کتھارسس ”ہور بُرا کیتا“
May 21, 2013

کتھارسس کے عمل میں تو اپنے اوندھے منہ گرنے والی غلطیوں کے ازالہ کی تدبیر سوچی جاتی ہے اور اپنی ناکامیوں کا حقائق کی بنیاد پر جائزہ لے کر خود کو سنبھالنے اور مزید ٹھوکروں سے بچانے کی تدبیر کی جاتی ہے مگر پیپلز پارٹی کی قیادت 11 مئی کے انتخابات میں بدترین ناکامی پر کتھارسس نہیں، سیاپا کر رہی ہے اور ذمہ دار ان حالات کو ٹھہرا رہی ہے جو اس کے بقول پیپلز پارٹی کی انتخابی مہم کے لئے سازگار نہیں تھے۔ کتھارسس تو اس بات پر ہونا چاہئے کہ یہ حالات کس کے پیدا کردہ تھے جو پیپلز پارٹی کی انتخابی مہم کے لئے موافق ثابت نہیں ہوئے۔

انتخابات میں بدترین ناکامی پر انتخابات کے بعد پہلے دو روز تک تو پیپلز پارٹی کے ایوان صدر میں اور اس کے باہر بیٹھے قائدین کو کسی قسم کا ردعمل ظاہر کرنے کا ہوش ہی نہیں آیا۔ دو روز بعد سینیٹر رضا ربانی بولے۔ وہ تھوڑے سے پیپلز پارٹی کے دانشمند لیڈران میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے پہلے انتخابات میں پیپلز پارٹی کی ناکامی کو تسلیم کیا، پھر پخ لگائی کہ پیپلز پارٹی کے لئے عوام میں جا کر انتخابی مہم چلانے کا ماحول ہی نہیں بننے دیا گیا تھا۔ اس کے بعد پیپلز پارٹی کے کونے کھدروں میں کبوتر کی طرح آنکھیں بند کئے بیٹھے لیڈران نے زبانیں کھولنا شروع کیں۔ خورشید شاہ کفن پھاڑ کر بولے کہ طالبانائزیشن والوں نے ہمارا مینڈیٹ چرا لیا ہے۔ پھر منظور وٹو کی سطح پر زبان کھلی۔ طالبانائزیشن والے ماحول کا اعادہ ہوا اور اپنے گھر کی تمام سیٹیں بھی ہارنے کا حقیقی کتھارسس کرنے کے بجائے، نعرہ لگا دیا کہ ہم پھر عوام کے دل جیت کر ان کے پاس واپس آ جائیں گے۔ بیچ میں کہیں سے سابق گورنر پنجاب سردار لطیف کھوسہ اور منیر احمد خاں کی ”سیاپی“ بھی کانوں میں ”رس“ گھولتی نظر آئی اور اب صدر مملکت آصف علی زرداری نے اپنی پارٹی کی ناکامی پر کتھارسس کے پہئے کو الٹا گھماتے ہوئے ریٹرننگ افسروں پر ملبہ ڈال دیا ہے کہ انہوں نے پنجاب سے پیپلز پارٹی کی 40، 45 نشستیں چرا لی ہیں۔ پھر ایک غلطی کا اعتراف کیا کہ انہیں صدر کے منصب سے استعفٰی دے کر اپنی پارٹی کی انتخابی مہم کے لئے پبلک میں آنا چاہئے تھا مگر انہوں نے اس وقت استعفٰی نہیں دیا تو اب کیوں دیں۔ اپنی پارٹی کی بدترین ناکامی پر بھی استعفٰی نہ دینے کا جواز انہوں نے خوب نکالا ہے۔ شاید یہ ضرب المثل ان کے ذہن میں موجود ہو گی کہ ”نانی نے ویاہ کیتا، بُرا کیتا، ویاہ کر کے چھڈیا، ہور بُرا کیتا“۔ وہ اب صدر کے منصب سے مستعفی ہو کر شاید اپنے لئے مزید ”بُرا“ نہیں کرنا چاہتے مگر انتخابی مہم کے لئے خود بھی عوام میں نہ آنے اور اپنے بال بچوں کو بھی عوام سے دور رکھنے کی پارٹی کے ساتھ کی گئی برائی سے بری الذمہ ہونے کا ان کے پاس کیا جواز ہے۔ اقتدار کا حلوہ چھوڑنا تو ایسے ہی ہے جیسے کسی مولوی صاحب کو حلوے سے پرہیز کا نسخہ تجویز کر دیا جائے۔ تو جناب ناکامی پر کتھارسس کے عمل میں حکومتی منصب سے مستعفی نہ ہونے کی ایسی کٹ حجتی سیر شکم ہونے کے باوجود حلوے پر اپنا استحقاق جتانے کی ہی دلیل ہے۔ اس لئے اب خون کے آنسو روتے اس پارٹی کے جیالے ضرور حقیقی کتھارسس کر رہے ہوں گے۔ جن کی باجی ناہید خان نے انتخابات کے اگلے ہی روز انہیں احساس دلا دیا تھا کہ ان کی ”بھٹوز پارٹی“ کو بلاول کے والد نے اس انجام تک پہنچایا ہے۔ اسی مناسبت سے ان دنوں بذریعہ موبائل فون اور بذریعہ نیٹ سوشل میڈیا کی جانب سے ایک پیغام زیرِ گردش ہے کہ ”بالآخر بھٹو 34 سال ایک ماہ اور سات دن تک سیاست میں زندہ رہنے کے بعد 11 مئی 2013ءکو گیا“۔

ایسے کتھارسس کا سلسلہ پیپلز پارٹی کی صفوں میں محض ”کور کمیٹی“ کی سطح پر نہیں، فی الواقع عوامی سطح پر شروع ہو تو اس پارٹی کی قیادت کے سارے استدلال دھرے کے دھرے رہ جائیں۔ پورے پانچ سال کا دور اقتدار کسی پارٹی کو ملک اور عوام کے مسائل حل کرنے میں مددگار بنانے کے لئے کم تو نہیں مگر ان پانچ سالوں کا تو ایک ایک دن عوام پر بھاری پڑا ہے۔ ابھی بجلی کی لوڈشیڈنگ کا مسئلہ ہی اتنا سنگین ہے کہ آنے والے حکمرانوں کے بھی گلے پڑتا نظر آ رہا ہے۔ پیپلز پارٹی کی قیادتوں کے کتھارسس کے عمل میں یہ اعتراف تو ضرور ہوتا ہے کہ بجلی سے محروم رہنے والے عوام بھلا انہیں کیوں ووٹ دیتے مگر عوام کو بجلی سے پانچ سال تک محروم رکھنے کا پس منظر وہ اس لئے نہیں بتا پائے کہ یہ پس منظر تو ان کے اپنے نامہ¿ اعمال پر مبنی ہے۔ تھرمل کمپنیوں کے واجبات انہیں ترسا ترسا کر ادا کرنے کے بعد اس میں سے بھی اپنا حصہ وصولنا۔ رینٹل پاور پلانٹس اپنے وصول کردہ کمشن کے بوجھ تلے ہی دبا دینا، ہائیڈل بجلی کی پیداوار کی جانب سرے سے توجہ ہی مبذول نہ کرنا کہ سستی بجلی کے اس سودے میں اپنا سودا کم فروخت ہوتا ہے۔ پھر کے ای ایس سی کو نوازنا اور پنجاب کو لتاڑنا۔ بھئی کتھارسس کرنا ہے تو پورا پورا کرو۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان ہاتھوں میں ڈگریاں لئے ملازمتوں کے حصول کے لئے مارے مارے پھرتے رہے مگر ”ایم بی بی ایس کلچر“ نے نقد پھڑاﺅ اصول اپنا کر ملازمتوں کی ”کریانہ سیل“ لگا دی اور میرٹ کا جنازہ اٹھانے والے خود بھی جنازہ بن گئے۔ سی این جی سٹیشن ہر دو فرلانگ کے فاصلے پر کھل گئے کہ ان کے لائسنس کا حصول بھی نقد پھڑاﺅ اصول کو تسلیم کرانے میں معاون بن رہا تھا۔ مگر گیس کا کال پڑ گیا اور سڑکوں پر سی این جی سٹیشنوں کے سامنے فرلانگ ہا فرلانگ لمبی گاڑیوں کی قطاریں ان گاڑیوں میں موجود سی این جی کے حصول کے منتظر لوگوں بشمول ضعیفوں، خواتین اور بچوں کی آہوں اور جھولی اٹھا کر دی جانے والی بددعاﺅں کا باعث بن گئیں۔ ان پانچ سالوں میں مہنگائی نے ایسی اڑان بھری کہ بے چارہ عام آدمی تکتا ہی رہ گیا۔ بدامنی کا اتنا زور اٹھا کہ لوگ گلیوں، سڑکوں تو کجا، دن دہاڑے گھروں میں بھی غیر محفوظ ہو گئے۔ اگر عوام پر ”روز جیتا ہوں، روز مرتا ہوں“ والی کیفیت طاری رہی ہو تو جناب کتھارسس کے عمل میں آپ کی کٹ حجتی پر کون یقین کرے گا۔

ناکام اور بدنام پانچ سالہ حکومتی دور کا یہ پہلو تو رہا ایک جانب۔ دوسرے پہلو کی جانب مجھے گذشتہ روز پاک فوج کے ایک سابق اور سفید پوش میجر نے فون کر کے آگاہ کیا۔ توجہ طلب مسئلہ میں ان صاحب کا ذاتی کرب اس لئے بھی زیادہ محسوس ہوا کہ انہوں نے 1971ءکی جنگ مشرقی پاکستان کے محاذ پر لڑتے ہوئے سقوط ڈھاکہ کے بعد اپنی فیملی سمیت اپنی زندگی کے پونے دو سال بھارتی جیلوں میں گزارے ہوئے ہیں۔ ملک کی عظمت و بقاءکی خاطر ایسی نادر قربانیاں دینے والے ملک کے محبِ وطن شہریوں کی ریٹائرمنٹ کے بعد نیشنل سیونگ سکیم کے تحت ان کی جمع کرائی گئی پنشن کی رقم پر ماہانہ 12 فیصد منافع کی شکل میں ان کی خود داری کا بھرم رکھتے ہوئے گذر اوقات ہو رہی تھی مگر اپنی ناکامی کا سیاپا کرنے والے سابق حکمرانوں نے اپنے پانچ سالہ دور میں نیشنل سیونگ سکیم کا منافع 12 فیصد سے کم کر کے سات فیصد مقرر کر دیا جو سفید پوشی کا بھرم رکھنے والے سارے پنشنروں کے لئے عذاب بن کر ٹوٹا۔ اگر ایسی کٹوتیاں معیشت کی بحالی کے لئے کی گئیں تو پھر بحال ہونے والی معیشت کدھر ہے؟ سو جناب، تصور کر لیجئے، آپ کی مسلط کردہ مہنگائی، بے روزگاری اور بدامنی کی فضا میں سرمایہ کاری کے دیگر ذرائع میں نقصان ہی نقصان کے احتمال میں اگر پنشنروں کے ماہانہ منافع میں بھی پانچ فیصد تک کٹوتی کر لی جائے تو یہ پالیسی جیالوں کی پارٹی کے ووٹ بنک کو کیا ان کے ہر اقتدار کے لئے سہارا بنائے رکھے گی۔ ایسی کتنی بے ضابطگیاں اور ہیں جن کے خلاف عوامی ردعمل کا جائزہ لیا جائے تو کتھارسس کے عمل میں لینے کے دینے پڑ جائیں۔ اس لئے حضور والا! اپنی ساری غلطیوں کا حقیقی اعتراف کرو گے تو آئندہ کی سلطانی¿ جمہور میں اپنی کوئی گنجائش نکلوا پاﺅ گے ورنہ آپ کے لئے عوام کا کتھارسس کا عمل تو بہت بے رحم ہے۔ 
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com