آج کا جشنِ آزادی
Aug 14, 2013

حکمرانوں کو کیا دوش دیں۔ یہ بے نیازی تو عوام کی سطح پر بھی مایوسی کی فضا بنا رہی ہے۔ میڈیا، بالخصوص الیکٹرانک میڈیا نے تو قوم میں وطن پرستی اور قومی قائدین سے محبت کے جذبے کو تھپکیاں دے کر سلانے کی ہی ٹھان لی ہے۔ گذرے چند سالوں کا نقشہ ذہن میں لائیں۔ اس ارضِ وطن کی تشکیل کے دن کو قومی تہوار کے طور پر منانے کے لئے ملک کے ہر شہر، ہر قصبے، ہر بازار، ہر گلی، ہر کوچے، ہر نکڑ الغرض ہر مقام پر مہینہ پہلے ہی جشنِ آزادی کی جوش و جذبے کے ساتھ تیاریاں شروع ہو جاتی تھیں، بقول اقبال” ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ“ اور اسی تعمیری سوچ اور جذبے کی جشن آزادی کی تیاریوں میں انفرادی اور اجتماعی طور پر فراوانی نظر آتی تھی۔ تمام گھروں پر قومی پرچم لہرا دئیے جاتے۔ سرکاری، نیم سرکاری اور نجی عمارتوں کو قومی پرچم والی جھنڈیوں سے مزین کر دیا جاتا۔ تعلیمی اداروں میں جشن آزادی کی ریہرسل ہوتی نظر آتی۔ کھیتوں، کھلیانوں اور کھیل کے میدانوں میں جشنِ آزادی کی دھوم مچی دکھائی دیتی۔ ہر گاڑی، بائیک اور پبلک ٹرانسپورٹ پر قومی پرچم والی جھنڈی لہراتی نظر آتی۔ نجی ٹی وی چینلز سے پہلے کے دور میں پی ٹی وی پر جشن آزادی کی مہینہ بھر پہلے ہی جلوہ نمایوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا۔ اینکرز اور نیوز کاسٹرز کے علاوہ فنکار بھی ہر پروگرام میں قومی پرچم والا بیج لگا کر شریک ہوتے۔ اور سرکاری سطح پر سرکاری محکموں اور دفاتر میں 14 اگست کے جشن آزادی کی تیاریاں تو دیدنی ہوتیں۔ قومی پرچم والے بیج اور جھنڈیاں خصوصی طور پر تیار کرا کے شہریوں میں تقسیم کی جاتیں۔ قیام پاکستان کے مقاصد اور اقوال قائد و اقبال پر مبنی پمفلٹ پرنٹ کرا کے بانٹے جاتے۔ جشن آزادی کی سرکاری اور نجی تقریبات کا سلسلہ بھی ہفتہ بھر پہلے شروع ہو جاتا، اس طرح عملی طور پر ”میں بھی پاکستان ہوں۔ تُو بھی پاکستان ہے“ کا نقشہ بنتا، سجتا اور اتحاد و یکجہتی¿ ملت کا پیغام دیتا نظر آتا۔

کسی قوم کے لئے اپنے آزاد و خودمختار وطن کی تشکیل سے بڑی خوشی تو اور کوئی نہیں ہو سکتی اس لئے تشکیلِ وطن والا دن منانا اور تزک و احتشام سے منانا ایک طرح سے وطن کے تحفظ و دفاع اور استحکام کے لئے تجدید عہد کی صورت میں اور زیادہ ضروری ہو جاتا ہے۔ اس روز جہاں ملکی اور قومی تعمیر و ترقی کے تقاضوں کو اجاگر کرنے میں مدد ملتی ہے وہیں قومی قائدین کے جاری کئے گئے مشن پر چلنے اور اسے برقرار رکھنے کے لئے قوم میں نیا جذبہ بھی فروغ پاتا ہے۔ ہمارے لئے تو جشن آزادی کو پورے قومی جوش و جذبے سے منانے کی اس لئے بھی ضرورت ہے کہ ہمارا ازلی مکار دشمن بھارت، جس کے بطن سے زمین کا ٹکڑا الگ کر کے تشکیل پاکستان کو ممکن بنایا گیا تھا، اپنی اس ہزیمت، ناکامی اور بربادی کا انتقام لینے کے لئے شروع دن سے پھنکارے مارتا، پیچ و تاب کھاتا اور اپنے سازشی جال پھیلاتا نظر آتا ہے، ایسے دشمن کی موجودگی میں ملک کی سلامتی و دفاع کے تقاضوں کو ہمہ وقت پیش نظر رکھنا ہمارے لئے محض ضروری نہیں، ہماری اولین ذمہ داریوں میں بھی شامل ہے۔ جبکہ جشنِ آزادی کو جوش و خروش سے منا کر ہم اپنے قومی جذبے کی بیٹری بھی چارج کرتے ہیں اور اپنے مکار دشمن کو ٹھوس پیغام بھی پہنچا دیتے ہیں کہ دفاع وطن کے لئے پوری قوم سیسہ پلائی دیوار بنی ہوئی ہے۔ وہ اس سے ٹکرانے کی حماقت مول نہ لے ورنہ مزید تباہی و بربادی اس کا مقدر بن جائے گی۔

