پھر بھی دل ہے پاکستانی
Jul 18, 2013

گھر میں لوٹ مار کی ہاہاکار مچی ہے۔ اندھیر نگری کا راج ہے۔ نہ پکڑ کا دھڑکا ہے نہ سزا کا خوف۔ اس بے لگامی کو لگام دینے کی تو سوجھتی نہیں۔ قومی دولت اور وسائل کو دیمک کی طرح چاٹنے والوں پر تو قانون و انصاف کی عملداری کے درّے لگانے کا کوئی اہتمام نہیں ہو پاتا مگر ان کے ہاتھوں اجاڑی گئی مادر وطن کی معیشت کو سنبھالا دینے کے نام پر کشکول گدائی اٹھائے ملکوں ملکوں پھیرے ڈالنے اور پھر ننگ وطن اور ننگ انسانیت شرائط پر حاصل کئے گئے خیرات (قرض) کے ٹکڑوں کی بامنافع واپسی کے لئے متعلقہ ساہوکاروں کی عائد کردہ شرائط کے عین مطابق راندہ درگاہ عوام پر کوڑے برسا کر بھاری ٹیکسوں کی مد میں ان سے جبری وصولیوں کا اہتمام کرنے میں ہم ضرور یکتائے روزگار ہو چکے ہیں۔ اگر اپنے گھر کو اپنے ہی ہاتھوں سنوار لیا جائے اور اس میں بگاڑ کا باعث بننے والے سارے جھوٹے اشرافیاﺅں کا سارا کھایا پیا ان کے فربہ پیٹوں اور گھروں کے آنگنوں میں دبائے گئے قارون کے خزانوں سے نکلوا لیا جائے تو یہ ملک خداداد فی الواقع جنت ارضی کا نمونہ بن جائے؟ کالم میں اپنے شعروں کا حوالہ دیتے ہوئے میں بالعموم کسرنفسی میں مبتلا رہتا ہوں مگر آج مجھے اپنی پنجابی غزل کا ایک شعر بار بار یاد آ رہا ہے

باہروں پِنّن ٹُر چلیا سی
گھردیاں ہانڈیاں کُتیاں لَکّیاں

ہماری آج بطور قوم یہی کیفیت بنی ہوئی ہے۔ گھر کا آنگن قدرت کے خزانوں سے مالامال ہے اس پر ہاتھ صاف کرنے کو والوں چھوٹ ہی چھوٹ ہے مگر ان کے ہاتھوں برباد ہونے والی معیشت کو اپنے پاﺅں پر کھڑا کرنے کی مجبوری ظاہر کرکے ہم کشکول تھامے ملک و قوم کو اغیار کی غلامی میں دینے کے لئے بگٹٹ دوڑے چلے جا رہے ہیں۔ تو بھائی صاحب ایسے لچھنوں میں اپنے ہی ہاتھوں پیدا کئے گئے کسی بگاڑ کو عملیت پسندی کے ساتھ سلجھائے بغیر ہم اپنی قومی بقا کی کیسے توقع کر سکتے ہیں۔ بلھے شاہ نے ہماری ایسی ہی کیفیت کی کیا خوب عکاسی کی ہے

پڑھ پڑھ عالم فاضل ہویوں
کدی اپنے آپ نوں پڑھیا ای نہیں
جا جا وڑدا مسجداں، مندراں
کدے من اپنے وچہ وڑیا ای نہیں
ایویں روز شیطان دے نال لڑدا
کدی نفس اپنے نال لڑیا ای نہیں
بلھے شاہ اسمانیں اڈدیاں پھڑدا ایں
جیہڑا گھر بیٹھا اوہنوں پھڑیا ای نہیں

