”الزام کسی اور کے سر جائے تو اچھا“
May 16, 2013

موجودہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کی کارکردگی اور کچھ ہو نہ ہو۔ ”پھلجڑیاں“ چھوڑنے میں تو اس کی کارکردگی بے مثال‘ لاجواب اور بے حد و حساب رہی ہے۔ اگر اس پارٹی کے تتر بتر جیالے اپنی پارٹی کی ”پیر وجواں“ قیادت کی زعفرانی باتوں کا برا نہ مناتے تو 1990ءکے انتخابات سے دو گنا نشستیں حاصل کرنے کے باوجود اس پارٹی کا ووٹ بنک کم از کم پستیوں کی جانب لڑھکتا تو دکھائی نہ دیتا۔ اس پارٹی کے ہونہار بروا کا چکنا پات نہ جانے دنیا کے کس کونے سے بذریعہ ویڈیو لنک خطاب کرتا ”انداز خسروانہ“ میں یہ پیغام دیتا نظر آتا رہا کہ ”جان چاہئے‘ جان دیں گے ہم“ سر چاہئے‘ سر دیں گے ہم“ اور ساتھ ہی یہ دھمال کہ ”کل بھی بھٹو زندہ تھا‘ آج بھی بھٹو زندہ ہے۔“اس پارٹی کے جیالے اپنی حکومت کی پیدا کردہ محرومیوں کے باعث پارٹی قیادتوں کے ساتھ سخت ناراضگی کا اظہار کرنے کے باوجود ماضی کے انتخابات میں ووٹ دیتے وقت کبھی ”دھڑا کُٹنے“ سے باز نہیں آتے تھے سو اس پارٹی کا ووٹ بنک جیسا تیسا تھا‘ برقرار رہتا تھا۔ اب تو یوں لگتا ہے کہ اس پارٹی کے جیالوں نے ہی اپنے ”زورداری“ قائدین کے اس ارشاد پر کہ جمہوریت ہی سب سے بڑا انتقام ہے“ من و عن عمل کرتے ہوئے انہی قائدین سے اپنی پارٹی کا مردہ خراب کرنے کا بذریعہ جمہوری عمل انتقام لے لیا ہے۔ بھئی۔ آپ کسی بنکر میں بیٹھ کر اور وہاں بھی ذرہ بکتر‘ باندھ اور بلٹ پروف جیکٹ پہن کر یہ اعلان کریں کہ ”سر چاہئے‘ سر دیں گے ہم“ تو عوام تو کجا‘ آپ کے جیالے بھی آپ کے دیدار کو سالہا سال سے ترسے بیٹھے ہوں تو آپ کی اس پھلجڑی کا جواب آپ پر قہقہہ بار پھبتی کس کر ہی دیا جا سکتا ہے سو آپ کے جیالوں نے اس معاملہ میں کسی بخل کا مظاہرہ نہیں کیا۔12 مئی کے اخبارات میں ”زورداری قیادت“ (محترم آصف علی زرداری اور محترم بلاول بھٹو) سے منسوب یہ خبر پڑھ کر میں بمشکل ہی اپنی ہنسی ضبط کر پایا تھا کہ ان دونوں بے مثال اور زیرک قائدین نے انتخابات میں اپنی پارٹی کی شکست کا نوٹس لیتے ہوئے پارٹی عہدیداروں سے جواب طلب کر لیا ہے۔ ارے صاحب‘ اس سے بڑی سیاسی پھلجڑی کوئی ہو سکتی ہے کہ کھیت کو چاٹنے والی باڑ ہی چور چور کا شور ڈال رہی ہے۔ ان سلجھی قیادتوں کی جانب سے پیپلز پارٹی کے جن عہدے داروں کی جواب طلبی ہوئی ہے وہ جان کی امان پاتے ہوئے کم از کم اتنا تو باور کرا دیں کہ

ویسے تو تمہی نے مجھے برباد کیا ہے۔۔۔ الزام کسی اور کے سر جائے تو اچھا

مگر یہ کیا ہے کہ سب اپنے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے کر اپنی گلوخلاصی کرا رہے ہیں۔ منظور وٹو‘ مخدوم شہاب‘ وسطی‘ جنوبی پنجاب کی صدارت سے گئے۔ ثمینہ گھرکی نے شعبہ خواتین کی صوبائی صدارت کی پازیب اتار دی۔ یوسف رضا گیلانی پورے خاندان کی شکست کی ہزیمت اٹھاتے‘ پارٹی کے سینئر نائب صدر کے منصب سے بھی سبکدوش ہو گئے۔ جمعہ جمعہ آٹھ دن والے مخدوم احمد مخدوم کو گورنری کا مخمل کانٹوں کی پوشاک نظر آنے لگی سو انہوں نے اسے جھٹک دیا۔ اور تو اور شیریٰ رحمان کے نستعلیق لہجے سے بھی اداسی اور مایوسی ہویدا ہونے لگی۔سو انہوں نے یہ محسوس کر کے امریکہ کی سفارت لفافہ میں بند کر کے نگران وزیراعظم کو بھجوا دی کہ

