عید سے پہلے کی نیکی
Aug 08, 2013

یہ کسی شخصیت کا نہیں، مسندِ اقتدار کا قصور ہے۔ جو اس پر بیٹھے گا اس کا رویہ حاکموں والا ہی بن جائے گا اور اس روئیے میں رعایا راندہ¿ درگاہ نظر نہیں آئے گی تو حاکمیت کی دھاک کیسے بیٹھے گی۔ سو عوام سے بے نیازی کی جو داستانیں 2010ءکے سیلاب کے دوران اس وقت کے حاکموں سے منسوب ہوئیں، وہی داستانیں آج کراچی، اندرون سندھ، جنوبی پنجاب، نوشہرہ، ہزارہ اور بلوچستان کے پسماندہ علاقوں میں مون سون کی شدید بارشوں اور اس کے نتیجہ میں ندی نالوں اور دریاﺅں کے بپھرے پانیوں میں بے یارومددگار عوام کی امداد کے لئے منتظر نگاہوں سے موجودہ حکمرانوں کی بے نیازی کی چغلی کھاتی نظر آ رہی ہیں۔ ایک تو ایسی قدرتی آفات کی پیشگی اطلاع پا کر بھی پیش بندی، تدبر اور تدبیر سے حکمرانوں کی بے نیازی ان آفات کو متاثرہ عوام کے لئے سوہان روح بنا دیتی ہے اور پھر حاکمانہ روئیے زخم خوردہ عوام کے زخموں پر پھاہے رکھنے کی نوبت ہی نہیں آنے دیتے۔ 2010ءکا سیلاب اپنی تباہ کاریوں میں 2005ءکے زلزلے کے ”رچر سکیل“ جتنا ہی تھا بلکہ اس سیلاب میں مالی نقصان کسی گنتی شمار میں بھی نہیں تھا۔ ملک اور عوام پر ٹوٹی اس افتاد میں عوام کو حوصلہ دینے اور ان کی ہمت بندھانے کے لئے حکمرانوں کا مستعد ہو کر متاثرہ عوام کے ساتھ رہنا ضروری تھا مگر صدر محترم آصف علی زرداری کے لئے عین اس موقع پر فرانس میں اپنے نو تعمیر کردہ محل کی انسپکشن کرنا ضروری تھا اور یہ موقع بھی اس لئے بنا کہ برمنگھم میں صدر محترم کے صاحبزادے کی گریجویشن کانووکیشن کی تقریب بھی انہی تاریخوں میں آ گئی تھی۔ چنانچہ رعایا کو سیلاب میں ڈوبتا چھوڑ کر صدر محترم فرانس چلے گئے جہاں سے ان کا ہفتے بھر کا قیام برطانیہ کا پہلے ہی طے تھا اس طرح وہ دکھی عوام کی چیخ و پکار سے بے نیاز پیرس اور برمنگھم کی معطر فضاﺅں میں جھومتے نظر آئے۔ جب ان کی اس شہنشاہانہ سوچ پر ملکی اور غیر ملکی میڈیا پر تنقید کی بوچھاڑ ہوئی تو مخدوم امین فہیم نے یہ صفائی پیش کرکے دکھی عوام پر مزید تازیانے برسائے کہ صدر محترم ملک میں موجود ہوتے بھی تو کیا وہ سیلاب میں ڈوبتے عوام کو بچا لیتے۔ یہ شاہانہ سوچ آج کی نہیں، عرصہ قدیم کی ہے جس کا مظاہرہ کبھی بھوکے عوام کو روٹی نہ ملنے کی صورت میں کیک کھانے اور کبھی ٹماٹر مہنگا ہونے کی صورت میں سالن میں لیمو نچوڑنے کا مشورہ دے کر کیا جاتا ہے اور اس طرح راندہ¿ درگاہ عوام پر اپنی حاکمانہ دھاک بٹھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔یہ سوئے اتفاق ہے یا قدرت کی حکمت کہ 2010ءکا سیلاب بھی ماہ رمضان المبارک کے دوران تباہ کاریوں کا باعث بنا اور اب بھی بے یارومددگار عوام کو ماہ رمضان المبارک کے دوران ہی بارشی سیلابی ریلوں کی تباہ کاریوں کا سامنا ہے جبکہ اقتدار کے ایوانوں میں شان بے نیازی بھی 2010ءوالی ہی نظر آتی ہے۔ جب وزیراعظم میاں نواز شریف عمرہ کی ادائیگی کے لئے سعودی عرب کا رختِ سفر باندھنے کی تیاریوں میں تھے، اس وقت کراچی، جنوبی پنجاب کے متعدد علاقوں اور خیبر پی کے میں مون سون کی طوفانی بارشوں کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا جن کی تباہ کاریوں کی اطلاعات بھی میڈیا پر آنا شروع ہو گئی تھیں مگر انہوں نے تو عمرے کی خاطر صدر کے انتخاب کی تاریخ آگے نہ بڑھنے دی۔ ان سے بارشی پانی اور سیلاب میں گھرے راندہ¿ درگاہ عوام کی خاطر اپنے عمرے کی قربانی دینے کی کیا توقع کی جا سکتی تھی چنانچہ وہ شیڈول کے مطابق سعودی عرب پہنچ گئے۔ اسی دوران نقل مکانی کرتے کراچی کے عوام کی آہیں، فریادیں آسمانوں کی خبر لینے لگیں اور ملک کے دیگر علاقوں میں بھی قیامت صغریٰ کے مناظر بنتے نظر آئے۔ وزیراعظم سے توقع باندھی گئی کہ وہ عمرے کی ادائیگی کے ساتھ ہی اپنا دورہ سعودی عرب مختصر کرکے ملک واپس آ جائیں گے اور خدمتِ عوام کی عبادت میں نیکیاں کمائیں گے مگر انہوں نے سعودی عرب میں اپنی آﺅ بھگت سے متاثر ہو کر اپنے دورہ میں توسیع کر لی۔ یہ سطور شائع ہونے تک ممکن ہے وزیراعظم اپنے کمائے ثواب کے ساتھ وطن عزیز کی سیلاب زدہ دھرتی پر قدم رنجہ فرما چکے ہوں مگر سیلاب میں گھرے عوام کی حالت زار دیکھتے ہوئے بھی وزیر اعلیٰ پنجاب اپنے معمول کے چیک اپ کے لئے لندن سدھار چکے ہیں اور وہاں دو چار افطار پارٹیوں کی شکل میں استقبالئے بھی کھا چکے ہیں۔ شائد اب رانا ثناءاللہ بھی یہی صفائی پیش کریں کہ وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب ملک میں ہوتے بھی تو کیا وہ سیلاب کے پانی میں ڈوبنے کا مقدر رکھنے والے عوام کو بچا لیتے۔ سو جناب حکمران طبقات کی سوچ راندہ¿ درگاہ عوام کے زخموں پر پھاہے رکھنے والی کبھی نہیں بن سکتی۔ ان کا سہارا بہرصورت خدمتِ عوام کے جذبے سے معمور خدمت خلق کی تنظیموں نے ہی بننا ہے۔ جیسے دکھی انسانیت کا پل پل سہارا بننے کا فریضہ سماجی تنظیموں اور این جی اوز نے 2005ءکے زلزلے اور 2010ءکے سیلاب کے دوران ملک کے ہر متاثرہ علاقے میں پہنچ کر سرانجام دیا۔ اسی طرح اب بھی سیلاب زدہ علاقوں میں یہی تنظیمیں سرگرم عمل ہیں۔ عیدالفطر کے باسعادت موقع پر بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ عوام کو یقیناً کرب کا زیادہ احساس ہو گا۔ حکمران طبقات سے تو ان بے چارگان کی خاطر اپنی عید کی خوشیاں قربان کرنے کی کبھی توقع نہیں کی جا سکتی اس لئے متاثرین کو عید کی خوشیوں میں شریک کرنے کا فریضہ خدمت خلق کی نیک نامی رکھنے والی سماجی تنظیموں نے ہی سرانجام دینا ہے اس لئے تھوڑی یا زیادہ استطاعت رکھنے والے ملک کے ہر شہری کو ان سماجی تنظیموں کی وساطت سے اپنے بے یارومددگار بھائیوں کی بحالی اور انہیں عید کی خوشیوں میں شرکت کا موقع فراہم کرنے کے لئے جو بھی بن پڑتا ہے ضرور اپنا حصہ ڈالنا چاہئے۔ اس حوالے سے الخدمت فاﺅنڈیشن کی دکھی انسانیت کے لئے خدمات بے مثال ہیں۔ 1990ءسے قائم اس این جی او کی خدمات کا دائرہ آفات سے بچاﺅ، صحت، تعلیم، کفالتِ یتامیٰ، صاف پانی کی فراہمی، قیدیوں کی بہبود سمیت ہر قسم کی سماجی خدمات تک پھیل چکا ہے۔ گزشتہ زلزلے اور سیلاب میں دکھی انسانیت کی بحالی کی جو کاوشیں اس تنظیم کی جانب سے کی گئیں اس کا اعتراف ملکی ہی نہیں، بیرونی میڈیا پر بھی ہوا۔ جبکہ دکھی انسانیت میں عطیات تقسیم کرنے اور ان کی بحالی کے کام کرنے والے اس ادارے کے ہاتھ بے ضابطگی، بدعنوانی کے کسی ہلکے سے دھبے سے بھی محفوظ ہیں۔ اس لئے حالیہ سیلاب متاثرین کی بحالی کے لئے بھی الخدمت فاﺅنڈیشن پر اعتماد کیا جا سکتا ہے۔ حکمران طبقات سے دکھی انسانیت کی خدمت کی نہ پہلے توقعات وابستہ تھیں نہ اب ہیں۔ اگر اس دھرتی پر خدمت خلق کے جذبے سے معمور مخیر حضرات سرگرم نہ ہوتے تو حکمرانوں کے ہاتھوں یہ دھرتی راندہ¿ درگاہ عوام کے لئے تنگ ہوتے ہوتے ان کے قبرستان میں تبدیل ہو چکی ہوتی۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com