کیا ہمیں آج وطن عزیز کا ایسا ہی منظر بنا ہوا نظر نہیں آ رہا؟ ہمیں توانائی کے بحران نے بدحال کیا ہوا ہے۔ ہماری معیشت مقروض بنی سسکیاں لے رہی ہے مگر اس ارضِ وطن کو لوٹ کاٹ کر ارب کھرب پتی بننے والے سارے پاپیوں کو عزت دار بنا کر ہم نے اپنے سروں کا تاج بنا لیا ہے۔ پچھلے دور کی رنگ رلیوں کے قصے عدالت عظمیٰ کے ازخود نوٹس لینے پر زبانِ زدِعام ہیں مگر قانون کی بے بسی ہے کہ کچھ سجھائی نہ دینے کے فریب میں الجھا رہی ہے۔ کسی بھی ادارے کی ایک اینٹ اکھاڑیں، نیچے سے حرام خوروں، پاپیوں کے ہجوم بے کراں امڈے پڑے نظر آئیں گے۔ اوگرا میں 82 ارب روپے کی کرپشن ہو گئی۔ کم ظرف توقیر صادق اس لوٹ مار پر بھی اتراتا نظر آتا ہے۔ ایم بی بی ایس کے لقب والے ملتانی مرشد یوسف رضا گیلانی للکارے مار رہے ہیں ”کسی میں ہمت ہے تو مجھے گرفتار کر لے۔“ غریب مزدوروں کی پائی پائی سے اکٹھے ہونے والے اولڈ ایج بینیفٹ فنڈ کے اربوں روپے کسی گوندل یار کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔ اس فنڈ سے حاصل ہونے والی حقیر پنشن پر تکیہ کرنے والے ضعیف العمر مزدوروں کا بڑھاپا خراب ہو رہا ہے مگر اس خرابی کی نوبت لانے والے دندناتے پھر رہے ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف نے بجلی گیس چوروں کو پکڑ کر عبرت کا نشان بنانے کا عزم باندھا اور فیصل آباد جا پہنچے۔ وہاں ایک مل میں سالانہ 29 کروڑ روپے کی گیس چوری پکڑی گئی۔ فیصل آباد صنعتوں کا شہر ہے کیا دوسرے صنعتکار بجلی گیس کی چوری میں پیچھے رہے ہوں گے۔ پھر ملک بھر کے صنعتکاروں، زمینداروں اور سرمایہ دار طبقات کے معاملات کا جائزہ لے لیں۔ انہیں اپنے ڈاکوں چوریوں پر قانون کی گرفت کا اس لئے خوف لاحق نہیں ہوتا کہ ان کا اپنا یا ان کے عزیز و اقربا کا قانون بنانے والوں میں شمار ہوتا ہے۔ اپنی کسی لاقانونیت پر قانون کی گرفت کا اشارہ ملتا ہے تو یہ سارے اشرافیئے یک زبان ہو کر پارلیمنٹ ہاﺅس کی چھت تک جا لگتے ہیں اور پکڑ والے کسی قانون کی نوبت ہی نہیں آنے دیتے۔ بجلی گیس کی مجموعی چوری کا تخمینہ لگایا جائے تو قومی خزانہ سے غتر بود کی گئی یہ رقم اربوں تک جا پہنچے گی۔ یہ اشرافیئے بجلی گیس چوری پر ہی اکتفا نہیں کرتے، اپنی ظاہراً صرف شدہ بجلی گیس پر آنے والے بل ادا نہ کرنے کی روش کے بھی عادی ہیں۔ جنگل کے قانون کی اس سے بڑی مثال اور کیا ہو گی کہ بجلی گیس کی نادہندگی میں آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے اور اس بگاڑ میں عوام کو ریلیف دینے کے لئے قائم سرکاری محکمے پیش پیش ہیں جو اس وقت بجلی اور گیس کے مجموعی طور پر ساڑھے 13 ارب روپے کے نادہندہ ہو چکے ہیں۔ اگر ادارہ جاتی نادہندگی اور کرپشن اس انتہا کی ہے تو یہ دھونس گراس روٹ تک پہنچتے پہنچتے ملک کی بربادی کی خبر ہی لائے گی، کوئی روکنے ٹوکنے اور پوچھنے والا ہو تو ہمیں بھلا بجلی اور گیس کی اذیت ناک لوڈشیڈنگ کو بھگتنا پڑے۔ پچھلے دور میں پوری ڈھٹائی کے ساتھ تھرمل پاور پلانٹس کے واجبات دبائے گئے اور اپنے کمشن بنائے گئے تو اس تھرملی مافیا نے بھی ایکا کرکے بجلی کی پیداوار بند کر دی اور سارا بھگتان مجبور و مقہور عوام کے حصے میں آیا۔ خوب اندازہ لگا لیجئے جناب۔ اربوں روپے کی بجلی چوری اور پھر اربوں روپے کی ہی بل نادہندگی پر قابو پا لیا جائے تو کم از کم تھرمل پاور پلانٹس کے واجبات تو باقاعدگی سے ادا ہوتے رہیں۔ ان کی تواتر سے پیدا ہونے والی بجلی نیشنل گرڈ میں آتی رہے گی تو لوڈشیڈنگ کی اذیت آدھی سے بھی کم ہو جائے گی۔ پھر کیوں ایسا ہے کہ قومی خزانے اور وسائل کی بے دردی سے لوٹ مار کرنے اور اس پر شرمندہ ہونے کے بجائے احساس تفاخر سے سرشار ہونے والے اشرافیاﺅں کے آگے سارے ریاستی قوانین اور تمام حکومتی مشینری ہاتھ باندھے کھڑی ہے۔ بھئی یہ ملک خداداد جنت ارضی ہے۔ اس میں موجود قدرت کے خزانوں کو ”گھر کی ہانڈی کتوں سے چٹوانے“ کے مصداق جونکوں‘ دیمکوں اور مردار کھانے والی چیلوں کی دستبرد سے بچا کر معیشت کے استحکام اور عوام کی فلاح پر استعمال کیا جائے تو یہ دھرتی فی الواقع جنت ارضی ہے۔ ورنہ تو ہماری دھرتی آسمان کا ٹکڑا ہے جہاں بجلی گیس ہے نہ پانی مگر پھر بھی دل ہے پاکستانی۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com