اس تناظر وطنِ عزیز کا یوم آزادی ایک قومی اور ملی تہوار کا مقام رکھتا ہے جسے جتنا زیادہ جوش و جذبے سے منایا جائے گا، اتنا ہی ہم قیام پاکستان کے مقاصد کو نئی نسل میں منتقل اور اجاگر کر پائیں گے۔ اس مناسبت سے قومی ترانے اور ملی نغمے بھی قومی جذبے اور شعور کو اجاگر کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں اس لئے قومی ترانوں اور ملی نغموں کی مقابلہ بازی بھی جشنِ آزادی کی تیاریوں کا حصہ بنی نظر آتی تھی۔ صرف چند سال پہلے تک جشنِ آزادی کی ہما ہمی دیدنی ہوا کرتی تھی مگر اب کسی کی نظر لگی، یا ہم خود ہی انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنا قومی تہوار منانے کے معاملہ میں بے حس اور بے نیاز ہو گئے ہیں؟ اگر آج حکومتی، سرکاری سطح پر جشن آزادی کی جوش و جذبے والی تقریبات کے انعقاد کا اہتمام ہوتا نظر نہیں آتا تو انفرادی، ذاتی، گروہی اور نجی سطح پر بھی جشن آزادی کو جوش و جذبے سے منانے کی روایت فوت ہوتی نظر آ رہی ہے۔ حکومتوں کو تو ایک بہانہ مل گیا ہے کہ دہشت گردی کے پیدا کردہ حالات جشن آزادی کو جوش و جذبے سے منانے کے متقاضی نہیں رہے۔ سو یخ بستہ بند کمروں میں کسی محدود، مختصر سی تقریب کا اہتمام کر کے جشن آزادی منانے کی روایت پوری کر لی جاتی ہے۔ مختلف شعبہ ہائے زندگی کی شخصیات میں قومی ایوارڈ بھی ایوان صدر اور گورنر ہاﺅسز کی بلند فصیلوں کے اندر خود کو سیکڑاور سمٹا کر تقسیم کئے جاتے ہیں۔ جشن آزادی کے کسی عوامی اجتماع کو تو یہ سرزمین گذشتہ کئی سال سے دیکھنے کو ترس گئی ہے۔ کوئی ثقافتی رونق سجتی ہے نہ میلوں ٹھیلوں کا اہتمام ہوتا ہے۔ اور تو اور یوم پاکستان کے موقع پر افواج پاکستان کی پریڈ کی روایت بھی اب تو سرد خانے میں ڈال کر ختم کی جا چکی ہے۔ یوم دفاع کے روز افواج پاکستان کے اسلحے کی نمائش کی روایت بھی اب دم توڑتی نظر آتی ہے۔ اور ان قومی تہواروں کے موقع پر حکومتی سطح پر دانستہ طور پر ایسی فضا بنا دی جاتی ہے کہ وہ قومی سوگ کا منظر بن جاتا ہے، ناصر کاظمی کے بقول

