مات کھاتے پریشر گروپوں کی چیخیں
May 18, 2013

ہماری سیاست میں دو پریشر گروپ اپنی مفاداتی پالیسیوں کو اقتداری بھائیوں سے تسلیم کرانے میں یدطولیٰ رکھتے ہیں مگر موجودہ انتخابی نتائج نے کسی بڑی انقلابی تبدیلی کی راہ ہموار کی ہے یا نہیں، ان دو پریشر گروپوں کو ضرور پریشان کیا ہے سو انتخابات کے بعد مارا ماری والی چیخ و پکار اور الیکشن کمشن پر الزامات کا طومار ان دو پریشر گروپوں کی پہلی بار شراکت اقتدار سے محرومی کے آثار کو واضح کرتا نظر آتا ہے۔ کاش اس بار یہ معجزہ رونما ہو ہی جائے۔ یہ دونوں پریشر گروپ خود کو لذت اقتدار سے محروم پاکر ماہئی بے آب کی طرح تڑپیں گے تو اس سے سلطانی جمہور کے حقیقی مفہوم کے روبہ عمل ہونے کی کوئی صورت بن پائے گی ورنہ اقتدار کی بازی میں کبھی مات نہ کھانے والے ان پریشر گروپوں کی موجودہ اضطرابی چیخ و پکار پھر انہیں اقتدار کی راہداریوں پر لے آئی تو سمجھ لیجئے کہ سلطانی جمہور میں سے پھر جمہور کے کوچ کا اہتمام ہو گیا ہے۔ پچھلی حکومت نے مفاہمتی مجبوری کی چادر اوڑھ کر ان دو پریشر گروپوں کی مفاداتی سودا کاری کے طفیل ہی اپنے اقتدار کے پانچ برس پورے کئے ہیں مگر ان پانچ برسوں میں عوام کا انجر پنجر ہلا کر ملک کا حلیہ بگاڑ دیا گیا اور سلطانی جمہور کی جمہور کو بھنک تک نہ پڑنے دی گئی۔ کھاﺅ پیو ایجنڈا ان دو پریشر گروپوں کی مفاداتی معاونت کے سہارے ہی تو پروان چڑھایا گیا تھا۔

موجودہ انتخابات سے پہلے ایک اور پریشر گروپ کسی بیرونی مفاداتی ایجنڈے کے ماتحت مولانا کینڈی کے ذریعے درآمد ہوا تھا مگر وہ اپنے ہی وزن کو نہ سہار سکا اور دھڑام سے نیچے آن گرا۔ اب ان کی کیفیت ایسی ہے کہ

پھرتے ہیں میر خوار، کوئی پوچھتا نہیں

اسی طرح ایک پریشر گروپ سابقہ طرز حکمرانی میں ”کوہ قاف“ سے زمین پر آ دھمکا تھا۔ ”اک زرداری، سب پر بھاری“ کی اچھوتی سیاست کے بانی نے خود کو پریشر گروپ کے طور پر تسلیم کروانے کی کوششوں میں سرگرداں ”قاف قاتل“ کو گود لے کر اپنے حلیف دوسرے دونوں پریشر گروپوں کو ان کی حیثیت کا احساس دلایا مگر پھر کوہ قاف سے اترا یہ پریشر گروپ ان کے ساتھ ہی چمٹ گیا۔ اب زبردستی کے اس پریشر گروپ سے قوم نے خود ہی جدوجہد کرکے انتخابی عمل کے ذریعے خلاصی حاصل کر لی ہے تو دوسرے دو مستقل پریشر گروپوں کو اپنی دال پھر گلانے کے ہتھکنڈے آزمانے کا موقع مل گیا ہے ۔ ارے بھائی صاحبان قومی مفاہمت کے فرسودہ روایتی راگ کو الاپتے کہیں پھر سے ان مفاداتی پریشر گروپوں کو سسٹم کا مردہ خراب کرنے کی ذمہ داری نہ سونپ بیٹھنا ورنہ مفاداتی سیاست میں جمہوریت کے ثمرات سے پھر محروم کئے جانے والے عوام کی مایوسی قومی مفاہمت کے نام نہاد ایجنڈے سمیت مفاداتی سیاست کے رکھوالوں کو خس و خاشاک کی طرح بہا کر لے جائے گی۔

