کہ غداری کیس میں اکیلے مشرف کے خلاف کیس انتقامی کارروائی کے زُمرے میں آئے گا، مشرف نے خود بھی اپنے دفاع کے لئے اس دلیل کا سہارا لیا ہے اور دلائل کی بنیاد یہی بنائی ہے کہ میں نے 3 نومبر 2007ءکی ایمرجنسی کا فیصلہ تنہا نہیں بلکہ پوری حکومتی مشینری، پارلیمنٹ اور اپنے ادارے افواجِ پاکستان کی مشاورت سے کیا تھا اس لئے اگر یہ جرم ہے تو مشاورت میں حصہ لینے والے تمام احباب اور ادارے شریکِ جرم ہیں۔ یہی وہ دلیل ہے جس کی بنیاد پر پنڈورہ بکس کھلنے کا ڈراوہ آتا ہے اور مشرف کے صاف بچ نکلنے کا یقین بن جاتا ہے مگر مشرف صاحب تو خود ہی اپنے ایک دوسرے بیان کے ذریعے اپنے تنہا شریکِ جرم ہونے کی تصدیق کر چکے ہیں، ان کا یہ بیان ان کے وکلاءکے ذریعے عدالتی ریکارڈ پر بھی آ گیا ہے کہ انہوں نے صدرِ پاکستان کی حیثیت سے نہیں، آرمی چیف کی حیثیت سے 3 نومبر کو ایمرجنسی نافذ کی تھی۔ اس ایمرجنسی کے جًواز میں اس وقت کے وزیراعظم شوکت عزیز کا ایک مراسلہ سامنے لایا گیا ہے جس کے پورے متن میں یہ مشورہ ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتا کہ آپ موجودہ صورتحال میں ایمرجنسی نافذ کر دیں سو ایمرجنسی نافد کر کے پی سی او کے تحت پوری عدلیہ کو گھر بھجوانے کی اختراع تنہا مشرف صاحب کے ذہن رسا کی پیداوار تھی اور کسی پارلیمنٹ یا ان کے ماتحت کسی ادارے کی بھلا مجال تھی کہ وہ ان کی اس اختراع سے انکار یا اختلاف رائے کر پاتے۔ آج اس مشاورت کے لئے سارے اقراری بیانات اسی پس منظر میں دئیے جا رہے ہیں۔ بے شک مشرف صاحب نے انہیں مشاورت میں شامل کر کے انہیں شریکِ جرم بنایا اور آئین کی دفعہ 6 کی ذیلی شقوں کے تقاضے کے تحت جرم ثابت ہوتے ہی انہیں اس کی سزا بھگتنی بھی چاہئے، یہی آئین اور قانون کا تقاضہ اور انصاف کی عملداری ہے۔ پھر اس صورتحال کو مشرف کے صاف بچ نکلنے سے کیوں تعبیر کیا جائے، سب کے سزاوار ہونے کا پیغام کیوں نہ دیا جائے اور جناب یہ کام بھٹو مرحوم کو تختہ¿ دار تک لے جانے کی سزا کا موجب بننے والے جناب احمد رضا قصوری کے ہاتھوں ہی سرانجام پائے گا۔ جہاں تک مشرف صاحب کے اُڑنچھو ہونے کی داستان سعودی وزیر خارجہ سعود الفیصل کے 6 جنوری کو پاکستان کے دورے کے ساتھ جوڑی جا رہی ہے تو اس میں مشرف کے اپنے وکیل ڈاکٹر خالد رانجھا کا یہ نشریاتی تبصرہ ہی کافی ہے کہ جن عدالتوں نے مشرف صاحب کی دوسرے مقدمات میں ضمانت منظور کی ہے وہ اُن کی صحت کے بارے میں پیش کی گئی میڈیکل رپورٹ کی بنیاد پر انہیں علاج معالجہ کے لئے بیرون ملک بھجوانے کی اجازت دے سکتی ہیں۔ غداری کیس میں یہ معاملہ نہیں ہے کہ اس میں مشرف صاحب کی ضمانت منظور نہیں ہوئی۔ مزید قانونی پہلو بے شمار ایسے ہیں جو مشرف کا ستارہ اوج پر چمکنے کے بجائے ”پھس گئی جان شکنجے اندر“ کی گواہی دے رہے ہیں۔ خود مشرف صاحب اور ان کے وکلاءکو بھی اس کا علم ہے اسی لئے تو اتنی گرد اُڑائی جا رہی ہے کہ سب کو اپنی ڈال دی جائے مگر جناب یہ بچاﺅ کا نہیں، محض گند ڈالنے کا راستہ ہے۔ قارئین کی عدالت میں آج اتنی بحث پر ہی اکتفا کرتا ہوں، بات چلی نکلی ہے اب دیکھیں کہاں تک پہنچے۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com