ہمارے گھر کی دیواروں پہ ناصر۔۔۔ اداسی بال کھولے سو رہی ہے

ارے بھلے لوگو، ایسی بے بسی کے مظاہرے کرنے سے پہلے کسی وقت تنہائی میں اپنی سابقہ باجی ناہید خان کی اس بات پر بھی اپنے ذہنوں کے بند دریچوں کو کھولنے کی تدبیر ڈھونڈ لیتے کہ پیپلز پارٹی کو بلاول کے باپ نے راندہ¿ درگاہ بنا دیا ہے، آپ سب لوگ پارٹی عہدوں اور دوسرے مناصب سے استعفے دے کر جس قیادت کے ساتھ وفاداری کا اظہار کر رہے ہیں وہی تو آپ کی سابقہ باجی ناہید کے بقول اس پارٹی کو راندہ¿ درگاہ بنانے کی ذمہ دار ہے مگر خوب تماشہ ہے کہ ہونہار ”بروا“ صدر مملکت کے منصب جلیلہ کو آنچ تک نہیں آنے دے رہے اور ان کے چکنے چکنے پات آج بھی شہداءکی پارٹی کے جیالوں سے دور پارٹی کے سرپرست اعلیٰ کا منصب اوڑھے بیٹھے ہیں اور انہیں یہ احساس دلائے جا رہے ہیں کہ

بلھے شاہ اساں مرنا ناہیں ۔۔۔ گور پیا کوئی ہور

یہ مرنا ورنا انہی کا شیوہ تھا جناب جنہوں نے کبھی بھٹو ازم کی جوت جگا کر اور کبھی جان سے گزر کر اپنے ووٹ بنک کو ایک دوسرے کے ساتھ پیوستہ رکھا مگر آج نہ ”بھٹو دے نعرے وجّن گے“ کسی کام آئے اور نہ ”بھٹو دی بیٹی آئی سی“ کوئی کرشمہ دکھا سکی کہ اس پارٹی کے مفاداتی قیادتی کلچر نے اس پارٹی کے تنبو قناتوں سمیت ہر سہارا اکھاڑ پھینکا ہے۔ وہ تو اچھا ہوا کہ ”بھٹو دی بیٹی آئی سی“ کا ترانا باندھنے والے ہمارے سیانے بزرگ دانشور سید عباس اطہر انتخابات میں اپنی ممدوح پارٹی قیادتوں کا حشر دیکھنے سے پہلے ہی اس جہان فانی سے کوچ کر گئے ورنہ ان کی زندگی کے آخری دنوں کی اذیت اور بھی بڑھ جاتی۔ معلوم نہیں اس اذیت کو اس پارٹی کے جیالے کیسے برداشت کریں گے کہ لاہور کے 25، 26 لاکھ ووٹروں میں سے پیپلز پارٹی کے حصے میں صرف ایک لاکھ اور چھ ووٹ آئے ہیں۔ ملک بھر میں مجموعی ڈالے گئے ووٹوں کا حساب کتاب بھی آئندہ چند روز تک بذریعہ الیکشن کمشن سامنے آ جائے گا جس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکے گا کہ بنکروں میں بیٹھ کر اربوں روپے کی لاگت سے چلائی گئی اس پارٹی کی تشہیری مہم کے صدقے اس پارٹی کیلئے ایک ووٹ کتنے لاکھ میں پڑا ہے۔ بھئی جائزہ لینا ہے تو اس کا لو کہ 90ءکے انتخابات میں پورے ملک میں قومی اسمبلی کی صرف 18 نشستیں حاصل کر پانے کے باوجود اس پارٹی کے حق میں پڑنے والا مجموعی ووٹ اقتدار میں آنے والی تمام پارٹیوں کے مجموعی ووٹ سے زیادہ تھا تو اب ایسا کیا ہوا کہ پورے پنجاب میں آپ کو قومی اسمبلی کی صرف ایک اور پنجاب اسمبلی کی صرف چھ نشستیں مل پائیں اور آپ کے لاڈلے احمد مختار ضمانت بھی ضبط کرا بیٹھے۔ میں نے 11 مئی کو اپنے حلقے کے جس پولنگ بوتھ میں ووٹ ڈالا تھا اس میں مجموعی ساڑھے 9 سو ووٹ کاسٹ ہوئے اور گنتی شمار میں صرف چھ ووٹ تیر پر ٹھپہ لگے برآمد ہوئے۔ یہ حلقہ پارٹی جیالوں کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ پھر اس انقلاب کو جمہوری عمل کے ذریعے زورداری قیادت سے پارٹی جیالوں کا انتقام نہ سمجھا جائے تو کیا کہا جائے

آپ ہی اپنی اداﺅں پہ ذرا غور کریں۔۔۔ ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہو گی
    Bookmark and Share   
       Copyright © 2010-2011 Saeed Aasi - All Rights Reserved info@saeedaasi.com