دفعہ 6 کی عملداری‘ ڈراوے اور بودی دلیلیں
Jun 26, 2013

مجھے بہت حیرت ہوتی ہے۔ دریا میں کودنے کا تقاضہ بھی کیا جاتا ہے اور پھر کودنے والے پر انگلیاں بھی اٹھائی جاتی ہیں۔ ”ارے آپ نے یہ کیا کر دیا۔ خود ہی موت خرید لی۔ سچ کہا کسی نے کہ یہ دنیا کسی کو مرنے دیتی ہے نہ جینے دیتی ہے۔ میاں نواز شریف نے مشرف کے خلاف آئین کی دفعہ 6 کے تحت کارروائی عمل میں لانے کا اعلان کیا ہے تو وہ شور اٹھا ہے کہ عقل و فہم کی کوئی آواز کانوں پڑی سنائی نہیں دے رہی۔ پہلے طعنہ ملتا تھا کہ آئین توڑنے والوں پر دفعہ 6 کا اطلاق نہیں ہونا تو کیا یہ شق آئین کی کتاب میں محض نمائشی طور پر شامل گئی ہے۔ یہ آوازیں بھی سننے کو ملیں کہ دفعہ 6 ہی نہیں، دوسری آئینی شقوں پر بھی بھلا کونسا عملدرآمد ہو رہا ہے۔ سیاسی بلیم گیم کے عمل میں دفعہ 6 کو لاگو کرنے کے معاملہ میں ایک دوسرے پر الزامات بھی دھرے جاتے رہے اور لومڑی کی طرح یہ ڈراوے بھی سننے کو ملے مجھے چھیڑا گیا تو قیامت برپا ہو جائے گی مگر جب شکاری نے گھائل لومڑی سے پوچھا کہ بتا اب کہاں قیامت آئی ہے تو لومڑی کا برملا جواب آیا کہ تیرے لئے نہیں مگر میرے لئے تو قیامت آگئی ہے۔ بھئی ذرا اب یہ قیامت آہی لینے دیجئے۔ یقیناً اب بہت سے ڈراوے‘ بہت سی پیش گوئیاں‘ بہت سے بھویں اچکاتے خفگی اور برہمی کے اظہار کے مناظر‘ ڈھیر ساری درفنطنیاں اور ”کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا بارہ آنے‘ والے دیدنی‘ نادیدنی مناظر دیکھنے‘ سننے کو ملیں گے‘ مگر بھائی آخر کب تک مصلحت چلے گی‘ کیوں نہ کسی ایک ہاتھ آئے بٹیرے پر دفعہ 6 اس کے جرم کے عین مطابق لاگو کرکے اسے آنے والوں کے لئے عبرت کی مثال بنا دیا جائے۔ اسے سر اوکھلی میں دینے کا جس نے مشورہ دیا تھا‘ وہ انہی سے پوچھے کہ کیا اسے دفعہ 6 کی تلوار سے ذبح کرانے کے لئے پاکستان واپس دھکیلا گیا تھا۔ ویسے تو ان حضرت کی اپنی بہادری کے قصے بھی بہت اچھالے جاتے ہیں۔ شاید اب تک ان کا اقتدار کا نشہ ہرن ہو چکا ہو گا مگر اپنے 9 سالہ اور پھر اپنے این آر او والے حکمرانوں کے پانچ سالہ عرصہ¿ اقتدارکے دوران تک وہ دنیا پر ”میں ڈرتا ورتا کسی سے نہیں ہوں“ کا رعب ہی جھاڑتے رہے ہیں۔ بس یہ کاغذی شیر والا رعب ہی تھا۔ پہلے نواب اکبر بگتی کے قتل کی واردات کو نجی محفلوں میں چسکے لے لے کر ”اون“ کرتے رہے۔ پھر ایف آئی آر میں نامزد ہوئے تو بگتی کے خلاف آپریشن کا حکم دینے سے ہی مکر گئے۔ سارا ملبہ اپنی ہی لائی گئی سول حکومت پر ڈال دیا۔ جامعہ حفصہ آپریشن کے جواز میں دلائل دیتے رہے۔ مگر جب خود پر افتاد ٹوٹتی نظر آئی تو چودھری شجاعت حسین کے گلے میں پھندہ ڈال دیا کہ مجھے تو اس آپریشن کی راہ پر انہوں نے ہی لگایا تھا۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو معطل کرنے کی غلطی کو تسلیم کیا مگر ساتھ ہی پخ بھی لگا دی کہ ان کے خلاف ریفرنس تو وزیراعظم شوکت عزیز نے بھجوایا تھا۔ 3 نومبر کی ایمرجنسی اور پوری عدلیہ کو یرغمال بنا کر 60 سے زیادہ ججوں کو گھروں میں نظربند کرنے والے اپنے ماورائے آئین و قانون اقدام کو بھی ڈھٹائی پر مبنی اپنے دلائل سے جائز قرار دیتے رہے۔ جب عدالت میں یہ اقدام چیلنج ہوا تو جھٹ سے پینترا بدل کر اپنے وکیل کے ذریعے بیان جمع کرا دیا کہ یہ سب کچھ تو اس وقت کی سول حکومت کے کہنے پر ہوا تھا۔ یہی ملبہ آج زاہد حامد پر پڑا ہوا ہے۔ تو جناب ایسی ساری لاقانونیوں کا پورا پورا حساب کتاب ہی کیوں نہ ہو جائے، کیوں پنڈورا بکس کھلنے کا دھڑکا لگایا جا رہا ہے۔ کھلنے دیجئے۔ سارا گند صاف کرنے کے تقاضے ہیں تو اب یہ تقاضے نبھانے بھی دئیے جائیں۔ دو دھاری تلوار تو نہ بنا جائے۔ ایک زندہ آمراپنے آمرانہ اقدام پر عبرت کا نشان بنے گا تو اس کے ساتھیوں اور حاشیہ برداروں کی عبرت کا سامان بھی پیدا ہو جائے گا۔ پھر قبر میں پڑے ہوﺅں کی علامتی سزا کا راستہ بھی نکل آئے گا۔ اس لئے پہلے آغاز تو کیا جائے۔ پنڈورا بکس کھلنے کا ڈر تو لاقانونیت کے سارے شریک کاروں کو ہی ہو سکتا ہے چنانچہ وہ اپنے ڈر کو ”محرک“ کے لئے خوف بنا کر اپنے ڈر کی پیش بندی کر رہے ہیں اور یہ کیا خوب منطق نکالی ہے آمروں کے مستقل ساتھی ایس ایم ظفر صاحب نے کہ آئین کو معلق یا معطل کرنے کا اقدام آئین توڑنے کے زمرے میں نہیں آتا، جبکہ آئین کی دفعہ 6 کا اطلاق صرف آئین توڑنے کے جرم پر ہو سکتا ہے۔ حضور والا ذرا یہ تو قوم کو بتا دیجئے کہ آئین کو معلق یا معطل کرنے والوں کو یہ اختیار کیا آئین کے تحت ودیعت ہوا ہے؟ اگر ان کا یہ اقدام ماورائے آئین و قانون ہے تو پھر ایسے جرم پر آئین کی محافظ دفعہ 6 کا ہی اطلاق ہوگا۔ اگر اس دفعہ کے ہوتے ہوئے کسی کو آئین معطل یا معلق کرنے کی جرا¿ت ہو رہی ہے تو پھر اس دفعہ کی عملداری کا تقاضا کیاآئین کو مردہ بنانے کے بعد نبھایا جائے گا اور کیا خوب ہے جناب محمود خان اچکزئی کا فرمانا کہ میاں نوازشریف کو اب کالی مرغی ذبح کرنا چاہیے۔  ”لو وہ بھی کہہ رہے ہیں یہ بے ننگ و نام ہے“ارے صاحب اس قومی اسمبلی کے پہلے اجلاس میں کی گئی اپنی پہلی تقریر خود ہی ملاحظہ فرما لیں۔ پارلیمنٹ کو اسٹیبلشمنٹ کے چنگل سے نکلوانے کا عہد کرا کے آپ نے ہی تو میاں صاحب کو شیر بننے کا مشورہ دیا تھا۔ وہ آپ کے مشورے پر عملدرآمد کے لئے آگے بڑھے ہیں تو آپ انہیں کالی مرغی ذبح کرنے کا مشورہ دے کر کس خوف میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں۔ ہاں البتہ یہ الزام بالکل درست ہے کہ میاں صاحب نے اسٹیبلشمنٹ سے ٹکر لینے والی اپنی ماضی کی ”غلطی“ سے ابھی تک کوئی سبق نہیں سیکھا۔ شیخ رشید کو تو اب اپنی خوابیدہ پیشن گوئیاں کرنے والے سندھی لاڈلے کے قدموں میں مٹھائی کا ٹوکرا ڈال کر ان کی باقاعدہ شاگردی اختیار کر لینی چاہیے کیونکہ اب انہوں نے بھی کوئی خواب دیکھ لیا ہے کہ انہیں نواز حکومت اب چھ ماہ بھی چلتی نظر نہیں آ رہی۔ یہ ساری ” سٹیٹس کو “ والوں کی شتونگڑیاں ہیں جو ایک راست اقدام پر ادھم مچا کر اور دھول اڑا کر اس راست قدمی کو بھٹکاوے کی جانب دھکیلنا چاہتے ہیں۔ اگر جزا اور سزا کا فلسفہ کسی آمر کے لئے عبرت کی مثال نہیںبن سکتا تو یہ سوچ درحقیقت اس قنوطیت کو غالب کرنے کی سازش ہے کہکیا اسی زہر کو تریاق سمجھ کر پی لیںناصحوں کو تو سجھائی نہیں دیتا کچھ بھیخدارا اب ایسے ناصح بننے کی کوشش نہ کریں جو زہر کو زہر تسلیم کرنے پر ہی آمادہ نہیں، اگر مشرف کے ماورائے آئین اقدامات آئین کی دفعہ 6 کے زمرے میں لانے کے لئے تشریح طلب ہیں تو آئین کی تشریح کا مجاز فورم سپریم کورٹ کی صورت میں موجود ہے جس کی فل کورٹ کا 31 جولائی 2009ءکا فیصلہ مشرف کے 13 نومبر 2007ءوالے ٹوکہ اقدام کو پہلے ہی آئین سے متصادم اور ماورائے آئین اقدام ٹھہرا کر اس کے نفاذ کے دن سے ہی باطل قرار دے چکا ہے ۔ اگر آئین کی تشریح کے مجاز فورم کی جانب سے پہلے ہی اس اقدام پر دفعہ 6 کی عملداری کا راستہ دکھا دیا گیا ہے تو کسی ایرے غیرے کو اپنی جانب سے اور اپنے مفادات کے تابع بودی دلیلیں دے کر دفعہ 6 کی عملداری کا یہ موقع ضائع نہیں ہونے دینا چاہیے۔ آخر اسٹیبلشمنٹ سے ٹکر لینے کے اہتمام سے ڈرا ڈرا کر کب تک آئین کی عملداری کو روکا جاتا رہے گا۔ تو جناب بے شک اس کے بعد آئے جو عذاب آئے مگر پہلے ابتداءتو ہونے دیجئے۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com