ذرا سوچئے تو سہی کہ آپ ان دونوں پریشر گروپوں کے سہارے کے بغیر وفاق اور صوبوں میں حکومت تشکیل دینے کی پوزیشن میں آئے ہیں تو یہ مار دھاڑ والی سیاست پر اترے کیوں دکھائی دے رہے ہیں۔ سندھ اسمبلی کو تو سالہا سال بعد تن تنہا ایک پارٹی کی حکومت تشکیل دینے کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کا موقع ملا ہے اس لئے اب مثبت اور تعمیری سیاست یہی ہو گی کہ سندھ حکومت کسی پریشر گروپ کی سودا کاری کے شکنجے سے باہر نکل کر یکسوئی کے ساتھ کراچی کا امن بحال کرنے کی راہ پر گامزن ہو۔ پھر ایوان صدر سے یہ بیان جاری کرکے پُرامن اور خوشحال مستقبل کے متمنی عوام کو کیوں کچوکا لگایا گیا کہ ہم اپنے سابقہ اقتداری حلیفوں کو ساتھ لے کر چلیں گے۔ آپ کے پاس سندھ اسمبلی میں 69 نشستوں کے ساتھ سادہ اکثریت موجود ہے۔ اپنے اس عوامی مینڈیٹ پر اعتماد کیجئے اور مینڈیٹ دینے والے عوام کو بھی سکھ کا سانس لینے دیجئے۔ حوصلہ رکھئے آپ کے آنے والے صوبائی اقتدار کو سندھ کے عوام خود تحفظ فراہم کریں گے مگر آپ قومی مفاہمت کا بے سرا راگ پھر الاپنے کی کوشش کریں گے تو پھر جان رکھئے کہ عوام اب اس چکمے میں نہیں آنے والے۔ وہ مایوس ہو کر بپھرتے ہیں تو فی الواقع حشر اٹھا دیتے ہیں اور جناب عوام کو اب غصہ نکالنے کا چلن بھی آ گیا ہے۔ کہیں بچا کھچا صوبائی مینڈیٹ بھی عوام کے غصے کی بھینٹ نہ چڑھا بیٹھنا۔ آپ قومی مفاہمت کی سیاست کو ایک صوبے تک سکیڑیں گے تو قوم ایسی مفاہمت کے آگے سینہ سپر ہو جائے گی۔ اب اندھیروں میں دھکیلے جانے والے روشنیوں کے شہر کو روشنیوں کی جانب واپس لوٹنے دیں اور اپنے مینڈیٹ کو محفوظ بنا لیں ورنہ فی الواقع ”تمہاری داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں“

اور یہ ”ہٰذا من فضل ربی“ سیاست کو قومی ایجنڈے کی تکمیل کی خاطر قبول کرنے والے شریف حضرات کس چکر میں آ گئے ہیں۔ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں دس پندرہ سیٹیں لینے والے دوسرے پریشر گروپ کے بانی لیڈر مولانا فضل الرحمان کے لئے اپنی باہیں کھول کر ان کی اس دھمکی کو عملی جامہ پہنانے میں جت گئے ہیں کہ مرکز اور صوبوں میں ہمارے بغیر کوئی حکومت بنا اور چلا کر دکھائے۔ آپ کے پاس تو اب آزاد ارکان کا اتنا رونق میلہ لگ گیا ہے کہ آپ اب کی بار کسی بھی پریشر گروپ کو آسانی سے مات دے سکتے ہیں۔ پھر آپ مفاداتی سیاست کے رکھوالے ان پریشر گروپوں کو اپوزیشن بنچوں کی راہ کیوں نہیں دکھا دیتے۔ جناب آپ کا بھی اب کسی مفاداتی سیاست کے ذریعے بال بیکا نہیں ہو سکتا۔ قوم نے آپ کو اس مفاداتی سیاست سے چھٹکارا دلانے کے لئے ہی تو بھاری مینڈیٹ سے نوازا ہے۔ اس لئے اس مینڈیٹ کے تقاضے نبھائیں اور عوام کے لئے امید کی کرن بنیں۔ جب آپ کو خود ادراک ہے کہ خیبر پی کے میں عوام نے جس کو حکومت کا مینڈیٹ دیا ہے اس کو حکومت کرنی چاہئے تو پھر آپ حضرت مولانا کے فریب میں کیوں آتے ہیں۔ اب کی بار ذرا اقتدار سے باہر ان کا مزہ بھی تو کرکرا ہونے دیں۔ شاید اس ایک جھٹکے سے ہی ان کے ہوش ٹھکانے آ جائیں ورنہ یہ پریشر گروپ کبھی قوم کے حواس بحال نہیں ہونے دیں گے۔ اب بسم اللہ کیجئے اور ہمت کر کے سارے پریشر گروپوں کا دامن جھٹک دیجئے۔ پھر آپ کے لئے بھی اور عوام کے لئے بھی ٹھنڈی ہوا کے جھونکے ہیں۔ عوام اب بامعنی تبدیلی چاہتے ہیں تو کوئی اقتدار کا ماتا اس تبدیلی کا مفہوم تبدیل کرنے کی کوشش نہ کرے ورنہ عوام کو بھی اب تبدیلی لانے کی عادت پڑ گئی ہے جناب۔
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com