معصوم خواہش کا اظہار اور یادوں کے انبار
Jul 22, 2013

بظاہر معمولی سی خبر تھی مگر غیر نمایاں انداز میں سنگل کالم لگی اس خبر کو پڑھتے ہی میرے دل میں یادوں کا دبستان کھل گیا۔ یہ خبر تحریک انصاف کی لیڈر اور ہماری بھابی بیگم ماہ ناز رفیع کے ایک بیان پر مبنی تھی جس میں انہوں نے اپنی معصوم خواہش کا اظہار کیا کہ بزرگ سیاستدان ایئر مارشل اصغر خان کو صدر مملکت کے منصب پر منتخب کرایا جائے۔ صدر مملکت کے لئے اب تک مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کی جانب سے جو نام سامنے آئے ہیں ان کے حُسن و قبح کو دیکھتے ہوئے بیگم ماہ ناز رفیع کی تجویز کی تائید کرنے کو دل چاہتا ہے اور اب تو صدر مملکت کے امیدواروں پر ارکان پارلیمنٹ کی طرح آئین کی دفعات 62,63 کا اطلاق بھی ہونا ہے جس میں دیکھئے چھان پھٹک کے پیمانہ کو کتنا شفاف بنایا جا سکتا ہے مگر اصغر خان ایک ناکام سیاسی لیڈر ہی سہی۔ صدر مملکت کے منصب کے لئے تو یہ معیار پر پورا اترتے ہیں۔ اگر صدر مملکت کے امیدواروں پربھی دفعہ 62,63 کا اطلاق گزشتہ انتخابات کے امیدواروں جیسا ہوا جس میں سارے گھٹو¿ گھپ اور کھایا پیا ہضم 62,63 کی چھلنی سے اچھل کود کرتے، اعزاز پاتے باہر آ دھمکے تھے تو پھر ہم سارے معیارات کو بس روئے پیٹتے ہی رہیں گے۔ خیر آج مجھے ان یادوں کا تذکرہ کرنا ہے جو اصغر خان کی جسٹس پارٹی، جمہوری پارٹی اور تحریک استقلال والی 45 سال کی سیاست کے مدوجزر کے ساتھ وابستہ ہیں۔

 بزرگ قارئین کو تو بخوبی یاد ہو گا مگر ہماری نئی نسل سیاست کے ساتھ بنائے ، بگاڑے جانے والے پیج و خم سے واقف نہیں ہوگی۔ میری آج کی یادوں کا تذکرہ بطور خاص اس نسل کے لئے ہے۔ اصغر خان اور ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے اپنی عوامی سیاست کا آغاز 60ءکی دہائی کے آخری سالوں کم و بیش ایک ساتھ ہی کیا تھا۔ بھٹو مرحوم کے مقابلے میں اصغر خان اپنی شخصیت اور کردار کے حوالے سے کہیں بہتر سمجھے جاتے تھے چنانچہ انہوں نے جب جسٹس پارٹی بنا کر عملی سیاست کے میدان میں قدم رکھا تو عوام میں انہیں عزت و احترام والی اور مقبول عام پذیرائی حاصل ہوگئی۔ اس سے قبل بھٹو مرحوم جنرل ایوب کی کابینہ سے نکل کر ٹرین کے ذریعے لاہور پہنچے تو انہیں بھی عوام نے ہاتھوں ہاتھ لیا چنانچہ اس عوامی مقبولیت کو کیش کروانے کے لئے انہوں نے 1967ءمیں پیپلز پارٹی کی لاہور میں ہی بنیاد رکھی۔ تاہم اصغر خان کی مقبولیت کا گراف ان کی مقبولیت سے بڑھ گیا اور اصغر خان کے اپنے بقول بھٹو مرحوم نے ان کے ساتھ ایک میٹنگ کا اہتمام کیا اور پیش کش کی کہ ہم ایک ہی پلیٹ فارم پر سیاست کریں اور عوام کو بے وقوف بنا کر تادیر حکمرانی کرتے رہیں مگر اصغر خان نے ان کی یہ پیش کش قبول نہ کی اور ایک الگ سیاسی سمت متعین کی۔ سانحہ سقوط ڈھاکہ کے بعد بھٹو مرحوم کا تو عوام کو بے وقوف بنا کر ان پر تادیر حکمرانی کا خواب پورا ہو گیا جو بالآخر ان کی پھانسی کی سزا پر منتج ہوا مگر اصغر خان نے اصولوں پر مبنی اپنی سیاست کو چار جماعتی اتحاد کے ساتھ انضمام کر کے مشترکہ طور پر تشکیل پانے والی پاکستان جمہوری پارٹی کی جھولی میں ڈال دیا ان میں تین جماعتیں نور الامین کی جمہوری پارٹی، چودھری محمد علی کی نظام اسلام پارٹی جس میں نواب زادہ نصراللہ خان بھی شامل تھے اور اصغر خان کی جسٹس پارٹی شامل تھیں جنہوں نے ایک دوسرے کے ساتھ انضمام کیا اور پاکستان جمہوری پارٹی کی داغ بیل ڈالی۔ نوابزادہ نصراللہ خان اور اصغر خان دونوں اس پارٹی کے نائب صدور مقرر ہوئے مگر دونوں میں سیاسی نوک جھونک کا بھی آغاز ہو گیا۔ نوابزادہ صاحب خود بھی مرنجاں مرنج اور وضعدار سیاستدان تھے مگر سیاست میں اصغر خان جیسی صاف گوئی شاید انہیں وارا نہیں کھاتی تھی۔ وہ اصغر خان پر اکثر ایک شعر کی صورت میں پھبتی کستے تھے کہ ”سب کچھ اللہ نے دے رکھا ہے شوہر کے سوا“ جب اصغر خان کی منافقی سیاست میں نہ بن سکی تو انہوں نے تحریک استقلال کے نام پر ایک نئی پارٹی تشکیل دے دی جس پر نوابزادہ نصراللہ خان نے پھر پھبتی کسی کہ تحریک استقلال میں سوائے استقلال کے باقی سب کچھ ہے۔ نوابزادہ صاحب جوڑ توڑ کی سیاست کے ماہر گردانے جاتے تھے اور اپوزیشن کی سیاست ان کے ساتھ منسوب ہو کر رہ گئی تھی۔ بھٹو مرحوم کے دور میں انہیں اپوزیشن کی سیاست میں زیادہ نمایاں ہونے کا موقع ملا جنہوں نے پہلے بھٹو حکومت کے خلاف اپوزیشن اتحاد کی سی او پی کی بنیاد رکھی اور پھر بھٹو کے دوسرے دور حکومت میں 9 جماعتی اپوزیشن اتحاد پی این اے تشکیل پایا تو اس میں نوابزادہ نصراللہ خان بھی قد آور لیڈران میں شامل تھے تاہم اصغر خان کی مقبولیت پی این اے کی تحریک میں دوچند ہوگئی اور اس اتحاد کے پلیٹ فارم پرانتخابی دھاندلیوں کے خلاف اصغر حان کی قیادت میں کراچی سے نکلنے والا جلوس ہماری سیاسی تاریخ کا ایک یادگار باب بن گیا۔ مگر اصغر خان اپنی اصول پسندی اور کھرے پن کے باعث اپنی اس عوامی مقبولیت کو کیش نہ کروا سکے۔ جنرل ضیاءنے بھٹو حکومت کو ” ٹوپل کر کے“ پی این اے کو اپنی کابینہ شمولیت کی دعوت دی تو اصغر خاں اس سے اختلاف کرتے ہوئے پی این اے سے باہر نکل آئے۔ مگر پھر ان ہی اصغر خان کو ضیاءالحق کی آنکھوں میں پاکستان کے مستقبل کی روشنی دکھائی دینے لگی وہ ایران کے دورے پر گئے تو ضیاءالحق کی تعریفوں کا پل باندھ آئے چنانچہ ملک واپسی پران کا حشر بھی پی این اے کے سیکرٹری جنرل رفیق باجوہ جیسا ہوا جنہیں بھٹو سے خفیہ ملاقات کی پاداش میں عوام نے آسمان سے اتار کر زمین پر دے مارا تھا ۔ بہرحال اصغر خان کے ساتھ اس انتہا کا ردعمل تو سامنے نہ آیا مگر ان کی سیاست اس کے بعد سنبھل نہ سکی جب 1981ءمیں ضیاءالحق کے مارشل لاء کے خلاف اپوزیشن اتحاد ایم آر ڈی تشکیل پایا تو اصغر خان کی تحریک استقلال کو بھی اس میں شمولیت کی وجہ سے دوبارہ سیاسی مقبولیت حاصل ہو گئی اس دور کی تحریک استقلال بلاشبہ قدآور سیاستدانوں کی آماجگاہ بن گئی تھی۔ آج کے سیاسی کہکشاں کی زنیت بنی اکثر شخصیات تحریک استقلال کے پلیٹ فارم پر اصغر خان کا دم بھرتی نظر آتی تھیں اور ان شخصیات کی اکثریت تحریک استقلال کی سنٹرل ورکنگ کمیٹی کی محض رکن تھی، میاں نواز شریف نے بھی اپنی سیاست کا آغاز تحریک استقلال سے کیا اور اس پارٹی سے بااجازت رخصت ہونے تک وہ تحریک استقلال پنجاب کے نائب صدر کے عہدے پر فائز تھے جہاں سے وہ سیدھے گورنر غلام جیلانی خاں کی کابینہ میں بطور وزیر بلدیات شامل ہوئے اور پھر وزارت خزانہ کا قلمدان بھی انہیں مل گیا، اس حیثیت میں وہ جنرل ضیاءکے صدارتی ریفرنڈم کے لارنس گارڈن لاہور والے جلسہ کے انتظامات کرنے میں پیش پیش رہے۔ پنجاب سے میاں محمود علی قصوری ان کے ساتھ صاحبزادے میاں خورشید محمود اور میاں عمر محمود قصوری، میاں منظور وٹو، چودھری اعتزاز احسن، سید ظفر علی شاہ، بیگم ماہ ناز رفیع، ملک حیدر عثمان، منیر احمد خاں، چودھری محمد اشرف (اشرف لیڈر)، نواز گوندل، سید منظور علی گیلانی، ملک حامد سرفراز اور دوسری بے شمار شخصیات تحریک استقلال کے دامن سے بندھی ہوئی تھیں۔ سندھ سے علی احمد سومرو، محمد میاں محمد سومرو، نثار کھوڑو، سید مشیر احمد پیش امام، نفیس صدیقی، بلوچستان سے نواب اکبر بگٹی ، خدائے نور اور اسی طرح سرحد سے بھی کئی سرکردہ شخصیات جن کے اس وقت ذہن میں نام نہیں آ رہے تحریک استقلال کے پلیٹ فارم پر ایم آر ڈی کی حکومت مخالف سرگرمیوں میں پیش پیش نظر آتی تھیں، کم و بیش یہی شخصیات بعد ازاں دیگر جماعتوں کے پلیٹ فارم پر اقتدار میں اور اپوزیشن سیاست میں نمایاں ہوئیں۔ اگر اصغر خان روایتی مفاہمتی سیاست کو حرزِِ جاں بنا لیتے تو اقتداری شیر خرموں کے منتظر قد آور سیاستدان ان سے الگ ہو کر دوسرے راستے کو کیوں اختیار کرتے مگر انہوں نے اپنی پارٹی تباہ کرا لی، اصولوں کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیا۔ ان کی اصولی سیاست مجھے اس وقت گڑ بڑا دیتی ہے جب میں بھٹو کو کوہالہ کے پل پر پھانسی دینے کا اعلان کرنے والے اصغر خان کو اسی بھٹو کی پیپلز پارٹی کے ساتھ اپوزیشن اتحادوں ایم آر ڈی، پی ڈ اے اور پی ڈی ایف میںجلوہ افروز ہوا دیکھتا ہوں۔ شاید ان رعائتی نمبروں کے ساتھ یہ اصولی سیاست ہوئی ہوگی کہ یہ اپوزیشن کی سیاست تھی۔ تحریک انصاف میں پارٹی انتخابات کے جو ڈنکے آج بج رہے ہیں اس کی روایت بھی اصغر خان نے اپنی پارٹی میں مقررہ میعاد کے اندر تواتر کے ساتھ انتخابات کا عمل جاری رکھ کر قائم کی تھی، اس انتخابی عمل سے ہی تحریک استقلال میں دراڑیں پیدا ہونا شروع ہوئیں اور انتخابات ہارنے والے امیدوار پارٹی کے اندر الگ دھڑے بناتے اور پھر علیحدگی اختیار کرتے رہے۔ تحریک انصاف کو بھی اپنی پارٹی کے انتخابی عمل پر اترانا نہیں چاہئے کیونکہ ہماری روایتی سیاست میں پارٹی انتخابات میں شکست کسی کو ہضم نہیں ہوتی۔ اس عمل نے اصغر خان کو تباہ کیا تھا تو عمران خان کے لئے بھی یہ منزل زیادہ دور نہیں۔ اصغر خان صاحب نے تو پارٹی کی صدارت سے بار بار ازخود الگ ہونے کی روایت بھی ڈالی اور اپنی موجودگی میں اپنی پارٹی رحمت خان وردگ کے حوالے کر دی جبکہ سید منظور علی گیلانی اصغر خان کے بعض تنظیمی فیصلوں سے اختلاف کر کے استقلال پارٹی کی شکل میں اپنا الگ دھڑا بنا کے بیٹھے ہیں۔ جس پارٹی میں ELECTABLE لوگوں کی بھاری اکثریت موجود تھی وہ پہلے اصغر خان کے کھلنڈرے بیٹے عمر اصغر خان کے ہاتھوں برباد ہوئی جس کے بعد اصغر خان نے سیاست سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا، مگر عمران خان کے سونامی کے فریب میں الجھ کر ایک روز وہ ان کے ساتھ پریس کانفرنس میں جا بیٹھے اور تحریک استقلال کی بحالی کا اعلان کر کے اسے تحریک انصاف میں ضم کرنے کا اعلان بھی کر دیا۔ جیسے نوابزادہ نصراللہ خان کے صاحبزادے نوابزادہ منصور نے جمہوری پارٹی کی شکل میں موجود اپنے والد کے سیاسی اثاثے کو سونامی میں ڈبویا اور پھر اس کے ڈوبنے کا منظر دیکھنے کے بھی روادار نہ ہوئے، اسی طرح اصغر خان صاحب نے خود اپنی پارٹی تحریک استقلال کو اپنے وضع کردہ اصولوں کی بھینٹ چڑھا دیا۔ بیگم ماہ ناز رفیع کی انہیں صدر مملکت بنوانے کی خواہش اپنی جگہ مگر جو صاحب اپنی پارٹی کا ستیاناس کر کے اپنے اصولوں سے باز نہیں آئے وہ اپنے اصولوں کی خاطر صدر مملکت کا منصب قربان کرنے میں کیا دیر لگائیں گے۔ سو جناب اصغر خان کے صدر بننے کا خواب دور سے ہی سہانا لگتا ہے۔ آج بیگم ماہ ناز رفیع کی اپنی کیفیت بھی تو ایسی ہے کہ وہ

تجھ سے بچھڑ کے ہم بھی مقدر کے ہو گئے
پھر جو بھی در ملا ہے، اسی در کے ہو گئے

اور محترمہ کو اس بے معنی تجویز کی جو سزا ان کے موجودہ قائد عمران خان سے ملنی ہے اس کے تصور سے بھی ڈر آتا ہے۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com