   ہمارے گھر کی دیواروں پہ ناصر
اداسی بال کھولے سو رہی ہے

جشن آزادی جیسے قومی جوش وجذبے والے تہوار پر اداسی اور بے نیازی کی چادر ڈالنا تو بالخصوص نئی نسل کو قیام پاکستان کے مقاصد سے آشنا نہ ہونے دینے کی کسی گہری سازش کی چغلی کھاتا نظر آتا ہے۔ ایک بس نظریہ پاکستان ٹرسٹ اور ایوان کارکنان پاکستان کا فورم ہی رہ گیا ہے جس نے ہر قومی تہوار اور بانیان پاکستان کے دن قومی جوش و جذبے سے منانے اور نئی نسل کو قیام پاکستان کے مقاصد کے ساتھ منسلک رکھنے کا فریضہ سنبھالے رہنے کی ٹھان رکھی ہے اگر اس فوم کے بانی و سرپرست ڈاکٹر مجید نظامی اپنی پیرانہ سالی میں بھی ہر قومی تہوار مناتے ہوئے جوانوں کی طرح متحرک نظر آتے ہیں تو حکومتوں کی سطح پر ایسا جذبہ کیوں اجاگر نہیں ہو سکتا۔ اگر حکومتوں کی سطح پر اس جذبہ میں کمی ہے اور اس کمی کا گراف بتدریج نیچے جا رہا ہے تو پھر معاف کیجئے یہ قوم سے وطن پرستی چھیننے کی کسی سازش کا تسلسل ہے۔ عوام کی سطح پر بھی جشن آزادی منانے کا جذبہ اس لئے ماند پڑا ہے کہ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے اس جذبے کو ابھارنے والی ایکسرسائز ہی ناپید ہو گئی ہے۔ آج 14 اگست کا دن آن پہنچا ہے مگر پی ٹی وی سمیت کسی بھی ٹی وی چینل پر اس کے میزبانوں، نیوز کاسٹروں اور مہمانوں کے ہاتھوں میں قومی پرچم والی جھنڈیاں تھمانے اور انہیں قومی پرچم والے بیج سے مزین کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی گئی۔ حد تو یہ ہے کہ پاکستان کی خالق جماعت مسلم لیگ نے، جو اس وقت حکمران جماعت بھی ہے، پارٹی کی سطح پر عوام میں قومی پرچم والے بینر، بیج، جھنڈیاں اور بانیان پاکستان قائد و اقبال کے پورٹریٹ پرنٹ کرا کے تقسیم کرنے کی روایت ہی ختم کر دی ہے۔ سرکاری اور جماعتی سطح پر اس بے حسی کے عوام الناس پر بھی ایسے ہی اثرات مرتب ہوئے۔ چنانچہ آج کسی پرائیویٹ اور پبلک مقام اور کسی نجی عمارت پر قومی پرچم آویزاں نظر آئے نہ کسی عمارت کو قومی پرچم والی جھنڈیوں سے آراستہ کیا گیا۔ نہ گلیوں، بازاروں میں قومی پرچموں کے سٹال لگے اور نہ کسی گاڑی پر قومی پرچم والی جھنڈی لہرانے کی ضرورت محسوس کی گئی۔ آخر اس اجتماعی بے حسی کا ذمہ دار کون ہے ۔ حکمران مسلم لیگ کے قائدین بھارت کے ساتھ دوستی اور من موہن سے ملاقات کے شوقِ فضول سے باہر نکلیں گے تو انہیں اندازہ ہو پائے گا کہ وہ تحفظ و دفاعِ وطن کے حوالے سے کیاکچھ ضائع کر چکے ہیں اور مزید کیا کچھ ضائع کرنے کا اہتمام کئے بیٹھےہیں۔ ہماری اس قومی بے حسی کے ماحول میں تو ہمارے دشمن کو ہمیں ختم کرنے کے ایجنڈے کی تکمیل کے لئے کسی لمبی چوڑی حربی تیاری کی بھی ضرورت نہیں پڑے گی۔ اگر یہ بے حسی کسی قومی سطح کی سازش کا شاخسانہ ہے تو قوم آج پورے جوش وجذبے سے جشن آزادی سے منا کر اس سازش کو ناکام بنا دے ورنہ یہ سازش ہمارے دامن کو آگ لگا کر ہی چھوڑے گی۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com